Ayah 107:1اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۔ (الماعون : 1)
(تم نے دیکھا اس شخص کو جو ( آخرت کی) جزاء و سزا کو جھٹلاتا ہے۔ )
آیت میں خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں یہ خطاب ہر اس آدمی سے ہے جو عقل رکھتا ہے اور جس کے اندر نصیحت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے۔ اور پھر یہاں دیکھنے سے مراد آنکھوں سے دیکھنا بھی ہے اور جاننا، سمجھنا اور غور کرنا بھی ہے۔ یہ اسلوب کسی کی طرف تعجب اور نفرت کے ساتھ متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ اور الدِّیْن کا معنی جزاء و سزا بھی ہے اور وہ نظام زندگی بھی جس کو اسلام کہتے ہیں۔ یہاں دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ تعجب سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم نے دیکھا ہے اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے یا نفرت کے اظہار کے لیے کہا جارہا ہے کہ تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ جب تم اسے دیکھو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اسلام بطورنظام زندگی کا انکار یا آخرت کا انکار انسان کے اندر کیسے برے اخلاق پیدا کرتا ہے۔
Ayah 107:2فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۔ (الماعون : 2)
(اور یہی وہ (بدبخت) ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ )
قیامت کی تکذیب والوں کے اخلاق
آیت کے شروع میں فَاکا لفظ یہ بتلاتا ہے کہ یہ جملہ جزائیہ ہے اور اس سے پہلے جملہ شرطیہ محذوف ہے۔ تقدیرِکلام یوں ہوگی ھَلْ عَرَفْتَ الذِّیْ یُکَذِّبُ بِالْجَزَائِ اَوْبِالْاِسْلاَمِ اِنْ لَمْ تَعْرِفُـہٗ فَذٰلِکَ الَّذِیْ ” یعنی جو روزجزاء یا دین اسلام کا منکر ہے اگر تم اس کی حالت کو جانتے ہو تو فبھا۔ اور اگر نہیں جانتے ہو تو اب جان لو کہ اس کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی یتیم اس کے ہاں رحمت و شفقت کا خواستگار بن کر آتا ہے تو اس کو اس کی خستہ حالی پر ذرا ترس نہیں آتا، وہ یتیم کو بجائے اس کی میراث کا حق دینے کے میراث سے بےدخل کرکے اسے دھکے دے کر نکال دیتا ہے۔ اور اگر یتیم اس سے مدد مانگنے کے لیے آتا ہے تو مدد کرنے کی بجائے اسے دھتکار دیتا ہے۔ اور اگر وہ اپنی انتہائی مجبوری کے باعث امید طلب نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کھڑا رہتا ہے تو اسے دھکے دے کر نکال دیتا ہے۔ اور اگر اس کا بس چلے تو وہ یتیم پر ظلم ڈھانے سے بھی باز نہیں آتا۔ اور اس کی اس سنگدلی کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اسے اس بات کا کوئی کھٹکا نہیں کہ قیامت آئے گی اور اسے اپنے ان مظالم اور ان حرکتوں کا جواب دینا پڑے گا۔ اس سلسلے میں قاضی ابوالحسن الماوردی نے اپنی کتاب اعلام النبوۃ میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ابوجہل ایک یتیم کا وصی تھا۔ وہ بچہ ایک روز اس حالت میں اس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے اور اس نے التجا کی کہ اس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں سے وہ اسے کچھ دے دے۔ مگر اس ظالم نے اس کی طرف توجہ نہ دی، اور وہ کھڑے کھڑے آخرکار مایوس ہو کر پلٹ گیا۔ قریش کے سرداروں نے ازراہِ شرارت اس سے کہا کہ محمد ﷺ کے پاس جا کر شکایت کر۔ وہ ابوجہل سے سفارش کرکے تیرا مال دلوا دیں گے۔ بچہ بیچارہ ناواقف تھا کہ ابوجہل کا حضور ﷺ سے کیا تعلق ہے ؟ اور یہ بدبخت کس غرض کے لیے اسے یہ مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ سیدھا حضور ﷺ کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپ سے بیان کیا۔ آپ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بدترین دشمن ابوجہل کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپ کو دیکھ کر اس نے آپ کا استقبال کیا اور جب آپ نے فرمایا اس بچے کا حق ادا کردو تو وہ فوراً مان گیا اور اس کا مال لا کر اسے دے دیا۔ قریش کے سردار تاک میں لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں ان دونوں کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے۔ وہ کسی مزیدار جھڑپ کی امید کررہے تھے۔ مگر جب انھوں نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران ہو کر ابوجہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے۔ اس نے کہا خدا کی قسم میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد ﷺ کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے جو میرے اندر گھس جائے گا، اگر میں نے ذرا بھی ان کی مرضی کیخلاف حرکت کی۔ اس واقعہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں عرب کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور معزز قبیلے تک کے بڑے بڑے سرداروں کا یتیموں اور دوسرے بےیارومددگار لوگوں کے ساتھ کیا سلوک تھا۔ بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپ کے اس اخلاق کا آپ کے بدترین دشمنوں تک پر کیا رعب تھا۔ (تفہیم القرآن)
