Ayah 108:1سورة الکوثر 1
کوثر کا لفظ یہاں جس طرح استعمال کیا گیا ہے اس کا پورا مفہوم ہماری زبان تو درکنار شاید دنیا کی کسی زبان میں بھی ایک لفظ سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کثرت سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے لغوی معنی تو بےانتہا کثرت کے ہیں، مگر جس موقع پر اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے اس میں محض کثرت کا نہیں بلکہ خیر اور بھلائی اور نعمتوں کی کثرت، اور ایسی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے جو افراط اور فراوانی کی حد کو پہنچی ہوئی ہو، اور اس سے مراد کسی ایک خیر یا بھلائی یا نعمت کی نہیں بلکہ بیشمار بھلائیوں اور نعمتوں کی کثرت ہے۔ دیباچے میں اس سورة کا جو پس منظر ہم نے بیان کیا ہے اس پر ایک مرتبہ پھر نگاہ ڈال کر دیکھیے۔ حالات وہ تھے جب دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ محمد ﷺ ہر حیثیت سے تباہ ہوچکے ہیں، قوم سے کٹ کر بےیارو مددگار رہ گئے۔ تجارت برباد ہوگئی، اولاد نرینہ تھی جس سے آگے ان کا نام چل سکتا تھا۔ وہ بھی وفات پاگئی، بات ایسی لے کر اٹھے ہیں کہ چند گنے چنے آدمی چھوڑ کر مکہ تو درکنار پورے عرب میں کوئی اس کو سننا تک گوارا نہیں کرتا۔ اس لیے ان کے مقدر میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ جیتے جی ناکامی و نامرادی سے دو چار ہیں اور جب وفات پاجائیں تو دنیا میں کوئی ان کا نام لیوا بھی نہ ہو، اس حالت میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرمایا گیا کہ ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا تو اس سے خودبخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ تمہارے مخالف بیوقوف تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ تم برباد ہوگئے اور نبوت سے پہلے جو نعمتیں تمہیں حاصل تھیں وہ ھی تم سے چھن گئیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں بےانتہا خیر اور بیشمار نعمتوں سے نواز دیا ہے۔ اس میں اخلاق کی وہ بےنظیر خوبیاں بھی شامل ہیں جو حضور کو بخشی گئیں۔ اس میں نبوت اور قرآن اور علم اور حکمت کی وہ عظیم نعمتیں بھی شامل ہیں جو آپ کو عطا کی گئیں۔ اس میں توحید اور ایک ایسے نظام زندگی کی نعمت بھی شامل ہے جس کے سیدھے سادھے، عام فہم، عقل و فطرت کے مطابق اور جامع و ہمہ گیر اصول تمام عالم میں پھیل جانے اور ہمیشہ پھیلتے ہی چلے جانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس میں رفع ذکر کی نعمت بھی شامل ہے جس کی بدولت حضور کا نام نامی چودہ سو برس سے دنیا کے گوشے گوشے میں بلند ہورہا ہے اور قیامت تک بلند ہوتا رہے گا۔ اس میں یہ نعمت بھی شامل ہے کہ آپ کی دعوت سے بالآخر ایک ایسی عالمگیر امت وجود میں آئی جو دنیا میں ہمیشہ کے لیے دین حق کی علمبردار بن گئی، جس سے زیادہ نیک اور پاکیزہ اور بلند پایہ انسان دنیا کی کسی امت میں کبھی پیدا نہیں ہوئے، اور جو بگاڑ کی حالت کو پہنچ کر بھی دنیا کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس میں یہ نعمت بھی شامل ہے کہ حضور نے اپنی آنکھوں سے اپنی حیات مبارکہ ہی میں اپنی دعوت کو انتہائی کامیاب دیکھ لیا اور آپ کے ہاتھوں سے وہ جماعت تیار ہوگئی جو دنیا پر چھا جانے کی طاقت رکھتی تھی۔ اس میں یہ نعمت بھی شامل ہے کہ اولاد نرینہ سے محروم ہوجانے کی بنا پر دشمن تو یہ سمجھتے تھے کہ آپ کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائے گا، لیکن اللہ نے صرف یہی نہیں کہ مسلمانوں کی صورت میں آپ کو وہ روحانی اولاد عطا فرمائی جو قیامت تک تمام روئے زمین پر آپ کا نام روشن کرنے والی ہے، بلکہ آپ کی صرف ایک ہی صاحبزادی حضرت فاطمہ سے آپ کو جو جسمانی اولاد بھی عطا کی جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کا سارا سرمایہ افتخار ہی حضور سے اس کا انتساب ہے۔
