110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsروح القرآن

Ayah 110:1

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے

اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ ۔ (النصر : 1) (جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے۔ ) یہ آخری سورة ہے، نصر اور فتح مخصوص مفہوم میں ہے ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ یہ سورة قرآن کریم کی آخری سورة ہے، اس کے بعد کوئی مکمل سورة نازل نہیں ہوئی۔ البتہ بعض آیات کا نازل ہونا ثابت ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کے قول کے مطابق اس سورة میں آنحضرت ﷺ کی وفات حسرت آیات کی خبر دی گئی ہے۔ اور حضرت عمرفاروق ( رض) جیسے بالغ نظر شخص نے بھی اس بات کی تصدیق فرمائی۔ اور اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آپہنچے، ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ مدد نہیں ہے جو زندگی کے بیشتر معاملات میں انفرادی اور اجتماعی طور پر صاحب ایمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچتی رہتی ہے۔ بلکہ اس سے مراد وہ مدد ہے کہ جس مقصد کے لیے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تھا اور مسلمان آپ کے ساتھ شب و روز جس مقصد کے حصول کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے وہ مقصد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کا وہ عمومی غلبہ تھا جس کے بعد کفر اسلام کے راستے کی رکاوٹ بننے کی بجائے اسلام کے لیے راستہ چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ اور وہ تمام جتھے اور گروہ جنھوں نے اجتماعی طور پر اسلامی تحریک کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا، سرنگوں ہوجائیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کے آثار سامنے نظر آنے لگیں۔ اسی طرح فتح سے مراد بھی کسی ایک جنگ کی فتح یا عمومی فتوحات نہیں ہیں بلکہ وہ فتح ہے جس کے بعد کفر کی طاقتیں ٹوٹ جائیں اور کافرانہ قوتوں کا مرکزاعصاب اسلام کی گرفت میں آجائے۔ اس لحاظ سے وہ فتح، فتحِ مکہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ کیونکہ قریش عرب کی مقتدر قوت تھے۔ ان کی تاریخی حیثیت، کاروباری برتری اور کعبۃ اللہ کی تولیت نے ان کو پورے جزیرہ ٔ عرب میں ایک فیصلہ کن حیثیت دے رکھی تھی۔ عرب کے دوردراز گوشوں کے لوگ بھی کسی بھی اجتماعی فیصلے سے پہلے ان کی طرف دیکھتے تھے۔ چناچہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کردیئے جائیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والے جس طرح بےبسی کے ساتھ اپنا شہر چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے اور پھر ان کو مدینہ منورہ میں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا گیا، وہ صرف آٹھ سال کے محدود عرصے میں اس قابل ہوجائیں کہ وہ مکہ کی سرزمین پر قوت کا مظہر بن کر اس طرح حملہ آور ہوں کہ قریش ان کے سامنے سر اٹھانے کی بھی جرأت نہ کرسکیں۔ اور مکہ جو کل تک کفر کا مرکز تھا اسلام کا قلعہ اور مرکز بن جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ نصرت تھی جس نے فتحِ مکہ کا راستہ صاف کیا اور فتحِ مکہ کے بعد لوگوں کو اسلام کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی مل گئی۔ اب وہ اسلام کی خوبیاں دیکھتے تھے، اس کی صداقت کو پہچاننے کی کوشش کرتے تھے، قریش کے تیوروں کو دیکھنے کی ضرورت چنداں ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ بعض اہل علم کو غزوہ ٔ طائف و حنین سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ فتحِ مکہ وہ فتح نہ تھی جس کے بعد لوگوں کے سامنے اسلام کی حقانیت کا راستہ کھل گیا، بلکہ اب بھی کفر میں بہت دم خم باقی تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غزوہ ٔ حنین کفر کی حرکت مذبوحی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ یہ بجھتے ہوئے دیئے کی آخری لَو تھی جس کے بعد اس کا تیل ختم ہوگیا۔ اور یہ وہ درخت تھا جس کی جڑیں خشک ہو کر رہ گئیں۔ اور جزیرہ ٔ عرب میں سے کسی نے ان کی حمایت میں سر اٹھانے کی کوشش نہ کی تھی بلکہ جزیرہ ٔ عرب کے رہنے والے لوگوں کا اب رجحان انکار و تکذیب کی طرف نہیں بلکہ تسلیم وانقیاد کی طرف تھا۔
Ayah 110:2

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں

وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ (النصر : 2) (اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں۔ ) فتح کا نمایاں پہلو اور آپ ایک محدود عرصے کے بعد فتحِ مکہ کے اثرات کے طور پر لوگوں کو دیکھیں کہ اب وہ چھپتے اور ڈرتے ہوئے ایک ایک دو دو کرکے اسلام میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کررہے بلکہ وہ پورے کے پورے قبیلے اور بڑے بڑے علاقوں کے باشندے فوج درج فوج مدینے کا رخ کرنے لگیں اور اسلام کی آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کرنے لگیں۔ چناچہ یہ زمانہ فتحِ مکہ کے تقریباً ایک سال کے بعد 9 ہجری میں شروع ہوا کہ دوردراز علاقوں سے وفود کا سیلاب پھوٹ نکلا، اس لیے اس سال کو عام الوفود کہتے ہیں۔ یمن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سے سات سو آدمیوں پر مشتمل قافلہ نکلا جو راستے میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے ترانے گاتا ہوا، نمازیں پڑھتا ہوا مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ اس طرح چند ہی مہینوں میں عرب کے بیشتر لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے۔ حتیٰ کہ جب نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے تو اس وقت پورا عرب اسلام کے زیرنگیں ہوچکا تھا اور ملک میں کوئی مشرک باقی نہیں رہا تھا۔
Ayah 110:3

