108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsروح القرآن
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کردیا
اِنَّـآ اَعْطَیْنٰـکَ الْـکَوْثَرَ ۔ (الکوثر : 1)
(بےشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کردیا۔ )
اِنَّــآ میں جمع کی ضمیر ہے اس سے مراد کیا ہے
اِنَّـآ میں جمع کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد فعل بھی جمع متکلم لایا گیا ہے۔ جمع کا صیغہ عام طور پر کثرت اور تعدد پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی عظمت و شان کے اظہار کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اسی مقصد کے لیے آیا ہے کہ ہمیں دیکھو، ہماری شان کا اندازہ کرو، ہماری عظمت کا استحضار پیدا کرو اور ہماری صفات پر مراقبہ کرو۔ ہم کائنات کے خالق ومالک اور عروس گیتی کو سنوارنے اور نکھارنے والے ہیں، ہمارے جودوکرم کی کوئی انتہاء نہیں، ہماری قدرتیں بےپناہ ہیں، ارشاد و ہدایت کے کچھ تقاضے ہیں جس کی وجہ سے مخالفین کو مخالفت کا موقع ملا ہے اور راہ محبت کی کچھ سنتیں ہیں جس پر آپ اور آپ کے ساتھی چلنے پر مجبور ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ حالت طویل ہوتی جائے گی اور ہم آپ کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے، ایسا نہیں۔ وہ عظیم انعامات جو نوع انسانی کے گل سرسبد کے لیے مخصوص ہوسکتے ہیں وہ ہم نے آپ کو عطا کردیئے ہیں اسی کو یہاں کوثر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کردی ہے۔
پروردگار نے جس شاہانہ انداز سے اپنا ذکر فرمایا ہے اس کی حقیقی وجہ کیا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے لیکن جو بات اس ناچیز کے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کے بےاندازہ کمالات کو دیکھ کر کہیں آپ کو خدا نہ سمجھنے لگیں۔ اس غلط فہمی سے روکنے کے لیے یہ واضح فرما دیا کہ یہ کمالات ان کے ذاتی نہیں بلکہ ہم جو رَبُّ السَمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہیں یہ ہم نے عطا کیے ہیں۔
کَوْثَر سے مراد
کَوْثَرکثرت سے ماخوذ ہے۔ اس کا وزن فوعل ہے جو مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کا اتنا کثیر ہونا کہ اس کا اندازہ نہ لگایا جاسکے۔ یہاں ایک چیز بڑی غور طلب ہے وہ یہ کہ عام قاعدہ یہ ہے کہ موصوف اور صفت دونوں کو یکجا ذکر کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل مختلف ہے۔ الْکَوْثَر جو صفت ہے اسے تو ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کا موصوف مذکور نہیں، اس میں آخر کیا حکمت ہے ؟ تھوڑے سے تدبر سے کام لیا جائے تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی چیز عطا فرما رہا ہے جو اپنی کثرت، اپنی اہمیت، اپنی قیمت اور اپنی عظمت میں جواب نہیں رکھتی۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں جو اس نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں کوئی ایک چیز ایسی نہیں جسے موصوف ٹھہرا کر الْکَوْثَر کو اس کی صفت بنادیا جائے۔ کیونکہ کوئی موصوف اپنے اندر نہ وہ کثرت رکھتا ہے اور نہ وہ قیمت جس کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس کو کسی ایک موصوف کی صفت قرار نہ دیا جائے، اس لیے مطلقاً صفت کو ذکر فرمایا اور موصوف کو قاری کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا۔ قاری قرآن کے فہم و ادراک میں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی استواری میں جیسے جیسے آگے بڑھتا جائے گا اس کو کثرت و اہمیت کے اعتبار سے نئے سے نئے موصوف کا ادراک ہوتا جائے گا۔ اس لحاظ سے وہ کوثر کے مفہوم کو قریب سے قریب تر سمجھ سکے گا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم، حلم، جودوکرم، عفو و درگزر، اخلاقِ عالیہ، انسانی نفسیات کا فہم، صبر و تحمل، حکمتِ دین، ایک ایسا نظام زندگی جو کہیں تصادم کا شکار نہ ہو اور ایک ایسا رفع ذکر جس کی پرچھائیں کو بھی کوئی نہ پا سکے، یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے اس کثرت کے ساتھ آپ کو عطا فرمائی ہیں کہ جو ایک ناپیدا کنار سمندر ہے جس کی حد کو کوئی نہیں پاسکتا۔ اسی کو ہر ایک مفسر اور عالم ربانی نے اپنے اپنے فہم و ادراک کے مطابق اپنے اقوال کی صورت دی ہے جن میں باہم کوئی اختلاف نہیں بلکہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پرتو ہیں۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے اپنی خداداد ذہانت سے کام لیتے ہوئے کوثر کو کثیر کے معنی میں لے کر خیر کو اس کا موصوف قرار دیا اور فرمایا : کوثر وہ خیرکثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں دنیا و آخرت کے وہ تمام انعامات جو آنحضرت ﷺ کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں شامل ہوجاتے ہیں۔ البتہ کچھ نعمتیں ایسی ہیں جہاں انسانی فہم و ادراک کی رسائی نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کرم اور آنحضرت ﷺ کا احسان ہے کہ آپ نے کوثر کی وضاحت کے سلسلے میں ان نعمتوں کا بھی ذکر فرمایا جو قیامت کے دن آپ کو عطا کی جانے والی ہیں۔ ورنہ ان کے جاننے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ تھا۔ اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ کے ارشادات بڑی تعداد میں آپ سے منقول ہیں۔ ان میں سے ہم صرف حضرت انس ( رض) کی روایت کا ذکر کررہے ہیں۔ مسلم کے الفاظ میں حضرت انس ( رض) فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک روز جبکہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں ہمارے درمیان تھے، اچانک آپ پر ایک قسم کی نیند یا بےہوشی کی سی کیفیت طاری ہوئی۔ پھر مسکراتے ہوئے آپ نے سر مبارک اٹھایا۔ ہم نے پوچھا، یارسول اللہ ﷺ آپ کے مسکرانے کا سبب کیا ہے ؟ تو فرمایا کہ مجھ پر اس وقت ایک سورة نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ نے بسم اللہ کے ساتھ سورة کوثر پڑھی۔ پھر فرمایا : تم جانتے ہو، کوثر کیا چیز ہے۔ ہم نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ جنت میں ایک نہر ہے جسے میرے رب نے مجھے دینے کا وعدہ کیا ہے، جس میں خیرکثیر ہے اور وہ حوض ہے جس میں میری امت قیامت کے روز پانی پینے آئے گی۔ اس پر پینے کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔ اس وقت بعض لوگوں کو فرشتے حوض سے ہٹا دیں گے تو میں کہوں گا کہ میرے پروردگار یہ تو میری امت میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آپ نہیں جانتے انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا دین اختیار کیا۔
ابنِ کثیر نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد مزید لکھا ہے کہ حوض کی صفت میں روایاتِ حدیث میں آیا ہے کہ اس میں دو پرنالے آسمان سے گریں گے اور نہرکوثر کے پانی سے حوض کو بھر دیں گے۔ اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوثر سے مراد خیرکثیر ہی ہے لیکن آخرت میں اس خیرکثیر میں وہ حوض کوثر بھی شامل ہے جو قیامت میں امت محمدیہ کو سیراب کرے گا۔ نیز اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اصل نہرکوثر جنت میں ہے اور یہ حوض کوثر میدانِ حشر میں ہوگا۔ اس میں دو پرنالوں کے ذریعے نہر کوثر کا پانی ڈالا جائے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حوض کوثر پر امت کا ورود دخول جنت سے پہلے ہوگا اور حوض کوثر سے جو بعض لوگوں کو ہٹا دینے کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے یہ وہ لوگ ہیں بعد میں اسلام سے پھرگئے یا پہلے ہی سے مسلمان نہیں تھے، مگر منافقانہ اظہارِاسلام کرتے تھے۔
بعض روایات میں اس حوض کوثر کے بارے میں آپ نے یہاں تک فرمایا کہ میں اس حوض پر تم سے پہلے پہنچوں گا اور تم پر گواہی دوں گا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ خدا کی قسم میں اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ حوضِ کوثر کے بارے میں اس طرح کی روایات اتنی تعداد میں ہیں کہ جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
مختلف روایات میں اس حوض کی وسعت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ان تمام کو جمع کرکے دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ بحراحمر ہی کو شاید قیامت کے روز حوض کوثر میں تبدیل کردیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
بعض روایات میں آنحضرت ﷺ نے اس پانی کی رنگت، مزہ، خوشبو کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ اور اس نہر کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کی تہہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگی۔ بعض روایات میں اس کے کناروں کو سونے کا بتایا گیا۔ اور اس کے نیچے سنگریزوں کی جگہ موتی اور جواہر بکھرے ہوئے ہوں گے۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
