106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsمعالم العرفان
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
واسطے ، نوس کردینے قریش کے
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
ان کا مانوس کردینا سفر میں موسم سرما میں اور موسم گرما میں
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
پس چاہئے کہ یہ (قریش) اس گھر کے رب کی عبادت کریں
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
وہ جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے امن دیا۔
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الرقیش ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چار آیتیں ہیں۔ یہ سورة سترہ الفاظ اور چوہتر حروف پر مشتمل ہے۔ پہلی یہ آیت میں لفظ قریش آیا ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔
پچھلی سورة کے ساتھ ربط
یہ سورة پہلی سورة کے ساتھ مربوط ہے۔ سورة فیل میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو بیت اللہ شریف کو گرا کر اس کی بےحرمتی کرنا چاہتے تھے ، وہ لوگ ہاتھیوں سمیت بہت بڑا لشکر لے کر آئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو بالکل ناکام بنا دیا۔ اور نہ صرف وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے حملہ آواروں کو سزا دی اس دور میں قریش کو بیت اللہ کے متولی ہونے کی وجہ سے باعزت مقام حاصل تھا۔ اصحاب فیل کا مقصد یہ بھی تھا کہ قریش کو ذلیل کردیا جائے تاکہ اس ملک پر قبضے کی راہ ہموار ہو سکے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قریش کا خاندان ہی ان کے راستے میں حائل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ انہیں مغلوب کرنا چاہتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہوئی کہ حملہ آور خود کعصف ماکول ہوگئے اور قریش کی عزت و احترام میں کوئی فرق نہ آیا۔
قریش کے لئے الفت
اسی موضوع کو اس سورة قریش میں آگے چلایا گیا ہے۔ فرمایا اصحاب فیل کی ذلت کی حکمت یہ تھی لایلف قریش تاکہ لوگوں کے دلوں میں قریش کے لئے الفت پیدا ہوجائے اندرون اور بیرون ملک جہاں بھی قریش تجارت کے لئے جاتے تھے۔ لوگ ان سے مانوس تھے اور ان کا ادب و احترام کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اصحاب فیل سے محفوظ رکھا۔ بلکہ الٹا ان کو نیست و نابود کردیا تو مشرق و مغرب میں قریش کو مزید عزت حاصل ہوگئی تو یہاں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ ہاتھی والوں کو شکست فاش قریش کے لئے الفت پیدا کرنے کی غرض سے ہوئی تھی۔
بعض فرماتے ہیں 1 ؎ کہ لایلف میں ” لام “ جار ہے اور اس کا تعلق فعل یا شبہ فعل سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلا لفظ ماکول شبہ فعل یعنی مفعول ہے۔ لہٰذا ” لام “ کا تعلق ماکول سے قائم ہوگیا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ اصحاب فیل کی پامالی قریش کی الفت کی خاطر ہوئی۔
