108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsمعالم العرفان
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
تحقیق ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
بیشک آپ کا دشمن ہی ابتر ہے۔
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکوثر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیتیں ہیں اور یہ بارہ الفاظ اور بیالیس حروف پر مشتمل ہے۔
زمانہ نزول کے متعلق مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ مکی سورة ہے یا مدنی مسند احمد 1 ؎ اور حدیث 2 ؎ کی دوسری کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک موقع پر مدنی زندگی میں حضور ﷺ اور صحابہ کی جماعت موجود تھی۔ تھوڑی دیر کے لئے آپ پر غنودگی کی حالت طاری ہوئی۔ جب وہ حالت رفع ہوئی تو آپ مسکرائے لوگوں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی ایک سورة نازل فرمائی ہے۔ چناچہ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اور پھر سورة انا اعطینک الکوثر پڑھ کر سنا دی۔
اسی حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے کوثر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔
1 ؎ مسند احمد ص 102/ج 3 ، مسلم ص 172/ج 1
2 ؎ روح المعانی ص 244/ج 30 اور منشور ص 401/ج 6 ، تفسیر عزیزی فارسی ص 362/پارہ 30 ، روح المعانی ص 248/ج 30
کہ کوثر ایک نہر ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کیا ہے کہ وہ مجھے عطا فرمائے گا۔ اس کا پانی بڑا ٹھنڈا اور میٹھا ہوگا اور اس کے کنارے جو گلاس اور آبخورے ہوں گے ، ان کی تعداد آسمان کے ستاروں کے بربار ہوگی۔ اس پانی کی تاثیر یہ ہوگی ، کہ جو شخص اس میں سے پی لے گا۔ اسے حشر کے تمام عرصہ میں پیاس نہیں لگے گی۔
شان نزول
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ مگر عام مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں 1 ؎ کہ یہ مکی سورة ہے اس کا شان نزول اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔ کہ حضور ﷺ کے دو صاحبزادے قاسم اور عبداللہ جن کے لقب طیب اور طاہر تھے مکی دور میں ہی فوت ہوگئے چناچہ مکہ کے بعض مشرک جن میں عاص بن وائل اور قعبہ بن ابی معیط پیش پیش تھے حضور ﷺ کو طعن دیتے تھے کہ آپ ابتر یعنی بےنسل ہیں چونکہ بیٹے بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ اس لئے آپ کی نسل آگے نہیں چلے گی اور نہ ہی آپ کا دین باقی رہے گا۔ یہ آپ کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔ یہودیوں میں سے کعب بن اشرف بھی اسی قسم کی بات کہا کرتا تھا۔ چناچہ اس طعن کے جواب میں آپ کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔
موضوع
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات پر کئے گئے بہت بڑے احسان کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ نیز یہ کہ کفار کے طعن کی کوئی حیثیت نہیں نہ آپ کی نسل ختم ہوگی اور نہ آپ کا دین ختم ہوگا۔ اللہ نے آپ کو خیر کثیر عطا کیا ہے اس نے آپ کو صوری اور معنوی دونوں قسم کی اولاد عطاء کی ہے۔ اور آپ کا مقام بہت بلند فرما دیا ہے۔ یہ تو کہتے ہیں کہ آپ کا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر مقام پر آپ کا ذکر نہایت احترام کے ساتھ ہوگا۔ ان طعن بازوں کا کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تسلی کے لئے یہ سورة نازل فرمائی اور اس میں پہلے انعامات کا ذکر کیا ، پھر ان انعامات ک شکریہ کا مطالبہ کیا اور آخری حصہ میں بشارت بھی سنا دی۔
