107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

آخری آیت کے آخری لفظ الماعون کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا۔

زمانہ نزول

ابن مردویہ نے ابن عباس اور ابن الزبیر (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور یہی قول عطاء اور جابر کا بھی ہے۔ لیکن ابو حیان نے البحر المحیط میں ابن عباس اور قتادہ اور ضحاک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت کے اندر ایک داخلی شہادت ایسی موجود ہے جو اس کے مدنی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس میں ان نماز پڑھنے والوں کو تباہی کی وعید سنائی گئی ہے جو اپنی نمازوں سے غفلت برتتے اور دکھاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ منافقین کی یہ قسم مدینے میں ہی پائی جاتی تھی، کیونکہ وہیں اسلام اور اہل اسلام کو یہ قوت حاصل ہوئی تھی کہ بہت سے لوگوں کو مصلحتاً ایمان لانا پڑا تھا اور وہ مجبوراً مسجد میں آتے تھے، جماعت میں شریک ہوتے تھے اور دکھاوے کی نمازیں پڑھتے تھے تاکہ انہیں مسلمانوں میں شمار کیا جائے اس کے برعکس مکہ میں ایسے حالات سرے سے موجود ہی نہ تھے کہ وہاں کسی کو دکھاوے کی نماز پڑھنا پڑتی۔ وہاں تو اہل ایمان کے لیے نماز باجماعت کا اہتمام بھی مشکل تھا۔ ان کو چھپ چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی اور کوئی علانیہ پڑھتا تھا تو جان پر کھیل کر پڑھتا تھا۔ منافقین کی جو قسم وہاں پائی جاتی تھی وہ ریاکارانہ ایمان لانے اور دکھاوے کی نمازیں پڑھنے والوں کی نہیں، بلکہ ان لوگوں کی تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے برسر حق ہونے کو جان اور مان گئے تھے، مگر ان میں سے کوئی اپنی ریاست و وجاہت وار مشیخت کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہا تھا اور کوئی یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان ہو کر ان مصائب میں مبتلا ہوجائے جن میں وہ ایمان لانے والوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مبتلا ہوتے دیکھ رہا تھا۔ مکی دور کے منافقین کی یہ حالت سورة عنکبوت آیات 10 – 11 میں بیان کی گئی ہے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع یہ بتانا ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔ آیت 2 اور 3 میں ان کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو علانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں اور آخری چار آیتوں میں ان منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل میں آخرت اور اس کی جزا و سزا اور اس کے ثواب و عقاب کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دونوں قسم کے گروہوں کے طرز عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے اندر ایک مضبوط اور مستحکم پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔

Ayah 107:1

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

تم نے دیکھا 1 اُس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا 2 کو جھُٹلاتا ہے؟ 3

سورة الماعون 1 تم نے دیکھا کا خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر قرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ ایسے مواقع پر وہ عموما ہر صاحب عقل اور سوچنے سمجھنے والے شخص کو مخاطب کرتا ہے۔ اور دیکھنے کا مطلب آنکھوں سے دیکھنا بھی ہے، کیونکہ آگے لوگوں کا جو حال بیان کیا گیا ہے وہ ہر دیکھنے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے، اور اس کا مطلب جاننا، سمجھنا اور غور کرنا بھی ہے۔ عربی کی طرح اردو میں بھی دیکھنے کا لفظ اس دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلا ہم کہتے ہیں کہ " میں دیکھ رہا ہوں " اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں جانتا ہوں یا مجھے خبر ہے۔ یا مثلا ہم کہتے ہیں کہ " ذرا یہ بھی تو دیکھو " اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ذرا اس بات پر بھی غور کرو۔ پس اگر لفظ اَرَءَيْتَ کو اس دوسرے معنی میں لیا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ " جانتے ہو وہ کیسا شخص ہے جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے " ؟ یا " تم نے غور کیا اس شخص کے حال پر جو جزائے اعمال کی تکذیب کرتا ہے " ؟ سورة الماعون 2 اصل میں يُكَذِّبُ بالدِّيْنِ فرمایا گیا ہے۔ الدین کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں آخرت کی جوائے اعمال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور دین اسلام کے لیے بھی۔ لیکن جو مضمون آگے بیان ہوا ہے اس کے ساتھ پہلے معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ اگرچہ دوسرے معنی بھی سلسلہ کلام سے غیر مطابق نہیں ہیں۔ ابن عباس نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے، اور اکثر مفسرین پہلے معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر پہلی معنی لیے جائیں تو پوری سورة کے مضمون کا مطلب یہ ہوگا کہ آخرت کے انکار کا عقیدہ انسان میں یہ سیرت و کردار پیدا کرتا ہے۔ اور دوسرے معنی لیے جائیں تو پوری سورة کا مدعا دینا سلام کی اخلاقی اہمیت واضح کرنا قرار پائے گا۔ یعنی کلام کا مقصد یہ ہوگا کہ اسلام اس کے برعکس سیرت و کردار پیدا کرنا چاہتا ہے جو اس دین کا انکار کرنے والوں میں پائی جاتی ہے۔ سورة الماعون 3 انداز کلام سے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اس سوال سے بات کا آغاز کرنے کا مقصد یہ پوچھنا نہیں ہے کہ تم نے اس شخص کو دیکھا ہے یا نہیں، بلکہ سامع کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دینا ہے کہ آخرت کی جازا و سزا کا انکار آدم میں کس قسم کا کردار پیدا کرتا ہے، اور اسے یہ جاننے کا خواہشمند بنانا ہے کہ اس عقیدے کو جھٹلانے والے کیسے لوگ ہوتے ہیں تاکہ وہ ایمان بالآخرۃ کی اخلاقی اہمیت سمجھنے کی کوشش کرے۔
Ayah 107:2