بعض فرماتے ہیں 2 ؎ کہ ” لام “ سے مراد ہے اعجبوا یا تعجبوا یعنی اے لوگو ! تعجب کرو کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو کیسا مانوس بنا دیا۔ بعض 3 ؎ کا خیال ہے کہ ” لام “ کا تعلق بعد میں آنے والے فعل فلیعبدوا کے ساتھ ہے۔ اگر یہ سمجھا جائے تو مطلب ہوگا کہ قریش کو چاہئے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی گھر کی بدولت لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے ا لفت ڈال دی تھی۔ انہیں کفر اور شرک والی عبادت نہیں کرنی چاہئے بلکہ خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہئے۔ جس نے ان کو خانہ کعبہ کی بدولت عزت عطا کی۔
قریش کا شجرہ نسب
حضور ﷺ کے سلسلہ نسب میں بارہویں نمبر پر ایک بزرگ نفر بن کنانہ آتے ہیں۔ 4 ؎ ان کی اولاد قریش کہلاتی ہے۔ یہ اصل لفظ قرشی ہے۔ مگر تصغیر کے طور پر
1 ؎ تفسیر کشاف ص 801/ج 4 ، بیضاوی ص 440/ج 2 ، 2 ؎ تفسیر کشاف ص 801/ج 4 ، بیضاوی ص 440/ج 2 وغیرہ 3 ؎ تفسیر کشاف ص 801/ج 4 بیضاوی ص 440/ج 2 ، 4 ؎ روح المعانی ص 238/ج 30 ، تفسیر بیضاوی ص 440/ج 2 ، تفسیر حقانی ص 251/ج 8
قریش آتا ہے ۔ کسی چیز کی تصغیر یا تو تحقیر کے لئے ہوتی ہے یا تقلیل کے لئے اور یا تعظیم کے لئے یہاں پر لفظ قریش کی تصغیر تعظیم کے لئے وارد ہوئی ہے ۔ جس سے خاندان قریش کی عظمت کا اظہار مقصود ہے۔ اس خاندان کے آگے بہت سے قبائل اور شاخیں ہیں۔ حضور ﷺ کے جد امجد ہاشم قریش ہی کی شاخ میں سے ہیں۔
قریش کا پیشہ تجارت
ہاشم کے زمانے میں وادی مکہ ایک بےآب وگیاہ سر زمین تھی۔ خشک پہاڑوں کے درمیان گھری ہوئی اس وادی میں نہ پانی تھا اور نہ زراعت کا کوئی سامان مکی زندگی بڑی تلخ تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسی وادی غیر ذی زرع میں اللہ کے محترم گھر کے پاس اپنی اولاد کو آباد کرنے کا حکم ہوا تھا جبھی تو انہوں نے کہا تھا ۔ ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بوادغیر ذی زرع عند بیتک المحرم “ تو یہ وادی غیر ذی زرع آج تک ویسی کی ویسی بےآب وگیاہ ہے۔
چونکہ قریش کی اقتصادی حالت ان دنوں سخت خراب تھی۔ ہاشم نے انہیں مشورہ دیا کہ انہیں تجارت کا پیشہ اختیار کرنا چاہئے۔ تجارت کے لئے ایک طرف یمن تھا اور دوسری طرف شام یہ دونوں قدیم زمانے سے تجارتی مرکز چلے آ رہے تھے۔ یمن کا علاقہ گرم تھا۔ اس لئے موسم سرما میں قریش کا تجارتی رخ اس طرف ہوتا تھا۔ شام کا علاقہ ٹھنڈا اور سرسبز تھا۔ اس لئے گرمی کے زمانے میں وہ شام کا سفر اختیار کرتے تھے۔ عرض ہاشم کا مشورہ قبول کر کے قریش نے تجارت میں بڑا نام پیدا کیا۔ انہیں بڑا منافع ہونے لگا۔ اس زمانے میں ان کے ہاں یہ بڑی اچھی ریت (عادت) تھی کہ قریش کا کل منافع ہر امیر و غریب خاندان پر تقسیم کردیا جاتا ہے۔ منافع کی مساوی تقسیم کی وجہ سے قریش میں خوشحالی کا دور دورہ شروع ہوگیا ۔ سب سے زیادہ ضرورت اناج کی ہوتی ہے جو کہ انہیں جدہ کی قریبی منڈی سے دستیاب ہونے لگا۔ کیونکہ تبالہ یا حرج جیسے زرخیز علاقوں کی گندم کی پیداوار جدے کی منڈی میں آتی تھی۔ اس طرح قریش غلے جیسی بنیادی ضرورت سے بھی بےفکر ہوگئے۔ الغرض یمن و شام کے سفر میں قریش کی پذیرائی کو الفھم رحلۃ الشتآء و الصیف سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قریش کا احترام