1 ؎ روح المعانی ص 248/ج 30 ، در منشور ص 401/ج 6 ، تفسیر عزیزی فاسری ص 362/پارہ 30
کوثیر خیر کثیر
ارشاد ہوتا ہے۔ انا اعطینک الکوثر تحقیق ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ اس کی تفصیل پہلے آ چکی ہے ۔ کہ کوثر سے مراد حوض کوثر ہے۔ جو اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو قیامت کے دن عطا فرمائیں گے۔ آپ کی امت کا جو مومن اس حوض پر پہنچ جائے گا۔ اسے اس سے پینا نصیب ہوگا۔ جس کی وجہ سے اسے ہمیشہ کے لئے راحت اور سرور حاصل ہوجائے گا۔ یعنی طرو پر کوثر ، کثیر کے مادے سے ہے جس کا معنی خیر کثیر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں ۔ 1 ؎ کہ کوثر کا معنی ہے الخیر الکثیر یعنی بہت زیادہ بھلائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جسمانی اولاد بھی عطا فرمائی۔ اگرچہ آپ کے بیٹے نہیں ہیں ، مگر بیٹیاں تو ہیں اور یہ اولاد پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ آپ نے حضرت امام حسین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا 2۔ کہ حسین سبطمن الاسباط ہیں۔ یعنی آپ قیلوں میں سے ایک بڑا قبیلہ ہیں اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی اولاد کو اس قدر کثرت سے پھیلائیگا۔ اور معنوی اولاد یعنی آپ پر ایمان رکھنے والوں کا اندازہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی تعداد دنیا میں کتنی ہے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہی ہے۔ خود حضور ﷺ نے فرمایا 3 ؎ کہ قیامت والے دن سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے جنت میں داخل ہونے والے لوگوں میں بھی تمام نبیوں سے حضور ﷺ کی امتیوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ یہ آپ کے معنوی اولاد ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا 4 ؎ ال محمد کل تقی ۔ ہر مومن متقی میری آل میں شامل ہے ۔ گویا آپ کی معنوی اولاد شمار سے باہر ہے۔ اتنی کسی دوسرے نبی کو نصیب نہیں ہوگی۔
قرآن کریم خیر کثیر ہے
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم بھی کوثر یعنی خیر کثیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم جیسی دولت عطا کی۔ اس میں حکمت کا مکمل کورس بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے مقام پر قرآن پاک میں موجود ہے۔ ” ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دیا گیا ۔ یعنی بہت زیادہ بھلائی دی گئی۔
1 ؎ در منشور ص 402/ج 6 ، ابن کثیر ص 558/ج 4 ، 2 ؎ ترمذی ص 540/، ابن ماجہ ص 14 ، 3 ؎ مسلم ص 86/ج 1 ، 4 ؎ کنزالعمال ص 54/ج 3
قرآن پاک ایسا خیر کثیر ہے۔ کہ اس قرآن پاک کا فیض نسلاً بعد نسل اور طبقا بعد طبق دنیا میں پھیلتا رہے گا ۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں 1 ؎ جو آدمی دنیا میں جس قدر قرآن کریم سے فیضایب ہوگا۔ اسی نسبت سے اس کو حوض کوثر پر پانی نصیب ہوگا۔ لہٰذا تمام اہل بیان کو قرآن کریم کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔
اس کے علاوہ علوم و فنون ، سلطنت ، خزنے اور نماز کو بھی خیر کثیر میں شامل کیا گیا ہے یہ تمام چیزیں خیر کثیر کے تحت آتی ہیں اور سب سے بڑھ کر قرآن پاک ہے۔ جو شخص اس پر ایمان رکھے گا۔ اسے خدا کا کلام تسلیم کرے گا ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اس کی اشاعت میں حصہ لے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ باقی چیزیں قرآن پاک کے مقابلے میں وقیع نہیں ہیں۔ ان سب چیزوں پر قرآن پاک کو ہی فوقیت حاصل ہے۔