یہ تو وہ نعمتیں ہیں جو اس دنیا میں لوگوں نے دیکھ لیں کہ وہ کسی فراوانی کے ساتھ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمائیں ان کے علاوہ کوثر سے مراد وہ دو مزید ایسی عظیم نعمتیں بھی ہیں جو آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو دینے والا ہے۔ ان کو جاننے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ان کی خبر دی اور بتایا کہ کوثر سے مراد وہ بھی ہیں۔ ایک حوض کوثر جو قیامت کے روز میدان حشر میں آپ کو ملے گا، دوسرے نہر کوثر جو جنت میں آپ کو عطا فرمائی جائے گی، ان دونوں کے متعلق اس کثرت سے احادیث حضور سے منقول ہوئی ہیں اور اتنے کثیر راویوں نے ان کو روایت کیا ہے کہ ان کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔
حوض کوثر کے متعلق حضور نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہیں
(1) یہ حوض قیامت کے روز آپ کو عطا ہوگا اور اس سخت وقت میں جبکہ ہر ایک العطش العطش کر رہا ہوگا، آپ کی امت آپ کے پاس اس پر حاضر ہوگی، اور اس سے سیراب ہوگی۔ آپ اس پر سب سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور اس کے وسط میں تشریف فرما ہوں گے۔ آپ کا ارشاد ہے ھو حوض ترد علیہ امتی یوم القیمۃ۔ " وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے روز وارد ہوگی "۔ (مسلم، کتاب الصلوۃ، ابو داؤد، کتاب السنہ) انا فرطکم علی الحوض۔ " میں تم سب سے پہلے اس پر پہنچا ہوا ہوں گا " (بخاری، کتاب الرقاق اور کتاب الفتن، مسلم، کتاب الفضائل اور کتاب الطہارۃ۔ ابن ماجہ، کتاب المناسک اور کتاب الزہد، مسند احمد، مرویات عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، و ابوہریرہ) انی فط لکم وانا شھید علیکم وانی واللہ لانظر الی حوضی الانہ۔ " میں تم سے آگے پہنچنے والا ہوں، اور تم پر گواہی دوں گا اور خدا کی قسم میں اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں "۔ (بخاری، کتاب الجنائز، کتاب المغازی، کتاب الرقاق) انصار کو مخاطب کرتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا انکم ستلقون بعدی اثرۃ فاصبروا حتی تلقونی علی الحوض۔ " میرے بعد تم کو خود غرضیوں اور اقربا نوازیوں سے پالا پڑے گا، اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر حوض پر ملو "۔ (بخاری، کتاب مناقب الانصار و کتاب المغازی، مسلم کتاب الامارہ، ترمذی، کتاب الفتن) انا یوم القیامۃ عند عقر الحوض۔ " میں قیامت کے روز حوض کے وسط کے پاس ہوں گا " (مسلم، کتاب الفضائل) حضرت ابو برزہ اسلمی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے حوض کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا، ایک نہیں دو نہیں تین نہیں چار نہیں پانچ نہیں بار بار سنا ہے، جو اس کو جھٹلائے اللہ اسے اس کا پانی نصیب نہ کرے (ابو داؤد، کتاب السنہ) عبید اللہ بن زیاد حوض کے بارے میں روایات کو جھوٹ سمجھتا تھا، حتی کہ اس نے حضرت برزہ اسلمی، براء بن عازب اور عائذ بن عمرو کی سب روایات کو جھٹلا دیا۔ آخر کار ابو سبرہ ایک تحریر نکال کر لائے جو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے سن کر نقل کی تھی اور اس میں حضور کا یہ ارشاد درج تھا کہ الا ان موعدکم حوضی " خبردار رہو، میری اور تمہاری ملاقات کی جگہ میرا حوض ہے " (مسند احمد، مرویات عبداللہ بن عمرو بن عاص)