عرب میں کوئی باقاعدہ حکومت نہیں تھی۔ عرب قبائل بدوی زندگی بسر کرتے تھے تاہم قریش کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ کیونکہ وہ بیت اللہ کے مجاور تھے عبدالمطلب کے زمانے میں اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا ، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے معجزانہ طور پر کرائی۔ اس واقعہ کی وجہ سے قریش کی عزت میں اور اضافہ ہوگیا۔ حتیٰ کہ یمن کے عیسائی بھی ان کے معتقد ہوگئے۔ شام کا علاقہ بھی عیسائیوں کے قبضے میں تھا۔ اصحاب فیل کے واقعہ سے وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چناچہ وہ بھی قریش کی عزت اور احترام کرنے لگے۔ قریش کا قافلہ یا کوئی آدمی کہیں بھی جاتا تھا۔ کوئی ان سے تعرض نہ کرتا تھا۔ چور ڈاکو تک انہیں پیر ، پیر زادے اور خدام کعبہ سمجھ کر نہایت عزت سے پیش آتے تھے۔
قریش کو اللہ تعالیٰ نے خاندانی طور پر شرافت بخشی تھی۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے 1 ؎ ان اللہ عزوجل اصطفی کنانۃ من ولد اسماعیل ﷺ اللہ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا۔ کنانہ کی اولاد میں سے قریش کو۔ قریش کی اولاد میں سے خاص طور پر بنی ہاشم کو منتخب فرمایا اور پھر ہاشم کے خاندان میں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب فرمایا۔ اسی طرح درجہ بدرجہ خاندانی طور پر فضیلت حاصل تھی۔
قریش کی قومیت پرستی
قریش کی قدر و منزلت بڑھ جانے کا ایک معکوس اثر یہ ہوا کہ قریش میں خودپسندی پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے الفت پیدا کی تھی۔ مگر وہ اسے اپنی خاندانی برتری پر محمول کرنے لگے ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں قومیت پرستی (NAtionAlism) پیدا ہوگئی۔ وہ سمجھنے لگے کہ واقعی انہیں دنیا بھر کی قوموں پر برتری حاصل ہے۔ اگرچہ انہیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کا شرف حاصل تھا۔ مگر ان میں قومیت پرستی کی فاسدانہ ذہنیت پیدا ہوگئی۔ قریب قریب یہ وہی ذہنیت تھی جس کا ذکر گزشتہ سورة میں آ چاک ہے۔ اس مقام پر اللہ نے ملوکیت کی تردید فرمائی ہے اور سرمایہ پرستی کو مفسدانہ ذہنیت قرار دیا ہے۔ جس طرح سرمایہ دار محض سرمایہ
1 ؎ مسلم ص 245/ج 2 ، ترمذی ص 519
کو ہی اول و آخر سمجھتا ہے اور اسے گن گن کر رکھتا ہے۔ لوگوں کے حقوق ضائع کرتا ہے۔
اسی طرح قوم پرست بھی قومی برتری کے احساس میں مبتلا ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کا رد فرمایا ہے۔ اصل چیز نہ سرمایہ ہے۔ نہ قوم اور نہ خاندان ، بلکہ فلاح کا دار و مدار دین اور اخلاق پر ہے۔
قریش کو عبادت کی تلقین
اللہ تعالیٰ نے قریش کو قومیت پرستی کا علاج یہ تجویز فرمایا فلیعبدوارب ھذا البیت اس گھر کے رب کی عبادت کرو۔ یعنی قیومت پرستی کی بجائے خدا پرستی اختیار کرو اونچے خاندان میں پیش پر فخر نہیں کرنا چاہئے ، بلکہ یہ تو انعام الٰہی ہے۔ قابل فخر چیز تو اللہ تعالیٰ کی عبودیت ہے۔ اسے اختیار کرنا چاہئے۔ حضور ﷺ نے خود اپنے متعلق فرمایا 1 ؎ انا سید ولد ادم یوم القیمۃ ولا فخر میں نوع انسانی کا سردار ہوں مگر میں اس پر فخر نہیں کرتا۔ اسے انعام خداوندی سمجھتا ہوں۔ لہٰذا قریش کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی عبادت کریں۔ یہاں پر ربوبیت کی صفت بیان کی گئی ہے۔ جس سے قریش کو یاد دلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری قوموں کے مقابلے میں ان کی کس طرح پرورش کی اور درجہ کمال تک پہنچایا۔ اگر وہ اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت پر فخر کرنے لگیں اور قومیت پرستی کا شکار ہوجائیں ، تو یہ مفسدانہ اور تباہ کن ذہنیت ہوگی قریش کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ اسی طرح اگر کوئی پیر ہے یا مشائخ میں سے ہے۔ تو اس کو تکبر نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اللہ نے اس کے لئے ایسے ذرائع پیدا کردیئے اور اسے اعلیٰ منصب پر فائز کیا۔
