Explained with ayahs 1–3
شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید نہر :
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ پر غنودگی سی طاری ہوگئی اور دفعتہ سر اٹھا کر مسکرائے پھر یا تو خود آپ نے فرمایا یا لوگوں کے اس سوال پر کہ حضور ﷺ کیسے مسکرائے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر اس وقت ایک سورت اتری پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس پوری سورت کی تلاوت کی اور فرمایا جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا وہ ایک جنت کی نہر ہے جس پر بہت بھلائی ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئیگی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہیں بعض لوگ اس سے ہٹائے…
Read the full tafseer →سورة الکوثر 2
اس کی مختلف تفسیریں مختلف بزرگوں سے منقول ہیں۔ بعض حضرات نے نماز سے مراد پنج وقتہ فرض نماز لی ہے، بعض اس سے بقر عید کی نماز مراد لیتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ بجائے خود نماز مراد ہے۔ اسی طرح وانحر یعنی نحر کرو سے مراد بعض جلیل القدر بزرگوں سے یہ منقول ہے کہ نماز میں بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھ کر اسے سینے پر باندھنا ہے، بعض کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہنا ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ افتتاح نماز کے وقت، اور رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھ کر رفع یدین کرنا مراد ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد بقر عید کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد قربانی…
Read the full tafseer →فصل لربک وانحر، انحر، نحر سے مشتق، اونٹ کی قربانی کو نحر کہا جاتا ہے جس کا مسنون طریقہ اس کا پاؤں باندھ کر حلقوم میں نیزہ یا چھری مار کر خون بہا دینا ہے جیسا کہ اگئے بکری وغیرہ کی قربانی کا طریقہ ذبح کرنا یعنی جانور کو لٹا کر حلقوم پر چھری پھیرنا ہے۔ عرب میں چونکہ عموماً قربانی اونٹ کی ہوتی تھی اس لئے قربانی کرنے کے لئے یہاں لفظ وانحر استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات لفظ نحر مطلقاً قربانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سورة کی پہلی آیت میں کفار کے زعم باطل کے خلاف رسول اللہ ﷺ کو کوثر یعنی دنیا و آخرت کی ہر خیر اور وہ بھی کثیر مقدار میں عطا فرمانے کی خوشخبری سنانے کے بعد اسکے شکر کے طور پر آپ…
Read the full tafseer →اس ذمہ داری کا بیان جس کے ساتھ یہ عطیہ مشروط ہے: یہ اس ذمہ داری کا بیان ہے جس کے ساتھ یہ عطیہ مشروط ہے۔ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری کا ہونا لازمی اور اس کے ادا کرنے ہی پر اس حق کے قیام و بقاء کا انحصار ہوتا ہے۔ کوئی حق بھی ذمہ داری کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ قریش کو اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی تولیت نہایت اہم ذمہ داریوں کے ساتھ سونپی تھی جس میں سے اہتمام نماز اور انفاق (جس کی ایک معروف شکل بیت اللہ کے تعلق سے قربانی بھی ہے) کو خاص اہمیت حاصل تھی لیکن انھوں نے نماز اور قربانی دونوں ضائع کر دیں۔ نماز کے ضائع کرنے کی جو شکل ہوئی اس کی تفصیل اوپر گزر چکی۔ قربانی انھوں نے یوں ضائع…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی نماز بھی صرف اللہ کے لیے اور قربانی بھی صرف اللہ کے لیے ہے مشرکین کی طرح اس میں دوسروں کو شریک نہ کرو۔ نحر کے اصل معنی اونٹ کے حلقوم میں چھری یا نیزہ مار کر اسے ذبح کرنا۔ دوسرے جانوروں کو زمین پر لٹا کر ان کے گلوں پر چھری پھیری جاتی ہے اسے ذبح کرنا کہتے ہیں۔ لیکن یہاں نحر سے مراد مطلق قربانی ہے، علاوہ ازیں اس میں بطور صدقہ و خیرات جانور قربان کرنا، حج کے موقعے پر منیٰ میں اور عیدالاضحیٰ کے موقعے پر قربانی کرنا، سب شامل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: ”کوثر“ کے لفظی معنی ہیں ”بہت زیادہ بھلائی“۔ اور کوثر جنت کی اس حوض کا نام بھی ہے جو حضور اقدس ﷺ کے تصرف میں دی جائے گی، اور آپ کی امت کے لوگ اس سے سیراب ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ اس حوض پر رکھے ہوئے برتن اتنے زیادہ ہوں گے جتنے آسمان کے ستارے۔ یہاں یہ لفظ اگر ”بہت زیادہ بھلائی“ کے معنی میں لیا جائے تو اس بھلائی میں حوض کوثر بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
روایات میں آتا ہے کہ قریش کے اوباش رسول اللہ ﷺ کا ہر وقت پیچھا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کے خلاف سازشوں میں لگے رہتے تھے اور آپ کے ساتھ طنزومزاح کرتے رہتے تھے۔ اس طرح وہ بزعم خود عوام الناس کو آپ کی دعوت حق سننے سے باز رکھتے تھے جو آپ لے کر آئے تھے ۔ ان اوباشوں کے سرخیل عاص ابن وائل ، عقبہ ابن ابو معیط ، ابولہب ، ابوجہل وغیرہ تھے۔ یہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ ” ابتر “ ہیں ، یعنی ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان میں بعض نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اسے چھوڑ دو ، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، جب یہ مرجائے گا تو یہ تحریک خود بخودختم ہوگی۔
عرب معاشرے میں چونکہ نرینہ اولاد کی بہت بڑی اہمیت تھی ، اس لئے ان کے ہاں…
Read the full tafseer →8 یعنی اتنے بڑے انعام و احسان کا شکر بھی بہت بڑا ہونا چاہئے۔ تو چاہیے کہ آپ اپنی روح، بدن اور مال سے برابر اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں، بدنی و روحی عبادات میں سب سے بڑی چیز نماز ہے۔ اور مالی عبادات میں قربانی ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے کیونکہ قربانی کی اصل حقیقت جان کا قربان کرنا تھا۔ جانور کی قربانی کو بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی بناء پر اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے قصہ سے ظاہر ہے اسی لئے قرآن میں دوسری جگہ بھی نماز اور قربانی کا ذکر ساتھ ساتھ کیا ہے۔ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 162ۙ لَا…
Read the full tafseer →آیت 2 { فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ } ”پس آپ ﷺ اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کیجیے اور قربانی کیا کیجیے۔“
نحر کے لغوی معنی اونٹ ذبح کرنے کے ہیں۔ اس آیت میں جن دو احکام کا ذکر ہے ان دونوں پر عیدالاضحی کے دن عمل ہوتا ہے۔ یعنی عید الاضحی کے دن پہلے مسلمان نماز پڑھتے ہیں اور پھر جانور قربان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →2 یعنی ان نعمتوں اور احسانات کے شکریہ کے طور پر آپ ﷺ اپنے پروردگار کے لیے نماز بھی ادا کیجیے اور قربانی بھی دیجیے۔ بدنی عبادتوں میں سے نماز بہت اہمیت رکھتی ہے اور مالی عبادتوں میں سے قربانی۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ( قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 162ۙ ) 6 ۔ الانعام :162) یعنی آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اس پروردگار کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ گویا ان آیات میں مشرکین مکہ پر تعریض ہے جو عبادت بھی بتوں کی کرتے تھے اور قربانی بھی بتوں کے نام پر اور ان کے لیے کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →2۔ (اور معاندین کے طنز وتعریض کا خیال ہی نہ کیجئے) (آیت) ” فصل “۔ نماز یہاں قائم مقام ہے ساری بدنی عبادات کے، یہ بھی کہا گیا ہے، کہ نماز تمام اقسام شکر کی جامع ہے، اسی لیے بجائے شکر کے اسے لایا گیا، فان الصلوۃ جامعۃ لجییع اقسام الشکر والذا قیل فصل دون فاشکر (روح) (آیت) ” وانحر “۔ قربانی، یہاں قائم مقام ہے ساری مالی عبادات کے اور پھر اونٹ کی قربانی تو عرب میں اعلی ترین اور اس کا اہل حاجت پر تقسیم کرنا مال کا بہترین صرف، وانحر البدن التیھی خیار اموال العرب باسمہ تعالیٰ علی الحاویج (روح) (آیت) ” لربک “۔ یعنی یہ ساری بدنی ومالی عبادتیں وطاعتیں خالصۃ صرف اللہ ہی کے لئے ہوں، نہ کہ خدانخواستہ بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ، شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ ﷺ کو نہر کوثر عطا کی، (کوثر) جنت میں ایک نہر یا حوض ہے، جس پر آپ ﷺ کی امت وار ہوگی، یا کوثر خیر کثیر کو کہتے ہیں، جو کہ نبوت، قرآن اور شفاعت اور ان جیسی چیزیں ہیں، پس آپ ﷺ اپنے رب کے لئے عید الاضحی کی نماز پڑھئے اور اپنی قربانی کیجیے یقیناً آپ ﷺ کا دشمن ہی دم بریدہ (لاوارث) ہے (یعنی ہر خیر سے منقطع ہے یا مقنطع النسل ہے) ، یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی، جس نے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے صاحبزادے قاسم ؓ کے انتقال کے وقت ابتر (یعنی مقنطع النسل) کہا تھا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : الکوثر…
Read the full tafseer →فصل لربک . فاء سببی ہے۔ یعنی اللہ نے تم کو کوثر عطا فرمائی۔ اس کے شکریہ میں نماز پڑھو۔ نماز کے اندر شکر کی ہر قسم
موجود ہے۔ زبان سے ‘ دل سے اور ہاتھ پاؤں سے ہر طرح سے نماز میں شکر خدا ہوتا ہے۔ بعض نے لوگوں نے کہا کہ صلِّ سے مراد ہے ‘ نماز پر قائم رہو (ترک نہ کرو) مطلب یہ ہے کہ خلوص کے ساتھ محض رب کے لیے نماز پڑھو۔ ان لوگوں کی طرح نہ کرو جو غیر اللہ کے لیے نماز پڑھتے اور قربانی کرتے ہیں ‘ یا دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔
وانحر . اور اونٹوں کی قربانی کرو۔ عرب میں اونٹ ہی سب سے اعلیٰ مال شمار کیا جاتا تھا اور قربانی کے بعد گوشت ‘
پوست وغیرہ غریبوں اور یتیموں کو دیدو۔ ان لوگوں کی طرح نہ کرو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کی ہے اور قرآن بھی اسی میں سے ہے یا یہ کہ حوض کوثر عطا کی ہے تو اس شکریہ میں نماز پڑھیے اور اپنے سینہ کو قبلہ کی طرف کیجیے یا یہ کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیے یا یہ کہ رکوع اور سجود کامل طور پر کیجیے تاکہ آپ کا سینہ مبارک ظاہر ہوجائے یا یہ کہ عید الضحیٰ کی نماز پڑھیے اور قربانی ذبح کیجیے۔ آپ کا دشمن یعنی عاص بن وائل ہمہ قسم کی بھلائی اہل و عیال اور مال و دولت سے بےنام و نشان ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا کوئی ذکر کرنے والا نہیں اور آپ کے کمالات ذکر ہو کر رہیں گے۔
ہوا یہ کہ جب حضور کے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان…
Read the full tafseer →(1) فصل الربک وانحر : عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اس آیت میں نماز پڑھنے اورق ربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، حالانکہ یہاں اصل مفہوم یہ ہے کہ نمازپ ڑھو تو صرف اپنے رب کے لئے اور قربانی کرو تو وہ بھی اس کے لئے، کسی غیر کے لئے نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی سے کہا جائے، کھڑے ہو کر نماز پڑھو، تو اس سے مراد نمازپ ڑھنے کا حکم دینا نہیں ہوتا بلکہ مراد یہ حکم ہوتا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھو، بیٹھ کر نہ پھڑو۔ یہی مفہوم سورة انعام میں بھی ادا ہوا ہے، فرمایا :(قل ان صلاتی ون کسی و محیای و مماتی للہ رب العلمین ، لاشریک لہ، وبذلک امرت وانا اول السلمین) (الانعام : 162، 163)”کہہ دے بلاشبہ میری نماز، میری…
Read the full tafseer →پس آپ نماز پڑھا کریں اپنے رب کے لیے اور قربانی دیں (اسی کی خاطر) اذا لقیتک عن سخط تکاشرنی۔۔۔ وان تغیبت کنت الھامزہ اللمزۃ۔
جب میں تجھے ملتا ہوں تو تو ناراضگی کی وجہ سے دانت نکالتا ہے اور جب میں غائب ہوتا ہوں تو تو چغل خور اور طعن کرنے والا ہوتا ہے۔
الشحط کا معنی بعد ہے اور ھمزۃ ایسا اسم ہے جو مبالغہ کے لیے وضع کیا گیا ہے جس طرح کہا جاتا ہے : سخرۃ، ضحکۃ جو مذاق کرتا ہے اور لوگوں کو ہنساتا ہے۔ ابو جعفر محمد بن علی اور اعراج نے ھمزۃ اور لمزۃ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اگر یہ دونوں سے قرات ثابت ہو تو یہ اسم مفعول کے معنی میں ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے آتا ہے تو لوگ اس کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا اعطیناک الکوثر مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے عمرو بن یمون (رح) سے روایت کیا کہ جب عمر ؓ کو نیزہ مارا گیا اور لوگ مضطرب اور بکھر گئے تو عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھے اور انہوں نے قرآن میں سب سے چھوٹی سورتیں پڑھیں اور نماز مکمل کی۔ یعنی آیت انا اعطینک الکوثر اور آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح۔
4۔ بیہقی نے اپنی سنن میں ابن شبرمہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں تین آیات سے کم کوئی سورة نہیں ہے۔
5۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ…
Read the full tafseer →[فَصَلِ لِرَبِكَ : تو آپ ﷺ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے ][ وَانحَرْ : اور آپ ﷺ اونٹ قربان کریں ]
ن ح ر
[نَحْرًا ] (ف) گلے میں چوٹ لگانا۔ ذبح کرنا۔]
[ اِنْحَرْ فعل امر ہے۔ تو ذبح کر۔ قربانی کر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔ ]
Read the full tafseer →﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ002﴾ (سو آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے) جب آپ کے رب نے آپ کو خیر کثیر عطا فرما دی تو عبادت کی طرف زیادہ توجہ کیجئے، نمازیں پڑھتے رہا کریں، فرائض بھی اور نوافل بھی اور جانوروں کی قربانی کرتے رہیں ان کے ذبح کے وقت اپنے رب کا نام لیں۔
پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو کوثر یعنی دنیا و آخرت میں خیر کثیر عطاء فرمانے کی خوش خبری دی اب اس آیت میں اس کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا اور دو کاموں میں مشغول ہونے کی خاص تلقین فرمائی۔ ایک نماز، دوسری قربانی، نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے اور قربانی مالی عبادتوں میں سے ہے اور اس بنا پر خاص امتیاز اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
انعام رب ذوالجلال بعطاء کوثر وہلاکت و بربادی دشمن رسول مقبول ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انا اعطینک الکوثر ...... الی ........ شانئک ھو الابتر “۔
(ربط) سورة ماعون میں حکمت اعتقادیہ عملیہ کے جملہ اقسام کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کے ساتھ انسانی زندگی کے جو اعمال واخلاق باعث عیب ہیں ان کی مذمت بھی کردی گئی تھی تو اب اس سورت میں خیر کثیر کا ذکر ہے، جس کے باعث انسانی حیات عظمت وبلندی کے مقام تک پہنچتی ہے اور اس خیر کثیر کی شاخیں اور نہریں اس طرح پھیل جاتی ہیں کہ قیامت تک نسل انسانی ان کے ذریعہ ہر قسم کی سیرابی اور شادابی حاصل کرتی رہے اور اس پر پھل وپھول لگے رہیں، یہی وہ فرمان مبارک ہے جو (آیت)…
Read the full tafseer →3:۔ ” فصل “ یہ ماقبل پر مرتب ہے۔ چونکہ ہم نے آپ کو الکوثر عطا کیا ہے اس لیے آپ بطور شکر نعمت محض ہماری رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے نماز پڑھیں اور حاجات و مصائب میں صرف مجھے پکاریں اور میرے سوا کسی اور کو نہ پکاریں۔ یہ شرک اعتقادی کی نفی کی طرف اشارہ ہے ” وانحر “ ای لربک۔ یہ شرک فعلی کی نفی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے نذر و نیاز دینا اور اسی کے نام کی قربانی کرنا غیر اللہ کے نام کی نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکوثر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیتیں ہیں اور یہ بارہ الفاظ اور بیالیس حروف پر مشتمل ہے۔
زمانہ نزول کے متعلق مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ مکی سورة ہے یا مدنی مسند احمد 1 ؎ اور حدیث 2 ؎ کی دوسری کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک موقع پر مدنی زندگی میں حضور ﷺ اور صحابہ کی جماعت موجود تھی۔ تھوڑی دیر کے لئے آپ پر غنودگی کی حالت طاری ہوئی۔ جب وہ حالت رفع ہوئی تو آپ مسکرائے لوگوں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی ایک سورة نازل فرمائی ہے۔ چناچہ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اور پھر سورة انا اعطینک الکوثر پڑھ کر سنا دی۔
اسی…
Read the full tafseer →فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ 2 ۭ
صلا
أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64]
والصَّلاةُ ،
قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103]
وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق :
تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب ¦ انامبتدء اعطیناک 1 ؎ خبروالکاف مفعول اول لاعطینا الکوثر مفعول ثان۔ والکوثر علے وزن فوعل من الکثرۃ وصف بہ للمبالغۃ فی الکثرۃ مثل النوفل من النفل والجوھر من الجھر والعرب تسمی کل شیء کثیر فی القدرا والعددوالبرکات کو ثرا۔ فصل الفاء لترتیب مابعدھا علی ماقبلھا اوللتفریع صل امر لربک متعلق بصل۔ وانحر عطف علی صل ان اسمھا شانئک اسم الفاعل من الشنان لامن الشین فان اسم الفاعل منہ شائن لاشان والشانئی لمبغض العدو ھو فصل اوتاکید الابتر خبران وقیل ھو مبتدء والابترخبرہ والجملۃ خبر ان الابترا فعل من البتر بمعنی القطع من الاصل۔ یقال بترتہ ابترۃ بتراولابترمن الرجال من لاعقب لہ من النسل وذکر الخیر ومن…
Read the full tafseer →فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ (الکوثر : 2)
(پس آپ اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ )
احسان پر شکر کی تلقین
پہلی آیت میں پروردگار نے اپنے رسول کریم ﷺ پر اپنی بےپایاں عنایات کا ذکر فرمایا۔ اب پیش نظر آیت میں ان انعامات اور احسانات کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی جارہی ہے۔ آپ کو چونکہ کوثر کی شکل میں وہ سب سے بڑی نعمت عطا فرمائی گئی ہے جو نوع انسانی میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔ اس لیے اس کا شکر بھی سب سے بڑی عبادت سے ہونا چاہیے اور وہ نماز ہے۔ اور وَانْحَرْ سے تکمیلِ شکر کے لیے جسمانی عبادت کے ساتھ مالی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے لیے جو لفظ اختیار کیا گیا اس میں دو حقیقتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : الماعون میں اس شخص کی مذمت کی گئی ہے جو نماز سے لاپرواہی کرتا ہے اور ضرورت مند کو استعمال کے لیے معمولی چیز بھی نہیں دیتا الکوثر میں نبی ﷺ کو خوشخبری دے کر ہر شخص بالخصوص بخیل آدمی کو بتلایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت کی خیر کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
الکوثر کا شان نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ میں نبی ﷺ کے دوسرے بیٹے عبداللہ جن کو طاہر اور طیب بھی کہا جاتا ہے فوت ہوگئے اس کی موت پر ابولہب اور اس کے ساتھیوں نے انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی اور کہا ” بَتِرَ مُحَمَّدٌ ھٰذِہِ الَّلیْلَۃَ “ کہ آج رات محمد دم کٹا ہوگیا ہے لہٰذا تھوڑے دنوں کی…
Read the full tafseer →عبادت اور قربانی کرو :
2 : فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ (پس آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھیے اور قربانی دیجئے) پس تم اپنے رب کی عبادت کرو جس نے وہ عطا کرکے آپ کو معزز بنایا اور عظمت عنایت فرمائی۔ اور مخلوقات کے احسانات سے محفوظ رکھا۔ اپنی قوم کے برخلاف آپ اپنے رب کی عبادت کریں وہ قوم جو غیر اللہ کی عبادت میں مشغول و مصروف ہے اور اللہ ہی کی خاطر قربانی کریں اور اس کے نام کے ساتھ ذبح کریں برخلاف ان بت پرستوں کے جو کہ بتوں کے نام کی قربانیاں دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →2 ۔” فصل لربک وانحر “ محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ غیر اللہ کے لئے نماز پڑھتے تھے اور غیر اللہ کے لئے قربانی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا وہ نماز پڑھیں اللہ کے لئے اور قربانی کریں اللہ کے لئے اور عکرمہ، عطاء اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” فصل لربک “ نحر کے دن عید کی نماز اور اپنی قربانی کو ذبح کریں اور سعید بن جبیر اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں۔ پس آپ فرض نمازیں پڑھیں مزدلفہ میں اور منیٰ میں اونٹ کو نحر کریں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” فصل لربک وانحر “ اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر سینہ پر رکھیں نماز میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ معتبر سند سے مسند 2 ؎ بزار میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کعب بن اشرف یہودی جب مکہ میں ایٓا تو قریش نے اس سے آنحضرت ﷺ کا تذکرہ کیا اس نے قریش کی خوشامد کے خیال سے جواب دیا کہ تمہارا دین قدیمی اور حق ہے اور آنحضرت کی شان میں یہ بھی کہا کہ ان کا کوئی بیٹا تو ہے نہیں۔ ان کی زندگی تک کا شور و غل ہے اور پھر ان کا کوئی نام بھی نہ لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی کہ اے رسول اللہ کے جو تمہارا دشمن ہے وہی ابتر ہے۔ ابتر اس کو کہتے ہیں جس کی موت کے بعد کوئی لڑکا اس کا نہ رہے۔ کوثر ایک تو اس نہر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائی ہے یہ نہر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے آپ پر احسانات و عنایات کا ذکر کرنے کے بعد آپ کو اس احسان پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا چناچہ فرمایا (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ) پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ اللہ تعالیٰ نے ان دو عبادتوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں افضل ترین عبادات اور تقرب الٰہی کا جلیل ترین ذریعہ ہیں نیز ان دونوں کا خاص طور پر ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے نماز قلب اور جوارح میں خشوع کو متضمن ہے پھر اسے عبادت کی دیگر تمام انواع میں منتقل کردیتی ہے جانور ذبح کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بندے کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے افضل ترین چیز قربانی کے ذریعے سے تقرب الٰہی حاصل کرنا اور مال خرچ کرنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وانحر کی تفسیر
قول باری ہے (فصل لربک وانحر، پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو) حسن کا قول ہے کہ یوم النحر کی نماز اور قربانی مراد ہے۔ عطاء اور مجاہد کا قول ہے کہ ” صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھو اور منیٰ میں جاکر قربانی کرو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ تاویل دو باتوں کو متضمن ہے ایک تو بقر عید کی نماز کا ایجاب اور دوسری قربانی کا وجوب۔ ہم نے گزشتہ صفحات میں اس پر بحث کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے عاصم الجعدری سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ نماز میں بائیں بازو پر دایاں ہاتھ رکھ کر اپنے سینے پر باندھنا (وانحر) سے مراد ہے۔
ابوالجوزاء…
Read the full tafseer →2 ۔ اعطاء کوثر کا تقاضا کہ ہر قسم کی عبادت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو : سو ارشاد فرمایا گیا اور اعطاء کوثر کے تقاضے کے طور پر اور اس کے نتیجے کے ذکر وبیان کے لیے فاء تفریع کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ اپنے ہی رب کے لیے نماز پڑھو اور اسی کے لیے قربانی کرو، یعنی اس عظیم الشان نعمت کے شکریے کے طور پر جس سے آپ کو آپ کے رب نے نوازا ہے کہ ہر بدنی و مالی عبادت خالص اسی کے لیے کریں جیسا کہ آپ اب تک کرتے رہے ہیں، بعض حضرات نے " وانحر " سے مراد نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا لیا ہے، مگر یہاں پر اس کا کوئی موقع اور محل نہیں، اسی لیے علامہ ابن کثیر جیسے محققین نے اپنے ناقدانہ کلام سے اس کو مرجوح قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
پیارے نبی ﷺ کے لیے اللہ کا انعام
تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بہت بڑے مقاصد کو بیان کر رہی ہے۔ مثلاً کوثر کی خوشخبری نبی اکرم ﷺ کیلئے۔ یوں تو کوثر کا مطلب ہے خیر کثیر۔ یعنی وہ تمام درجات جو آپ ﷺ کو دئیے گئے۔ حسن کردار ' حسن سیرت ' حسن معاملہ اور سب سے بڑھ کر رتبہ کے لحاظ سے آپ ﷺ محسن انسانیت ' حامل قرآن اور تکمیل دین کے لحاظ سے آخری نبی کا بلند ترین درجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دیا گیا ہے۔ مگر یہاں اس سورت میں کوثر سے مراد وہ نہر ہے جو جنت میں موجود ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں احادیث سے ملتا ہے۔ جیسا کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا '' ایک دن میں جنت میں جا رہا تھا تو میں نے وہاں ایک نہر دیکھی ' جس کے کناروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الکوثر۔
آیات 1 تا 3۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا فرمایا اگرچہ آخرت اور جنت میں ایک حوض کا نام بھی کوثر ہے مگر یہاں خیر کثیر بھی مراد ہے کل خیر صرف آپ کے پاس ہے اور آپ کا دامن چھوڑ کر کہیں بھی خیر کا تصور نہیں لہذا آپ اللہ کی عبادت و اطاعت کیجئے اور اس کی راہ میں قربانی کہ عرب میں اونٹ بہت پیارا تھا اور اس کی قربانی کو نحر کہتے ہیں۔
مفہوم یہ ہے کہ پوری زندگی کا نظام عبادت میں ڈھل جائے اور مال زور کی محبت اسکی راہ میں رکاوٹ نہ بنے بیشک آپ کے دشمنوں کانشان مٹ جائے گا مگر آپ کا نام نامی قیامت تک گونجتا رہے گا مشرکین نے طعنہ دیا تھا کہ آپ کی اولاد نرینہ نہیں آپ کا نام ختم ہوجائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 9 ” الکوثر “ کے معنی ” خیر کثیر “ کے ہیں یعنی بہت بھلائی اور بہتری … اکثر مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ اس سے مراد جنت کی ایک نہر ہے اس کی تصریح خود آنحضرت نے بھی فرمائی ہے۔ اس لئے یہی صحیح ہے۔ نیز آپ نے فرمایا :” میری امت کے لوگ اس پر قیامت کے دن پانی پئیں گے۔ (شوکانی)10 یعنی فرض نمازوں کی پابندی کیجیے اور نفل نمازیں بھی پڑھیے۔11 یعنی نماز کی طرح آپ کی قربانی بھی خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو صحیح مسلم میں ہے کہ جس نے اللہ کے سوا اور کسی کے لئے قربانی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے (فتح البیان) …اکثر مفسرین نے ” وانحر “ کے معنی قربانی کرنا ہی لئے ہیں اور یہی راجح ہیں۔ (دبہ قال غیر واحد من سلف مگر…
Read the full tafseer →(10:2) فصل لربک وانحر۔سببیہ ہے۔ صل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تصلیۃ (تفعیل) مصدر۔ تو نماز پڑھ۔
لربک صل سے متعلق ہے۔ اپنے پروردگار کی۔ ل حرف تملیک۔ ربک مضاف مضاف الیہ۔
وانحر : واؤ عاطفہ، انحر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نحر (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی اونٹ کو گلے میں نیزہ مار کر ذبح کرنا۔ تو ذبح کر۔ تو قربانی کر۔ تو اسی کے لئے قربانی کر۔ انحر کا عطف صل پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن۔
اعطینا ۔ ہم نے عطا یا۔ الکوثر۔ خیر کثیر۔ حوض کوثر۔ صل۔ نماز پڑھ۔ انحر۔ قربانی کر۔ شان۔ دشمن۔ الابتر۔ دم کٹا۔ نامراد۔
تشریح : قریشی سردار اور مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں اس قدر بےرحم، بد لحاظ اور پتھر دل ہوچکے تھے کہ جب نبی کریم ﷺ کے صاجزادے حضرت قاسم اور ان کے بعد دوسرے بیٹے حضرت عبد اللہ کا انتقال ہوا تو آپ کو اس غم کے موقع پر تسلی اور دلاسہ دینے کے بجائے انہوں نے اس پر کھلم کھلا خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب ان کے ہاں صرف چار بیتیاں رہ گئی ہیں لیکن وہ اولاد نرینہ جن سے کسی شخص کی نسل چلا کرتی ہے اب باقی نہیں ہے لہٰذا کسی غم اور فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک ایسا شخص جو سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول : جب نبی ﷺ کے فرزند حضرت قاسم کا وصال ہواتوکفار نے آپ کو مقطوع النسل کہا اور کہا کہ ان کی نسل نہیں رہی ان کے بعد اب ان کا ذکر بھی نہ رہے گا، یہ سب چرچا ختم ہوجائے گا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کفا کی تکذیب کی اور ان کابلیغ رد فرمایا، اور فرمایا کہ اے محبوب ہم نے تمہیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں اور فضائل کثیر عنایت کرکے تمام خلق پر افضل کیا، حسن ظاہر بھی دیاحسن باطن بھی نسب عالی بھی نبوت بھی، کتاب بھی حکمت بھی علم بھی شفاعت بھی، حوض کوثر بھی، مقام محمود بھی ، کثرت امت بھی اعدائے دین پر غلبہ بھی ، کثرت فتوح بھی، اور بیشمار نعمتیں اور فضیلتیں جن کی انتہا نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] کوثر کے معنی خیرکثیر کے ہیں یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ یہاں اس سے مراد دنیا اور آخرت کی بیشمار بھلائیاں اور نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت حوض کوثر بھی ہے جس کے پانی سے رسول اللہ ﷺ امت کو محشر میں سیراب فرمائیں گے۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے جنت میں جانے تک پیاس نہ لگے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الکوثر
عین اس وقت جب حضور ﷺ کو ناکامی اور نامرادی کے طعنے دئے جارہے تھے اور اپنی کامرانیوں پر مسرت واجتہاج کا اظہار کیا جارہا تھا ۔ عین اس وقت جب کہ مکہ کی سرزمین بھی آپ ﷺ کے عقیدت مندوں کے لئے باوجود وسعت کے تنگ ہورہی تھی اور کفار کے دام دایلنے یہ تھے ۔ کہ اس شمع ہدایت وعرفان کو یک قلم بجھا دیا جائے ۔ یہ بشارت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خیر کثیر کے انعامات سے نوازا ہے ۔ آپ ﷺ کے رتبہ ودرجہ میں اضافہ ہوگا آپ ﷺ کے اعوان وانصار بڑھیں گے اور آپ ﷺ کے فتوحات مادی وروحانی کا دائرہ وسیع ہوگا ۔ اس لئے آپ ﷺ گھبرائیں نہیں اور برابر صبروسکون کے ساتھ اپنے رب کی عیادت کریں اور اس کے لئے…
Read the full tafseer →(2) لہٰذا آپ اپنے پروردگار کی جناب میں نماز ادا کیجئے اور قربانی کیا کیجئے۔ یعنی اتنے بڑے انعام سے آپ کو نوازنا اور ایسی خیر کثیر عطا کرنا جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپ نماز پڑھیے اللہ کے لئے اور اسی کے نام پر قربانی کیجئے کیونکہ آپ کا دشمن غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور غیر اللہ کے لئے جانور قربان کرتے ہیں آپ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اس نماز اور قربانی کی بھی مختلف تفسیریں منقول ہیں۔
کسی نے کہا عید الضحیٰ کی نماز اور قربانی کا حکم ہے کسی نے کہا نمازگ پڑھو جمع ہوکر اور منیٰ میں قربانی کرو کسی نے کہا نماز میں سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھو۔ نحر سے مراد شاید اونٹ کی قربانی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ جس میں خیر دنیا یعنی بقاء دین و ترقی اسلام جو کہ موجب کثرت و اجر ہے و خیر آخرت یعنی مراتب قرب و درجات علیا سب داخل ہے، پھر اگر ایک بیٹا فوت ہوا اور اس پر مخالفین شماتت کرتے ہیں تو اس پر غم نہ کیجئے کیونکہ اس سے بڑھ کر آپ کو یہ دولتیں عطا فرمائی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →سو تو اپنے رب کی کثرت سے عبادت کر اور اس کی خاطر قربانی کر
2۔ (فصل) تو نماز پڑھا۔ تو دعائے تصلیۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (انحر) ” تو قربانی کر نحر سے جس کے معنی قربانی کرنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نحر سینہ کے اس بالائی حصہ کا نام ہے جہاں قلاوہ پڑا رہتا ہے اور اس کے اعتبار سے نحر کے معنی سینہ پر مارنے یا ذبح کرنے کے آتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں (فصل لربک وانحر) پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے۔ عام مفسرین کے نزدیک قربانی کرنا ہی مراد ہے لیکن بعض کے نزدیک نحر نماز سے متعلق ایک فعل کا نام ہے جو نماز کے اندر یا اس سے پہلے انجام دیاجاتا ہے ۔ چناچہ فراء نے نحر سے قبلہ…
Read the full tafseer →Prayer and Sacrifice
Verse [ 108:2] فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (So, offer salah [ prayer ] to your Lord, and sacrifice.) The imperative inhar is derived from nahr which means 'to sacrifice by stabbing upwards into the jugular vein [ the way of slaughter for camels as opposed to other cattle ] '. As the Arabs generally used to sacrifice camels, the verse employs the imperative wanhar. Occasionally, the word nahr is used in the general sense of 'sacrifice'.
Verse [ 108:1] vehemently denounces the false notion of the unbelievers and gives glad tidings of Kauthar to the Messenger of Allah ﷺ…
Read the full tafseer →2 Different commentaries of it have been reported from different scholars. Some of them take the Prayer to mean the five times obligatory Prayer (salat) ; some take it to imply the Prayer of `Id al-Adha, and some say that it implies the Prayer itself. Likewise, the meaning of wanhar and sacrifice according to some illustrious scholars, is to place the right hand over the left hand and to fold them on the chest in the Prayer; some say that it implies raising both hands with Allahu Akbar at the commencement of the Prayer; some say that it implies raising both hands at the commencement of the…
Read the full tafseer →