112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsروح القرآن
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
کہہ دیجیے ! وہ اللہ ہے یکتا
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
اللہ صمد ہے
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ اس کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
قُلْ کا مفہوم
سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ کہہ دیجیے یعنی اعلان کردیجیے اور جو سوالات آپ سے کیے جارہے ہیں ان کے جواب میں یہ سورة ان کو پڑھ کر سنا دیجیے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قریش میں سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث ہوتی تھی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی وحدانیت تھی۔ کیونکہ حضور ﷺ اپنی دعوت میں سب سے زیادہ زور اسی مرکزی مضمون پر دیتے تھے۔ اگرچہ رسالت اور معاد بھی ہر مجلس کا موضوع تھے، لیکن ان کی حیثیت ضمنی مباحث کی تھی، توحید کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی بات پر گرما گرمی ہوتی اور وہ ہر مجلس کا موضوع بن جاتی اور بات بحث و مناظرہ تک پہنچ جاتی ہے تو اس کے ختم کرنے کی یہی ایک صورت ہے کہ اس کا دوٹوک انداز میں اعلان کردیا جائے تاکہ بحث کرنے والی زبانیں بند ہوجائیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو قُلْ کے ذریعے اس بات کا حکم دیا گیا۔ لیکن یہ بات جو بعض روایات میں کہی گئی ہے کہ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا تھا کہ آپ جس رب کی طرف ہمیں دعوت دے رہے ہیں، وہ کون ہے ؟ اس کا آپ ہم سے تعارف کر ایئے تو اس بات کی کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن اس عاجز کا گمان یہ ہے کہ جب ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن کریم قریش کے اسلوب پر نازل ہوا ہے اور بالخصوص اس کا اندازِتخاطب اور سوالات کا انداز وہی ہے اور کسی بات کو سمجھنے کا اسلوب بھی وہی ہے جو قریش کا عام طریقہ تھا، تو پھر ان روایات کے انکار کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قریش کا یہی طریقہ تھا کہ جب کوئی اہم بات ان کے سامنے آتی تھی اور کسی ذات کی طرف انھیں دعوت دی جاتی تھی۔ تو وہ سب سے پہلے اس کا تعارف چاہتے تھے اور ان کا انداز یہ تھا کہ وہ یہ کہتے کہ اس کا نسب بیان کیجیے۔ اور مراد یہ ہوتی تھی کہ اس کی پہچان کی جو باتیں کہی جاسکتی ہیں وہ آپ ہم سے کہئے۔ اور ان دونوں باتوں میں کوئی تعرض نہیں کہ ان کی مجالس میں توحید سب سے اہم موضوع تھا اور آنحضرت ﷺ جب انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے یا اپنے رب کی طرف بلاتے تھے تو وہ اس رب کا تعارف چاہتے تھے جس کی انھیں دعوت دی جارہی تھی، انجام کے اعتبار سے بات ایک ہی ہے۔
آیت کی ترکیب اور مفہوم
ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ اگر ھُوَ کو ضمیرشان قرار دیا جائے، جب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر یہ کہا جائے کہ ھُوَ مبتداء ہے اور اللہ اس کی خبر ہے تو تب بھی بات وہی ہے۔ اور اگر اس بات کو مزید کھول دیا جائے کہ اَحَدٌ اس کی دوسری خبر ہے تو تب بھی کوئی فرق پڑنے کی بجائے بات اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں جس رب کی طرف تمہیں دعوت دے رہا ہوں اور جس کا تم مجھ سے تعارف چاہتے ہو، وہ کوئی ایسا رب نہیں جو تمہارے لیے اجنبی ہو، بلکہ وہ اللہ ہے۔ یعنی وہی ہستی ہے جس کو تم اللہ کے نام سے جانتے ہو۔ اور اللہ رب کے لیے اسم ذات ہے کسی اور ہستی پر اس کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔ فارسی کے خدا یا انگریزی کے گاڈ (God) کی طرح اسم نکرہ نہیں کہ معبود واحد کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی بولا جاسکے۔ اس کی نہ جمع آتی ہے نہ یہ کسی لفظ سے مشتق ہے اور نہ اس کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں ممکن ہے۔