(2) اس حوض کی وسعت مختلف روایات میں مختلف بیان کی گئی ہے۔ مگر کثیر روایات میں یہ ہے کہ وہ ایلہ (اسرائیل کے موجودہ بندرگاہ ایلات) سے یمن کے صنعا تک، یا ایلہ سے عدن تک، یا عمان سے عدن تک طویل ہوگا اور اس کی چوڑائی اتنی ہوگی جتنا ایلہ سے جحفہ (جدہ اور رابغ کے درمیان ایک مقام) تک کا فاصلہ ہے۔ (بخاری، کتاب الرقاق، ابوداؤد الطیالسی، حدیث نمبر 995۔ مسند احمد، مرویات ابوبکر صدیق و عبداللہ بن عمر۔ مسلم، کتاب الطہارۃ و کتاب الفضائل۔ ترمذی، ابواب صفۃ القیامہ۔ ابن ماجہ، کتاب الزہد۔ اس سے گمان ہوتا ہے کہ قیامت کے روز موجودہ بحر احمر ہی کو حوض کوثر میں تبدیل کردیا جائے گا، واللہ اعلم بالصواب۔
(3) اس حوض کے متعلق حضور نے بتایا ہے کہ اس میں جنت کی نہر کوثر (جس کا ذکر آگے آرہا ہے) سے پانی لاکر ڈالا جائے گا۔ یشخب فیہ میزابان من الجنۃ، اور دوسری روایت میں ہے یغت فیہ میزابان یمدانہ من الجنۃ، یعنی اس میں جنت سے دو نالیاں لاکر ڈالی جائیں گی جو اسے پانی بہم پہنچائیں گی۔ (مسلم، کتاب الفضائل) ایک اور روایت میں ہے یفتح نھر من الکوثر الی الحوض، جنت کی نہر کوثر سے ایک نہر اس حوض کی طرف کھول دی جائے گی (مسند احمد، مرویات عبداللہ بن مسعود)
(4) اس کی کیفیت حضور نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کا پانی دودھ سے (اور بعض روایات میں ہے چاندی سے اور بعض میں برف سے) زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اس کی تہہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگی، اس پر اتنے کوزے رکھے ہوں گے جتنے آسمان میں تارے ہیں، جو اس کا پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔ اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ پھر کبھی سیراب نہ ہوگا۔ یہ باتیں تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ بکثرت احادیث میں منقول ہوئی ہیں (بخاری، کتاب الرقاق۔ مسلم، کتاب الطہارت و کتاب الفضائل۔ مسند احمد، مرویات ابن مسعود، ابن عمر، وعبداللہ بن عمرو بن العاص۔ ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ۔ ابن ماجہ، کتاب الزھد، ابو داؤد طیالسی، حدیث 995۔ 2135)
(5) اس کے بارے میں حضور نے بار بار اپنے زمانے کے لوگوں کو خبردار کیا کہ میرے بعد تم میں سے جو لوگ بھی میرے طریقے کو بدلیں گے ان کو اس حوض سے ہٹا دیا جائے گا اور اس پر انہیں نہ آنے دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ یہ میرے اصحاب میں تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا ہے۔ پھر میں بھی ان کو دفع کروں گا اور کہوں گا کہ دور ہو۔ یہ مضمون بھی بکثرت روایات میں بیان ہوا ہے (بخاری، کتاب الرقاق، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الطہارۃ، کتاب الفضائل۔ مسند احمد، مرویات ابن مسعود و ابوہریرہ۔ ابن ماجہ، کتاب المناسک۔ ابن ماجہ نے اس سلسلے میں جو حدیث نقل کی ہے وہ بڑے ہی دردناک الفاظ میں ہے۔ اس میں حضور فرماتے ہیں الا وانی فرطکم علی الحوض واکاثر بکم الامم فلا تسودوا وجھی، الا وانی مستنقذ اناسا و مستنقذ اناس منی فاقول یا رب اصیحابی، فیقول انک لا تدری ما احدثوا بعدک۔ " خبردار رہو، میں تم سے آگے حوض پر پہنچا ہوا ہوں گا اور تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔ اس وقت میرا منہ کالا نہ کروانا، خبردار رہو کچھ لوگوں کو میں چھڑاؤں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے، میں کہوں گا کہ اے پروردگار یہ تو میرے صحابی ہیں، وہ فرمائے گا تم نہیں جانتے انہوں نے تمہارے بعد کیا نرالے کام کیے ہیں "۔ ابن ماجہ کی روایت ہے کہ یہ الفاظ حضور نے عرفات کے خطبے میں فرمائے تھے)
(6) اسی طرح حضور نے اپنے دور کے بعد قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ ان میں سے جو بھی میرے طریقے سے ہٹ کر چلیں گے اور اس میں ردو بدل کریں گے انہیں اس حوض سے ہٹا دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے رب یہ تو میرے ہیں، میری امت کے لوگ ہیں، جواب ملے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا تغیرات کیے اور الٹے ہی پھرتے چلے گئے۔ پھر میں بھی ان کو دفع کروں گا اور حوض پر نہ آنے دوں گا۔ اس مضمون کی بہت سی روایات احادیث میں ہیں (بخاری) کتاب المساقات، کتاب الرقاق، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الطہارۃ، کتاب الصلوۃ، کتاب الفضائل۔ ابن ماجہ، کتاب الزہد۔ مسند احمد مرویات ابن عباس)