نعمت کی قدردانی
اللہ تعالیٰ کی ہر نمعت کی قدر دانی کرنی چاہئے۔ ترمذی شریف کی روایت میں 2۔ آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ یعظم النعمۃ و ان دقت یعنی نعمت کی قدر دانی کرتے تھے۔ اگرچہ یہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہوتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر نعمت منجانب اللہ ہے لہٰذا کسی نعمت کی تحقیر نہیں کرنی چاہئے۔ انسان اکثر ناشکر گزاری کرتا ہے جو کہ مناسب نہیں ، سلطنت ، خلافت اور اولاد ، حوض کوثر اور قرآن پاک سب انعامات الٰہی ہیں۔ قرآن کریم دنیا میں ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس سے فیض یابی قیامت کو حوض کوثر سے فیضیابی کا ذریعہ بنے گی۔
اشاعت قرآن کے مختلف طریقے
اشاعت قرآن پاک مختلف طریقوں سے ہوتی ہے۔ نماز میں قرآن پاک کا پڑھنا فرض ہے ۔ ” فاقرء واما تیسر من القرآن “ سے ہوتی ہے۔ نماز میں قرآن پاک کا پڑھنا فرض ہے۔ ” فاقراء واما تیسر من القرآن “ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ لہٰذا نماز بھی اشاعت قرآن کا ایک طریقہ ہے۔ مشرکین نماز سے روکتے تھے۔ تاکہ نہ قرآن پاک پڑھا جائے اور نہ اس کی اشاعت ہو۔ وہ کہتے تھے۔ ” لاتسمعوا لھذا القرآن والغوافیہ
1 ؎ تفہیمات ص 324/ج 1 ، المقام المحمود پارہ عم حضرت مولانا سندھی ص 187 تفسیر عزیزی فارسی 363/پارہ 30 ، 2 ؎ ترمذی ص 584
قرآن پاک کو مت سنو بلکہ جہاں پڑھا جائے وہاں شو ر وغیرہ ڈالو ، تاکہ کوئی بھی اسے نہ سن سکے اور اس طرح اس کی اشاہت رک جائے۔ سورة علق میں گذر چکا ہ ” ارء یت الذین ینھی عبداذا صلی “ آپ ن اس بدبخت کو دیکھا ہے جو اللہ کے بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے ، اس کے ض س منظر میں بھی یہی فلسفہ کار فرما ہے کہ کسی طرح قرآن کی اشاعت نہ ہونے پائے اور درجے مرتبے اور ثواب کے لحاظ سے تلاوت قرآن کی زیادہ فضیلت نماز کی حالت میں ہے۔ حضور لعیہ السلام کا فرمان 1 ؎ ہے۔ نماز سے باہر قرآن کا پڑھنا تسبیح اور تکبیر سے افضل ہے اور تسبیح صدقہ سے افضل ہے اور صدقہ روزہ افضل ہے اور روز دوزخ کے آگے ڈھال ہے۔ اس کی تعلیم ، درس و تدریس ، اس کے مطابق عمل کرنا ، اس کے قانون کو جاری کرنا یہ چیزیں اشاعت قرآن کا حصہ ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کیا ہے منجملہ ان کے قرآن پاک بھی ہے۔ لہٰذا نعمت جس قدر بڑی ہو ، اسی قدر اس کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے۔
فلاح کے دو اصول
اس شکر کے مقام پر اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں بیان فرمائی ہیں۔ دو حقیقت فلاح کے دو بڑے اصول میں۔ فل لربک فصل وا تخر د یعنی نمازپڑھو ، اور قربانی کرو۔ یہ دو عظیم اصول بیان فرمائے۔ اس سے پہلے سورة عصر میں چار اصول بیان فرمائے تھے۔ جو کبھی غلط نہیں ہو سکتے اور تمام اقوام عالم کے لئے یکساں مفید ہے۔ جس دو اور دو کبھی پانچ نہیں ہو سکتے ، چار ہی رہتی ہیں اسی طرح یہ اصول بھی اٹل ہیں تو گویا اس سورت میں اتعالیٰ نے فلاح کے دو صول بیان فرمایا فرمائے ہیں۔ جن پر عمل کرنے سے ساری خرابیاں دور سکتی ہیں۔ سرمایہ داری ، ملوکیت اور نیشنلزم کی تمام قباحتیں ان پاکیزہ اصولوں پر عمل درآمد سے رفع ہو سکتی ہیں۔
نماز تعلق اللہ کا ذریعہ ہے