نزولِ قرآن سے پہلے بھی عربوں میں اللہ کا لفظ خدا کے لیے بطور اسم ذات کے ہی مستعمل تھا جیسا کہ شعراء جاہلیت کے کلام سے ظاہر ہے بلکہ نوع انسانی کے دینی تصورات کی جو تاریخ ہم تک پہنچی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے تصور توحید میں جب بگاڑ پیدا ہوا اور شرک کی مختلف صورتیں پیداہوئیں تو ان میں اہم تر مظاہرِ فطرت کی پرستش تھی۔ اسی پرستش نے بتدریج اصنام پرستی کی صورت اختیار کی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مختلف زبانوں میں مختلف الفاظ دیوتائوں کے لیے پیدا ہوگئے اور جوں جوں پرستش کی نوعیت میں وسعت ہوتی گئی الفاظ کا تنوع بھی بڑھتا گیا۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اصنام پرستی کی اس وسعت کے باوجود ایک ایسی ہستی کے تصور سے انسان کا ذہن کبھی خالی نہیں رہا جو سب سے اعلیٰ اور سب کو پیدا کرنے والی ہستی ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ تمام قوموں میں کوئی نہ کوئی لفظ ایساضرور مستعمل رہا جس کے ذریعے سے اس ان دیکھی اور اعلیٰ ترین ہستی کو پکارا جاتا تھا بلکہ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ سامی زبانوں میں حروف واصوات کی ایک خاص ترکیب موجود رہی ہے جو اس معبودِاعلیٰ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور تمام زبانوں میں اس کا مادہ مشترک رہا ہے۔ چناچہ کلدانی اور سریانی کا ” الاہیا “ عبرانی کا ” الوہ “ اور عربی کا ” اِلہٰ “ اسی سے ہے اور بعض علماء کے نزدیک یہی اِلہٰہے جو حرف تعریف کے اضافہ کے بعد اللہ ہوگیا ہے اور تعریف نے اسے صرف خالق کائنات کے لیے مخصوص کردیا ہے۔ مگر بیشترعلماء الف، لام کو تعریف کے لیے نہیں مانتے بلکہ اسے اس نام کا جزو قرار دیتے ہیں۔ اس لیے وہ لفظ اللہ کو کسی سے مشتق نہیں مانتے اور نہ اس سے کسی کو مشتق مانتے ہیں۔ چناچہ یہی لفظ اللہ ہے جسے قرآن کریم نے بطور اسم ذات کے اختیار کیا اور تمام صفتوں کو اس کی طرف نسبت دی۔ ارشاد ہوا :
وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا۔
اللہ کے لیے حسن و خوبی کے نام ہیں (یعنی صفتیں ہیں) پس چاہیے کہ اسے ان صفتوں کے ساتھ پکارو۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر جن کلماتِ الہٰی کے ذریعے ذات حق سبحانہٗ کا عرفان بخشا گیا وہ یہ ہیں اِنَّنِیْٓ اَنَااللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا (طہ : 14) اس میں بھی پروردگار نے لفظ اللہ کو بطور اسم ذات کے اختیار فرمایا اس لفظ کی معنوی بحث تو آگے آئے گی اس کے خواص لفظی کے سلسلہ میں ہم چند باتیں عرض کرتے ہیں :۔
اللہ کے لفظی خواص
1 یہ لفظ عجیب شان رکھتا ہے کہ جس کلمہ توحید کے ذریعے اللہ نے اپنا تعارف کرایا یعنی لاَاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اور اسے مسلمانوں کا شعار بنایا۔ اس میں غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کلمہ توحید میں کوئی بھی زائد حرف موجود نہیں۔ وہی حروف ہیں جو اسم ذات کے اندر موجود ہیں، انہی کی ترکیب سے کلمہ توحید کو متشکل کیا گیا۔