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

وہی تو ہے 4 جو یتیم کو دھکّے دیتا ہے، 5

سورة الماعون 4 اصل میں فَذٰلِكَ الَّذِيْ فرمایا گیا ہے۔ اس فقرے میںایک پورے جملے کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ " اگر تم نہیں جانتے تو تمہیں معلوم ہو کہ وہی تو ہے جو " یا پھر یہ اس معنی میں ہے کہ " اپنے اسی انکار آخرت کی وجہ سے وہ ایسا شخص ہے جو "۔ سورة الماعون 5 اصل میں يَدُعُّ الْيَتِيْمَ کا فقرہ استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ یتیم کا حق مار کھاتا ہے اور اس کے باپ کی چھوڑی ہوئی میراث سے بےدخل کر کے اسے دھکے مار کر نکال دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یتیم اگر اس سے مدد مانگنے آتا ہے تو رحم کھانے کے بجائے اسے دھتکار دیتا ہے اور پھر بھی اگر وہ اپنی پریشان حالی کی بنا پر رحم کی امید لیے ہوئے کھڑا رہے تو اسے دھکے دے کر دفع کردیتا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ یتیم پر ظلم ڈھاتا ہے، مثلا اس کے گھر میں اگر اس کا اپنا ہی کوئی رشتہ دار یتیم ہو تو اس کے نصیب میں سارے گھر کی خدمتگاری کرنے اور بات بات پر چھڑکیاں اور ٹھوکریں کھانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ علاوہ بریں اس فقرے میں یہ معنی بھی پوشیدہ ہیں کہ اس شخص سے کبھی کبھار یہ ظالمانہ حرکت سرزد نہیں ہوجاتی، بلکہ اس کی عادت اور اس کا مستقل رویہ یہی ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں ہے کہ یہ کوئی برا کام ہے جو وہ کر رہا ہے۔ بلکہ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ یہ روش اختیار کیے رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یتیم ایک بےبس اور بےیارومددگار مخلوق ہے، اس لیے کوئی ہرج نہیں اگر اس کا حق مار کھایا جائے۔ یا اسے ظلم و ستم کا تختہ مشق بنا کر رکھا جائے یا وہ مدد مانگنے کے لیے آئے تو اسے دھتکار دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک بڑا عجیب واقعہ قاضی ابو الحسن الماوردی نے اپنی کتاب اعلام النبوۃ میں لکھا ہے۔ ابو جہل ایک یتیم کا وصی تھا۔ وہ بچہ ایک روز اس حالت میں اس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے اور اس نے التجا کی کہ اس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں سے وہ اسے کچھ دیدے۔ مگر اس ظالم نے اس کی طرف توجہ تک نہ کی اور وہ کھڑے کھڑے آخر کار مایوس ہو کر پلٹ گیا۔ قریش کے سرداروں نے ازا راہ شرارت اس سے کہا کہ محمد ﷺ کے پاس جاکر شکایت کر، وہ ابو جہل سے سفارش کر کے تجھے تیرا مال دلوا دیں گے۔ بچہ بےچارہ ناواقف تھا کہ ابو جہل کا حضور سے کیا تعلق ہے اور یہ بدبخت اسے کس غرض کے لیے یہ مشورہ دے رہے ہیں، وہ سیدھا حضور کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپ سے بیان کیا۔ آپ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بد ترین دشمن ابو جہل کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپ کو دیکھ کر اس نے آپ کا استقبال کیا اور جب آپ نے فرمایا کہ اس بچے کا حق اسے دے دو ، تو وہ فورا مان گیا اور اس کا مال لاکر اسے دے دیا۔ قریش کے سردار تاک میں لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں ان دونوں کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے۔ وہ کسی مزے دار جھڑپ کی امید کر رہے تھے۔ مگر جب انہوں نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران ہو کر ابو جہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے۔ اس نے کہا خدا کی قسم، میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد ﷺ کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے جو میرے اندر گھس جائے گا اگر میں نے ذرا بھی ان کی مرضی کے خلاف حرکت کی، اس واقعہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں عرب کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور معزز قبیلے تک کے بڑے بڑے سرداروں کا یتیموں اور دوسرے بےیارو مددگار لوگوں کے ساتھ کیا سلوک تھا، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپ کے اس اخلاق کا آپ کے بدترین دشمنوں تک پر کیا رعب تھا۔ اسی قسم کا ایک واقعہ ہم اس سے پہلے تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحہ 146 پر نقل کرچکے ہیں، جو حضور کے اس زبردست اخلاقی رعب پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے کفار قریش آپ کو جادوگر کہتے تھے۔
Ayah 107:3

