109. Surah Al-Kaafiroon

الكافرونThe Disbelievers · 6 ayahsروح القرآن

Ayah 109:1

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ Open ayah 109:1 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجئے، اے کافرو !

قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (الکافرون : 1) (اے پیغمبر کہہ دیجئے، اے کافرو !۔ ) قُلْ کا مفہوم اور کٰفِرُوْن کے لفظ سے خطاب کی وجہ یہاں قُلْصاف صاف بات کہنے اور اعلان کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ جواب ہے مشرکینِ مکہ کی اس پیشکش کا جو آنحضرت ﷺ سے سمجھوتے کے سلسلے میں انھوں نے کی تھی۔ انھوں نے جب محسوس کیا کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت رفتہ رفتہ دلوں میں اترتی جارہی ہے اور ان کی نام نہاد وحدت میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں تو انھوں نے شروع شروع میں تو آنحضرت ﷺ کی دعوت کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی اور پھر مخالفت کی قوت سے اس کا راستہ روکا۔ لیکن جب انھیں ہر مرحلے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو تب انھوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایسے سمجھوتے کی کوشش کی جس سے کفر اور اسلام کا ایسا ملغوبہ تیار ہو جس سے ان کی انا کو بھی ٹھیس نہ پہنچے اور آنحضرت ﷺ بھی اس پر مطمئن ہوجائیں۔ چناچہ ان کی اس طرح کی پیشکشوں کے جواب میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس بات کا اعلان کردیجئے کہ تم جس طرح کی پیشکشیں کررہے ہو اس کے لیے اسلام کی دعوت توحید میں کوئی گنجائش نہیں۔ اس طرح کی باتیں کہ ایک سال میں تمہارے بتوں کی پوجا کروں، اور ایک سال تم خدائے واحد کو پوجو، یہ اسلام کی دعوت نہیں بلکہ کفر ہے۔ اسلام جس توحید کی دعوت دیتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک کیا جاسکتا ہے اور نہ صفات میں۔ وہ ہر لحاظ سے ہر لمحہ اور ہر موقع پر وحدہ لاشریک ہے۔ زندگی کے کسی لمحے میں کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کو اس طرح ماننا چاہتا ہے کہ اس کو اِلٰہ بھی مانا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی بہت ساری صفات میں دوسری قوتوں کو شریک بھی کیا جائے۔ اور اس کی بندگی اور عبادت میں دوسری قوتوں کی بھی جگہ نکالی جائے۔ اسلام ایسی ہر کوشش کو کفر قرار دیتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی مملکت کا تاجدار اپنی تاجوری یا اپنے اختیارات میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتا۔ تو اللہ تعالیٰ جو ہر لحاظ سے بےمثال اور ہر طرح کی ہمسری سے پاک ہے، کسی دوسرے کی شرکت کو کیسے گوارا کرے اور کس طرح توحید کی دعوت میں اسے شامل کرنے کی اجازت دے دے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ درحقیقت اسلام کی نہیں، کفر کی خدمت انجام دیتا ہے۔ اس لیے وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کے سامنے باہمی سمجھوتے کے لیے ایسی تجویزیں پیش کررہے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی وحدانیت کے منکر ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کافر کا لفظ استعمال کیا گیا۔ کیونکہ کافر انکار کرنے والے اور نہ ماننے والے کو کہتے ہیں۔ یہ کوئی گالی نہیں بلکہ درحقیقت ان کی اس غلطی کی طرف توجہ دلانا ہے جو وہ سمجھوتے کی دعوت کے سلسلے میں کررہے ہیں۔ بعض مفسرین کرام کی رائے یہ ہے کہ یہ خطاب قریش کے ان آئمہ کفر سے ہے جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ کو بتادیا گیا تھا کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ اور وہی لوگ تھے جو آنحضرت ﷺ کے سامنے اس طرح کی پیشکشیں کررہے تھے۔ لیکن یہ بات زیادہ وزنی معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اگر یہی بات ہوتی تو پھر ان کے مر کھپ جانے کے بعد اس سورة کی تلاوت ختم ہوجانی چاہیے تھی۔ اور اسے قرآن کریم میں شامل کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ لیکن اس کا قرآن کریم میں شامل کیا جانا اور پھر قیامت تک مسلمانوں کا اسے پڑھنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آیت میں کٰفِرُوْنَ کے لفظ سے خاص کافر مراد نہیں بلکہ اس میں عموم پایا جاتا ہے اور قیامت تک دنیا کے جس حصے میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہوگی ان لوگوں کو کافر ہی کہہ کر پکارا جائے گا۔
Ayah 109:2