2 اللہ کا اگر حرف ” ھمزہ “ نہ لکھا جائے توللہ پڑھا جائے گا۔ جس کے معنی ہیں ہر شے اللہ ہی کی ملک ہے۔
لِلّٰہِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ (منافقون : 7)
3 للہ سے ایک لام کم کردیا جائے تو ( لہ) اور مزید ایک لام کرنے سے صرف (ہ) رہ جائیگا۔ جس کا تلفظ ” ھو “ ہے۔ یہ حرف واحد بھی اسی ذات احد پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے ” قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ“ ” ھُوَالْحَیُّ لَآاِلٰہَ اِلَّاھُوَ “
4 یہ اسی لفظ اللہ ہی کا خاصہ ہے کہ اس پر تائے قسم وارد ہوتی ہے۔ ورنہ حرف ” تا “ بمعنی قسم اور کسی اسم پر وارد نہیں ہوتا۔
5 اس اسم پاک کا ایک خاصہ یہ ہے کہ الحمد کا استعمال اسی اسم ذات کے لیے خاص ہے اور کسی اسم کے ساتھ الحمد کو استعمال نہیں کیا جاتا۔ الحمد للّٰہک ہیں گے۔ الحمدللرحمن یا الحمد للرحیم وغیرہ نہیں بولا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ جس طرح یہ اسم پاک مسمٰی کی ذات وصفات سب پر حاوی ہے اسی طرح لفظ حمد بھی تمام صفاتِ کمال و جمال کا جامع ہے۔ لہٰذا کامل اسم کے لیے کامل تر نعت کی ضرورت تھی۔
6 یہ بھی اسم اللہ ہی کا خاصہ ہے کہ اس کے آخر میں حرف ” م “ شامل کیا جاتا ہے اور وہ حرف ندا کا کام دیتا ہے اور اس کے ساتھ حرف ندا شامل نہیں ہوتا یعنی ” یا اللّھم “ نہیں کہتے بلکہ اللّھمکا معنی ہے ” اے اللہ “۔ قرآن کریم نے کئی جگہ اسے استعمال کیا ہے۔ مثلاً
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْـکِ تُؤْتِی الْمُلْـکَ مَنْ تَشَآئُ وَتُنْزِعُ الْمُلْـکَ مِمَّنْ تَشَآئُ ز وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُط اِنَّـکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
(آلِ عمران : 26)
یہ تو تھے اس اسم پاک کے خواص لفظی اب دیکھئے اس کی معنوی بحث کو۔ پیچھے گزر گیا کہ بعض علماء کے نزدیک لفظ ” اللہ “ وہ عربی کا اِلہٰہے جو حرف تعریف کے اضافہ کے بعد اللہ ہوگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اللہ، اِلہٰ سے ہے تو اِلہٰ کے معنی کیا ہیں ؟ علماء لغت واشتقاق نے مختلف اقوال بیان کیے ہیں۔ جنھیں ہم تفسیر کبیر کے حوالہ سے یہاں نقل کرتے ہیں۔
1 الھت الی فلاں سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں سکنت الی فلاں یعنی اللہ وہ ہے جس کے نام سے دلوں کو تسکین ملتی ہے اور قلب مضطر کو سکون۔ جیسے قرآن کریم کہتا ہے
اَلَابِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۔ (الرعد : 28)
2 اِلٰہ، ولہ سے مشتق ہے جس کے معنی وارفتگی، تحیر اور درماندگی کے ہیں۔
3 الہ لاہ سے مشتق ہے۔ جس کے معنی بلند شان کے ہیں یعنی اللہ وہ ہے جو لوازمات مادہ سے زمان ومکان کے احاطہ سے اور عقلمندوں کے فہم وادراک سے ارفع اور بلند ہے۔
4 لاہ یلوہ لاھیا سے مشتق ہے۔ جس کے معنی پوشیدہ اور مستور ہونا ہے یعنی اللہ وہ ہے جس کی ذات عقول سے محجوب ہے۔
5 اِلہ الفیصل سے بنا ہے۔ یعنی اونٹنی کا بچہ جب بچھڑنے کے بعد ماں کو ملتا ہے تو وہ ماں سے چمٹ جاتا ہے۔
اسی طرح اللہ وہ ہے کہ آفات و مصائب میں انسان اسی کی جانب لپکتا ہے اور وہیں اسے تسکین ملتی ہے۔
6 الہ الۃ (سمع) سے بنا ہے۔ محاورہ ہے ” الہ علی فلاں “ اس سے ڈرتارہا۔ الہ الۃ اس کی پناہ ڈھونڈی۔
یعنی اللہ وہ ہے جو خوف وہراس کے وقت بندوں کی پناہ ہے۔ تمام عالم اور تمام مخلوقات اس کی حفاظت میں ہر ایک خطرہ سے محفوظ ہیں۔