پس آپ اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ (الکوثر : 2)
(پس آپ اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ )
احسان پر شکر کی تلقین
پہلی آیت میں پروردگار نے اپنے رسول کریم ﷺ پر اپنی بےپایاں عنایات کا ذکر فرمایا۔ اب پیش نظر آیت میں ان انعامات اور احسانات کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی جارہی ہے۔ آپ کو چونکہ کوثر کی شکل میں وہ سب سے بڑی نعمت عطا فرمائی گئی ہے جو نوع انسانی میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔ اس لیے اس کا شکر بھی سب سے بڑی عبادت سے ہونا چاہیے اور وہ نماز ہے۔ اور وَانْحَرْ سے تکمیلِ شکر کے لیے جسمانی عبادت کے ساتھ مالی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے لیے جو لفظ اختیار کیا گیا اس میں دو حقیقتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ وہ قربانی کریں جو مشرکین کی قربانیوں کے تصور کی جڑ کاٹ دے۔ مشرکین اپنے بتوں اور مصنوعی معبودوں کے نام پر قربانیاں کرتے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کریں۔ اور دوسری جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا وہ یہ ہے کہ یوں تو نَحَرْہر قربانی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن عرب میں عموماً اس کا استعمال اونٹ کی قربانی کے لیے ہوتا ہے۔ اور اس میں اہل کتاب کی تردید کی گئی ہے کہ انھوں نے اونٹ کی قربانی کو ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اونٹ کی قربانی کا حکم دیا تاکہ ابراہیمی طریقے کو زندہ کیا جائے اور اہل کتاب کے تصور کی قباحت کو واضح کیا جائے۔ سابقہ آیت کے مضمون کو دیکھتے ہوئے آیت میں نماز اور قربانی کے حکم کی وسعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مشرکین نے اپنے خودساختہ معبودوں کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کی بندگی کے تصور کو پامال کر ڈالا۔ تمہیں اس نماز یعنی بندگی اور قربانی کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ تمہاری پوری زندگی پر صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا غلبہ ہے اور تمہارے جسم و جان اور مال و دولت کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ جہاں چاہے گا تم اسے قربان کردو گے۔ اس لیے قرآن کریم میں نماز اور قربانی اور جینے اور مرنے کا ایک ساتھ ذکر کرکے اس تصور کو اجاگر کیا گیا۔ ارشادِخداوندی ہے : قُلْ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ لاَ شَرِیْکَ لَـہٗ وَبِذٰالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ” اے نبی ! کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سرِاطاعت جھکانے والا ہوں۔ “ آنحضرت ﷺ کی زندگی پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا اثر یہ تھا کہ ساری ساری رات کھڑے رہ کر نماز ادا فرماتے، یہاں تک کہ پائوں متورم ہوجاتے۔ کسی نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ اتنی زحمت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ فرمایا : اَفَلاَ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا ” کیا میں اپنے رب کی بےپایاں نعمتوں پر اس کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔ “ اور قربانی کا حال یہ تھا کہ لاکھوں روپے آپ کے قدموں میں آئے، ایک بہت بڑا ملک آپ کے قبضہ میں آیا، لیکن کبھی زندگی بھر آپ پر زکوٰۃ فرض نہ ہوئی۔ بلکہ حال یہ رہا :
قدموں میں ڈھیر اشرفیوں کا لگا ہوا
اور تین دن سے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گہر
اپنا یہ حال کہ ہے چولھا بجھا ہوا
بعض لوگوں نے وَانْحَرْ کے معنی نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے بعض آئمہ تفسیر کی طرف منسوب کیے ہیں۔ ان کے متعلق ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ روایت منکر، یعنی ناقابلِ اعتماد ہے۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
یقینا آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
اِنَّ شَانِئَـکَ ھُوَالْاَبْتَرُ ۔ (الکوثر : 3)
(یقینا آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو تنبیہ