پیٹ کا مسئلہ
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کرنے کی قریش کو تلقین کی تو ان کو ساتھ یہ بھی یاد کرا دیا کہ اسی رب کی عبادت کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ الذی اطعھم من جوع جس نے تمہیں بھوک میں کھانا بہم پہنچایا محض حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا اثر تھا۔ کہ قریش کو خوشحالی نصیب ہوئی۔ ورنہ مکہ جیسی غیر ذی زرع وادی میں روزی کے اسباب کہاں تھے اللہ کریم نے ایسے اسباب پیدا کردیئے جن کی وجہ سے انہیں ہر چیز میسر تھی اور آج بھی اور وہاں کے باشندوں کو فاقہ سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔
یہ پیٹ کا مسئلہ بڑا اہم مسئلہ ہے۔ خواجہ فرید الدین شکر گنج سے ایک شخص نے دریافت کیا 1 ؎ کہ حضرت ! اسلام کے رکن کتنے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پانچ ارکان تو عام ہیں۔ یعنی کلمہ توحید ، نماز ، روزہ ، زکواۃ اور حج اور چھٹا رکن پیٹ کا مسئلہ ہے۔ اس شخص نے خواجہ صاحب کی بات کو تسلیم نہ کیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ سفر حج پر گیا اور سکی حادثہ کا شکار ہوگیا۔ وہ بالکل مفلوک الحال ہو کر خواجہ صاحب کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا ، میں تمہارے لئے خوراک کا بندوبست کرسکتا ہوں۔ بشرطیکہ تم اپنی آدھی نیکیاں مجھے دیدو جب وہ اس پر تیار ہوگیا تو پھر اسے سمجھ آئی کہ پیٹ کا مسئلہ واقعی بڑا اہم ہے اور اسلام کا چھٹا رکن ہعے۔
یہ تو خیر تفریح طبع کے لئے تھا۔ مگر حقیقت بھی یہی ہے کہ جب بھوک لگی ہو ، پیٹ خالی ہو ، تو کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ سعدی صاحب نے بھی اس کی تائید کی ہے ، پیٹ خلای ہو تو نہ عبادت ہو سکتی ہے اور نہ جنگ ہو سکتی ہے۔ لہٰذا یہ بڑا اہم مسئلہ ہے۔ جہاں عوام بھوکے ہوں گے وہاں فتنے سر اٹھائیں گے ، چوریاں اور ڈکیتیاں ہوں گی۔ اکثر قباحتیں پیٹ ہی سے پھوٹتی ہیں۔ خرابی یہیں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کا ذکر کیا۔ اطعمھم من جوع یعنی اللہ تعالیٰ نے قریش کو بھوک میں کھانا فراہم کیا۔
قریش کی تکریم
خوف کی حالت میں امن دیدیا۔ ایسا امن قائم کیا کہ حملہ آوروں کو نیست و نابود کردیا اور انکی تباہی ضرب المثل بن گئی ” کیف فعل ربک با صحب الفیل “ ایسا امن مہیا کیا کہ قریش جہاں کہیں بھی جائیں ان سے کوئی تعرض نہیں کرتا تھا۔ جدھر جاتے لوگ سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ عزت و تکریم کرتے ، نذرانے پیش کرتے کہ یہ بیت اللہ شریف کے مجاور اور خادم ہیں۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کے معزز ترین لوگ ہیں۔ انہیں
ص 1 تشبیہات رومی ص 183
انعامات کا ذکر فرمایا اور کہا کہ جس گھر کی بدولت تمہیں یہ امن و چین نصیب ہوا ہے اور تمہیں عزت حاصل ہوئی ہے اس گھر کے رب کی عبادت کرو۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) عبادت الٰہی کی طرف ہی دعوت دیتے رہے ہیں۔
حضور خاتم النبین (علیہ السلام) کی بعثت کے وقت تک قریش میں بہت خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں ، وہ کفر و شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔ اگرچہ ان میں کچھ خوبیاں بھی تھیں مگر بحیثیت مجموعی وہ کفر وش رک کے علاوہ قومیت پرستی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ ان میں فخر وتکبر آ چکا تھا ۔ جنگ بدر میں جب ابوجہل کی گردن حضرت عبداللہ بن مسعود کاٹنے والے تھے تو وہ کہنے لگا 1 ؎ افسوس ! ہم قریش کے معزز لوگ کاشتکاروں کے ہاتھوں سے قتل ہو رہے ہیں۔ کوئی عزت والے آدمی ہم کو مارتے تو کیا اچھا ہوتا ، حضرت عبداللہ بن مسعود کو کہنے لگا۔ اے چرواہے ! آج تمہارے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ سردار کے سینے پر چڑھے بیٹھے ہو۔ یہی نیشنلزم کی اکڑتھی کہ وہ دوسرے کو اپنے برابر نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی قومیت کو سب سے بالا خیال کرتے تھے یہی وہ ذہنیت ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی ۔
امن وامان کے فوائد
پیٹ کا مسئلہ اور امن وامان کا مسئلہ ساری دنیا کے لئے اہم مسائل ہیں۔ جہاں امن وامان ہوگا۔ وہاں صنعت و تجارت بھی ہوگی۔ ورنہ نہ کوئی کارخانہ چلے گا ، نہ تجارت ہوگی ، نہ کسی کی جان محفوظ ہوگی نہ مال۔ امن کے بغیر نہ عبادت دلجمعی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ نہ حج کا سفر اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا امن کو دنیا میں بڑی اہم حیثیت حاصل ہے جو حکومت امن وامان میں غفلت برتے گی ، لوگوں کی اقتصادی حالت کی طرف توجہ نہیں دے گی اور اپنے تعیش میں لگی رہے گی ، اس کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ ہمارے ملک میں امن وامان کا مسئلہ ہمیشہ توجہ طلب رہا ہے۔ روزمرہ کے واقعات سامنے ہیں نہ کسی کی جان محفوظ ہے۔ نہ آبرو۔ الغرض پوری دنیا کے لئے امن وامان اور معیشت کے مسائل بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
1 ؎ مسلم ص 110/ج 2 ، بخاری ص 573/ج 2
حاصل کلام
بہرحال اللہ تعالیٰ نے قریش کی قومیت پرستی کو ختم کرنے کے لئے اس کا علاج بتایا اور فرمایا قریش پر اللہ نے احسان کیا۔ ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا الفھم رحلۃ الشتآء والصیف سردی کے موسم میں یمن کا سفر کرتے تھے اور گرمی میں شام جاتے تھے۔ راستے میں انہیں امن حاصل ہوتا تھا اور لوگ ان سے مانوس ہوتے تھے کسی قسم کا خوف اور تعرض لاحق نہیں ہوتا تھا۔ اسی لئے فرمایا کہ قریش کا فرض ہے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں ، کفر اور شرک سے باز رہیں۔ قومیت پر فخر نہ کریں۔ قابل فخر بات ایمان اور خدا پرستی ہے۔ قومیت پرستی اور ملوکیت پرستی کا نتیجہ ہمیشہ تباہ کن ہوگا۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ اس رب کی عبادت کریں الذی اطعمھم من جوع جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا وامنھم من خوف اور خوف سے امن وامان میں رکھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے انعام ہیں لہٰذا انہیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے اور قومیت پرستی جیسی لعنت سے دور رہنا چاہئے۔