ان تمام معنوں پر اگر تدبر سے کام لیا جائے تو چندباتیں صاف معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ ہی کی ذات ہے جہاں پریشانی اور مصیبت میں قرار اور پناہ ملتی ہے۔ وہی آغوش ہے جہاں انسان سکون پاتا ہے۔ دل اس کی طرف لپکتے ہیں۔ محبتیں اسی کے لیے بےتاب ہوتی ہیں اور دوسری یہ بات کہ اگر اس ذات کی حقیقت کو جاننے کے لیے فہم وادراک سے کام لیاجائے اور انسان کے پاس جتنے علوم دستیاب ہیں ان سب کو اس راستے میں استعمال کرکے دیکھ لیاجائے اور ظن وتخمین کے تمام ہتھیار بھی استعمال کرلیے جائیں تو حقیقت یہ ہے کہ بجز اس کے کہ انسان تحیر اور درماندگی کا شکار ہوجائے اور اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ وہ جس قدر بھی اس ذات مطلق کی ہستی میں غور وخوض کرے گا اس کی عقل کی حیرانی اور درماندگی بڑھتی ہی جائے گی۔ اس لیے کہ ایک مخلوق اپنی فہم وادراک کی وسعتوں کے باوجود مخلوق ہی ہے۔ وہ اپنے دستیاب وسائل میں ایک خالق کی وسعتوں کو نہیں سمیٹ سکتا۔ انسانی ذہن مخلوقات میں قدرت کا شاہکار ہے، لیکن وہ بہرحال مخلوق اور محدود ہے۔ محدود میں غیرمحدود کبھی نہیں سما سکتا، اکبرؔ مرحوم نے خوب کہا :
جو ذہن میں گھر گیا لا انتہا کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
البتہ ! اس سے اگر اپنی ذات میں فہم وادراک کی نارسائی اور اپنی عجز ودرماندگی کا اعتراف نصیب ہوجائے تو یہ وہ دولت ہے جو عبدیت کی معراج ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ عرفان و بصیرت کی راہ کے سالک ہیں ان کے ادراک کا منتہا ہمیشہ یہی رہا رب زدنی فیک تحیرا ” اے اللہ ! ہمیں اپنے بارے میں ایسا کر کہ تیرے بارے میں ہمارا تحیر ہمیشہ بڑھتا رہے “ اس لیے اگر اس لفظ کا کوئی مفہوم ہوسکتا ہے تو وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ جل جلالہٗ وہ ذات ہے جس کو جاننے اور سمجھنے کے لیے تمام فہم وادراک کی قوتیں عاجز و درماندہ ہیں۔ البتہ ! انسان کے پریشان دل کو اس وقت تک قرار نصیب نہیں ہوگا اور اس کے الجھے ہوئے مسائل کی گرہ اس وقت تک نہ کھلے گی جب تک اللہ کے ذکر سے زبانیں زمزمہ سنج نہیں ہوں گی اور اس کی دی ہوئی تعلیمات سے انسان کی فکر روشن نہیں ہوگی۔
آیتِ کریمہ میں فرمایا گیا ہے اللہ احد ہے۔ اہل لغت نے واحد اور احد میں یہ فرق کیا ہے کہ احد وہ ہے جس کی ذات میں کوئی شریک نہ ہو۔ اور واحد وہ ہے جس کی صفات میں کوئی شریک نہ ہو۔ غالباً اسی وجہ سے لفظِ احد اللہ تعالیٰ کے سوا صفت کے طور پر نہیں آیا۔ اس سے یکتائی و بےہمگی من کل الوجوہ سمجھی جاتی ہے۔ ہر رشتہ و قرابت سے پاکی و برتری اس کا لازمہ ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلی ہے کہ وہ قدیم اور باقی سارے حادث و مخلوق۔ وہ چونکہ احد ہے اس لیے اس میں کسی حیثیت سے کثرت کا کوئی شائبہ نہیں۔ وہ اجزاء سے مرکب وجود نہیں ہے جو قابل تجزیہ و تقسیم ہو، جو کوئی شکل اور صورت رکھتا ہو، جو کسی جگہ میں رہتا ہو یا کوئی چیز اس کے اندر جگہ پاتی ہو جس کا کوئی رنگ ہو، جس کے کچھ اعضاء ہوں، جس کی کوئی سمت اور جہت ہو اور جس کے اندر کسی قسم کا تغیر و تبدل ہوتا ہو۔ تمام اقسام کی کثرتوں سے بالکل پاک اور منزہ وہ ایک ہی ذات ہے جو ہر لحاظ سے احد ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ وہ قدیم لم یزل اور خالق کل ہے۔
صَمَد کا مفہوم