اس حوض کی روایات 50 سے زیادہ صحابہ سے مروی ہیں، اور سلف نے بالعموم اس سے مراد حوض کوثر لیا ہے۔ امام بخاری نے کتاب الرقاق کے آخری باب کا عنوان ہی یہ باندھا ہے باب فی الحوض و قول اللہ اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔ اور حضرت انس کی ایک روایت میں تو تصریح ہے کہ حضور نے کوثر کے متعلق فرمایا ھو حوض ترد علیہ امتی۔ " وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت وارد ہوگی "۔
جنت میں کوثر نامی جو نہر رسول اللہ ﷺ کو عطا کی جائے گی اس کا ذکر بھی بکثرت روایات میں آیا ہے۔ حضرت انس سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں وہ فرماتے ہیں (اور بعض روایات میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قول کی حیثیت سے بیان کرتے ہیں) کہ معراج کے موقع پر حضور کو جنت کی سیرا کرائی گئی اور اس موقع پر آپ نے ایک نہر دیکھی جس کے کناروں پر اندر سے ترشے ہوئے موتیوں یا ہیروں کے قبے بنے ہوئے تھے۔ اس کی تہ کی مٹی مشک اذفر کی تھی۔ حضور نے جبریل سے یا اس فرشتے سے جس نے آپ کو سیر کرائی تھی، پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا، یہ نہر کوثر ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمزی، ابو داؤد طیالسی، ابن جریر) حضرت انس ہی کی روایت ہے کہ حضور سے پوچھا گیا (یا ایک شخص نے پوچھا) کوثر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت میں عطا کی ہے۔ اس کی مٹی خشک ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن جریر۔ مسند احمد کی ایک اور راویت میں ہے کہ حضور نے نہر کوثر کی یہ صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کی تہ میں کنکریوں کے بجائے موتی پڑے ہوئے ہیں) ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کے کنارے سونے کے ہیں، وہ موتیوں اور ہیروں پر بہ رہی ہے (یعنی کنکریوں کی جگہ اس کی تہ میں یہ جواہر پڑے ہوئے ہیں) اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اس کا پانی دودھ سے (یا برف سے) زیادہ سفید ہے، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم، دارمی، ابو داؤد طیالسی، ابن المنذر، ابن مردویہ، ابن ابی شیبہ) اسامہ بن زید کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ حضرت حمزہ کے ہاں تشریف لے گئے۔ وہ گھر پر نہ تھے۔ ان کی اہلیہ نے حضور کی تواضع کی اور دوران گفتگو عرض کیا کہ میرے شوہر نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کو جنت میں ایک نہر عطا کی گئی ہے جس کا نام کوثر ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں، اور اس کی زمین یاقوت و مرجان اور زبرجد اور موتیوں کی ہے (ابن جریر، ابن مردویہ۔ اس کی سند اگرچہ ضعیف ہے مگر اس مضمون کی کثیر التعداد روایات کا موجود ہونا اس کو تقویت پہنچاتا ہے) ان مرفوع روایات کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے بکثرت اقوال احادیث میں نقل ہوئے ہیں جن میں وہ کوثر سے مراد جنت کی یہ نہر لیتے ہیں اور اس کی وہی صفات بیان کرتے ہیں جو اوپر گزری ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت انس بن مالک، حضرت عائشہ، مجاہد اور ابوالعالیہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کے اقوال مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن مردویہ، ابن جریر، اور ابن ابی شیبہ وغیرہ محدثین کی کتابوں میں موجود ہیں۔