پہلا اصول یہ بیان فرمایا فصل لربک اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں۔ نماز اللہ تعالیٰ کی رضا کا سب سے اہم ذریعہ اور عبادات میں سب سے اہم عبادت ہے۔ اس کے ذریعے انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ استوار ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری ہے۔ تعلق باللہ کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔ اگر تعلق باللہ درست ہوگا۔ تو باقی نظام بھی درست ہوں گے اور اگر یہی بگڑا ہوگا تو پھر کوئی نظام صحیح نہیں ہوگا۔ نہ نظام حکومت درست ہوگا نہ تجارت نہ کاروبار ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق نماز کے ذریعے ہی صحیح ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد کہا فصل لربک اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھیں۔ تاکہ خدا کی نعمتوں کا شکر بھی ادا ہو۔ اور اشاعت قرآن کا فریضہ بھی ادا ہوتا رہے جو کہ اس کے برکات کو عوام تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
قربانی تقریب الی اللہ کا ذریعہ ہے
فلاح کا دوسرا اصول فرمایا وانحر یعنی قربانی کریں۔ نحر اونٹ کی قربانی کو کہتے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے 1 ؎ کہ حضور ﷺ نے عید الاضحیٰ کے خطبے میں فرمایا۔ آج کے دن ہمارے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ نماز پڑھیں ثم نرجع فنخر پھر پلٹ کر قربانی کریں گے۔ قربانی محض گوشت کھانے کا نام نہیں ، بلکہ یہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ “ لن ینال اللہ لحومھا ولا دمآء ھا اللہ تعالیٰ کے پاس قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔ ولکن یتالہ التقوی منکم۔ “ بلکہ تمہارای تقویٰ بارگاہ رب العزت میں پہنچتا ہے۔ قربانی انسان کے عقیدہ توحید کی علامت ہے۔ …… مشرکین اپنے معبودان باطلہ کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ جو کہ شرک اور بہت بڑا جرم ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک مومن اللہ کے نام پر قربانی دیتا ہے جس سے اس کے ایمان اور عقیدہ توحید کا اظہار ہوتا ہے۔
وانحر کا معنی بعض 2 ؎ نے نماز میں سینے کے نیچے ہاتھ باندھنا بھی کیا ہے۔ مگر یہ روایت ضعیف ہے۔ بعض 3 ؎ نے اس کا معنی سینہ قبلہ کی طرف پھیرنا کیا ہے۔ مگر یہ بھی ضعیف روایت ہے۔ اس مقام پر وانحر کا صحیح معنی قربانی کرنا ہی ہے۔
1 ؎ بخاری ص 130/ج 1 ، مسلم 154 /ج 2 ، 2 ؎ مظہری ص 353/ج 10 ، روح المعانی ص 247/ج 30 ، درمنشور ص 403/ج 6 ، 3 ؎ درمنشور ص 403/ج 6 ، ابن کثیر ص 558/ج 4
قربانی کو اکثر آئمہ سنت مئوکدہ قرار دیتے ہیں ، صرف ہمارے امام ابوحنیفہ اس کو واجب کہتے ہیں۔ 1 ؎ قربانی نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ کی طرح فرائض میں تو داخل نہیں ہے۔ محض سنت مئوکدہ یا واجب ہے۔ مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ 2 ؎ کہ اس کی وجہ ہے مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ 2 ؎ کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ قربانی کا اس کے وقت پر ادا کرنا تعلق باللہ درست کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ انسان کے عقیدہ توحید کا اظہار اسی عمل سے ہوتا ہے۔
قربانی صرف پالتو جانور کی روا ہے