اَللّٰہُ الصَّمَدُ اللہ تعالیٰ کی صفت احد کے بعد دوسری صفت صمد لائی گئی ہے تاکہ لفظِ احد سے اللہ تعالیٰ کی یکتائی اور بےہمگی کا جو تصور سامنے آتا ہے اس سے مغلوب ہو کر کوئی اللہ تعالیٰ کو ایک بالکل الگ تھلگ اور خاموش علۃ العلل نہ سمجھ بیٹھے۔ ورنہ یہ غلط فہمی بھی دوسرے سہارے کی تلاش کا سبب بن سکتی ہے۔ اس غلط فہمی سے بچانے کے لیے اللہ الصمد کہہ کر وضاحت فرما دی ہے۔ تو بیشک اللہ ہے تو سب سے الگ، بےنیاز و بےہمہ مگر وہ سب کی خبرگیری اور دستگیری بھی کرتا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کی تھوڑی سی معنوی تشریح کردی جائے۔ عربی زبان میں یہ لفظ اور اس مادے سے نکلنے والے الفاظ کے اگر معانی دیکھے جائیں تو اس لفظ کی معنوی وسعت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ اسی معنوی وسعت کی وجہ سے صحابہ تابعین اور بعد کے اہل علم سے اس لفظ کی تعریف میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام اقوال اس کے کسی نہ کسی معنی کو نمایاں کرتے ہیں۔ وہ سب کے سب صحیح ہیں اگر انھیں جمع کردیا جائے تو ایک ایسی تصویر بن جاتی ہے جو پروردگار کے اس اسم پاک کی معنوی وسعتوں کو کسی حدتک واضح کردیتی ہے۔ ہم بغیر نام کے حوالے کے وہ اقوال ذکر رہے ہیں۔
1 وہ جس سے بالا تر نہ ہو۔
2 وہ سردار جس کی سیادت کامل ہو اور انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔
3 جس کی طرف لوگ کسی بلایامصیبت نازل ہونے پر مدد کے لیے رجوع کریں۔
4 وہ سردار جو اپنی سیادت میں، اپنے شرف میں، اپنی عظمت میں، اپنے علم میں اور بردباری میں اپنے حلم میں اور اپنی حکمت عملی میں کامل ہو۔
5 وہ جو سب سے بےنیاز ہو اور سب اس کے محتاج ہوں۔
6 وہ جس میں سے نہ کوئی چیز کبھی نکلی ہو نہ نکلتی ہو، جو نہ کھاتا ہو نہ پیتاہو۔
7 وہ جو اپنی تمام صفات اور اعمال میں کامل ہو۔
8 وہ جو بےعیب ہو۔
9 جو باقی رہنے والا اور لازوال ہو۔
0 جس کے حکم اور فیصلے پر نظر ثانی کرنے والا کوئی نہ ہو۔
! وہ جو کسی کا محتاج نہ ہو اور سب اس کے محتاج ہوں اور سب لوگ اپنی حاجتوں کے لیے اس کی طرف رجوع کریں۔
سورة الاخلاص میں اللہ احد کے بعد اللہ الصمد کہا گیا۔ یعنی احدنکرہ اور الصمد معرفہ لایا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اصلی اور حقیقی صمداللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مخلوق اگر کسی حیثیت سے صمد ہو بھی تو کسی دوسری حیثیت سے وہ صمد نہیں ہے کیونکہ وہ فانی ہے، لازوال نہیں۔ قابل تجزیہ و تقسیم ہے۔ مرکب ہے کسی وقت اس کے اجزاء بکھر سکتے ہیں۔ بعض مخلوقات اس کی محتاج ہیں تو بعض کا وہ خود محتاج ہے۔ کسی کے مقابلے میں وہ برتر ہے تو اس کے مقابلے میں کوئی اور برتر ہے۔ بخلاف اس کے اللہ تعالیٰ کی صمدیت ہر لحاظ سے کامل ہے ساری دنیا اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ دنیا کی ہر چیز اپنے وجود وبقاء اور اپنی حاجات و ضروریات کے لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی کی طرف رجوع کرتی ہے اور وہ سب کی تمام حاجات پوری کرنے والا ہے۔ وہ غیرفانی اور لازوال ہے۔ رزق دیتا ہے لیتا نہیں۔ مفر د ہے مرکب نہیں۔ ساری کائنات پر اس کی سیادت قائم ہے اور وہ سب سے برتر ہے۔ اس لیے محض صمد نہیں بلکہ الصمد ہے یعنی ایک ہی ایسی ہستی ہے جو حقیقت میں صمدیت سے بتمام و کمال متصف ہے۔
پھر اس کے الصمد ہونے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ ایک معبود ہویکتا اور یگانہ کیونکہ انسان عبادات اسی کی کرتا ہے جس کا وہ محتاج ہو اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہ ہو کیونکہ جو حاجت روائی کی طاقت اور اختیارات ہی نہ رکھتا ہو اس کی بندگی اور عبادت کوئی ہوش مندآدمی نہیں کرسکتا ہے۔
