108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsانوار البیان
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے
(108:1) انا اعطینک الکوثر ۔ انا مبتدائ۔ اعطینک الکوثر اس کی خبر۔
اعطینا ماضی جمع متکلم اعطاء (افعال) مصدر سے۔ عطا کرنا۔ دینا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر، (مفعول اول اعطینا کا)
الکوثر : مفعول ثانی اعطینا کا۔
ترجمہ :۔ تحقیق ہم نے آپ کو (اسے رسول کریم ﷺ ) کوثر عطا کی۔
(1) الکوثر جنت کی ایک نہر اور حوض کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خصوصی طور پر عطا کی ہے۔ (عن انس مرفوعا۔ مسلم)
(2) حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ جنت کے ایک حوض کا نام ہے۔ (معالم التنزیل)
(3) اس سے مراد قرآن ہے۔ (حسن بصری)
(4) اس سے مراد قرآن اور نبوت ہے۔ (عکرمہ)
(5) اس سے مراد عام خیر کثیر ہے۔ (سعید بن جبیر از ابن عباس ؓ
اہل لغت نے لکھا ہے کہ کوثر ۔ کثرۃ سے بنا ہے جیسے نوفل ۔ نفل سے جو چیز تعداد میں کثیر اور مرتبے میں باعظمت ہو اس کو اہل عرب کوثر کہتے ہیں۔
صاحب معجم القرآن نے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے۔
علامہ نیشاپوری (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :۔ اس آیت میں گوناگوں مبالغہ ہے :۔ ابتداء ان سے کی گئی ہے جو تاکید پر دلالت کرتا ہے پھر ضمیر جمع استعمال کی گئی ہے ۔ جو تعظیم کا مفہوم دیتی ہے۔
نیز یہاں اعطاء کا استعمال ہوا ہے ایتاء کا نہیں اور اعطاء میں ملکیت پائی جاتی ہے ایتاء میں یہ مفہوم نہیں پایا جاتا۔ پھر یہاں ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جو تحقیق پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی کام ہوگیا۔ (ضیاء القرآن)
علماء تفسیر نے الکوثر کی تفسیر میں متعدد اقوال ذکر کئے ہیں چند ایک یہ ہیں :۔
(1) کوثر سے مراد جنت کی وہ نہر ہے کہ جس سے جنت کی ساری نہریں نکلتی ہیں ۔ (ابن عمر ؓ
(2) کوثر اس حوض کا نام ہے جو میدان حشر میں ہوگا جس سے حضور ﷺ اپنی امت کے پیاسوں کو سیراب فرمائیں گے۔
(3) اس سے مراد نبوت ہے۔
(4) اس سے مراد قرآن شریف ہے۔
(5) اس سے مراد دین اسلام ہے۔
(6) اس سے مراد صحابہ کرام کی کثرت ہے۔
(7) اس سے مراد رفع ذکر ہے۔
(8) اس سے مراد مقام محمود ہے۔
(9) اس سے مراد خیر کثیر ہے۔ (ابن عباس)
(10) امام جعفر صادق کے نزدیک حضور ﷺ کے دل کا نور ہے (اقتباس از ضیاء القرآن)
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو
(10:2) فصل لربک وانحر۔سببیہ ہے۔ صل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تصلیۃ (تفعیل) مصدر۔ تو نماز پڑھ۔
لربک صل سے متعلق ہے۔ اپنے پروردگار کی۔ ل حرف تملیک۔ ربک مضاف مضاف الیہ۔
وانحر : واؤ عاطفہ، انحر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نحر (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی اونٹ کو گلے میں نیزہ مار کر ذبح کرنا۔ تو ذبح کر۔ تو قربانی کر۔ تو اسی کے لئے قربانی کر۔ انحر کا عطف صل پر ہے۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
(108:3) ان شانئک ہو الابتر : ان حرف تحقیق، مشبہ بالفعل۔ شانئک مضاف مضاف الیہ مل کر ان کا اسم ۔ ھو تاکید کے لئے ہے ۔ الابتر۔ خبر ان کی۔
یا ھو ضمیر فصل ہے اور الابتر ان کی خبر ہے۔ خبر پر ال اور مبتداء خبر کے درمیان ضمیر فصل کا لانا حصر پر دلالت کرتا ہے ۔ یعنی تمہارا دشمن ہی ابتر ہے تم ابتر نہیں ہو۔
یا ھومبتداء ہے اور الابتر اس کی خبر۔
شانی : شنا (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ بمعنی بغض رکھنے والا۔ نفرت کرنے والا۔ بدخواہ، دشمنی رکھنے والا
شانی کی جمع شناء اور مؤنث شانئۃ ہے۔
الابتر : دم کٹا۔ جس کی اولاد نہ ہو۔ جس کا ذکر باقی نہ رہے۔ بتر (باب نصر) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
بتر کاٹنا۔ ابتر (اللہ کا کسی کو) بےاولاد کرنا۔
ان شانئک ھو الابتر : تحقیق تمہارا بدخواہ ہی دم بریدہ ہے۔ اس کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