113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsروح القرآن

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

کہہ دیجیے ! میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۔ (الفلق : 1) (کہہ دیجیے ! میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی۔ ) تعوذ کا مفہوم قُلْکہہ دیجیے یا اعلان کردیجیے۔ یہ درحقیقت قُلْ کے بعد جو جملہ آتا ہے اس کی اہمیت اور افادیت کی طرف اشارہ ہے۔ اور اس بات کی طرف بھی کہ یہ آنحضرت ﷺ کے فرائض میں شامل ہے اور آپ کے واسطے سے امت اس کے لیے مسٔول ہے۔ چناچہ جس بات کے کہنے کا حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں۔ اصل حکم پناہ لینے اور پناہ مانگنے سے متعلق ہے۔ علامہ راغب عوذ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں العوذ : الالتجاء الی الغیر والتعلق بہ کسی کی پناہ لینا اور اس کے ساتھ چمٹ جانا اور پناہ مانگنے سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کے متعلق پناہ لینے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس خوفناک چیز سے وہ خود نہیں بچ سکتا یا اس سے بچتے ہوئے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے تو وہ کسی ایسی ذات کی پناہ ڈھونڈتا ہے جو اس کو بچانے پر قدرت رکھتی ہو۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ پناہ کی ایک قسم تو وہ ہے جو قوانینِ طبعی کے مطابق عالم اسباب کے اندر کسی محسوس مادی چیز یا شخص یا طاقت سے حاصل کی جاتی ہے۔ مثلاً دشمن سے بچائو کے لیے، گولیوں کی بچھاڑ سے بچنے کے لیے یا کسی طاقتور ظالم سے بچنے کے لیے یا چلچلاتی دھوپ سے بچنے کے لیے مختلف چیزوں کی پناہ ڈھونڈی جاتی ہے۔ اور پناہ کی دوسری قسم وہ ہے جس میں ہر طرح کے خطرات اور ہر طرح کی مادی، اخلاقی یا روحانی مضرتوں اور نقصان رساں چیزوں سے کسی فوق الفطری ہستی کی پناہ اس عقیدے کی بنا پر مانگی جاتی ہے کہ وہ ہستی عالم اسباب پر حکمران ہے۔ اور اسباب کی ساری دنیا اس کے احکام کے تحت ہے۔ اور وہ ہر اس شخص کی حفاظت کرسکتی ہے جو اس کی پناہ ڈھونڈتا ہے۔ اصلاً تو یہ دوسری قسم کی پناہ ہے جس کا حکم قرآن کریم نے بار بار دیا اور ان دونوں سورتوں میں بھی اسی پناہ کا ذکر کیا جارہا ہے۔ لیکن اگر آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور آپ کی خصوصی تربیت اور سلف صالحین کے طرزعمل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن ہر طرح کے حالات میں اللہ تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈتا ہے۔ اور یہی اس کے ایمان کا اصل تقاضا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مومن کو جن عزائم سے بہرہ ور کیا گیا ہے اور جو اس کی منزل متعین کردی گئی ہے اور جو اس کے اہداف مقرر کردیئے گئے ہیں اور اس کے مقصدزیست کو جس طرح وسیع کردیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دنیا اس کے دشمنوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی شرورنفس کے حملے اس پر ہوتے ہیں، کبھی خواہشات مختلف چاہتوں کی شکل میں اس پر حملہ آور ہوتی ہیں، کبھی اعزہ و اقرباء کے تعلق کی نزاکتیں اس کے پائوں کی زنجیر بن جاتی ہیں، کبھی وقت کا چلن اس کی زندگی کے طریقوں سے ٹکرانے لگتا ہے اور کبھی زندگی کا وہ شعور جو وہ اہل دنیا میں عام کرنا چاہتا ہے تاریک راتوں کے مسافر اس کے راستے میں حائل ہوجاتے ہیں، کبھی اقتدار اس کا راستہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کبھی مال و دولت کے پجاری اس کی زندگی دشوار کردیتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ کس قدر متنوع مخالفین ہیں جو اسے آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ حتیٰ کہ بسا اوقات تو اس کے بیوی بچے بھی اس کے لیے سوہانِ روح بن جاتے ہیں۔ اب اگر وہ خود ان تمام دشمنوں سے عہدہ برآ ہونا چاہتا ہے تو یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ مشرک قوتوں نے تو ان دیکھے خطرات کے مقابلے میں کبھی جنات سے مدد لی اور کبھی دیوتائوں سے۔ اور مادہ پرست لوگوں نے وسائل کو بروئے کار لا کر اپنے آپ کو ان کی پناہ میں دے دیا۔ لیکن ایک مومن ہر طرح کے حالات میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد کا طالب ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اسی کی پناہ میں دیتا ہے۔ اقبال نے مادہ پرستوں کے حوالے سے شاید یہ بات کہی تھی : اللہ کو پامردیٔ مومن کا بھروسہ اور ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا فلق کا مفہوم پناہ کا یہ وسیع تر تصور ہے جس کا ہر مومن کو یہاں مکلف ٹھہرایا گیا۔ لیکن پناہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی بجائے رب کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا تاکہ اسے خالق کائنات اور مالک کل کی عظمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا استحضار ہو اور وہ محسوس کرے کہ میں ایک ایسی ذات کے حصار میں ہوں جس کے حصار کو کوئی نہیں توڑ سکتا۔ اور اس حصار کو اور زیادہ عظیم کرنے کے لیے ارشاد فرمایا وہ رب کہ ہے جو رب الفلق ہے۔ فلق کا معنی ہے چیرنا اور پھاڑنا، لیکن یہاں اس سے مراد صبح ہے۔ یعنی جو طلوع صبح کا رب ہے۔ اور تم اس کی غیرمعمولی عظمت اور قدرت کو دیکھتے ہو کہ جب رات کی تاریکیاں کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اور کسی طرف روشنی کی لکیر پھوٹتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ صحرا میں کھڑا ایک شخص ناامیدیوں کی دلدل میں اترتا چلا جاتا ہے کہ اچانک وہ دیکھتا ہے کہ تاریکی کی چادر پھٹنے لگی ہے اور اس سے روشنی کی ایک لکیر پھوٹ رہی ہے جو بڑھتے بڑھتے اجالے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ تب اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اجالے اور طلوع صبح کا رب اپنے اندر کس قدر بےپناہ قدرت رکھتا ہے کہ جب اندھیرے پوری طرح کائنات پر غالب آجاتے ہیں اور اس کے چھٹ جانے کی ہر امید شکست ہوجاتی ہے تو اس کی قدرت بروئے کار آتی ہے اور صبح طلوع ہوتی ہے اور پھر سورج بےنقاب ہو کر ساری دنیا کو روشن کردیتا ہے۔ اس کا ذکر فرمانے سے ایک مومن کو حوصلہ دیا جارہا ہے کہ تم متنوع قسم کی مخالفتوں اور انتہائی خوفناک دشمنوں کو دیکھ کر ممکن ہے گھبرا اٹھو کہ ایسے نامساعد حالات میں کسی بڑی تبدیلی کا مناد اور مبلغ کیسے بناجا سکتا ہے۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہیں سب سے پہلے اس ذات کی پناہ میں آنا ہے جس کے سامنے یہ روکاٹیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں جو تمام روشنیوں کا رب ہے اور تاریکی تو ایک دیئے کی روشنی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ چہ جائیکہ تمام روشنیوں کے رب کی قدرت کو کوئی چیلنج کرسکے۔ چناچہ جب مومن اس عظیم تصور سے بہرہ ور ہوتا ہے تو پھر اس کے اندر ایک ایسی عظمت جاگ اٹھتی ہے کہ وہ گمراہیوں کے ہر اندھیرے سے ٹکرا جانے کا عزم لے کر اٹھتا ہے۔
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا

مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ ۔ (الفلق : 2) (ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا۔ ) مخلوقات کے شرور کو خالق ہی جانتا ہے اور وہی پناہ دے سکتا ہے آیتِ کریمہ میں مَا عموم کے لیے ہے جو تمام مخلوقات پر چاہے وہ ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول، حاوی ہے۔ سب کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مخلوقات بیشمار قسموں پر مشتمل ہیں۔ ان میں جواہر بھی ہیں اور اعراض بھی، حیوانات بھی ہیں اور چرند وپرند بھی، نباتات بھی ہیں اور جمادات بھی۔ ان میں بعض مخلوقات میں حس پائی جاتی ہے اور بعض میں حس کا ادراک نہیں ہوتا۔ بعض میں حواس خمسہ کا سراغ ملتا ہے اور بعض اس سے تہی دامن ہیں۔ صرف انسان ہے جسے جوہرِعقل سے نوازا گیا ہے۔ اس قدر متنوع مخلوقات سے انسان آگاہ نہیں۔ انھیں صرف وہ جانتا ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ اسی لیے پیدا کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کی گئی ہے۔ کیونکہ اور کسی ذات میں یہ قدرت نہیں کہ وہ کسی کو تخلیق کرسکے۔ تو جب یہ اندازہ نہیں ہوسکتا کہ مخلوقات کس قدر ہیں تو یہ کیسے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان کے شرور کی کیا نوعیت ہے اور کیا تعداد ہے۔ اور پھر ان میں کتنی مخلوقات ہیں جن کے شرور سے انسان بچ سکتا ہے اور کتنی مخلوقات ہیں جن کے شرور سے انسان بچنے پر قادر نہیں۔ علاوہ ازیں ایسی کس قدر مخلوقات ہیں جن کے بارے میں انسان غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ انھیں اپنے لیے خیر سمجھتا ہے لیکن حقیقت میں وہ شر کا درجہ رکھتی ہیں۔ اور پھر ایسی کتنی مخلوقات ہیں جو ذرا سے تغافل سے شر کا باعث بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان مخلوقات کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے کیونکہ یہ سراسر اس کی عظیم صفت قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن ان کے شرور کی نسبت اپنی طرف نہیں فرمائی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے پیدا نہیں کیا ہے بلکہ اس کا ہر کام خیر اور کسی مصلحت ہی کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ مخلوقات کے اندر جو اوصاف ہیں وہ اس لیے پیدا کیے ہیں کہ اس کی تخلیق کی مصلحت پوری ہو، ان سے بعض اوقات اور بعض اقسام کی مخلوقات سے اکثر شر رونما ہوتا ہے۔ انسان کی بےبسی ملاحظہ کیجیے کہ اسے آنحضرت ﷺ کے واسطے سے حکم دیا جارہا ہے کہ تم ہر اس مخلوق کے شر سے پناہ مانگو جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ اور اس کی علمی بےبضاعتی کا حال یہ ہے کہ نہ وہ مخلوقات کی تعداد سے واقف ہے اور نہ وہ یہ جانتا ہے کہ مخلوقات سے کون کون سے شرور صادر ہونے کا امکان ہے۔ اب وہ کس مخلوق سے اور کس طرح کے شر سے پناہ مانگے۔ اس لیے پروردگار نے کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم اس اللہ کی پناہ مانگو جس نے تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا اور جس نے ان مخلوقات کو ایسے اوصاف سے بہرہ ور کیا جن سے بعض دفعہ یا ہمیشہ شرور کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے جب تم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ گے تو تم ہر مخلوق سے اور ان سے پیدا ہونے والے ہر طرح کے شر سے محفوظ ہوجاؤ گے۔ کیونکہ وہ ہر مخلوق کو پوری تفصیلات سمیت نہ صرف جانتا ہے بلکہ ان کے اندر فعلی اور انفعالی کیفیات سے بھی واقف ہے۔
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے

وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۔ (الفلق : 3) (اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ ) عام مخلوقات کے بعد چند خاص مخلوقات سے پناہ مانگنے کا حکم اَلْغَاسِقٍ ۔ اللیل المظلم تاریک رات کو کہتے ہیں۔ وَقَبَ کسی چیز کا کسی چیز میں داخل ہوجاتا، اس کے رگ و پے میں سما جانا، یعنی چھا جانا۔ تمام مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دینے کے بعد اب خاص خاص مخلوقات کے شر سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ ان میں سب سے پہلے رات کی تاریکی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ اکثر جرائم پیشہ لوگ جرائم کے ارتکاب کے لیے تاریکی کا انتظار کرتے ہیں۔ اور جہاں ان کو تاریکی کی پناہ ملتی ہے اور دیکھنے والی نگاہیں ان سے غافل ہوتی ہیں وہ جرائم کا ارتکاب کرنے میں دلیر ہوجاتے ہیں۔ تمام موذی جانور رات ہی کو نکلتے ہیں۔ چور رات کو چوریاں کرتے ہیں، ڈاکو رات کو ڈاکے ڈالتے ہیں، قاتل تاریکی سے فائدہ اٹھا کر خونریزی کرتے ہیں اور عزتیں ہمیشہ تاریکی میں لوٹی جاتی ہیں۔ اور عرب کے جو حالات تاریخ نے ہمارے سپرد کیے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے ہر قبیلے میں رات کی تاریکی کو انتہائی خوفناک چیز سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ رات کی تاریکی میں چھاپہ مار نکلتے تھے اور بستیوں پر غارت گری کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ اور جو لوگ کسی کی جان لینے کی سازش کرتے تھے وہ بھی رات ہی کو اوٹ بناتے تھے۔ اور یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ آج شہروں کے رہنے والے اس تاریکی کا شاید تصور نہ کرسکیں جو نزول قرآن کے وقت اہل زمین میں پائی جاتی تھی۔ اور اہل عرب چونکہ ترقی کے ہر کام سے کوسوں دور تھے اس لیے ان کے یہاں اجالا پیدا کرنے کے مصنوعی طریقے بھی بہت حد تک مفقود تھے۔ آیتِ کریمہ میں اگرچہ رات کی تاریکی مراد لی گئی ہے لیکن غاسق کا اطلاق صرف رات ہی کی تاریکی پر نہیں ہوتا بلکہ ہر طرح کی تاریکی پر اس کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس میں کوئی استبعاد نہیں۔ اگر اس سے دل و دماغ کی تاریکیاں مراد لی جائیں۔ کیونکہ جب دماغ تاریک ہوتے ہیں تو انسان فکری بےمائیگی کا شکار ہوتا ہے۔ اور جب دل تاریک ہوتے ہیں تو انسان کا صرف عقیدہ ہی نہیں بگڑتا بلکہ اخلاق کی قوتیں نہ صرف سرد پڑجاتی ہیں بلکہ برائی کی خدمت انجام دینے لگتی ہیں۔ اور عمل کی ہر جہت بیکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت انسانی بگاڑ کا یہی عالم تھا۔ اس لیے کوئی تعجب نہیں کہ تاریکی میں اس صورتحال کو بھی شامل کرلیا جائے۔
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گروہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے

وَمِنْ شَرِّالنَّفّٰثٰتِ فِی العُقَدِ ۔ (الفلق : 4) (اور گروہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے۔ ) روحانی و اخلاقی آفتوں سے پناہ مانگنے کا حکم نَفّٰثٰتِ ، نَفَّاثَۃ کی جمع ہے۔ اس کو مبالغہ کا صیغہ بھی کہا جاسکتا ہے اور مؤنث کا صیغہ بھی۔ پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا، بہت پھونکنے والے مرد۔ اور دوسری صورت میں بہت پھونکنے والی عورتیں۔ اور اگر اس سے نفوس یا جماعتیں مراد لی جائیں تو وہ بھی غلط نہیں۔ العُقَدِ ، عُقْدَہ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے گرہ۔ جیسی گرہیں دھاگے یا رسی میں ڈالی جاتی ہیں۔ جادوگر جب جادو کرتے ہیں تو وہ منتر اور طلسم پڑھ کر دھاگے میں گرہ ڈالتے ہیں اور اس پر پھونک مارتے ہیں۔ اور یہ لفظ تمام مفسرین کے نزدیک جادو کے لیے استعارہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں طلوع فجر کے رب کی پناہ مانگتا ہوں، جادوگروں یا جادوگرنیوں کے شر سے۔ اس مفہوم کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب جادو ہوا تھا تو اس کی صورت یہی تھی کہ لبید بن اعصم یا اس کی بہنوں نے ایک تاگہ لے کر اس میں گرہیں دی تھیں اور جادو کا منتر پڑھ کر ہر گرہ پر پھونکا تھا۔ اور یہ عمل آنحضرت ﷺ کے بالوں پر کیا گیا تھا اور پھر انھیں ایک کنویں کے پتھر کے نیچے دبا دیا گیا تھا۔ اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ معوّذتین کی ایک ایک آیت پڑھتے جائیں اور ایک ایک گرہ کھولتے جائیں۔ اس طرح تمام گرہیں کھولی گئیں اور آنحضرت ﷺ اس جادو کے اثر سے آزاد ہوگئے۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے دین کے نفوذ اور اس کی بالادستی کے لیے لوگوں میں کام کرتے ہیں، مخالفین جب دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ان کے ساتھ ہے اور وہ کسی طرح بھی ان کو ان کے فریضہ سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور ہر میدان میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابیاں دی ہیں تو پھر وہ آخری چارہ کار کے طور پر ایسے عظیم لوگوں پر جادو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ اور آپ کے واسطے سے دوسرے لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ ممکن ہے کہ تمہیں بھی کبھی ایسی صورتحال سے واسطہ پڑے اس لیے ہمیشہ ایسے جادوگر مردوں یا عورتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہو۔ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کی پناہ میسر آگئی تو کسی کا جادوٹونہ موثر نہیں ہوسکے گا۔ جادو کے متعلق ہم پہلے بھی یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ جادو کرنے والے عام طور پر شیاطین یا ارواحِ خبیثہ یا ستاروں سے مدد مانگتے ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے اس عمل کو کفر قرار دیا ہے۔ لیکن اگر وہ کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسا کوئی عمل ان مشرکانہ طریقوں سے ہٹ کر بھی کرتے ہیں تو تب بھی اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اسے کبیرہ گناہوں میں شامل فرمایا ہے۔ اور اس سے بچنے کی یہی ایک صورت ہے کہ آدمی معوّذتین یا معوّذات کو اپنا معمول بنا لے۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اور رات کو سوتے ہوئے۔ اسے نہ صرف اپنے اوپر پھونکے بلکہ اپنے گھر اور اہل خانہ پر بھی اسے پھونکے۔ تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ ایسی ہر آزمائش سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۔ (الفلق : 5) (اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے۔ ) حاسدوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم حسد کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے اِذَا تَمَنّٰی اَنْ تَتَحَوَّلَ اِلَیْہِ نَعْمَتَہُ وَفَضِیْلَتَہُ اَوْیُسِلِبُہُمَا ھُوَ ” یعنی کسی کی خوشحالی اور عزت کو دیکھ کر جلنا اور یا آرزو کرنا کہ کاش یہ دولت اس کے بجائے مجھے ملتی۔ اس عزت و فضیلت سے اس کی بجائے میں بہرہ ور ہوتا اور اگر یہ چیزیں میرے نصیب میں نہ تھیں تو کم از کم اس سے چھین لی جاتیں، اس کو بھی ان سے محروم کردیا جاتا۔ “ اس کے مقابل ایک اور لفظ استعمال ہوتا ہے جسے غبطہ یا رشک کہتے ہیں۔ حسد میں اور اس میں قدرمشترک یہ ہے کہ حسد کرنے والا اور غبطہ کرنے والا دونوں ہی دوسرے کی عزت اور فضیلت یا اس کا مال و دولت یا اس کی شہرت دیکھ کر متأثر ہوتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی یہ سب کچھ مل جائے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ غبطہ کرنے والا ان نعمتوں کو حاصل کرنے کی خواہش تو رکھتا ہے اور اپنے لیے آرزو بھی کرتا ہے لیکن دوسرے کے پاس ان نعمتوں کو دیکھ کر نہ تو جلتا ہے اور نہ دوسرے سے چھن جانے کی تمنا کرتا ہے۔ البتہ حسد کرنے والا دوسروں کو ان نعمتوں سے بہرہ ور دیکھ کر برداشت نہیں کرپاتا بلکہ اس سے چھن جانے کی دعائیں کرتا ہے۔ ممکن ہو تو اس کے لیے تدبیر بھی کرتا ہے۔ اس لیے حسد کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا اور حسد کرنے والے سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ کیونکہ یہ ایک ایسی کمینگی اور خست طبع کا نتیجہ ہے کہ جس کی برائی صرف خواہش اور آرزو تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض دفعہ اس کے نتیجے میں بڑے بڑے جرائم وجود میں آتے ہیں۔ حاسد دوسرے کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اگر اس کا بس چلے تو وہ اس کے کاروبار کو تباہ کرنے کی تدبیریں کرتا ہے۔ دنیا میں جو پہلا قتل ہوا ہے جس میں قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اس کی وجہ حسد کے جذبے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا کہ حسد اس وقت برا ہے یا اس وقت اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو جب حسد کرنے والا تم سے حسد کرے یعنی اپنے دل کی آگ بجھانے کے لیے قول یا عمل سے کوئی اقدام کرے۔ تو تم بھی اس سے بچنے کے لیے احتیاط بھی کرو اور اللہ تعالیٰ سے پناہ بھی مانگو۔ اور اس سے پناہ مانگنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو اور یقین رکھو کہ جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اور جب تک تمہیں اس بات کا یقین نہ ہوجائے کہ حاسد تمہارے خلاف کوئی اقدام کررہا ہے اس وقت تک اس کے حسد کی کوئی بات اپنی زبان پر نہ لائو۔ حاسد کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر جلتا بھنتا رہے۔ کیونکہ ایسا شخص کسی وقت بھی قلبی سکون حاصل نہیں کرسکتا۔ ہمیشہ ایک بےکلی اور بےچینی اس کی قسمت بنی رہتی ہے اور یہ سزا اس کے لیے کافی ہے۔ لیکن اگر وہ قدم آگے بڑھا کر محسود کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہتا ہے تو ظاہر ہے کہ محسود ضروری نہیں کہ اس کے اقدامات سے آگاہ ہو۔ اس کے بچنے کی بہتر صورت یہی ہے کہ وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا رہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ کی پناہ مل گئی دنیا بھر کے بداندیش بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