Ayahs 107:1–7نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الماعون ہے۔ اس کی آخری آیت میں ماعون کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لفظ سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اکثر مفسرین 1 ؎ کی یہی رائے ہے۔ تاہم بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی زندگی میں اور نصف حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا۔ اس سورة کے مدنی ہونے کا تصور اسی وجہ سے ہے کہ اس میں منافقین کا ذکر ہے اور وہ مدنی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ مکی دور میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یا کافر تھے۔ یا مخلص مسلمان
اس سورة کی سات آیتیں ہیں۔ یہ پچیس الفاظ اور ایک سو پچیس حروف پر مشتمل ہے۔
1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 360/پارہ 30 ، تفسیر اتقان ص 25/ج 1 ، درمنشور 399/ج 6 ، 2 ؎ روح المعانی ص 241/ج 30 ، مظہری ص 349/ج 10
قومیت پرستی کی مذمت
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ قریش میں قومیت پرستی کی بیماری پیدا ہوگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے قریش کو خصوصی مرتبہ عطا فرمایا تھا۔ بیت اللہ شریف کے متولی ہونے کی وجہ سے انہیں عزت بخشی تھی۔ لہٰذا انہیں چاہئے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ، مگر ان میں قومیت پرستی پیدا ہوگئی۔
اللہ تعالیٰ نے اس مہلک بیماری کا علاج یہ تجویز کیا کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک اور خوف سے نجات دلائی۔
جس قوم میں قومیت پرستی پیدا ہوجائے۔ اس میں غرور ، تکبر اور رعونت آجاتی ہے پھر وہ ظلم و ستم پر اتر آتی ہے۔ ہٹلر نے بھی یہی کہا تھا کہ جرمن قوم قوموں پر فوقیت رکھتی ہے اس نے اسی لعنت میں مبتلا ہو کر پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا تھا۔ مگر انگریز روس اور امریکہ نے مل کر اسے شکست دی۔ مسولینی بھی کہتا تھا کہ اٹالین قوم سے بڑھ کر دنیا میں کوئی قوم معزز نہیں۔ اس میں ڈکٹیٹر شپ کا مادہ پایا جاتا تھا۔ مگر بنیاد اس کی بھی نیشنلزم ہی تھی۔ یہ سب لعنتیں ہیں۔ اشتراکی نظام خدا پرستی کے انکار پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے یہ قابل قبول نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام جس میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بھی لعنت ہے۔ ہمارے ممالک بھی اسی ظالمانہ نظام کا شکار ہیں۔ حالانکہ اسلام کا عطا کردہ نظام صاف ستھرا اور بلند پایہ نظام ہے۔ جو ان تمام نظاموں سے مختلف ہے۔
قوم پرستی کی مذمت میں حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے 1 ؎ ان اللہ قد اذھب عنکم عبیۃ الجاھلیۃ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے زمانے کی نخوت کو مٹا دای ہے۔ فالناس رجلان رجل برتقی کریم علی اللہ وفاجر شقی اب انسان یا تو مومن اور متقی ہوگا یا فجر اور بدبخت ہوگا۔ اب کسی کی عزت قومیت پرستی کی بنا پر نہیں ہوگی۔ بلکہ دینداری کی بنا پر ہوگی حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے 2 ؎ کہ لینتھین قوم یفتخرون بایائہم اولیکونن اھون علی اللہ من الجعلان یعنی لوگ اپنے
1 ؎ ترمذی ص 470 ، 2 ؎ کنز العمال ص 300/ج 3 بحوالہ بزار
آبائو اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کے نزدیک وہ اس طرح ذلیل ہوجائیں گے جس طرح غلاظت کا کیڑا غلاظت کی گولایں بنا کر ناک کے ساتھ لڑھکاتا پھرتا ہے۔
عزت کا مدار تقویٰ پر ہے
سورۃ حجرات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اجتماع نظام اور اس کے اصول بیان فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قومیں ، قبائل ، خاندان اور گو میں ایک دوسرے کی پہچان کے لئے پیدا کی ہیں۔ مگر ” ان اکرمکم عند اللہ اتقتکم “ اللہ تعالیٰ کے نزدیک با عزت وہ ہے جو متقی ہے۔ قومیتوں کا فلسفہ محض جان پہچان تک محدود ہے۔ حضور ﷺ کا بھی ارشاد ہے۔ 1 ؎ والناس بنو ادم تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو۔ وادم من التراب اور آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اللہ نے مٹی سے فرمائی۔ تمام انسانوں کا شجرہ نسبت مٹی سے ملتا ہے۔ مٹی میں عاجزی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا ہم سب کو عاجزی اختیار کرنی چاہئے غرور اور تکبر سے بچنا چاہئے جو کہ شیطان کا شیوہ ہے۔
