105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 105:1–5

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کی ساتھ کیا سلوک کیا

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا خدا تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو غلط نہیں کردیا

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور بھیجے ان پر پرندے غول در غول

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان کو مارتے تھے پتھریاں کھنگر کی

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

پس اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائی ہوئی گھاس کی طرح پامال کردیا۔

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الفیل ہے۔ عربی زبان میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں اصحاب فیل کا ذکر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ سورة چوبیس الفاظ اور نانوے حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع گزشتہ سورة میں اللہ نے زرپرستی کی مذمت کی تھی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا تھا اور مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔ کہ ایسے نظام کو قبول نہ کریں۔ اب اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ملوکیت اور شہنشاہیت کا رد فرمایا ہے کہ یہ نظام بھی باطل ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے یہ فاسد نظام ہیں اور اس کے بعد والی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قومیت پرستی کا رد فرمایا ہے۔ یہ سب بیماریاں ہیں ، جو لوگوں کو تباہ کر رہی ہیں۔ تہم اس صورت میں اپمریلزم کا رد ہے۔ تاریخی پس منظر سورۃ الفیل میں اصحاب فیل یعنی ہاتھی والوں کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ حضور ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے ستر سال قبل ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے اللہ تعالیٰ نے سورة البروج میں ذکر کیا ہے۔ وہاں ارشاد ہے ” قتل اصحب الاخذود النار ذات الوقود “ تباہ و برباد ہوئے گڑھوں والے ، جس میں بھڑکتی ہوئی آگ تھی۔ تو اصحاب فیل کا واقعہ اس گڑھوں والے واقعہ کے ساتھ مربوط ہے۔ عربوں میں ایک بڑا مشہور قبیلہ حمیر تھا۔ ان کے سردار کا نام ذونواس تھا۔ یہ شخص مشرک تھا اور بڑا ظالم تھا۔ اس نے اس زمانے کے توحید پرست یعنی حضرت عیسیٰ السلام پر ایمان رکھنے والے لوگوں کو آگ کے گڑھے میں پیھنک کر ہلاک کیا تھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ ان ہلاک شدگان کی تعداد بیس ہزار تھی۔ جنہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ان میں سے دو آدمی کسی طرح جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے شاہ روم کے پاس جا کر فریاد کی۔ کہ یمن کے ذونواس حمیری نے ہمارے ساتھیوں پر اس طرح ظلم کیا ہے۔ روم کا بادشاہ نصرانی تھا اس نے حبشہ کے نصرانی بادشاہ کو لکھا کہ یمن کے ظالم سردار کی سرکوبی کا انتظام کرو چناچہ اس نے دو سرداروں اریاط اور ابرہہ کی کمان میں اپنی فوج بھیجی۔ لڑائی ہوئی جس میں ذونواس کی فوجوں کو شکست ہوئی۔ لشکر مارا گیا۔ ذونواس بھاگ نکلا۔ مگر راستے میں کشتی میں سوار ہوا ، اور پانی میں ڈوب کر مر گیا۔ 2 ؎ حبشی کمانڈروں نے فتح تو حاصل کرلی ، مگر ان کی آپس میں مخالفت پیدا ہوگئی۔ اریاط اور ابرہہ میں جنگ ہوئی۔ اریاط مارا گیا اور ابرہہ بلاشرکت غیرے یمن پر قابض ہوگیا۔ شاہ حبشہ نے اسے وہاں پر اپنا گورنر مقرر کردیا۔ ابرہہ بھی نصرانی تھا۔ مگر صحیح دین پر نہیں تھا۔ پولیس کی نسل کی طرح بگڑے ہوئے دین پر تھا اور بڑا ظالم شخص تھا۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحیح دین پر تھے۔ وہ تو مارے جا چکے تھے۔ باقی لوگ بعہ گورنر دین سے پھر چکے تھے ابرہہ نے بالکل ظالم بادشاہ کا روپ دھار لیا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر 495/ج 4 و ص 549/ج 4 ، 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 495/ج 4 ، ص 549/ج 4 اس نے دیکھا کہ یمن سے کچھ لوگ ہر سال موسم حج میں بیت اللہ شریف کے طواف کے لئے حجاز جاتے ہیں۔ ابرہہ نے انہیں بیت اللہ کی زیارت سے روکنے کے لئے صنعا میں ایک بڑا عالیشیان کلیسا بنوایا اور اس کا نام قلیس گرجا رکھا۔ گرجے کی زیب وزینت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ اس میں خوب نقش و نگار کیا ، قیمتی سامان سے مزین کیا اس میں ہیرے اور جواہرات جڑے۔ دروازوں پر پردے لٹکائے اور پھر عام اعلان کیا کہ لوگ اس گرجے کا طواف کریں۔ اور بیت اللہ شریف کے طواف کے لئے نہ جایا کریں۔ یمن کے باشندے عربی النسل تھے اور ان کا تعلق عدنانی ، ساسانی ، حمیری وغیرہ قبائل سے تھا۔ ان کے دل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعمیر کردہ بیت اللہ کی بہت قدر و منزلت تھی۔ اگرچہ و ہکفر و شرک میں مبتلا ہوچکے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح دین پر قائم نہ تھے۔ تاہم کعبہ شریف کی محبت روایتی طور پر ان کے دلوں میں موجود تھی۔ لہٰذا ان لوگوں نے یہ بات پسند نہ کی کہ وہ بیت اللہ کی زیارت ترک کردیں۔ ابرہہ نے پوری کوشش کی کہ لوگ حجاز نہ جائیں ، مگر حج کے موسم میں لوگ وہیں جاتے تھے یمن کے لوگ جو ابرہہ کے ماتحت تھے۔ انہیں سخت پریشانی ہوئی اور یمن سے باہر والے لوگ اس کا حکم ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس نے دیکھا کہ یمن سے کچھ لوگ ہر سال موسم حج میں بیت اللہ شریف کے طواف کے لئے حجاز جاتے ہیں۔ ابرہہ نے انہیں بیت اللہ کی زیارت سے روکنے کے لئے صنعا میں ایک بڑا عالیشیان کلیسا بنوایا اور اس کا نام قلیس گرجا رکھا۔ گرجے کی زیب وزینت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ اس میں خوب نقش و نگار کیا ، قیمتی سامان سے مزین کیا اس میں ہیرے اور جواہرات جڑے۔ دروازے پر پردے لٹکائے اور پھر عام اعلان کیا کہ لوگ اس گرجے کا طواف کریں اور بیت اللہ شریف کے طواف کے لئے نہ جایا کریں۔ یمن کے باشندہ عربی النسل تھے اور ان کا تعلق عدنانی ، ساسانی ، حمیری وغیرہ قبائل سے تھا۔ ان کے دل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعمیر کردہ بیت اللہ کی بہت قدر و منزلت تھی۔ اگرچہ وہ کفر و شرک میں مبتلا ہوچکے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیح دین پر قائم نہ تھے۔ تاہم کعبہ شریف کی محبت روایتی طور پر ان کے دلوں میں موجود تھی۔ لہٰذا ان لوگوں نے یہ بات پسند نہ کی کہ وہ بیت اللہ کی زیارت ترک کردیں۔ ابرہہ نے پوری کوشش کی کہ لوگ حجاز نہ جائیں۔ مگر حج کے موسم میں لوگ وہیں جاتے تھے یمن کے لوگ جو ابرہہ کے ماتحت تھے۔ انہیں سخت پریشانی ہوئی اور یمن سے باہر والے لوگ اس کا حکم ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس دوران میں دو ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے ابرہہ کو مشتعل کردیا پہلا واقعہ یہ پیش 1 ؎ آیا کہ عربوں کے قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص نے ابرہہ کے تیار کردہ گرجا میں پاخانہ کردیا۔ اس کے دل میں ابرہہ کے خلاف نفرت تھی کہ اس نے زیارت بیت اللہ سے لوگوں کو روکا ہے۔ لہٰذا اس نے یہ حرکت کی اور وہاں سے بھاگ گیا۔ دوسرا واقعہ یہ پیش آیا 2 ؎ کہ گرجے کے قریبی ہی عربوں کا کوئی قافلہ اترا ہوا تھا انہوں نے آگ جلائی جس کی چنگاری اڑ کر گرجے میں پہنچی جس سے آگ لگ گئی اور گرجے کا بہت سا قیمتی سامان جل گیا۔ اگرچہ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 549/ج 4 ، روح المعانی ص 233/ج 30 ، معالم التنزیل ص 252/ج 4 ، تفسیر عزیزی 354/پ 30 ، 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 549/ج 4 ، تفسیر عزیزی فارسی 354/پ 30 آگ کسی نے قصداً نہیں لگائی تھی۔ مگر بعض کا خیال تھا کہ قصداً ایسا کیا گیا ہے۔ لہٰذا ان دو واقعات کی وجہ سے ابرہہ کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی اور اس نے بیت اللہ کو گرانے کا ارادہ کرلیا اور اس کے لئے ساٹھ ہزار کا لشکر تیار کیا۔ 1 ؎ اس زمانے میں عرب کا خطہ آزاد تھا ، وہاں کوئی منظم حکومت نہیں تھی بلکہ قبائلی نظام تھا۔ البتہ مکہ کے قریش کو باعزت مقام حاصل تھا۔ ان کے فصلے کو سارا عرب بادشاہوں کی طرح مانتا تھا ۔ یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آ رہا تھا ، یہ خطہ نہ رومیوں کے تحت نہ ایرانیوں کے تو جس طرح ابرہہ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ بیت اللہ کو گرا کر وہاں سیاسی فتح حاصل کرے اسی طرح رومی اور ایرانی بھی مدت سے اس خطہ پر نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ کوئی موقع ملے تو اس علاقے کو اپنے زیر اثر کرلیں ، رہا حبشہ تو اس نے عملی کارروائی کا آغاز بھی کردیا تھا۔ ادھر عربوں میں تین قسم کے لوگ تھے۔ کچھ ایرانیوں کے طرفدار تھے کچھ رومیوں کے اور بعض آزاد خیال ، جو غیر جانبداری کو پسند کرتے تھے۔ اس طرح یہ لوگ مختلف طبقات میں منقسم تھے۔ بہرحال ابرہہ ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس لشکر میں نئی بات ہاتھیوں کی موجودگی تھی۔ جس سے عرب لوگ واقف نہ تھے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ ہاتھیوں کے پائوں میں زنجیریں ڈال کر ستونوں سے باندھ دیں گے اور پھر ہاتھیوں کو ہانکیں گے تو بیت اللہ گر جائے گا۔ ان ہاتھیوں کا سردار محمود نامی بڑا ہاتھی تھا۔ جس پر ابرہہ خود سوار ہو کر لشکر کی کمان کرتا تھا۔ 2 ؎ ابرہہ اس ارادے کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا کہ راستے میں جو بھی اس سے مزاحم ہوگا۔ اسے نیست و نابود کردیا جائے گا۔ بعض عرب قبائلوں نے مزاحمت کی ، مگر انہیں شکست ہوئی۔ ان کے کمانڈر گرفتار ہونے اور وہ قبائل مغلوب ہوگئے۔ طائف والے خوفزدہ ہوگئے۔ کہ اگر انہوں نے مزاحمت کی تو کہیں ان کے لات و عزیٰ کے مندر بھی نہ گرا دیئے جائیں۔ نیز 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 549/ج 4 ، 2 ؎ معالم التنزیل ص 252/ج 4 ، تفسیر عزیزی ص 354/پ 30 ابرہہ نے انہیں رشوت بھی پیش کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طائف والے ابرہہ کے ساتھ مل گئے۔ 1 ؎ اب ابرہہ بلا خوف و خطر مکہ معظمہ کے قریب وادی محسر میں مغمس کے مقام پر پہنچ گیا۔ ہر جگہ مزدلفہ کے قریب ہے جہاں آج کل سڑک پر وادی محسر کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ یہاں پہنچ کر اس نے ڈیرہ ڈال دیا۔ مکہ معظمہ سے چار پانچ میل کا فاصلہ ہے اس نے مکہ کے سردار کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ ہم بیت اللہ کو گرانا چاہتے ہیں۔ اگر تم کو تعرض نہ کرو ، تو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ لوگ بیت اللہ کے متولی ہیں۔ یہ اس کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ بلکہ مزاحمت کریں گے۔ لہٰذا انہیں بھی کچلنے کا بہانہ ہاتھ آجائے گا۔ اس وقت سردار مکہ (Cheif of MAkkAn) حضور ﷺ کا جد امجد عبدالمطلب تھا۔ ابرہہ کا ایلچی اس سے ملا اور اپنا مدعا ظاہر کیا۔ ساتھ یہ پیش کش بھی کی کہ اگر وہ چاہے تو اس کی ملاقات ابرہہ سے بھی کرائی جاسکتی ہے۔ عبدالمطلب نے اس پیشکش کو قبول کرلیا۔ اسی دوران ابرہہ کے لشکریوں نے عبدالمطلب کے دو سو اونٹ پکڑ لئے تھے۔ بہرحال عبدالمطلب ابرہہ کے دربار میں پہنچا۔ آپ بڑے قد آور ، بڑے وجیہ اور بارعب تھے۔ ابرہہ نے دیکھا تو اپنی جگہ سے اتر کر نیچے آ گیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا۔ ترجمان (Interpreter) کے ذریعے گفتگو کا آغاز ہوا۔ ابرہہ نے پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ آپ کے لشکر والوں نے میرے اونٹ قبضہ میں لے لیے ہیں۔ میں ان اونٹوں کی واپسی کی سفارش کرتا ہوں۔ ابرہہ کہنے لگا ۔ میں نے آپ کو بڑا عقلمند اور دانا سمجھا تھا۔ مگر آپ نے بات عقلمندی کی نہیں کی۔ میں تو آپ کے بیت اللہ کو گرانے آیا ہوں ، اس کا تمہیں کوئی فکر نہیں مگر اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہو۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ اونٹوں کا مالک میں ہوں۔ اس لئے میں نے ان کا مطالبہ کیا ہے اور بیت اللہ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ مجھے اس کی فکر نہیں۔ ابرہہ یہ جواب سن کر خوب ہنسا اور کہنے لگا۔ 1 ؎ تفسیر عزیزی ص 354/پارہ 30 تفسیر مظہری ص 342/ج 10 اب تمہارا خدا اس کی حفاظت نہیں کرسکتا۔ بہرحال اس نے اونٹوں کی واپسی کا حکم دیدیا۔ اس دوران میں عبدالمطلب کے بعض ساتھیوں نے ابرہہ سے کہا 1 ؎ کہ وہ بیت اللہ کو نہ گرائے۔ اس کے عوض وہ اسے تہامہ کی ایک تہائی آمدنی ہر سال بطو ر خراج ادا کرتے رہیں گے۔ اور اس کے ماتحتی قبول کرلیں گے۔ مگر ابرہہ نے یہ پیشکش قبول نہ کی۔ عبدالمطلب اور ان کے ساتھی واپس آگئے۔ انہوں نے بیت اللہ شریف کی دیواروں سے لپٹ کر دعا کی کہ اے مولا کریم ! ہم میں ابرہہ کے لشکر کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں۔ لہٰذا تو ہی اپنے گھر کی حفاظت فرما۔ دعا کے بعد عام اعلان کردیا کہ لوگ شہر مکہ خالی کردیں ورنہ ابرہہ کا لشکر آ کر انہیں تباہ و برباد کر دے گا۔ چناچہ تمام لوگ اپنا اپنا سامان لے کر ادھر ادھر پہاڑوں پر چلے گئے۔ ابرہہ نے لشکر کو مکہ کی طرف چڑھائی کا حکم دیا۔ خدا کی قدرت جب وہ بڑے ہاتھی کو مکہ کی طرف ہانکتے تھے۔ تو وہ گھٹنے ٹیک دیتا تھا۔ باقی ہر سمت پر چلنے کو تیار تھا۔ مگر مہارتوں کی ہزار کوششوں کے باوجود وہ شہر مکہ کی طرف چلنے پر تیار نہ ہوا۔ ابرہہ کے دل میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے شاید کسی نے جادو کردیا ہے۔ یا کوئی اور شرارت کی ہے کہ ہاتھی اس طرف جانے کا نام نہیں لیتا۔ عین اسی وقت جدہ یا بحر شعیب ، کی طرف سے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے غول آنے لگے۔ یہ عجیب و غریب سرخ چونچ والے پرندے تھے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ ان کے دوپنجوں اور منہ میں تین تین کنکر تھے۔ جو انہوں نے ابرہہ کے لشکر پر پھینکنے شروع کئے۔ ان کنکروں میں اللہ تعالیٰ نے ایٹم سے زیادہ طاقت ڈال دی تھی جس سپاہی یا ہاتھی کو کنکر لگتا۔ اس کے جسم سے پار ہوجاتا۔ بہت سے لشکری ہلاک ہوگئے۔ کچھ زخمی ہوئے۔ خود ابرہہ زخمی ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اس کی اور زیادہ ذلت منظور تھی۔ وہ اس وقت ہلاک نہ ہوا۔ عکرمہ کی روایت کے مطابق 2 ؎ جسم کے جس حصے پر کنکر لگتا تھا۔ وہاں چیچک جیسے دانے پیدا ہوجاتے تھے۔ جن میں زہریلا 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 550/ج 4 ، 2 ؎ تفسیر عزیزی ص 352/پ 30 ، ابن کثیر ص 551/ج 4 اور منشور 295/ج 6 ، روح المعانی ص 236/ج 30 مادہ بھر جاتا تھا جس کی وجہ سے ان کی ہلاکت واقع ہوجاتی تھی۔ ہاتھی کو چلانے والے دونوں مہاوت اندھے ہوگئے اور وہیں مکہ میں ہی رہ گئے۔ ام المومنین کی روایت کے مطابق 1 ؎ ان لوگوں نے نہایت ذلت کی زندگی بسر کی۔ وہ مکہ کی گلیوں میں بھیک مانگتے پھرتے تھے۔ الغرض سارا لشکر تتر بتر ہوگیا ۔ ابرہہ واپس اپنے دارالخلافہ پہنچا تو اسے ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ اس کے اعضاء گرنے شروع ہوگئے۔ جذام کی بیماری کی طرح آہستہ آہستہ اس کا سارا جسم گل گیا اور اس طرح وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ 2 ؎ اصحاب فیل کے اس تاریخی واقعہ میں عبرت تھی کہ شعائر اللہ کی توہین کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کس طرح ذلیل و خوار کرتا ہے۔ یہ بیت اللہ شریف کو گرانے کے ارادے سے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ حضور ﷺ جب حدیبیہ کے موقع پر آئے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تھی۔ آگے نہیں چلتی تھی۔ صحیح 3 ؎ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ حبسھا حابس الفیل جس ذات نے ابرہہ کے ہاتھی والے لشکر کو یہاں روک دیا تھا۔ اس نے ہماری اونٹنی کو بھی روک دیا۔ اب یہ آگے نہیں جائے گی۔ چناچہ آپ بغیر عمرہ ادا کئے وہیں سے واپس تشریف لے آئے یہ 6 ھ کا واقعہ ہے۔ حضور ﷺ کی ولادت عام الفیل میں الغرض ! اس سورة میں اصحاب فیل کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ الم تر کیا آپ نے نہیں دیکھا۔ یہ دیکھنا رویت بصری نہیں بلکہ رویت قلبی ہے۔ کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ کیف فعل ربک با صحب القیل۔ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وہ لوگ کس ارادے سے آئے تھے مگر ان کا حشر کیا ہوا۔ وہ کس طرح تباہ و ببراد ہوئے۔ تفسیری روایات 4 ؎ میں آتا ہے کہ اصحاب فیل کے واقعہ کے پچاس یا پچپن دن بعد حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد قریش کی عزت و احترام میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ اور بیت اللہ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 552/ج 4 ، روحی المعانی ص 236/ج 30 ، 3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 51/ج 4 ، 3 ؎ بخاری ص 378/ج 1 ، 4 ؎ روح المعانی ص 233/ج 30 ، تفسیر عزیزی فارسی ص 355/پارہ 30 شریف کا احترام بھی دنیا میں دو بالا ہوگیا۔ قریش کی تجارت کو اللہ تعالیٰ نے تحفظ عطا کیا۔ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہاں پر جو بھی بری نیت سے آئے گا ۔ ذلیل و خوار ہوگا۔ حضور ﷺ کی ولادت کے متعلق بعض روائتوں میں آتا ہے کہ اس واقعہ سے چھ ماہ بعد ہوئی ، تاہم زیادہ صحیح روایت پچاس یا پچپن دن والی ہے۔ بہرحال یہ بات یقینی ہے کہ اصحاب فیل والے سال میں ہی حضور ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ چونکہ اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اس لئے یہ واقعہ عربوں میں بڑا مشہور تھا۔ جب سورة فیل نازل ہوئی اس وقت تک یہ واقعہ بچے بچے کی زبان پر تھا۔ حضور ﷺ پر وحی کا نزول چالیس سالہ زندگی کے بعد شروع ہوا۔ درمیان میں تین سال فترت کے بھی ہیں۔ جب وحی کا سلسلہ منقطع رہا تو گویا یہ سورة واقعہ اصحاب فیل کے تقریباً پینتالیس یا چھیالیس سال بعد نازل ہوئی۔ اصحاب فیل کی ناکامی سورۃ کی ابتداء الم تر سے اس واسطے شروع ہوئی کہ اس وقت یہ واقعہ زبان زد عام تھا۔ اس کی زیادہ تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ ہر کوئی اس سے واقف تھا۔ لہٰذا صرف اشارۃً بتا دیا کہ کیا آپ نے نہیں دیکھا۔ کیف فعل ربک با صحب الفیل کہ اصحاب فیل کا کیا حشر ہوا۔ الم تجعل کیہ ھم فی تضلیل کیا خدا تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو غلط نہیں کردیا۔ وہ کس مقصد سے آئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ملیا میٹ کردیا۔ تدبیر کو غلط اس لئے فرمایا کہ ابرہہ تو اپنی قوت کے گھمنڈ پر عربوں کو کچلنا چاہتا تھا اور شعائر اللہ کی توہین کرنا چاہتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ناکام کردیا۔ یہاں پر سمجھنے کا نکتہ یہ ہے کہ مسلمان ملوکیت اور شہنشاہیت کا ظالمانہ نظام کبھی قبول نہ کریں نہ کبھی اس کی حمایت کریں۔ اگر کسی بیوقوف نے گرجے کی توہین کی تھی یا کسی نے قصداً آگ بھی لگائی تھی تو ابرہہ کا فرض تھا کہ وہ عربوں سے ملزم کا مطالبہ کرتا۔ ظاہر ہے کہ عربوں کے سارے قبائل مل کر ایسے شخص کو تلاش کرسکتے تھے اور اس بات کا فیصلہ ہو سکتا تھا کہ کیا واقعی کسی نے قصداً گرجے کی توہین کی ہے۔ اگر عرب ابرہہ کا مطالبہ پورا نہ کرسکتے تو اسے مزید کارروائی کا حق پہنچتا تھا مگر اس نے تو پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک شخص کے نام نہاد جرم کی سزا پورے ملک کو دے گا۔ لہٰذا اس نے یکدم بیت اللہ شریف کو گرانے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ محض ملوکیت کے گھمنڈ کی وجہ سے تھا جو کہ درست فیصلہ نہیں تھا۔ ابابیل کا کارنامہ ادھر ابرہہ نے لشکر کو چڑھائی کا حکم دیا اور ادھر حکمت الٰہی جوش میں آئی وارسل علیھم طیراً ابابیل اللہ تعالیٰ نے اس فوج پر چھوٹے چھوٹے پرندوں کے گروہ در گروہ بھیج دیے۔ یہاں یہ بات قابل وضاحت ہے کہ ہمارے تصور کے برخلاف ابابیل کسی خاص پرندے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ابابیل گروہ در گروہ یا جھنڈ در جھنڈ کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ لاتعداد پرندے بھیج دیئے۔ ترمیھم بحجارۃ جو لشکریوں کو پتھروں کے ساتھ مارتے تھے۔ من سجیل یہ چھوٹے چھوٹے سنگریز سے کھنگر کے قبیل سے تھے۔ یحیل فارسی کے لفظ سنگ گل کا مترادف ہے۔ یعنی وہ چھوٹے چھوٹے روڑے جن میں مٹی کی امیزش ہو ، غرضیکہ ان پرندوں نے ابرہہ کی فوج پر چھوٹے چھوٹے پتھروں کی بارش کردی۔ وہ جسے لگتا تھا۔ ہلاک ہوجاتا تھا یا خوفناک بیماری میں مبتلا ہوجاتا تھا۔ ان پتھروں سے نہ فوجی بچتے تھے اور نہ ان کے ہاتھی۔ واقعہ اصحاب فیل تمہید نبوت تھی اگرچہ ابرہہ کا حملہ ایک ظالمانہ کارروائی تھی۔ مگر اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک خاص حکمت پوشیدہ تھی۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ مظلوم کی مدد بڑے عجیب و غریب طریقے سے فرماتے ہیں۔ حتیٰ کہ ظالم کا ظلم ہی مظلوم کے لئے وجہ افتخار بن جاتا ہے۔ رب العزت نے اصحاب فیل کو تباہ کر کے قریش کی ایسی مدد فرمائی کہ ان کا کوئی نقصان بھی نہ ہوا۔ بلکہ ان کی عزت و احترام میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے گھر کی عزت و حرمت منظور تھی اور مشرکوں سے پاک کر کے اسے دوبارہ ھدی للعلمین بنانا تھا۔ لہٰذا اسے بالکل محفوظ رکھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ یہ سارا کام اس طرح معجزانہ طور پر انجام پایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ساری کارروائی حضور نبی کریم علیہ التحیتہ والسلام کی نبوت کا ارہاص یا تمہید تھی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔ کہ اس خانہ خدا کو کفر و شرک سے پاک کرنے کے لئے جس نبی آخر الزمان کی آمد آمد 1 ؎ روح المعانی ص 233/ج 30 ، معالم التنزیل ص 254/ج 4 تفسیر عزیزی فارسی 255/ج 30 کا چرچا ہے۔ اس کا ظہور عنقریب ہونے والا ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہحضور ﷺ کی ولادت باسعادت اسی عام الفیل یعنی ہاتھیوں والے سال ہوئی اور اس کے چالیس سال بعد حضور لعیہ السلام نے نبوت کا دعویٰ کردیا اور پھر 8 ھ میں اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کے ہاتھوں اس بیت اللہ شریف کو بتوں کی آرائش سے پاک کردیا۔ تو گویا اصحاب فیل کا واقعہ حضور ﷺ کی نبوت کی تمہید تھی۔ اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت اصحاب فیل کے واقعہ کے علاوہ اور بھی بیشمار واقعات دنیا میں پیش آئے جو اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت کا شاہکار ہیں۔ کسی جنگل میں کوئی عورت سفر کر رہی تھی۔ کوئی ظالم اس کی عصمت دردی کرنا چاہتا تھا۔ وہ بیچاری بڑی پریشان تھی۔ بچ نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ اچانک ایک سانپ آتا ہے اور اس ظالم کو کاٹ کر ہلاک کردیتا ہے۔ اس قسم کے کئی واقعات تاریخ میں موجود ہیں۔ یہاں ہندوستان میں بھی بعض واقعات پیش آئے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کا کی کے ملفوظات میں ہے کہ میں ایک جنگل میں تھا میں نے دیکھا کہ ایک بڑا بچھو ایک طرف کو تیزی سے دوڑے جا رہا ہے کہتے ہیں کہ میں سمجھا ضرور اس میں کوئی حکمت ہے۔ چناچہ اس بچھو کا تعاقب کیا۔ آگے ندی تھی ، بچھو نے اسے بھی عبور کیا۔ میں نے بھی تعاقب جاری رکھا۔ ندی سے پار کوئی شخص درخت کے نیچے شراب کے نشے میں بیہوش پڑا تھا اور درخت کے اوپر سے ایک خوفناک کالا ناگ اس شخص کو کاٹنے کے لئے آ رہا تھا ، جونہی سانپ اس آدمی کے قریب پہنچا ۔ بچھو نے سانپ کو کاٹ کھایا اور سانپ وہیں ہلاک ہوگیا اور اس کے بعد بچھو غائب ہوگیا۔ خواجہ صاحب خدا کی حکمت دیکھ کر حیران ہوئے۔ اتنے میں وہ شخص بھی ہوش میں آ گیا۔ اپنے قریب مردہ سانپ کو دیکھا اور سارا معاملہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس تدبیر کے ساتھ اس کی جان بچائی۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ وہ شخص اس قدر تائب ہوا کہ اس نے اپنی زندگی میں پچھتر حج پیدل چلک ر کئے۔ الغرض ! اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت و تدبیر سے چھوٹے چھوٹے پرندوں کو بھیج کر چھوٹے چھوٹے کنکروں کے ذریعے ہاتھی والوں کو ہلاک کیا۔ مولانا محمد علی جوہر جب انگریزوں کے مقابلے میں تکالیف اٹھاتے تھے تو کہا کرتے تھے۔؎ توطیر ابابیل سے ہرگز نہیں کمزور بیچارگی پہ اپنی نہ جا ، شان خدا دیکھ اصحاب فیل کی تباہی اللہ تعالیٰ نے اصحاب فیل کی تباہی کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔ فجعلھم کعصف ماکول کھائی ہوگئی گھاس کی طرح پامال کردیا۔ جب جانور ، مویشی ، گھاس ، چارا وغیرہ کھاتے ہیں تو بچ جانے والا چارہ ان کے پائوں کے نیچے آ کر روندا جاتا ہے بری طرح پامال ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کے بعد اصحاب فیل کے لشکر کی یہی حالت ہوئی۔ ان کی تمام قوت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور اس طرح خداوند کریم نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی۔ حاصل کلام یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورة ہمز میں کیپٹلزم (CApitilism) کا رد فرمایا ہے کہ سرمایہ پرستی ایک لعنت ہے۔ اس کی وجہ سے عیب جوئی ، طعن زنی اور تحقیر پیدا ہوتی ہے۔ مال سے اس قدر محبت کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے دین اور اخلاق تباہ ہوجائے اسی طرح اس واقعہ سے ملوکیت کے نظام کی بھی نفی کی گئی ہے۔ الہ ایمان اس قسم کے باطل نظام کی کبھی حمایت نہیں کرسکتے۔ اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ظلم کسی حالت میں بھی برداشت نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بھی ظالم سے انتقال لیتا ہے جو لوگ شعائر اللہ مثلاً بیت اللہ ، نماز ، اذان وغیرہ کی توہین کے مرتکب ہوں ، وہ خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ واقعہ اصحاب فیل اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