111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsروح القرآن

Ayah 111:1

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ، اور وہ تباہ و برباد ہوگیا

تَـبَّتْ یَدَٓا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ ۔ (اللہب : 1) (ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ، اور وہ تباہ و برباد ہوگیا۔ ) لفظ ابولہب کی تحقیق ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جس کا معنی ہے عزیٰ کا بندہ۔ عزیٰ ایک بت کا نام ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اسے عبدالعزیٰ کے نام سے پکارنا پسند نہ فرمایا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ابولہب کا معنی ہے شعلے والا، یعنی شعلہ رو۔ اس کا رنگ بہت چمکتا ہوا اور سرخ وسفید تھا۔ اس لیے یہ ابولہب کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے خود اپنی کنیت ابولہب رکھی یا اس کے خوشامدیوں نے اسے ابولہب کی کنیت سے پکارنا شروع کردیا۔ قرآن کریم نے بھی اسے اسی کنیت سے ذکر فرمایا ہے۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ اس کی اس کنیت سے اس کے انجام کی طرف بھی اشارہ ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ جہنم کے شعلوں میں ڈالا جائے گا۔ تَـبَّتْ یَدَٓاہُ کا مفہوم تَبَّ تباب سے مشتق ہے۔ اور تَبَّتْ بھی اسی سے واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ہلاک اور برباد ہو۔ تو پہلے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں یا ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے۔ دونوں ہاتھوں کے ٹوٹ جانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مقاصد کے حصول میں ناکام اور نامراد ہوجائے۔ اس لحاظ سے یہ ایک بددعا ہے۔ اور اس کے بعد میں آنے والا تَبَّ وہ بھی ایک جملہ ہے۔ اس کا معنی ہے اور وہ ہلاک ہوگیا۔ اس لحاظ سے یہ جملہ خبریہ ہے۔ یعنی پہلے جملہ انشائیہ میں جو بددعا دی گئی تھی دوسرے جملے نے اس کے پورا ہونے کی اطلاع دے دی۔ بعض لوگوں نے دونوں جملوں کو خبریہ قرار دیا ہے اور پھر دوسرے جملے کو پہلے جملے کی تاکید ٹھہرایا ہے۔ لیکن علامہ پانی پتی فرماتے ہیں اَخْبَارٌ بَعْدَ اَخْبَارٍ لِلتَّاکِیْدِ اَوِالْاَوْلٰی دُعَائِیَۃٌ وَالثَّانِیْ اَخْبَارِیَۃٌ چناچہ دوسرے جملے میں جو اس کی ہلاکت اور ناکامی کی خبر دی گئی ہے وہ جنگ بدر کے بعد پوری ہوگئی کہ جنگ بدر میں قریش کے اکثر و بیشتر بڑے بڑے سردار مارے گئے اور قیادت کی دوسری صف گرفتار ہوگئی۔ اور یہ سب لوگ اسلام کی دشمنی میں ابولہب کے ساتھی تھے۔ اس طرح سے اسلام کو ناکام کرنے میں وہ شب و روز جن کوششوں میں مصروف تھا ان میں ناکام ہوگیا۔ اور جہاں تک اس کی ہلاکت کا تعلق ہے جنگ بدر کو ابھی ایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ اسے طاعون کی گلٹی نکلی جس کو عرب عدسہ کہتے ہیں۔ اس بیماری کو متعدی سمجھا جاتا تھا۔ گھر والوں نے یہ دیکھ کر کہ یہ متعدی مرض میں مبتلا ہوگیا ہے اس کو الگ ڈال دیا۔ اسی حالت میں وہ مرگیا۔ مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے پاس نہ آیا۔ یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی اور اس کی بو پھیلنے لگی۔ آخرکار جب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دیئے تو ایک روایت یہ ہے کہ انھوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور انھیں مزدوروں نے اسے دفن کیا۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ انھوں نے ایک گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں سے اس کی لاش کو دھکیل کر اس میں پھینکا اور اوپر سے مٹی پتھر ڈال کر اسے ڈھانپ دیا۔
Ayah 111:2