اسی لئے فرمایا ” فلیعبد وارب ھذا البیت “ اس گھر کے مالک کی عبادت کرو۔ دوسرے الفاظ میں اسے اس طرح تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو قومیت پرستی سے ہٹا کر ایک دیندار اور مذہبی جماعت بنانے کی تلقین کی ہے۔ تام یہ علیحدہ مسئلہ ہے کہ دینی جماعتیں کیوں ناکام ہوتی ہیں۔ ان میں کون سی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔
یوم الدین کا انکار
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے جھوٹی مذہبیت کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ” اریت الذی یکذب بالدین کیا تو نے اس شخص کو دیکھا ہے۔ جو دین کو جھٹلاتا ہے۔ دین سے مراد ملت بھی ہو سکتی ہے اور ملت کو جھٹلانے والا کافر ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ تر مفسرین 2 ؎ بیان کرتے ہیں کہ یہاں پر دین سے مراد یوم الدین یعنی جزاء کا دن ہے۔ جب قیامت کے روز ہر عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ سورة فاتحہ میں بھی ہم کہتے ہیں ” ملک یوم الدین “ یعنی جزاء کا مالک تو یہاں پر دین کا معنی یوم حساب ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس شخص کا
1 ؎ ترمذی ص 470 ، کنزل العمال ص 300/ج 3 ، 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 554/ج 4 ، روح المعانی 241/ج 30 ، معالم التنزیل ص 255/ج 4
قیامت پر یقین نہیں اور جزائے عمل پر اس کا اعتماد نہیں ہے۔
پوری نوع انسانی میں اللہ کا نام لینے والوں کی ہر دور میں غالب اکثریت رہی ہے ایک قلیل تعداد دہریوں کی ایسی ہے۔ جو خدا کی ہستی کے منکر ہیں۔ آج دنیا بھر کی پانچ ارب آبادی میں سے پونے پانچ ارب اللہ کا نام لینے والے ہیں۔ تاہم ایک دنیا دار اور دیندار میں فرق یہ ہے کہ دیندار آدمی قیامت پر یقین رکھتے ہوئے نیکی کے کام کرتا ہے اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے۔ برخلاف اس کے دنیا دار سنگ دل ہوتا ہے جو انسانی ہمدردی سے محروم ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے دوزخ میں جانے کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمائی۔ انہ کان لا یومن باللہ العظیم وہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا۔ ” ولا یحض علی طعام المسکین “ اور مسکین کو کھانا کھلانے کے لئے تیار نہیں تھا اور نہ مسکین کے کھانا کھلانے پر کسی کو ترغیب دلاتا تھا۔ گویا کھانے کا تعلق ایمان کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یوم جزاء کو جھٹلانے والے کی مذمت بیان کی ہے۔
یتیم سے بدسلوکی
انسانی ہمدردی سے محروم انسان کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی فذلک الذی یدع الیتیم یہ ایسا بدبخت شخص ہے جو ایک قیامت کی تکذیب کرتا ہے دوسرے یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ 1 ؎ کوئی آدمی قریب المرگ ہوتا تو ابوجہل اس کے سرہانے جا بیٹھتا۔ کہتا مجھے اپنی اولاد کا متولی بنا دو ۔ میں اس کی پوری حفاظت کروں گا۔ بسا اوقات لوگ اسے سردار سمجھتے ہوئے۔ اس پر اعتمادل کرتے کہ یہ یتیموں کے مال کی حفاظت کرے گا۔ مگر جب وہ مال پر قبضہ کرلیتا تو پھر یتیموں کو دھکے مار کر نکال دیتا۔ وہ بیچارے گلیوں میں مارے مارے پھرتے مگر اس سے کوئی باز پرس نہ کرسکتا۔ کیونکہ وہ طاقتور تھا۔
حدیث شریف میں آتا ہے ۔ 2 ؎ کہ ایک یتیم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ حضور ! ابوجہل نے میرے ساتھ ایسا ویسا سلوک کیا ہے۔ مجھ پر ظلم کیا ہے۔ حضور ﷺ اسی وقت اس کو ساتھ لے کر ابوجہل کے پاس گئے اور اسے نصیحت فرمائی کہ دیکھو ! یتیموں کے ساتھ بدسلوکی مت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر ایسا رعب ڈال دای کہ اس نے بغیر کسی تعرض کے حضور ﷺ کی نصیحت پر عمل کیا اور یتیم کا حق اسے ادا کردیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت تھی کہ وہ فوراً مان گیا اور نہ وہ بڑا ظالم آدمی تھا۔ آسانی سے راہ رسات پر آنے اولا نہیں تھا۔
ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا 1 ؎ حضور ! میں اپنے اندر سنگدلی پاتا ہوں۔ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے کہ میرے دل کی سختی دور ہوجائے ۔ آپ نے فرمایا یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو۔ خدا تمہاری سنگدلی دور فرما دے گا۔
مسکین کو کھانا کھلانا
یوم جزاء کی تکذیب کرنے والے اور انسانوں سے بدسلوکی کرنے والے کی ایک اور صفت یہ بیان فرمائی ولا یحض علی طعام المسکین اتنا کنجوس ہے کہ خود یتیم کی پرورش کرنا تو درکنار دوسروں کو بھی ترغیب نہیں دیتا کہ یہ مسکین ہے۔ اس کو کھانا ہی کھلا دو ۔ یا اس کے ساتھ کوئی اور اچھا س لوک کرو۔ فرمایا یہ بھی بیماری ہے۔ یتیم ، مسکین یا عام انسان کا حق ضائع کرنا ، ان کی طرف توجہ نہ کرنا۔ مذہبی آدمی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسانی ہمدردی سے محروم ہوجائے تو فرمایا جب ایسا شخص انسانوں کا حق ضائع کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کا حق ضائع کرنا تو اس سے بھی بری بات ہے۔
نماز سے غفلت
فرمایا فویل اللمصلین پس ہلاکت اور تباہی ہے نمازیوں کے لئے الذین ھم عن صلاتھم ساھون جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ سہو کا معنی بھول جانا ہے اور بھول دو قسم کی ہے۔ ایک نماز کے اندر بھول جانا یعنی پڑھنے کے دوران بھول ہوجائے اس کا علاج بھی حضور ﷺ نے بتا دیا کہ اگر نماز میں بھول جائو تو سجدہ سہوا ادا کرلو ۔ نماز درست ہوجائے گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ خود حضور نبی کریم ﷺ پانچ ، چھ
1 ؎ مسند احمد 387/ج 2
دفعہ نماز میں بھولے ، نماز کے اندر بھول جانے پر کوئی مئواخذہ نہیں ہے۔ مگر یہاں پر سہو سے مراد نماز سے غفلت ہے۔ کیونکہ الفاظ فی ضلاتھم نہیں بلکہ عن صلاتھم ہیں۔ یعنی ایسا شخص سرے سے نماز پڑھتا ہی نہیں ، غفلت میں پڑا ہوا ہے اور اگر چار و ناچار پڑھتا بھی ہے۔ تو منافقین کی نمازپڑھتا ہے۔ یعنی بیٹھا رہتا ہے۔ وقت ہوگیا وہ کسی شغل میں مصروف ہے جب وقت بالکل تنگ ہوجاتا ہے تو اٹھ کر مرغ کی طرح دو چار ٹھونگے مار لیتا ہے۔ ایسا شخص اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔ جماعت کا خیال نہیں کرتا ، نماز کے فرائض ، واجبات ، مستحبات کی پرواہ نہیں کرتا۔ یہی منافق کی نماز ہے۔ اسی لئے فرمایا ہلاکت اور تباہی ہے ان کے لئے جو اپنی نمازوں سے بیخبر ہیں۔
ریا کاری شرک کے مترادف ہے
اس قسم کی نماز کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ یہ اللہ سے اور دوری کا سبب بنتی ہے الا بعداً کے الفاظ آتے ہیں کیونکہ یہ نماز عقیدت ، شرائط اور پابندی ؟ کے ساتھ ادا نہیں کی گئی۔ فرمایا اس قسم کی نماز پڑھنے والے وہ لوگ ہیں الذین ھم یرآء ون جو ریا کاری کرتے ہیں۔ محض لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں کہ لوگ کہیں کہ یہ بڑا نمازی ہے۔ حالانکہ نماز تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے پڑھنی چاہئے اس کے سامنے عاجزی اور مناجات کرنی چاہئے۔ تاکہ انسان میں بلند درجے کی روحانی پیدا ہو اور وہ بارگاہ الٰہی میں پیش ہونے کے قابل ہو سکے۔ نماز تو بار گاہ ایزدی میں حاضری ہے۔ اسے بڑی احتیاط اور توجہ سے ادا کرنا چاہئے۔ ریاکاری اس کے منافی ہے۔ ریاکار آدمی خدا کی مخلوق کو خدا تعالیٰ سے بڑا سمجھتا ہے۔ جبھی تو لوگوں کے دکھاوے کے لئے نیکی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی کوئی عظمت نہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان 2 ؎ ہے جس نے ریا کاری کی اس نے شرک کیا۔ ریا کاری گویا شرک کی ایک قسم ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ریا کار سے فرمائے گا۔ 3۔ میرے پاس تمہارے لئے کوئی جزاء نہیں ریا کاری کے عمل کا بدلہ ان سے جا کر حاصل کرو۔ جن کے لئے ایسا