شَانِیٔ، شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور ایسی عداوت کے ہیں جس کی بنا پر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرنے لگے جس کے دل میں کسی کیخلاف بغض و عداوت ہو اس کو شَانِیٔکہتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کو دشمن کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس سے مراد آنحضرت ﷺ کے وہ اندھے مخالفین ہیں جنھوں نے ہر ممکن طریقے سے آپ کو ختم اور آپ کی دعوت کو ناکام کرنے کی کوشش کی۔ اور اس بات سے ہمیشہ محظوظ ہوتے رہے کہ چونکہ آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی، اس لیے آپ کی وفات کے ساتھ ہی آپ کا نام مٹ جائے گا، کوئی آپ کا نام لیوا نہیں ہوگا۔ تو گویا ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو بغض اور عداوت تھی یہ اس کی انتہاء تھی۔ خلاصے میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ ان کے بڑے بڑے لیڈر آپ کی اولاد کے زندہ نہ رہنے پر ہمدردی کی بجائے خوشی کا اظہار کرتے تھے کہ اس طرح سے آپ کا نام مٹ جائے گا۔ اور جہاں تک آپ کی دعوت کا تعلق ہے وہ یہ سمجھتے تھے جس طرح اہل مکہ نے اس کے لیے اپنے دل بند کرلیے ہیں دوسرے لوگ بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے، اس طرح سے یہ دعوت ختم ہو کے رہ جائے گی۔ اور اس کے لیے انھوں نے ہمیشہ اَبْتَرْکا لفظ استعمال کیا۔ اَبْتَرْ ، بَتر سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو کاٹ دینا۔ اہل لغت کے نزدیک وہ مرد جس کا فرزند نہ ہو، وہ چارپایہ جس کی دم نہ ہو اسے ابترکہتے ہیں۔ اسی طرح ہر وہ کام جس کا نیک اثر باقی نہ رہے اس کو بھی ابتر کہتے ہیں۔ (قرطبی)
اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمنوں کی یا وہ گوئی کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہمارے حبیب ابتر نہیں، ابتر تم ہو۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ چند سال میں تمہاری جڑ کٹ جائے گی۔ جو ہمارے رسول کی دعوت کو قبول کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوجائے گا۔ اور جو مخالفت میں جان دے گا یا زندہ رہے گا، زندگی ہی میں اس کی جڑ کٹ جائے گی، وہ اپنے ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا، اس کی دشمنی اس کے گلے کا پھندا بن جائے گی اور اس کی سازشیں اس کے لیے شرمندگی کا باعث ہوں گی۔ آج تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ قرآن کریم کی یہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ آپ کے دشمن جنگ بدر میں ایک بڑی تعداد میں مارے گئے۔ ان کی قیادت کی پہلی صف الٹ گئی، دوسری صف نہایت ذلت سے فدیہ دے کر آزاد ہوئی۔ پھر ان میں سے کتنے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سے بہرہ ور کیا اور انھوں نے نہایت شوق سے آنحضرت ﷺ کی غلامی کا قلادہ اپنے گلے میں ڈالا۔ اور جو مخالفت میں اڑے رہے وہ ذلت کی تصویر بن کر عرب کی سرزمین میں تحلیل ہوگئے یا وہ تلوار کا لقمہ بنے۔ اور اللہ تعالیٰ نے صرف آپ کے ذکر ہی کو بلند نہیں کیا بلکہ آپ کی دختری اولاد کو وہ برکت عطا فرمائی کہ وہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی اور بڑے بڑے علماء اور اولیاء اللہ تعالیٰ نے ان میں پیدا فرمائے۔ اور جہاں تک آپ کی معنوی اولاد کا تعلق ہے دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس میں ان کی بڑی تعداد موجود نہ ہو اور جو اپنے زوال کے باوجود تاریخ کے ہر دور میں اپنا وزن نہ رکھتے ہوں۔ آپ کے دشمنوں کا آج کوئی نام لینا گوارا نہیں کرتا، لیکن آپ کا دشمن آج بھی جب علمی حیثیت میں آپ کا ذکر کرتا ہے تو آپ کو دنیا کا سب سے بڑا آدمی قرار دیتا ہے۔ اور جہاں تک شہرت ِ دوام کا تعلق ہے کوئی بدترین دشمن بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا میں اس قدر کسی کا نام لیا گیا ہوگا اور اس قدر کسی کی تعریف کی گئی ہوگی۔ کتنے ہندو اور سکھ اس ملک میں ایسے ہیں جنھوں نے آپ کی تعریف میں نعتیں کہی ہیں۔ اور دنیا کا گوشہ گوشہ آپ کے ذکر سے گونج رہا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے :
وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں آسمانوں میں
فرشتوں کی دعائوں میں، موذن کی اذانوں میں
اور ایک ہندو شاعر نے کہا :
زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا