Ayahs 109:1–6نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکفرون ہے۔ اس کی پہلی آیت میں کافروں کا لفظ آیا ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین 1 ؎ نے اس کا نام سورة المقشقشۃ یعنی شفا بخشنے والی سورة بھی بتلایا ہے کہ یہ کفر و شرک کی بیماری سے شفا بخشنے والی سورة ہے تفسیر روحی 2 ؎ المعانی میں اس کا ذکر آتا ہے۔ تاہم زیادہ مشہور سورة الکفرون ہی ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چھ آیتیں چھبیس الفاظ اور ننانوے حروف ہیں۔
گزشتہ سورة کا خلاصہ
پچھلی سورة مبارک میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح اور کامیابی کے پاکیزہ اصول
1 ؎ روح المعانی ص 249/ج 30 ، در منشور ص 404/ج 6 ، 2 ؎ روح المعانی ص 249/ج 3
بیان فرمائے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکریہ ادا کرنا چاہئے اللہ کا سب سے بڑا انعام قرآن کریم ہے ، جو انسانوں کو نصیب ہوا۔ اس کی اشاعت میں حصہ لینا چاہئے تاکہ حوض کوثر سے پانی پینا نصیب ہو ۔ شکریہ ادا کرنے کے لئے سب سے اہم نماز ہے ” فصل لربک “ پھر مالی عبادتوں میں قربانی کا ذکر فرمایا کہ یہ خاص جذبہ کے تحت پیش کی جاتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا عقیدہ کار فرما ہوتا ہے۔ کیونکہ کفار و مشرکین اپنے معبود ان باطلہ کے نام کی قربانیاں کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قربانی کا حکم دیا کہ اللہ کی رضا اور تقرب کے لئے قربانی پیش کرو اور یہ جذبہ اپنے اندر پیدا کرو اور اسے اپنے اندر زندہ رکھو۔ یہ کفر و شرک کو مٹانے والا جذبہ ہے۔ اپنے صحیح پروگرام پر مسلسل عمل کرتے رہو۔ اگر اس میں کوتاہی کرتے رہو گے ، تو دشمن مغلوب نہیں ہوگا اور نہ ہی شیطان زیر ہوگا۔ لہٰذا اس پر مستعدی کے ساتھ عمل پیرا رہو۔
موضوع
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر کفر و شرک کی تردید فرمائی ہے جو کہ نوع انسانی کی ایک عظیم بیماری ہے۔ حقیقت میں یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اور ایک لحاظ سے اس میں کفار و مشرکین کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ مومن کی مصالحت نہیں ہو سکتی یہ ایک قسم کا اعلان جنگ ہے اور کفر کرنے والوں کے ساتھ مقاطعہ کا ذکر ہے اور مقاطعہ جنگ کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ گویا یہ سورة مکی میں کافروں کے لئے الٹی میٹم تھا کہ تمہارے اور ہمارے درمیان ضرور جنگ ہوگی۔ عرب لوگ اس سے خائف تھے وہ عربی زبان سے واقف اور کلام کے نشیب و فراز کو سمجھتے تھے۔ انہیں خطرہ تھا کہ حضور ﷺ کی یہ تحریک کہیں انہیں ملیا میٹ کر کے نہ رکھ دے۔ اسی لئے وہ اسلامی پروگرام کی مخالفت کرتے تھے اور اسے سننے کے لئے تیار نہ تھے۔
قرآن کی برکات
حقیقت یہ ہے کہ اسلام قرآن کو پھیلاتا ہے اور اگر قرآن پاک کی اشاعت کما حقہ ہوجائے اور اس کا مفہوم لوگوں کی سمجھ میں آجائے۔ تو پھر کایا ہی پلٹ جائیگی۔ تمام برائیاں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی ، کفر و شرک کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کا چرچا ہوگا۔ قرآن پاک کو مان لینے کے بعد کسی کی ذاتی چودھراہٹ باقی نہیں رہے گی۔ اگر ابوجہل قرآن پاک کے پروگرام کو تسلیم کرلیتا ہے۔ تو اس کی ذاتی چودھراہٹ ختم ہوجاتی اس پروگرام کی وجہ سے ملوکیت ، سرمایہ پرستی اور قومیت پرستی وغیرہ تمام فتنے مٹ جاتے بنی نوع انسان پر ہونے والے تمام مظالم بند ہوجاتے اور تمام انسان بہترین سلوک کے مستحق ٹھہرتے۔
رجعت پسند کون ہیں
الغرض ! مخالفین کو الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ تمہارے تمام حیلے ختم ہوچکے ہیں۔ اب تمہارا پروگرام نہیں چل سکتا۔ اس لئے انہیں براہ راست خطاب کیا گیا ہے قل یایھا الکفرون اے پیغمبر آپ واضح طور پر اعلان فرما دیں کہ اے کفر کرنے والو ! اور کفر کرنے والے وہی لوگ ہیں۔ جو اسلام کے پروگرام کی مخالفت کرتے ہیں اور درحقیقت یہی لوگ رجعت پسند ہیں۔ آج کل تو ایمان والوں کو رجعت پسند کہا جاتا ہے۔ یا یہ خطاب علماء کرام کو دیا جاتا ہے۔ حالانکہ رجعت پسند وہ تاریک ذہن کفار ہیں۔ جن کا اللہ کے ہاں کوئی مقام نہیں اور جو شخص خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی صفات کو سمجھتا ہے خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔ اس سے بلند ذہنیت والا کوئی شخص نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ اے کفر کرنے والو ! خوب اچھی طرح سن لو لا اعبد ماتعبدون میں نہیں عبادت کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ یہ بالکل ناممکن ہے۔
معبود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
مفسرین 1۔ کرام فرماتے ہیں کہ مکہ کے بعض مشرکین نے حضور ﷺ سے کہا تھا۔ کہ آپ ہمارے معبودوں کی توہین نہ کریں۔ ان کی مذمت نہ کریں۔ بلکہ آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں۔ ہم آپ کے معبود کی تعظیم کریں گے۔ گویا مل جل کر طے کرلیں کہ ایک دوسرے کے معبود کی توہین نہیں کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے کے معبود کو مان لیں گے۔ اس کے جو با میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں لا اعبد ماتعبدون میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو۔ تم تو انسانوں جنوں ، فرشتوں اور لات و عزی کی پرستش کرتے ہو۔ مگر میں اس کے لئے قطعاً تیار نہیں
1 ؎ تفسیر ابن کثیر 560/ج 4 ، تفسیر عزیزی فارسی 365/پارہ 30 ، روح المعانی 250/ج 30 ، عالم التنزیل ص 257/ج 4
ان میں سے کوئی بھی مستحق عبادت نہیں۔ عبادت کا مستحق صرف وہی ہو سکتا ہے۔ جو واجب الوجود ہو اور واجب الود ہستی صرف خدا تعالیٰ کی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کا وجود واجب نہیں سب عارضی اور فانی ہیں۔ یہ سب مخلوق ہیں اور مخلوق کا وجود اپنا نہیں ہوتا بلکہ کسی کا دیا ہوا ہوتا ہے لہٰذا یہ عارضی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کا وجود ہی اپنا نہ ہو۔ وہ عبادت کا مستحق کیسے ہو سکتا ہے۔ گویا قرآن پاک نے الوہیت اور خالقیت کو ایک جگہ پر بیان کردیا کہ معبود بھی وہی ہو سکتا ہے۔ جو خلاق ہو ، دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا۔
اسی لئے فرمایا کہ جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو میں ان میں عبادت کا کوئی استحقاق نہیں پاتا۔ عبادت کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ کیونکہ ” اللہ خالق کل شیء “
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں۔ 1 ؎ کہ ملاء اعلیٰ یا ملاء سافل کے جتنے بھی فرشتے ہیں۔ جبرائیل میکائیل وغیرہ انہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش سے کروڑ ہا سال پہلے انسان کی مصلحت کے لئے پیدا کیا۔ یہ تمام فرشتے عابد ہیں۔ جیسے ان کے متعلق فرمایا عباد مکرمون “ یہ اللہ کے معزز عبادت گزار ہیں۔ لہٰذا خود ان کی یا کسی اور چیز کی عبادت کرنا بیوقوفی بلکہ بغاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ مالک الملک کی سرکشی ہے۔ جو علیم کل اور قادر مطلق ہے۔ فرمایا جس طرح میں تمہارے معبودوں کی عبادت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اسی طرح تم سے بھی یہ توقع نہیں رکھتا کہ تم اس ذات کی عبادت کرو گ۔ جس کی میں کرتا ہوں۔ ولا انتم عبدون ما اعبد اور یہ بات تاکیداً دوبارہ فرمائی کہ نہ میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرنے والا ہوں اور نہ تم میرے معبود حقیقی کی پرستش کرنے والے ہو۔ تم اپنے کفر کے پروگرام پر پکے ہو۔ یہ بات ب الکل واضح ہوچکی ہے۔
معبودان باطلہ کی کبھی پرستش نہیں ہو گی
ولا انا عابد ماعبدتم اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرچکے ہو گزشتہ زمانے میں اور آج بھی کر رہے ہو ولا انتم عبدون ما اعبد اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں پہلے بھی تم شرک میں مبتلا تھے۔ آج بھی تمہاری وہی حالت ہے۔ یہاں پر فاعل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ زمانے کے اعتبار سے ہے کہ نہ پہلے یہ بات ہو سکتی تھی اور نہ آج ہو سکتی ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ بعض فرماتے ہیں 2 ؎ کہ یہ محض تاکید کے لئے ہے۔ کسی وقت اس بات کی توقع ہی نہ رکھیں کہ ہم تمہارے معبود ان باطلہ کی پرستش کرنے لگیں گے اور تم سے بھی بظاہر توقع نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ وحدئہ لاشریک کی عبادت کرن کے لئے آمادہ ہو جائو گے اس لئے ہمارا اور تمہارا پروگرام کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتا ۔ تمہارا کفر کا پروگرام ہے اور ہمارا توحید اور ایمان کا پروگرام ہے ، توحید اور کفر آپس میں مل نہیں سکتے۔ اس لئے تمہارے ساتھ مصالحت کا کوئی امکان نہیں۔ بلکہ یہ قطع تعلقی اور الٹی میٹم ہے کہ جنگ ضرور ہو کر رہے گی۔
سورۃ مزمل مکی سورة ہے جو کہ نبوت کے دوسرے سال نال ہوئی۔ اس کے دوسرے رکوع میں بھی جہاد کا حکم ہے۔ ” یقاتلون فی سبیل اللہ “ کہ آگے چل کر تم میں جہاد کرنے والے بھی ہوں گے۔ مکی زندگی میں دشمن کے ساتھ جنگ کی اجازت نہ تھی۔ تاہم وہاں پر اشارہ کردیا۔ کہ آئندہ زندگی میں کفار کے ساتھ جنگ ضرور لڑنی پڑے گی۔ مکی زندگی کے دوران حکم یہ تھا کہ ” کفوآ ایہ یکم واقیموا الصلوۃ “ یعنی اپنے ہاتھ روکے رکھو ، دشمن کے ساتھ ابھی نبرد آزما نہ ہو۔ بلکہ نماز پڑھو ، اور تنظیم قائم کرو۔ جب وقت آئے گا تو جنگ کی اجازت دی جائے گی۔ پھر مدنی زندگی میں جب سورة حج نازل ہوئی تو فرمایا۔ ” اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا “ اب اجازت دی گئی ہے ان مظلموں کو جن کے خلاف کافر لڑتے ہیں کہ وہ بھی ان کے مقابلے میں آسکتے ہیں اور جنگ کرسکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔
بہرحال یہاں فرمایا کہ تمہارے اور ہمارے درمیان صلح کا کوئی امکان نہیں صلح تو اس وقت ہو سکتی ہے جب کوئی مشترکہ نکتہ سامنے آجائے مگر ہمارے تمہارے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں۔ مصلحت کے لئے کم از کم یہ تو ہو کہ معبود ایک ہو ، مگر وہ بھی جدا جدا ہیں۔ ہمارا
1 ؎ معالم التنزیل ص 257/ج 4 ، کشاف ص 808/ج 4 ، 2 ؎ روح المعانی ص 251/ج 30
معبود صرف ایک وحدہ لاشریک ہے ۔ اور تمہارے سینکڑوں خود ساختہ معبود ہیں۔ اس لئے مصالحت نہیں ہو سکتی۔ بلکہ جنگ ہو کر رہے گی۔ چناچہ آخر کار یہی ہوا کہ جنگ لڑنا پڑی۔ اس لئے فرمایا لکم دینکم ولی دین یعنی تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے تم اپنے دین پر قائم رہو۔ ہم اپنے دین پر قائم ہیں اس کا فیصلہ جنگ کی صورت میں ہی ہوگا کہ کس کا دین سچا ہے اور کس کا باطل ہے۔
فضائل سورة
حدیث شریف میں اس سورة مبارکہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ سورة قل یایھا الکفرون ربع قرآن ہے ، یعنی اس ایک سورة کی تلاوت کل قرآن پاک کے چوتھائی حصہ کے برابر ہے۔ مضمون کے لحاظ سے بھی یہ قرآن کا چوتھائی حصہ بنتا ہے قرآن میں دو بنیادی چیزیں ہیں۔ یعنی مامورات اور منہیات پھر ان کے آگے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ دل یا عقیدے کے اعتبار سے ہے۔ اور دوسرا اعضاء اور جوارح کے اعتبار سے اس سورة مبارکہ میں غیر اللہ کی عبادت کی نفی کی گئی ہے۔ تو گویا یہ عقیدے کے اعتبار سے منہیات میں سے ہے۔ لہٰذا مضمون کے لحاظ سے بھی یہ قرآن پاک کا چوتھا حصہ ہے۔
بعض فرماتے ہیں 2 ؎ کہ قرآن پاک چار قسم کے مضامین پر مشتمل ہے۔ یعنی عبادات ، معاملات ، نکاح وغیرہ اور جنایات یہ سورة ان میں سے عبادات کے مضمون پر مشتمل ہے۔ لہٰذا یہ چوتھائی قرآن ہوا۔
حضور ﷺ سورة اخلاص اور اس سورة کو نماز میں کثرت سے پڑھتے تھے۔ حضرت عبدلالہ بن عمر سے روایت ہے 3 ؎ ہے۔ کہ میں نے پچیس مرتبہ نوٹ کیا کہ حضور ﷺ نے یہ دونوں سورتیں نماز فجر کی سنتوں میں تلاوت فرمائیں۔ بعض روایات میں آتا ہے ۔ 4 ؎ کہ آپ ایک ماہ تک یہ سورتیں تلاوت فرماتے رہے ۔ اس کے علاوہ مغرب کی سنتوں میں بھی
1 ؎ ترمذی ص 411 ، 2 ؎ روح المعانی ص 249/ج 30 بحوالہ طبرانی۔
3 ؎ مسند احمد ص 35/ج 2 ، روحی المعانی ص 249/ج 30 ، در منشور ص 405/ج 6 ، 4 ؎ ترمذی ص 87
ان سورتوں کے پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔ 1 ؎ گویا حضور ﷺ یہ سورتیں کثرت سے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ عبداللہ بن جراد کی روایت جسے محدث دیلمی نے بھی نقل کیا ہے۔ 2 ؎ اس میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ منافق لوگ ایک تو چاشت کی نماز نہیں پڑھتے دوسرا سورة قل یا یھا الکفرون نہیں پڑھتے ، کیونکہ اس میں کفر کی مکمل تردید ہے اور براۃ کا اظہار ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے 3 ؎ کہ ایک شخص نے نبی (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ حضور ! مجھے قرآن پاک کا کوئی حصہ بتلائیں ، جسے میں وظیفے کے طور پر پڑھا کروں۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب تم لیٹنے کے لئے بستر پر جائو تو سورة قل یایھا الکفرون پڑھ لیا کرو۔ کیونکہ فانھا برآء ۃ من الشرک یہ شرک سے برأۃ کا اظہار ہوگا اور تمہارے لئے لکھ دیا جائے گا کہ یہ شخص شرک سے بیزار ہے۔ لہٰذا سوتے وقت یہ سورة اور سورة اخلاص وغیرہ پڑھنی چاہئے۔ اس کے علاوہ نماز میں طواف کعبہ کے بعد دو رکعت واجب الطواف میں ان سورتوں کے پڑھنے کا ذکر آتا ہے۔ 4 ؎ وجہ ظاہر ہے کہ اس سے کفر و شرک سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ جو شخص اس سورة مبارکہ کی کثرت سے تلاوت کرے گا۔ اس کا اعتقاد راسخ ہوگا اور کفر و شرک سے اس کی بیزاری واضح ہوگی۔ لہٰذا اس سورة کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔
1 ؎ ترمذی ص 89 ، ابن ماجہ ص 81 ، 2 ؎ در منشور ص 405 ، روح المعانی ص 249/ج 30 بحوالہ دیلمی
3 ؎ مستدرک حاکم ص 565/ج 1 اور منشور ص 405/ج 6 ، ترمذی ص 490 ، 4 ؎ ترمذی ص 147 ، نسائی ص 39/ج 2