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا

مَـآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُـہٗ وَمَا کَسَبَ ۔ (اللہب : 2) (اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ) ابولہب کی امارت پر تعریض کہا جاتا ہے کہ ابولہب مکہ معظمہ کے چار امیرترین لوگوں میں سے تھا۔ قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذخائروالتحف میں فرماتے ہیں کہ ان چار آدمیوں میں سے ہر ایک، ایک قنطار سونے کا مالک تھا۔ قنطار دو سو اوقیہ کا اور ایک اوقیہ سوا تین تولے کا ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی تو اس کا یہ کثیر مال اس کے کسی کام نہ آیا اور اسے عزت کی موت بھی نصیب نہ ہوسکی۔ حالانکہ اس کا حال یہ تھا کہ حضرت ابن عباس ( رض) فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو ابولہب نے یہ کہا تھا کہ جو کچھ یہ میرا بھتیجا کہتا ہے اگر وہ حق ہی ہوا تو میرے پاس مال و اولاد بہت ہے میں اس کو دے کر اپنی جان بچا لوں گا۔ مَاکَسَبَ سے مراد ؟ مَاکَسَبَ بعض مفسرین نے اس سے مال کا منافع مراد لیا ہے۔ گویا اس کا منافع اس کا کسب تھا۔ اور بعض اہل علم نے اس سے اولاد مراد لی ہے۔ کیونکہ اولاد بھی انسان کی کمائی ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ ( رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ ” یعنی جو کھانا آدمی کھاتا ہے اس میں سب سے زیادہ حلال طیب وہ چیز ہے جو آدمی اپنی کمائی سے حاصل کرے، اور آدمی کی اولاد بھی اس کے کسب میں داخل ہے۔ “ ان دونوں معنی میں سے کوئی معنی بھی مراد لیا جاسکتا ہے، دونوں معنی ابولہب کے انجام سے مناسبت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ عدسہ کے مرض میں مبتلا ہوا تو نہ تو اس کا مال اس کے کسی کام آیا اور نہ اس کی اولاد نے اس کو سہارا دیا بلکہ اسے بےکسی کی موت مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس کو عزت کے ساتھ دفن کرنے کی بھی اولاد کو توفیق نہ ہوئی۔ اس طرح سے قرآن کریم نے جو پیشگوئی کی تھی وہ چند ہی سال میں پوری ہوئی۔
Ayah 111:3

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا

سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَھَبٍ ۔ (اللہب : 3) (ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔ ) آخرت میں ابولہب کا انجام دنیا میں عبرتناک موت ہی اس کے اندوہناک انجام کے لیے کافی نہیں بلکہ قیامت کے دن اسے ایک ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو شعلے اگلنے والی ہوگی۔ یوں تو جہنم کی آگ کی تیزی اور اس کی حدت اپنی مثال نہیں رکھتی لیکن یہاں بطورخاص جس آگ کو شعلہ زن قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے شعلوں کی تیزی کا عالم کیا ہوگا۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ چونکہ یہ ابولہب کے نام سے معروف تھا اس لیے اسے جس آگ میں ڈالا جائے گا وہ آگ بھی ذات لہب ہوگی۔ اس طرح سے اس کے نام اور اس کے انجام میں مناسبت پیدا ہوجائے گی۔
Ayah 111:4

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور اس کی بیوی بھی ایندھن اٹھانے والی