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 109:2 in the Quran reader

میں پرستش نہیں کروں گا جن کی تم پرستش کرتے ہو

لَآاَعْبُدُ مَاتَعْبُدُوْنَ ۔ (الکافرون : 2) (میں پرستش نہیں کروں گا جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ ) قریش کی پیشکش کا جواب کفار کی پیشکش کے جواب میں پروردگار کے حکم سے آنحضرت ﷺ نے ان کو یہ جواب دیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کی عبادت کو شامل کرنا چاہتے ہو جبکہ میرا عقیدہ یہ ہے اور یہی میرا طرزعمل ہے کہ میں ان چیزوں کی پرستش نہیں کروں گا جن کی پرستش تم کرتے ہو۔ اس طرح سے پہلے ہی فقرے میں ان کی تمام تر توقعات کو ختم کرکے رکھ دیا۔ بعض مفسرین نے لَآ اَعْبُدُ کو حال کے معنی میں لیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان کی پرستش نہیں کرتا۔ اگر یہ مفہوم مراد لیا جائے تو اس سے کفار کی پیشکش کے جواب میں آنحضرت ﷺ کا جواب واضح نہیں ہوتا۔ کیونکہ قریش میں سے ہر شخص یہ جانتا تھا کہ نبی کریم ﷺ ان بتوں میں سے کسی کو نہیں پوجتے، اور نہ آپ کسی اور قوت کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ پرستش کرتے ہیں۔ تو پھر ان کو یہ بات بتانا کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان کی پرستش نہیں کرتا، ایک بےمعنی سی بات ہے۔ اس لیے اس جواب میں اصل زور اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ تم مجھ سے جو توقع کررہے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں، میں وہ ہرگز نہیں کرسکتا۔ اور اس حوالے سے میرے رویئے میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوسکتی۔ صاحبِ کشاف کے نزدیک تو جب لَآ مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اسے حال کے معنی میں لینا عربیت کے خلاف ہے بلکہ مضارع پر لَا کا داخل ہونا لازماً اسے مستقبل کے معنی میں خاص کردیتا ہے۔ اس لیے صاحب کشاف کہتے ہیں لا اعبد ارید بہ العبادۃ فی ما یستقبل لان لا۔ لاتدخل الا علی مضارع فی معنی الاستقبال یعنی مضارع پر لَا داخل ہے اور اس صورت میں مستقبل کی نفی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے آنحضرت ﷺ کفار کی پیشکش کے جواب میں یہ فرما رہے ہیں کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی پوجا کی جو دعوت دے رہے ہو، میں یہ پوجا یا پرستش کبھی نہیں کروں گا۔ یعنی تم جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی پوجا نہیں کرتا، لیکن تمہاری پیشکش کے جواب میں، میں یہ کہتا ہوں کہ آئندہ بھی میں ایسا نہیں کروں گا۔ مَاتَعْبُدُوْنَ میں مَا عموم کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے کفار اور مشرکین جن کی عبادت کرتے ہیں خواہ وہ ملائکہ ہوں یا جن، انبیاء ہوں یا اولیاء، زندہ ہوں یا مردہ، انسانوں کی ارواح ہوں یا سورج چاند ستارے۔ جانور، درخت، دریا ہوں یا بت اور خیالی دیویاں اور دیوتا، میں ان میں سے کسی کی نہ عبادت کرتا ہوں اور نہ کروں گا۔
Ayah 109:3

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ Open ayah 109:3 in the Quran reader