1 ؎ ، 2 ؎ مستدرک حاکم ص 329/ج 4 ، ابن ماجہ ص 210 ، مسلم ص 411/ج 2 ، 3 ؎ کنز العمال ص 269/ج 3 ، ابن ماجہ ص 310
عمل کرتے تھے۔ میرے ہاں تو تمہاری گرفت ہے۔ تو گویا ریا کار خدا کی بجائے مخلوق کو قابل وقعت سمجھتا ہے اور یہ نہایت بری بات ہے۔
مذہبی جماعتوں کی کوتاہیاں
اس سورة مبارکہ میں جن بیماریوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان سے مذہبی جماعتیں بھی مبرا نہیں۔ مذہبی لوگوں میں بھی زرپرستی کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مسکین طبقات پر احسان کرنے کی بجائے ان کا حق غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ریا کاری کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان میں بخل کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ جماعتیں بھی ناکام ہوجاتی ہیں۔ نیشنلزم والے اس لئے ناکام ہوتے ہیں کہ ان میں اکڑ پیدا ہوجاتی ہے شہنشاہیت والے اس لئے ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں کہ وہ ظالم بن جاتے ہیں۔ سرمایہ دار اس لئے تباہ ہوتے ہیں کہ وہ دین کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اور دیندار لوگ اس لئے ناکا م ہوتے ہیں کہ وہ انسانی ہمدردی کے کاموں سے محروم ہوتے ہیں۔ ریا کاری کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ غریبوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے۔ یتیموں ، مسکینوں اور کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہیں آتے۔ ان میں بھی دنیا داروں جیسی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا جب دینداروں میں بھی یہ بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں یہ خواہ پیر ہوں ، مولوی ہوں یا خانقاہ والے ہوں ، تو وہ بھی یہاں آ کر ناکام ہوجاتے ہیں۔
انسانی ہمدردی
انسانی ہمدردی سے محروم لوگوں کی خساست کی ایک مثال یہ بیان فرمائی۔ ویمنعون الماعون کہ کسی کو برتنے کی چیز بھی نہیں دیتے۔ دولت کو سمیٹنا اور پھر اس کے خرچ میں بخل کرنا ایسے ہی لوگوں کا شیوہ ہے۔ سورة توبہ میں بیان ہوا۔ “ ان کثیراً من الاحبار والرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل “ بہت سے پیرادار عالم ایسے ہیں۔ جو لوگوں کی دولت باطل طریقے سے سمیٹتے ہیں۔ مگر انسانی ہمدردی کا یہ عالم ہے کہ یمنعون الماعون کسی کو مانگے کی چیز بھی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے کوئی برتن مانگ لے کر استعمال کر کے واپس کر دوں گا یا کوئی اور چیز۔
حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت ضحاک اور حضرت قتادہ 1 ؎ فرماتے ہیں کہ ماعون میں زکوۃ بھی شامل ہے گویا یہ لوگ اپنے مال کی زکوۃ بھی ادا نہیں کرتے اکثر دوسرے مفسرین 2 ؎ اس سے برتنے کی دوسری چیزیں مراد لیتے ہیں کسی پڑوسی کو سکی چیز کی ضرورت پڑجائے تو وہ بھی دینے سے گریز کرتے ہیں۔
بخل کی بیماری
بخل کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد گرامی 3 ؎ ہے۔ ای داء ادوا من البخل بخل سے بڑھ کر اور کون سی بیماری ہے ، یہود ، اسی بیماری سے تباہ ہوئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ بخل سے بڑھ کر کوئی روحانی اور اخلاقی بیماری نہیں ہے۔ بخل ، ریا کاری ، غرباء و مساکین سے عدم توجہی ، یہی تکذیب دین ہے۔ مذہبی لوگ بھی اسی طریقے سے ناکام ہیں ۔ ظاہری طور پر چاہئے کچھ عنوان رکھیں۔ مگر انسانیت کا اظہار قیامت کے روز ہی ہوگا۔ جو لوگ انسانیت کے کام سے محروم ہوں گے وہ اس دن ناکام وہ جائیں گے لہٰذا مذہبی لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان باتوں سے بچیں جس طرح قریش کو فرمایا کہ قوم پرستی سے بچو ، توحید پرستی اختیار کرو جھوٹی مذہبیت خدا کے ہاں کچھ مفید نہ ہوگی۔ انصاف والے دن ہر چیز واضح ہوجائے گی۔
1 ؎ مستدرک حاکم 526/ج 2 ، در منشور ص 401/ج 6 ، تفسیر خازن ص 300/ج 7
2 ؎ در منشور ص 400 ، ص 401/ج 6 ، معالم التنزیل ص 256/ج 4 ، خازن ص 300/ج 7
3 ؎ مسند احمد ص 308/ج 3 ، کنزل العمال ص 257/ج 3