شرک سے پیدا ہونے والے واہموں کا ازالہ
لَمْ یَلِدْ لا 5 وَلَمْ یُوْلَدْ ” نہ اس کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ “ مشرکین نے ہر دور میں جو شرک کے مختلف راستے نکالے ہیں اس میں ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے انسانوں کی طرح خدائوں کی بھی ایک جنس تصور کی ہے جس کے بہت سے افراد ہیں۔ جن میں شادی بیاہ اور توالد و تناسل کا سلسلہ چلتا ہے اور ایسا تصور کرنے والے صرف جاہل اور غیرمتمدن اقوام ہی نہیں بلکہ اس گمراہی میں وہ قومیں بھی بری طرح مبتلا رہی ہیں جو انبیاء و رسل پر ایمان لائی تھیں اور جن کے پاس آسمانی کتب موجود تھیں۔ اگر عرب کے جاہل مشرک فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے تو یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت اور تورات کے حامل حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا فرزند کہتے تھے اور عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے تھے۔ حالانکہ معمولی عقل کا آدمی سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس طرح کے تصورات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نہیں بلکہ باقاعدہ خدائوں کی ایک جنس ہے اور ان میں خدائی کے اختیارات موجود ہیں۔ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ ان کے یہاں اگر اولاد ہوتی ہے تو پھر وہ جسم بھی رکھتے ہیں، ان میں نر اور مادہ کی تقسیم بھی ہے، ان میں اتصال بھی ہوتا ہے اور پھر ان میں ہر ایک فانی بھی ہے اور تمام فانی افراد کی طرح نعوذباللہ اللہ تعالیٰ کی بھی ایک ابتداء اور انتہاء ہے۔ اور اس سے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جس طرح ایک لاولد شخص اپنی زندگی میں کسی مددگار کا اور اپنی وفات کے بعد کسی وارث کا حاجت مند ہوتا ہے، اسی طرح ایسا خدا بھی ان دونوں باتوں سے موصوف ہوگا۔ اسی طرح کی اور کمزوریاں بھی ہیں جو ان مشرکانہ تصورات سے خودبخود جنم لیتی ہیں۔ اولاً تو اللہ تعالیٰ نے اللہ الصمد کہہ کر ہی ان تمام مفروضات کی جڑ کاٹ دی ہے، لیکن پیش نظر آیت نے تو ان باطل تصورات کو یکسر مٹا ڈالا اور واضح کیا کہ نہ اس کا کوئی بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔ وہ لم یزل ولایزال ہے۔ فنا و حدوث سے منزہ اور پاک ہے۔ ساری مخلوقات اس کے سامنے سر جھکائے کھڑی ہیں۔ اس کو کیا ضرورت ہے کہ کسی کو بیٹا بنائے۔
وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ” اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ “ کُفُوْ ہمسر کو کہتے ہیں جو قدرت، علم، حکمت اور دیگر صفات میں ہم پلہ اور ہم پایہ ہو۔ کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی پہلو، کسی جہت اور کسی انداز سے اللہ تعالیٰ کی ہمسری کا دعویٰ کرسکے۔ سب اس کے بندے ہیں، اس کی مخلوق ہیں، اسی کے حضور سجدہ ریز ہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے ” علماء لکھتے ہیں کہ شرک کبھی عدد میں ہوتا ہے، احد کہہ کر اس کی نفی فرما دی۔ اور کبھی مرتبہ و منصب میں ہوتا ہے، صمد کہہ کر اس کا بطلان کردیا۔ کبھی نسب میں ہوتا ہے، لَمْ یَلِدْ لا 5 وَلَمْ یُوْلَدْ سے اس کا ابطال کردیا۔ اور کبھی کوئی کام کرنے اور اثراندازی میں ہوتا ہے، اس کی تردید وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَد سے کردی ہے۔ توحید کے اسی جامع مضمون کے باعث اس سورة کو سورة الاخلاص کہا جاتا ہے۔