اسلام نے اس کے برعکس یتیموں اور مسکینوں اور معاشرے کے بےبس لوگوں کے ساتھ جو رویہ رکھنے کی تعلیم دی ہے اسے قرآن کریم نے اکرام سے تعبیر کیا ہے۔ چناچہ فرمایا ہے کَلاَّ بَلْ لاَّ تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ” ہرگز نہیں بلکہ تم یتیموں کا اکرام نہیں کرتے۔ “ اس کا صحیح مفہوم وہ ہے جو حضرت صدیق اکبر ( رض) کے خطبے سے واضح ہوتا ہے۔ ” آپ نے کہا ضعیف اس وقت تک سب سے زیادہ قوی اور بااثر ہے جب تک اس کا حق اس کو نہ مل جائے۔ “ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ معاشرے کا ہر فرد ان لوگوں کی دل سے عزت کرے جن کے حقوق ابھی ملنے ہیں۔ ان کے حقوق کی حمایت کرنا، ان کو ادا کرنے کی تلقین کرنا اور ان کو حاصل کرنے کے لیے سینہ سپر ہونا ہر باحمیت مسلمان کا فرض ہے۔
Ayah 107:3وَلاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ (الماعون : 3)
(اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں ابھارتا۔ )
یعنی اس شخص کا حال یہ ہے کہ کوئی مسکین یا یتیم اس کے دروازے پر جاتا ہے تو وہ اس کو دھکے دے کر نکال دیتا ہے اور دوسروں کو بھی وہ مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔ ہوسکتا ہے اس کا یہ حال کسی مجبوری کے باعث ہو، لیکن اگر اس کے اندر انسانیت کی کچھ بھی رمق ہے تو وہ یہ تو کرسکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو مفلوک الحال لوگوں کی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی ترغیب دے، لیکن آخرت کی تکذیب کرنے والا اس آخری صفت سے بھی محروم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں بعض دفعہ وہ اپنی بخیلی پر پردہ رکھنے کے لیے یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی بخیل بنے رہیں تاکہ کوئی شخص ان کو بخیل کہنے والا نہ رہے۔ اور اگر ان کی خواہش کیخلاف کوئی خرچ کرتا ہے تو وہ الٹے سیدھے نام رکھ کر اسے طعن وتشنیع کا ہدف بنا لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خرچ کرنے والا اپنے خرچ پر نادم ہونے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے شاید کوئی غلطی کی ہے۔ لیکن یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب طعام المسکین کو اطعام المسکین کے معنی میں لیا جائے۔ راغب نے اس کا یہی مفہوم لیا ہے۔ لیکن بعض دیگر علماء نے طعام المسکین سے مراد مسکین کی غذا لی ہے۔ یعنی مسکین کے کھانے یا اس کی امداد کے لیے جو کچھ دیا جاتا ہے وہ درحقیقت مسکین کا حق ہے جو اس کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ گویا یہ دینے والے کی ملکیت نہیں بلکہ لینے والا اس کا مالک ہے۔ دینے والا دے کر کوئی احسان نہیں کررہا بلکہ اسی کی چیز اس کو لوٹا رہا ہے۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ یہ درحقیقت دینے والے کو اس بات سے روکنا ہے کہ وہ مسکین کو کچھ بھی دے کر احسان دھرنے کا تصور نہ کرے۔ بلکہ یہ سمجھے کہ احسان اس کا ہے جس نے میری مدد کو قبول کرلیا۔
Ayahs 107:4–5فَوَیْلٌ لِّـلْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَ تِھِمْ سَاھُوْنَ ۔ (الماعون : 4، 5)
(پس خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے۔ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ )
قریش کے سربرآوردہ لوگوں کی نمازیں اور ان کے اخلاق
یہ بیت اللہ کے پروہتوں اور قریش کے سربرآوردہ لوگوں کی نمازوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اس سورة کو مدنی قرار دیا ہے انھوں نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ یہ منافقین کی نمازوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ پھر انھوں نے منافقین کی نمازوں کی کیفیت بیان کی ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے اور احادیث میں بھی اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے کہ یہاں عَنْ صَلاَ تِہِمْکا لفظ آیا ہے فِیْ صَلاَ تِہِمْکا لفظ نہیں آیا۔ کیونکہ منافق سرے سے نماز کی اہمیت و عظمت اور اس کی فرضیت کے قائل ہی نہیں ہوتے محض مسلمانوں میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کبھی مسلمانوں کے اندر اور کبھی الگ تھلگ بیگار سمجھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ اور اگر فِیْ صَلاَ تِھِمْ کہا جاتا تو پھر نماز کے اندر جو بھول چوک ہوجاتی ہے اور کبھی آدمی کا خیال نماز سے ہٹ کر کسی اور چیز کی طرف لگ جاتا ہے تو وہ اس سے مراد ہوتا۔ اور یہ وہ کوتاہی ہے جو کبھی نہ کبھی ہر شخص سے ہوتی ہے۔ پھر انھوں نے اس کی بھی تفصیل بیان کی اور احادیث سے اس پر استشہاد بھی کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مکی سورة ہے جس میں نماز کی کیفیت بیان نہیں کی گئی بلکہ اشرافِ قریش جو لوگوں میں اپنا تقدس باقی رکھنے کے لیے صحن حرم میں نماز پڑھا کرتے تھے اس کا ذکر ہے اور یہ وہ نماز تھی جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی امت پر لازم کی گئی تھی۔ قریش اس کی حقیقت اور اس کی ہیئت کو یکسر بھول چکے یا بدل چکے تھے۔ قرآن کریم نے بعض جگہ اس کی طرف اشارے کیے ہیں لیکن ان کے نزدیک اس کی اصل صورت کیا تھی اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس آیت کو اگر تدبر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف نمازوں سے غافل ہی نہیں تھے بلکہ نماز کی اصل صورت کو بھی بھول چکے تھے۔ نماز کا تصور ان میں باقی تھا اس لیے جو شخص نماز کی کوئی بھی شکل بنا لیتا لوگ اس کو ایک اچھا آدمی سمجھتے تھے۔ لیکن بالعموم نماز ان کی زندگی سے نکل چکی تھی۔ اگر اس بات کو قبول کرلیا جائے تو پھر ان تفصیلات کی ضرورت نہیں رہتی جو منافقین کی نمازوں کے سلسلے میں مفسرین نے بیان فرمائی ہیں۔
Ayah 107:6الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآئُ وْنَ ۔ (الماعون : 6)
(جو ریاکاری کرتے ہیں۔ )
ان کی نمازیں دکھاوے کی تھیں
یعنی قریش کے نام نہاد متولی جو نمازیں پڑھتے تھے وہ درحقیقت لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتی تھیں۔ اس سے مقصود لوگوں میں اپنے لیے ایک اچھا تصور پیدا کرنے کی کوشش تھی، اللہ تعالیٰ کی یاد کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تو جو نماز محض دکھاوے کی ہو اس کا مذہب سے کیا رشتہ اور اخلاص سے کیا تعلق۔ وہ تو محض شہرت اور نیک نامی کے حصول کی ایک کوشش ہے۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ قریش کے بڑے لوگ دنیوی جاہ و مرتبت کے سوا اور کسی چیز کے طلبگار نہ تھے۔ حالانکہ ان کے جدِامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی اولاد کو کعبہ کے گردوپیش میں بسایا تھا تو اس کا اصل مقصد نماز کا قیام بتایا گیا تھا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست اپنا تعلق قائم کریں اور اللہ تعالیٰ کے گھر کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے دین کا مرکز بنادیں۔
Ayah 107:7وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۔ (الماعون : 7)
(اور معمولی ضرورت کی چیزیں (مانگے بھی) نہیں دیتے۔ )
ان کی طبیعتوں کی خست
ماعون کے متعدد معانی بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن علماء تفسیر کی کثیر جماعت نے اس کا معنی روزمرہ استعمال کی چیزیں بتایا ہے جو عام طور پر پڑوسی اپنے پڑوسی سے مانگ لیتا ہے۔ ایک ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے سے مانگ لیتے ہیں اور اس میں امیروغریب کا بھی کوئی فرق نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ کسی امیر گھر والے کو بھی کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی ضرورت پڑجاتی ہے اور وہ اپنے ہمسائے سے مانگ لیتا ہے۔ مثلاً دیاسلائی، ہنڈیا، ڈول، نمک مرچ، کلہاڑی، ترازو، اس طرح کی چیزیں جو ہر گھر کی ضرورت ہیں لیکن بعض دفعہ امیر گھروں میں بھی اچانک ختم ہوجانے کی وجہ سے دوسرے سے مانگنے کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ ایسا کرنا کوئی شخص اپنے لیے عیب نہیں سمجھتا۔ اور جو شخص اس طرح کی معمولی چیز دینے سے بھی انکار کرے معاشرے کی نظروں میں وہ کمینہ اور لئیم کہلاتا ہے۔
نماز کا اہتمام جس طرح آدمی کے تعلق کو اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرتا ہے اسی طرح بندوں سے تعلق میں بھی استواری پیدا کرتا ہے۔ اشرافِ قریش جس طرح نماز کی حقیقت کو بھول چکے تھے، اسی طرح وہ انسانی رشتے کو بھی بھلا چکے تھے۔ کسی انسان کی مدد کرنا تو دور کی بات ہے وہ معمولی سے معمولی چیز کو بھی مانگے سے بھی دینے سے گریز کرتے تھے۔ تو جس قوم کے بڑوں کی خست کا یہ عالم ہو اس قوم کی عام اخلاقی حالت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ اور یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس بات کا کہ وہ آخرت سے انکار کرچکے ہیں۔ جو بھی قوم آخرت سے انکار کرتی ہے اس میں اسی قسم کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