اور نہ ہی تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں

وَلاَ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَـآ اَعْبُدُ ۔ (الکافرون : 3) (اور نہ ہی تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ ) اس میں حقیقت نفس الامری بھی ہے اور ایک غلطی کی نشاندہی بھی اس آیت میں کفار کی پیشکش کا جواب بھی ہے اور ان کی غلطی کی نشان دہی بھی۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جس طرح ہم اپنے بتوں کی عبادت صرف پوجا پاٹ کی حد تک کرتے ہیں، باقی زندگی کے معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اور پھر اس عبادت میں اگر ہم کسی اور کو بھی شامل کرلیں جب بھی بتوں کی عبادت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرسکتے ہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ تم نے سمجھوتے کی جس پیشکش میں اللہ تعالیٰ اور غیر اللہ کی عبادت کو ایک ساتھ رکھا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس طرح سے دونوں کی عبادت کی جاسکتی ہے، یہ تمہاری غلطی ہے۔ بتوں کی عبادت تو واقعی پوجا پاٹ کے سوا اور کچھ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جس طرح اس کی ذات کو ایک ماننا ضروری ہے اسی طرح اس کی صفات اور اس کے حقوق میں بھی کسی اور کی شرکت کا تصور بھی گناہ ہے۔ وہ جس طرح اپنی ذات میں واحد ہے اسی طرح اپنی صفات میں اور اپنے حقوق میں بھی وحدہ لاشریک ہے۔ تو اپنی پیشکش میں تم اللہ تعالیٰ کی جس عبادت کا ذکر کررہے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں بلکہ اس کے ساتھ شرک اور کفر کرنا ہے۔ جس طرح اس کو نہ ماننا اور اس کے سامنے سر نہ جھکانا اور اس کی غیرمشروط اطاعت نہ کرنا کفر ہے اسی طرح اس کی عبادت اور اطاعت میں کسی اور کو شریک کرنا بھی کفر ہے۔ جو شخص اپنے دیویوں اور دیوتائوں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکا کر اور اس کی عبادت کرکے بھی اس کی عبادت سے محروم رہتا ہے۔ کیونکہ اس کی بندگی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے تمام معبودوں سے لاتعلقی کا اظہار کرو۔ اگر اس کی بندگی کے ساتھ تم نے اپنے معبودوں کی بندگی بھی جمع کرنے کی کوشش کی تو اپنے معبودوں کے پرستار تو بیشک رہو گے لیکن اللہ تعالیٰ کی بندگی میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ گزشتہ آیت میں ماتعبدون فرمایا گیا ہے۔ وہاں تو اس کا استعمال بالکل صحیح ہے کیونکہ مَا کا لفظ عموماً بےجان یا بےعقل چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور مشرکین چونکہ فرضی اور وہمی چیزوں کو پوجا کرتے تھے اس لیے ایسے معبودوں کے لیے مَا کا استعمال ہر طرح مناسب ہے۔ لیکن مَااَعْبُدُ میں مَا کا استعمال بظاہر کھٹکتا ہے۔ چناچہ اہل علم نے اس کے مختلف جواب دیئے ہیں۔ بعض کا گمان یہ ہے کہ یہاں مَا مَن کے معنی میں ہے۔ بعض دوسرے لوگوں کے نزدیک الَّذِیْ کے معنی میں۔ اور بعض اہل علم اسے مَا مصدریہ قرار دیتے ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ میں وہ عبادت نہیں کرتا جو تم کرتے ہو۔ لیکن اکثر اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہاں مَا کا استعمال مجانست کے اصول پر ہوا ہے۔ اور یہی بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔
Ayahs 109:4–5

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ Open ayah 109:4 in the Quran reader

اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم نے عبادت کی

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ Open ayah 109:5 in the Quran reader

اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو، جس کی عبادت میں کرتا چلا آرہا ہوں

وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ ۔ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَـآ اَعْبُدُ ۔ (الکافرون : 4، 5) (اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم نے عبادت کی۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو، جس کی عبادت میں کرتا چلا آرہا ہوں۔ ) ماضی کے حوالے سے بھی اس پیشکش کا رد جہاں تک کفار و مشرکین کی مفاہمت کے سلسلے میں پیشکشوں کا تعلق تھا اس کا جواب تو اوپر کی آیات میں دے دیا گیا۔ وہ اگرچہ مکمل جواب ہے لیکن کفار کے رویئے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایسا جواب نہ تھا جس سے بتمام و کمال ان کی امیدیں ٹوٹ جاتیں اور وہ آنحضرت ﷺ سے مفاہمت کی ہر کوشش کو ختم کردیتے۔ کیونکہ اس جواب میں اس بات کا امکان موجود تھا کہ یہ صحیح ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے۔ اور آئندہ بھی آپ نے ایسا نہ کرنے کی ہر کوشش کو ختم کردیا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ ماضی میں کبھی آپ نے ایسا کیا ہو۔ نبوت سے پہلے جبکہ آپ ایک عام شخص کی زندگی گزار رہے تھے، کبھی ہمارے معبودوں کے لیے آپ کے دل میں نرم گوشہ رہا ہو۔ ہم اس حوالے سے آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ اپنے عزم پر نظرثانی کریں۔ اور ہم آپ کو گزشتہ زندگی کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔ پیش نظر دونوں آیتوں میں پروردگار نے ماضی کے حوالے سے بھی ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اور صاف صاف اعلان کردیا ہے کہ جس طرح میں مستقبل میں کبھی بھی تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا اور نہ ایسا کرنے کا کوئی امکان ہے۔ اسی طرح میں ماضی کے حوالے سے بھی کہتا ہوں کہ میں کبھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور ایسے معبود کا پرستار نہیں رہا جس کی پوجا اور عبادت تمہارے آبائواجداد کرتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح معبودانِ باطلہ ہر قوم کے الگ الگ رہے ہیں اور پھر زمانے کے بدلنے سے ان میں بھی تبدیلی آتی رہی ہے، اسی طرح عبادات اور خرافات میں بھی کبھی یکسانی نہیں رہی۔ نئے نئے آستانے وجود میں آتے رہے ہیں اور پرانے آستانوں کو دنیا بھولتی رہی ہے۔ ہر دور میں نئی وابستگیاں پیدا ہوتی رہی ہیں اور نئی سے نئی خرافات جنم لیتی رہی ہیں۔ لیکن میں نے جس طرح تمہارے معبودانِ باطلہ اور عبادت کے باطل طریقوں کو کبھی اختیار نہیں کیا، اسی طرح تاریخ میں تمہارے آبائواجداد میں شرک کی جتنی صورتیں بھی موجود رہی ہیں، میں کبھی بھی ان کا برداشت کرنے والا نہیں رہا۔ اس طرح سے ان کی تمام امیدوں کا قلع قمع کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ وَلَآاَنَا عَابِدٌ اگرچہ جملہ اسمیہ ہے جس کا کسی زمانے کے ساتھ مقید ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ تینوں زمانوں کے ساتھ یکساں ربط رکھتا ہے۔ البتہ ماعبدتم چونکہ ماضی ہے اس وجہ سے یہ واضح قرینہ موجود ہے کہ وَلَآاَنَاعَابِدٌ کی نفی ماضی ہی سے متعلق ہے۔ یعنی میں پہلے بھی کبھی ان معبودوں کو پوجنے والا نہیں رہا ہوں جن کی تم نے یا تمہارے آبائواجداد نے کبھی پوجا کی ہے۔ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے انکار میں ایک اور پہلو سے بھی شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ جب تمہارے معبودانِ باطلہ کی عبادت سے ماضی میں مجھے کبھی تعلق نہیں رہا اور میں کبھی تمہاری خرافات میں شریک نہیں ہوا جبکہ میں ابھی شرف نبوت سے مشرف نہیں ہوا تھا اور نوروحی نے ابھی میرے دل میں اپنا مسکن نہیں بنایا تھا تو اب جبکہ میں اللہ تعالیٰ کے انعامات سے فیض یاب ہورہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت براہ راست مجھ تک پہنچ رہی ہے تو تمہاری ان خرافات میں کیسے شریک ہوسکتا ہوں۔ اور کس طرح اپنے مصفیٰ اور مجلیٰ دامن پر تمہارے شرک اور جاہلیت کے چھینٹوں کو برداشت کرسکتا ہوں۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ بعض لوگوں نے وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ کو آیت 3 کا اعادہ قرار دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ الفاظ کے اعتبار سے بیشک یہ آیت 3 کا اعادہ ہے لیکن معنی کے اعتبار سے یہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ آیت 3 کا تعلق مستقبل سے تھا اور پیش نظر آیت کا تعلق ماضی سے ہے۔ قریش پر یہ بات واضح کی جارہی ہے کہ تم نے اپنی پیشکش میں جو یہ بات کہی ہے کہ اگر آپ ہمارے معبودوں کی پوجا گوارا کرلیں تو ہم آپ کے خدا کو پوجنا شروع کردیں گے اور اس کی عبادت اختیار کرلیں گے، یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ کیونکہ تمہارے معبودانِ باطلہ میں سے کوئی بھی نہ حقیقی معبود ہے، نہ معبودِبرحق ہے اور نہ کامل معبود ہے۔ تم نے اپنے توہمات اور جھوٹے خیالات کو معبودانِ باطلہ کی شکل دے رکھی ہے۔ اس لیے تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی جزوی عبادت کی جائے یا کلی عبادت کی جائے، ان کو چھوٹا معبود سمجھا جائے یا بڑا معبود سمجھا جائے جبکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کسی اور شرکت کو گوارا نہیں کرتی، جب تک دوسرے معبودوں کا انکار نہ کیا جائے اور بندگی کے ہر تصور کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہ کیا جائے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی عبادت ممکن نہیں۔ اس لیے تمہارا یہ کہنا کہ تم اپنے معبودوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بھی عبادت کرو گے، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جس طرح صاف اور طیب چیز میں گندگی کی ملاوٹ کے بعد وہ چیز کھانے اور پینے کے قابل نہیں رہتی، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی اور کی عبادت اور پوجا پاٹ کے شامل ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے تم جس طرح آج دوسری مشرکانہ ملاوٹوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرسکتے بلکہ اس کی عبادت خاص اسی کی عبادت ہونی چاہیے۔ اسی طرح تم ماضی میں بھی کبھی اپنے مشرکانہ رویئے کو چھوڑ کر خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نہیں رہے۔ بلکہ تم نے ہمیشہ دوسری قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک کیا، اس کی صفات کا حامل بنایا اور ان کے ساتھ اسی طرح عقیدت و محبت رکھی جیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اس لحاظ سے امرواقعہ یہ ہے کہ تم ماضی میں بھی اس طرح اللہ تعالیٰ کے عبادت کرنے والے کبھی نہیں رہے جیسے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا چلا آرہا ہوں۔ ما اعبد مضارع ہو کر بھی ماضی کے معنی میں ہے۔ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر بہتر یہ تھا کہ یہاں مَاعَبْدتُّکو لایا جاتا تاکہ ماضی کا معنی متعین ہوجاتا۔ لیکن ایسا کرنے سے جو چیز پیش نظر ہے اس کا اظہار نامکمل رہتا۔ پیش نظر یہ ہے کہ جس طرح آج میں خالصتاً اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتا ہوں اور آئندہ بھی ایسا ہی کروں گا، اسی طرح ماضی میں بھی یہی میرا عمل رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول اسی پر عامل رہے ہیں۔ یعنی اس سے تسلسل اور استمرار کا اظہار ہورہا ہے۔ جو ظاہر ہے کہ ماضی کا صیغہ لانے سے نہیں ہوسکتا۔
Ayah 109:6

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠ Open ayah 109:6 in the Quran reader

تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین

لَـکُمْ دِیْنُـکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۔ (الکافرون : 6) (تمھارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ ) حرف انکار کی تکمیل یہ اظہارِ براءت اور حرف انکار کی تکمیل ہے۔ یعنی تم نے اپنی زندگی کے لیے جو ضابطہ بنا رکھا ہے وہ تمہارا دین ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو ضابطہ ٔ حیات دیا ہے وہ ہمارا دین ہے۔ ان دونوں میں کوئی اشتراک نہ کبھی ماضی میں ہوا، نہ حاضر میں ہے اور نہ اس کی آئندہ کوئی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایسی مغائرت کی موجودگی میں کسی مفاہمت اور سمجھوتے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے میرے لیے میرا دین اور تمہارے لیے تمہارا دین ہے۔ میں اپنے طریقے پر کام کرتا رہوں گا اور تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو۔ انجام بتادے گا کہ بات کس کی سچی ہے۔ اور انجام نے بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کا دین غالب رہا، اللہ تعالیٰ کے رسول کو اللہ تعالیٰ نے عزت و رفعت سے نوازا۔ پورے عرب کی شوکت ان کے قدموں میں ڈھیر ہوگئی اور تمام ادیانِ باطلہ ان کے دین کے سامنے سرنگوں ہوگئے۔ اور مفاہمت کی پیشکشیں کرنے والے موت کے گھاٹ اتر گئے اور یا ذلت کی موت ان کا مقدر بنی۔