وَّاَمْرَاَ تُـہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۔ (اللہب : 4) (اور اس کی بیوی بھی ایندھن اٹھانے والی۔ ) اَمْرَاَ تُـہٗ سے مراد ؟ اس کی بیوی کا نام ارویٰ تھا اور کنیت ام جمیل تھی۔ یہ ابوسفیان کی بہن تھی اور بھینگی تھی۔ اس کے دل میں آنحضرت ﷺ کی عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے وہ اپنے شوہر سے کم نہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مشغلہ یہ تھا کہ دن کے وقت جنگل میں نکل جاتی، خاردار لکڑیاں چنتی رہتی اور گٹھا باندھ کر اٹھا لاتی اور رات کے وقت اس راستے میں ان کانٹوں کو بچھا دیتی جہاں سے نبی کریم ﷺ کا گزر ہوتا تھا۔ جب یہ سورة نازل ہوئی تو وہ بپھری ہوئی آنحضرت ﷺ کی تلاش میں نکلی اور اپنی مٹھیوں میں سنگریزے لیے ہوئے تھی۔ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابوبکر ( رض) کے ساتھ آنحضرت ﷺ تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے جب اس کو آتے ہوئے دیکھا تو عرض کیا یارسول اللہ ﷺ امِ جمیل آرہی ہے اور یہ ضرور کوئی بےہودگی کرے گی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مجھے نہ دیکھ سکے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا وہ قریب آکر حضور ﷺ کو نہ دیکھ سکی اور بڑبڑاتے ہوئے واپس چلی گئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس آگ میں اس کا گستاخ خاوند جلایا جائے گا اسی آگ میں اسے بھی جھونکا جائے گا۔ بعض اہل علم نے حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کا ترجمہ لوگوں میں فساد ڈلوانے کے لیے چغلیاں کھانی والی کیا ہے۔ یعنی اس عورت کا مشغلہ یہ تھا کہ یہ ادھر کی بات ادھر لگا کر فساد کی آگ بھڑکاتی تھی اور اس طرح سے لوگوں کو آنحضرت ﷺ اور ان کے لائے ہوئے دین کے خلاف مشتعل کرتی تھی۔ لیکن بعض دیگر اہل علم اسے تکلف قرار دیتے ہیں۔ اور لکڑیاں اٹھانے والی کو بھی ترجمہ کے طور پر قبول کرنے میں تأمل کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ابولہب مکہ کا ایک رئیس آدمی تھا۔ اور سیاسی طور پر بھی اسے بڑی اہم حیثیت حاصل تھی اور اس کی بیوی بھی ایک نامور قبیلے کی عزت اور ایک نامور بھائی کی بہن تھی۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ جنگل میں لکڑیاں چننے کے لیے جاتی ہو۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ اس لفظ کا تعلق اس کی دنیوی زندگی سے نہیں بلکہ آخرت سے ہے۔ یعنی آخرت میں قدرت اس کو یہ سزا دے گی کہ وہ اپنے خاوند کی آگ کو بھڑکانے کے لیے لکڑیاں اٹھا کے لائے گی اور اسی آگ میں خود بھی جلے گی۔ گویا یہ اپنی صلیب اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے مترادف ہے۔ اور قرآن کریم نے بھی اپنا بوجھ خود اٹھانے کا قیامت کے دن ذکر فرمایا ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ مشہور روایات میں آنحضرت ﷺ کے گھر کے باہر خاردار جھاڑیاں بچھانے کا ذکر ہے لیکن اس سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اس کی لونڈیاں اور غلام خاردار جھاڑیاں چن کر لاتے ہوں اور اس کے حکم سے حضور کے راستے میں بچھا دیتے ہوں۔ اور ان ہی خاردار جھاڑیوں کا بوجھ وہ قیامت کے دن اٹھائے ہوئے ہوگی۔
Ayah 111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی

فِیْ جِیْدِھَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ ۔ (اللہب : 5) (اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی۔ ) ابولہب کی بیوی کا انجام جِیْدِ عربی زبان میں ایسی گردن کو کہتے ہیں جس میں زیور پہنا گیا ہو۔ اور اس خاتون کے بارے میں روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک بہت قیمتی ہار گردن میں پہنتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ لات اور عزیٰ کی قسم میں یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد ﷺ کی عداوت پر خرچ کروں گی۔ یہی ہار اس کا قیامت کے دن مونجھ کی رسی میں تبدیل ہوجائے گا۔ مَسَدٍ بسکون السین مصدر ہے جس کے معنی رسی یا ڈور بٹنے یا اس کے تار پر تار چڑھا کر مضبوط کرنے کے ہیں۔ اور مَسَدٍبفتح المیم والسین اس رسی یا ڈور کو کہا جاتا ہے جو مضبوط بنائی گئی ہو، خواہ وہ کسی چیز کی ہو۔ کھجور یا ناریل وغیرہ سے ہو یا آہنی تاروں سے ہر طرح کی مضبوط رسی اس میں داخل ہے۔ (کذا فی القاموس) مختصر یہ کہ ابولہب شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بیوی اس کی آگ بھڑکانے کے لیے لکڑیاں اٹھا کر لائے گی اور اس کی گردن میں مضبوط سے مضبوط تر رسی ہوگی جو اس کے لیے سزا بھی ہوگی اور ذلت کا سامان بھی۔