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قربانی بھیمۃ الانعام یعنی پالتو جانرو کی ہی ہو سکتی ہے۔ یہ چار قسم کے جانور ہیں۔ جن میں اونٹ ، بھیڑ ، بکری ، گائے بھینس شامل ہیں یہ جان کا بدل ہے۔ اور قربانی کے لئے جانور بھی وہی ٹھہرائے گئے ہیں جن سے انسان عام طور پر مناسبت رکھتے ہیں۔ اور ان سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کا گوشت ، دودھ ، چمڑا ، چربی وغیرہ استعمال کرتے ہیں اور ان پر سواری بھی کرتے ہیں۔ زمین کی خدمت بھی انہیں جانوروں سے لی جاتی ہے۔ جو انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کی خدمت کے لئے مقرر کئے گئے ہیں لہٰذا قربانی بھی انہیں جانوروں کی مقرر کی گئی ہے۔ یہ انسانی جان کا بدل ہے کوئی شخص قربانی کے طور پر اپنی اولاد یا اپنے غلام کی قربانی نہیں کرسکتا۔ یہ حرام ہے۔ جان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر کسی کو اختیار نہیں دیا۔
اگر کوئی شخص انسانی جان کی نذر مان لے۔ جیسے یوں کہے کہ میں بیٹے کی قربانی دوں گا۔ تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے …… کہ جانور کی قربانی کرے انسانی جان کی قربانی نہیں ہو سکتی۔ ابھی آپ نے اخبارات میں پڑھا کہ راولپنڈی کے کسی شخص نے اپنے بیٹے کی قربانی کی نذر مانی اور پھر اسے ذبح کردیا۔ اس کی ٹانگیں تو دبا دیں ، مگر دوسرا گوشت دیگ میں پکا کر حضرت امام حسین کی نیاز کے طور پر لوگوں کو کھلایا دیکھو ! یہ کتنا بڑا جرم اور حماقت ہے۔ نیاز دینے والے لوگ کہاں سے کہاں تک جا پہنچے
1 ؎ ہدایہ ص 443/ج 4 ، 2 ؎ تفسیر عزیزی فارسی ص 364/پارہ 30
اول تو نیاز بغیر اللہ ویسے ہی حرام ہے اور پھر بیٹے کو ذبح کردیا۔ بدبخت نے دوسرے لوگوں کو بھی اس جرم میں شریک کیا۔ ایسے لوگوں کو عبرتناک سزا ملنی چاہئے۔
اللہ تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السام کی جان کا بدلہ بھی جانور ہی بھیجا تھا۔ اور اسے ذبح عظیم کے لقب سے یاد کیا۔ گویا قربانی کے لئے یہ عظیم دستور مقرر فرما دیا کہ اس ان کی قربانی قطعاً روا نہیں۔ ہندوئوں کے ہاں انسانی قربانی کا تصور پایا جاتا ہے۔ وہ اسے بلیدان کا نام دیتے ہیں۔ کبھی وہ انسان کو کالی دیوی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ کبھی کسی دیوتا کے نام پر بچوں کو ذبح کردیتے ہیں۔ یہ سب ناجائز اور حرام ہے۔ قربانی صرف اللہ کے نام پر ہی ہو سکتی ہے۔ اور وہ بھی پالتو جانرو کی کسی جنگل وحشی جانور کی قربانی نہیں ہو سکتی۔
دشمن کی ناکامی
اس سورة کی ابتداء میں انعامات کا ذکر کیا۔ پھر نماز اور قربانی کا حکم دیا تاکہ انعامات کا شکریہ ادا ہو سکے۔ اب تیسری آیت میں اس پس منظر کا جواب ہے جس میں یہ سورة نازل ہوئی ۔ حضور ﷺ کے دو صاحبزادگان کی وفات کی وجہ سے کفار طعنہ زنی کرتے تھے کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ ابتر یعنی بےنسل ہیں۔ 1 ؎ اسی کے جواب میں ارشاد ہے۔ ان شائنک ھو الابتر بیشک آپ کا دشمن آپ کے ساتھ بغض وعناد رکھنے والا ہی ابتر ہے۔ یعنی اے نبی کریم ! آپ ابتر نہیں ہیں آپ کی صوری اولاد بھی خوب پھیلے گی۔ اور آپ کا دین بھی قیامت تک قائم رہے گا۔ البتہ آپ کے دشمن کی نہ اولاد باقی رہے گی اور نہ اس کا دین باقی رہے گا۔ چناچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہو رہی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی اولاد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے ۔ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ، جہاں آپ کی صوری اولاد کا کوئی فرد نہ ہو اور آپ کی معنوی اولاد یعنی آپ کے پیروکاروں کا تو شمار ہی نہیں کر دنیا میں ان کی تعداد کس قدر ہے اور ادھر طعن کرنے والے مشرکین مکہ کی نہ صوری اولاد موجود ہے اور نہ معنوی آج ان کا نام و نشان ت دنیا میں باقی نہیں۔ مفسرین ان کا ذکر قرآن پاک