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے اور اس سے مغفرت کی دعا مانگئے، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ ط اِنَّـہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ (النصر : 3) (تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے اور اس سے مغفرت کی دعا مانگئے، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ) ادائے شکر کے لیے آنحضرت ﷺ کو تسبیح و حمد اور استغفار کی ہدایت حمد اللہ تعالیٰ کی تعریف کو بھی کہتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرنے کو بھی۔ اور تسبیح کا معنی اللہ تعالیٰ کو ہر لحاظ سے پاک اور منزہ قرار دینا ہے۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو تین باتوں کا حکم دیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں۔ تسبیح تنزیہ کا ہم معنی ہے۔ یعنی آپ کے اور اصحاب ِ ایمان کے دلوں میں کبھی اس بات کا وہم بھی پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کے غلبے اور اپنے کلمے کی بلندی کے لیے ہماری کاوشوں کا محتاج ہے۔ ہم نے شب و روز محنت کی، پسینہ بہایا، مال خرچ کیا، قربانیاں دیں، گلے کٹوائے اور خون دیا۔ اس کے نتیجے میں اسلام کو غلبہ ملا۔ اپنے دلوں کو اس بات سے یکسر خالی کر لیجیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی سربلندی کے لیے کسی کا محتاج نہیں۔ اس کی سنت یہ ہے کہ وہ انسانوں کو جنت کا مستحق اور اپنی رضا کا سزاوار بنانے کے لیے ان کو محنت، ایثار اور قربانی کا موقع دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو اس کے بغیر بھی سب کچھ کرسکتا تھا۔ اور دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ تمہاری یہ تسبیح اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یعنی تمہیں جب بھی اپنی قربانیاں یاد آئیں، اپنے کارناموں کی یاد تازہ ہو تو فوراً دلوں اور دماغوں میں یہ تصور غالب آجانا چاہیے کہ ہماری یہ تمام مساعی اور ہماری یہ ساری قربانیاں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی محتاج تھیں۔ اسی کی توفیق تھی کہ ہمیں ایمان کی دولت ملی اور اسی کی تائید تھی کہ ہم اس کے لیے کچھ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ورنہ کتنے بیشمار لوگ ہیں کہ وہ جسمانی توانائیاں، دماغی رعنائیاں اور حالات کی کامرانیاں ہم سے زیادہ رکھتے ہیں۔ لیکن انہیں وہ توفیق نصیب نہ ہوسکی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نصیب میں لکھی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ حمد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کوئی تجریدی آرٹ نہیں جس کی حقیقت کوئی نہ ہو۔ نہ وہ کوئی ذہنی آورش ہے جو محض تصوراتی چیز ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا اثبات ہے جسے دلوں اور دماغوں میں رسوخ ملنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اس کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ اور یہی وہ مقصد ہے جسے لے کر دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوتے ہیں اور یہی وہ امانت ہے جو امتوں کے سپرد کی جاتی ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے سب اس بات کے پابند ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل، اس کی صفت حاکمیت اور اس کی کبریائی کا جھنڈا اس کی زمین پر گاڑ دیں۔ اور اہل زمین کو اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی ترغیب دیں۔ تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں۔ یعنی مغفرت اور بخشش مانگیں۔ مغفرت اور بخشش کا تعلق گناہ سے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ تو پھر یہاں مغفرت کا کیا مفہوم ؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) اتباعِ ہَویٰ کی قسم کے گناہ تو کبھی نہیں کرتے۔ وہ شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور کبھی ان پر گناہ کے محرکات غالب نہیں آتے۔ البتہ بعض اوقات کوئی نیک محرک ان کو کسی نیکی میں حدمطلوب سے متجاوز کردیتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو کسی امتی میں ہو تو نیکی کہلائے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا رسول چونکہ ہر لحاظ سے ایک نمونہ ہوتا ہے اس لیے اسے اس سے بھی روکا گیا ہے اور اس کو اس پر بھی استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے مقام بلند کے حوالے سے بعض ایسی چیزوں کو بھی جو عام حالات میں بری نہیں، لیکن ان کے مقام بلند کے حوالے سے وہ فروتر نظر آتی ہیں انہیں گناہ قرار دیا گیا ہو۔ ایسی بھول چوک اور ایسی کوتاہی سے بھی انہیں استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور مزید یہ کہ ان کے زیرتربیت اصحابِ ایمان کی خوبیاں اور قربانیاں جس طرح ان کی طرف منسوب ہوتی ہیں اسی طرح ان کی ہلکی پھلکی کمزوریاں بھی آپ کی طرف منسوب کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے دیگر اصحابِ ایمان کے لیے بھی آپ کو استغفار کا حکم دیا گیا اور ان کی غلطیوں کو آپ کی غلطیاں ٹھہرایا گیا تاکہ ان کی مغفرت یقینی ہوجائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) فرماتی ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے تھے سُبْحَانَـکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ (رواہ البخاری) حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اس سورة کے نزول کے بعد اٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے آپ ہر وقت یہ دعا پڑھتے تھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاَتُوْبِ اِلَیْہِ ۔ ان دعائوں کے ساتھ ساتھ آپ کی عبادات میں بھی اضافہ ہوگیا اور آپ نے اس حد تک مجاہدہ فرمایا کہ آپ کے پائوں متورم ہوگئے، لیکن آپ برابر اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اور استغفار میں لگے رہے۔