Ayah 108:2سورة الکوثر 2
اس کی مختلف تفسیریں مختلف بزرگوں سے منقول ہیں۔ بعض حضرات نے نماز سے مراد پنج وقتہ فرض نماز لی ہے، بعض اس سے بقر عید کی نماز مراد لیتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ بجائے خود نماز مراد ہے۔ اسی طرح وانحر یعنی نحر کرو سے مراد بعض جلیل القدر بزرگوں سے یہ منقول ہے کہ نماز میں بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھ کر اسے سینے پر باندھنا ہے، بعض کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہنا ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ افتتاح نماز کے وقت، اور رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھ کر رفع یدین کرنا مراد ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد بقر عید کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد قربانی کرنا ہے۔ لیکن جس موقع پر یہ حکم دیا گیا ہے اس پر اگر غور کیا جائے تو اس کا مطلب صریحا یہ معلوم ہوتا ہے کہ " اے نبی، جب تمہارے رب نے تم کو اتنی کثیر اور عظیم بھلائیاں عطا کی ہیں تو تم اسی کے لیے نماز پڑھو اور اسی کے لیے قربانی کرو "۔ یہ حکم اس ماحول میں دیا گیا تھا جب مشرکین قریش ہی نہیں تمام عرب کے مشرکین اور دنیا بھر کے مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے تھے اور انہی کے آستانوں پر قربانیاں چڑھاتے تھے۔ پس حکم کا منشا یہ ہے کہ مشرکین کے برعکس تم اپنے اسی رویے پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو کہ تمہاری نماز اللہ ہی کے لیے ہو اور قربانی بھی اسی کے لیے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ لَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ۔ " اے نبی کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، سی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں "۔ (الانعام۔ 162۔ 163) یہی مطلب ابن عباس، عطا، مجاہد، عکرمہ، حسن بصری، قتادہ، محمد بن کعب قلرظی، ضحاک، ربیع بن انس، عطاء الخراسانی، اور بہت سے دوسرے اکابر مفسرین رحمہم اللہ نے بیان کیا ہے (ابن کثیر) البتہ یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بقر عید کی نماز اور قربانی کا طریقہ جاری کیا تو اس بنا پر کہ آیت اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ اور آیت فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ میں نماز کو مقدم اور قربانی کو موخر رکھا گیا ہے، آپ نے خود بھی یہ عمل اختیار فرمایا اور اسی کا حکم مسلمانوں کو دیا کہ اس روز پہلے نماز پڑھیں اور پھر قربانی کریں۔ یہ اس آیت کی تفسیر نہیں ہے، نہ اس کی شان نزول ہے، بلکہ ان آیات سے حضور کا استنباط ہے، اور آپ کا استنباط بھی وحی کی ایک قسم ہے۔
Ayah 108:3سورة الکوثر 3
اصل میں لفظ شانِئَكَ استعمال ہوا ہے۔ شانی شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور ایسی عداوت کے ہیں جس کی بنا پر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرنے لگے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ " اور اے مسلمانو ! کسی گروہ کی عداوت تمہیں اس زیادتی پر آمادہ نہ کرنے پائے کہ تم انصاف نہ کرو " (المائدہ 8) پس شانِئَكَ سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دشمنی اور عداوت میں ایسا اندھا ہوگیا ہو کہ آپ کو عیب لگاتا ہو، آپ کے خلاف بدگوئی کرتا ہو، آپ کی توہین کرتا ہو، اور آپ پر طرح طرح کی باتیں چھانٹ کر اپنے دل کا بخار نکالتا ہو۔
سورة الکوثر 4