1 ؎ در منشور ص 401/ج 6 تفسیر عزیزی ص 362/ج 30 روح المعانی ص 248/ج 30
کے سیاق وسباق میں کردیتے ہیں۔ ورنہ ان کے کسی کام یا اخلاق یا دین کی بناء پر وہ دنیا سے بالکل مٹ چکے ہیں۔ جو لوگ حضور ﷺ کو ابتر کہتے تھے ، وہ خود ہر لحاظ سے ابتر ثابت ہوچکے ہیں۔
حضور (علیہ السلام) کے لئے مقام محمود
برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ورفعنا لک ذکرک ہم نے دنیا میں آپ کا ذکر بلند کردیا۔ ایسا بلند کیا کہ پانچ وقت نماز میں جہاں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔ وہاں آپ کی ذات اقدس پر درود پاک پڑھا جاتا ہے۔ دشمن بھی آپ کا نام لیتے ہیں تو نہایت احترام کے ساتھ تاریخ میں بھی آپ کے کارہائے نمایا کا ذکر عزت و احترام سے کیا جاتا ہے۔ یہ تو دنیا کا حال ہے اور پھر جب آخرت کی منزل آئے گی تو پتہ چلے گا کہ بلند پایہ مقام محمود پر اللہ تعالیٰ آپ کو مبعوث فرمائے گا۔ عسی ان یبعثک ربک مقاماً محموداً “ اسی لئے حضور لعیہ السلام نے فرمایا 1 , کہ میرے لئے وسیلہ کی دعا کیا کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اجر دے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ مقام محمود پر اللہ تعالیٰ مجھے ہی فائز کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے وہ مقام میرے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا 2 ؎ انا سید ولد آدم یوم القیمۃ ولا فخر میں تمام بنی نوع انسانی کا سردار ہوں۔ مگر یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کا انعام ہے۔
کامیابی کا راز
مفسرین کرام 3 ؎ ان شائنک ھو الابتر کی تفسیر میں بتاتے ہیں کہ دشمن کی ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان پاکیزہ اصولوں پر عمل پیرا ہوجائیں گے تو دشمن ناکام ہوگا یعنی آپ تعلق باللہ کی درستگی ، اقامت صلوۃ ، قربانی اور اشاعت قرآن میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں تو آپ کے دشمن کو ناکامی ہوگی اور شیطان کو بھی ناکامی ہوگی۔
تاریخ شاہد ہے کہ ابتدائے اسلام سے لے کر نصف صدی کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے نصف دنیا پر اسلام کا پرچم بلند کردیا اور ساری دنیا سے کفر کا غلبہ ختم ہوگیا۔ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان جنگ صفین تک دنیا میں ایسی
1 ؎ مسلم ص 166/ج 1 ، ترمذی ص 519 ، 2 ؎ ترمذی ص 520 ، 3 ؎
کوئی دوسری طاقت نہیں تھی ، جو مسلمانوں سے ٹکر لے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اس قدر غلبہ عطا کیا۔ آج بھی اگر لوگ قرآن پاک کے پروگرام پر عمل پیرا ہوجائیں۔ تو دشمن بھی مغلوب ہوگا اور شیطان بھی دفع ہوجائے گا۔ اگر ان اصولوں پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ تو نہ دشمن مغلوب ہوگا اور نہ شیطان پچھیا چھوڑے گا گویا ہمیں بھی یہ اصول بتلا دیا گیا اور پروگرام دے دیا گیا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ نماز کا خیال رکھو ، قربانی کا جذبہ پیدا کرو۔ قرآن پاک کی اشاعت میں حصہ لو ، تاکہ اسی تناسب سے قیامت کے دن حوض کوثر کا پانی نصیب ہو۔ یہ حضور ﷺ کے فیضان کا ایک نمونہ ہوگا جو کوثر کی صورت میں ظاہر ہوگا۔