هُوَ الْاَبْتَرُ " وہی ابتر ہے " فرمایا گیا ہے، یعنی وہ آپ کو ابتر کہتا ہے، لیکن حقیقت میں ابتر وہ خود ہے۔ ابتر کی کچھ تشریح ہم اس سے پہلے اس سورة کے دیباچے میں کرچکے ہیں۔ یہ لفظ بتر سے ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حدیث میں نماز کی اس رکعت کو جس کے ساتھ کوئی دوسری رکعت نہ پڑھی جائے بتیراء کہا گیا ہے، یعنی اکیلی رکعت۔ ایک اور حدیث میں ہے کل امر ذی بال لا یبدأ فیہ بحمد اللہ فھو ابتر۔ " ہر وہ کام جو کوئی اہمیت رکھتا ہو، اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ابتر ہے "۔ یعنی اس کی جڑ کٹی ہوئی ہے، اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہے، یا اس کا انجام اچھا نہیں ہے۔ نامراد آدمی کو ابتر کہتے ہیں۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہوجانے والا بھی ابتر کہلاتا ہے۔ جس شخص کے لیے کسی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہی ہو اور جس کی کامیابی کی سب امیدیں منقطع ہوگئی ہوں وہ بھی ابتر ہے، جو آدمی اپنے کنبے برادری اور اعوان و انصار سے کٹ کر اکیلا رہ گیا ہو وہ بھی ابتر ہے۔ جس آدمی کی کوئی اولاد نرینہ نہ ہو یا مرگئی ہو اس کے لیے بھی ابتر کا لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے اس کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہتا، اور مرنے کے بعد وہ بےنام و نشان ہوجاتا ہے۔ قریب قریب ان سب معنوں میں کفار قریش رسول اللہ ﷺ کو ابتر کہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی، ابتر تم نہیں ہو بلکہ تمہارے یہ دشمن ابتر ہیں۔ یہ محض کوئی " جوابی حملہ " نہ تھا، بلکہ درحقیقت یہ قرآن کی بڑی اہم پیشینگوئیوں میں سے ایک پیشینگوئی تھی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اس وقت لوگ حضور ہی کو ابتر سمجھ رہے تھے اور کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہوجائیں گے جو نہ صرف مکہ میں بلکہ پورے عرب میں نامور تھے، کامیاب تھے، مال و دولت اور اولاد ہی کی نعمتیں نہیں رکھتے تھے بلکہ سارے ملک میں جگہ جگہ ان کے اعوان و انصار موجود تھے، تجارت کے اجارہ دار اور حج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام قبائل عرب سے ان کے وسیع تعلقات تھے۔ لیکن چند سال نہ گزرے تھے کہ حالات بالکل پلٹ گئے۔ یا تو وہ وقت تھا کہ غزوہ احزاب (5 ھ) کے موقع پر قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل کو لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور کو محصور ہو کر شہر کے گرد خندق کھود کر مدافعت کرنی پڑی تھی، یا تین ہی سال بعد وہ وقت آیا کہ 8 ھ میں جب آپ نے مکہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگار نہ تھا اور انہیں بےبسی کے ساتھ ہتھیار ڈال دینے پڑے۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر پورا ملک عرب حضور کے ہاتھ میں تھا، ملک کے گوشے گوشے سے قبائل کے وفود آکر بیعت کر رہے تھے۔ اور آپ کے دشمن بالکل بےبس اور بےیارومددگار ہو کر رہ گئے تھے۔ پھر وہ ایسے بےنام و نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو ان میں سے آج کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ ابو جہل یا ابو لہب یا عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط وغیرہ اعدائے اسلام کی اولاد میں سے ہے، اور جانتا بھی ہو تو کوئی یہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ اس کے برعکس رسول اللہ ﷺ کی آل پر آج دنیا بھر میں درود بھیجا جارہا ہے۔ کروڑوں مسلمانوں کو آپ سے نسبت پر فخر ہے۔ لاکھوں انسان آپ ہی سے نہیں بلکہ آپ کے خاندان اور آپ کے ساتھیوں کے خاندانوں تک سے انتساب کو باعث شرف سمجھتے ہیں۔ کوئی سید ہے، کوئی علوی ہے، کوئی عباسی ہے، کوئی ہاشمی ہے، کوئی صدیقی ہے، کوئی فاروقی ہے، کوئی عثمانی ہے، کوئی زبیری ہے، اور کوئی انصاری۔ مگر نام کو بھی کوئی ابو جہلی یا ابو لہبی نہیں پایا جاتا۔ تاریخ نے ثابت کردیا کہ ابتر حضور نہیں بلکہ آپ کے دشمن ہی تھے اور ہیں۔