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور مسکین کا کھانا 6 دینے پر نہیں اُکساتا۔ 7

سورة الماعون 6 اِطعَامِ الْمِسْكِيْنِ نہیں بلکہ طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اگر اطعام مسکین کہا گیا ہوتا تو معنی یہ ہوتے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ لیکن طعام المسکین کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔ بالفاظ دیگر جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے، وہ اس کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے، اور دینے والا کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کا حق ادا کر رہا ہے، یہی بات ہے جو سورة ذاریات آیت 19 میں فرمائی گئی ہے کہ وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ " اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے "۔ سورة الماعون 7 لَا يَحُضُّ کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اپنے نفس کو بھی اس کام پر آمادہ نہیں کرتا، اپنے گھر والوں کو بھی یہ نہیں کہتا کہ مسکین کا کھانا دیا کریں، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس بات پر اکسا تاکہ معاشرے میں جو غریب و محتاج لوگ بھوکے مر رہے ہیں ان کے حقوق پہچانیں اور انکی بھوک مٹانے کے لیے کچھ کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے صرف دو نمایاں ترین مثالیں دے کر دراصل یہ بتایا ہے کہ انکار آخرت لوگوں میں کسی قسم کی اخلاقی برائیاں پیدا کرتا ہے۔ اصل مقصود ان دو ہی باتوں پر گرفت کرنا نہیں ہے کہ آخرت کو نہ ماننے سے بس یہ دو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ یتیموں کو دھتکارتے ہیں اور مسکینوں کا کھانا دینے پر نہیں اکساتے۔ بلکہ جو بیشمار خرابیاں اس گمراہی کے نتیجے میں رونما ہوتی ہیں ان میں سے دو ایسی چیزیں بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں جن کو ہر شریف الطبع اور سلیم الفطرت انسان مانے گا کہ وہ نہایت قبیح اخلاقی رذائل ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین کرنی مقصود ہے کہ اگر یہی شخص خدا کے حضور اپنی حاضری اور جواب دہی کا قائل ہوتا تو اس سے ایسی کمینہ حرکتیں سرزد نہ ہوتیں کہ یتیم کا حق مارے، اس پر ظلم ڈھائے، اس کو دھتکارے، اور مسکین کو نہ خود کھلائے نہ کسی سے یہ کہے کہ اس کا کھانا اس کو دو۔ آخرت کا یقین رکھنے والوں کے اوصاف تو وہ ہیں جو سورة عصر اور سورة بلد میں بیان کیے گئے ہیں کہ وَتَوَاصَوْا بالْمَرْحَمَةِ (وہ ایک دوسرے کو خلق خدا پر رحم کھانے کی نصیحت کرتے ہیں) اور وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ (وہ ایک دوسرے کو حق پرستی اور ادائے حقوق کی نصیحت کرتے ہیں)۔
Ayah 107:4

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے 8

سورة الماعون 8 فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاںاس معنی میں ہے کہ کھلے کھلے منکرین آخرت کا حال تو یہ تھا جو ابھی تم نے سنا، اب ذرا ان منافقوں کا حال بھی دیکھو جو نماز پڑھنے والے گروہ، یعنی مسلمانوں میں شامل ہیں۔ وہ چونکہ بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود آخرت کو جھوٹ سمجھتے ہیں، اس لیے ذرا دیکھو کہ وہ اپنے لیے کس تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔ مُصَلِّيْنَ کے معنی تو " نماز پڑھنے والوں " کے ہیں، لیکن جس سلسلہ کلام میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آگے ان لوگوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان کے لحاظ سے اس لفظ کے معنی درحقیقت نمازی ہونے کے نہیں بلکہ اہل صلوۃ، یعنی مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہونے کے ہیں۔
Ayah 107:5

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں، 9

سورة الماعون 9 فِیْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ نہیں کہا گیا بلکہ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ کہا گیا ہے۔ اگر فی سلوتہم کے الفاظ استعمال ہوتے تو مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنی نماز میں بھولتے نہیں۔ لیکن نماز پڑھتے پڑھتے کچھ بھول جانا شریعت میں نفاق تو درکنار گناہ بھی نہیں ہے، بلکہ سرے سے کوئی عیب یا قابل گرفت بات تک نہیں ہے۔ خود نبی ﷺ کو بھی کسی وقت نماز میں بھول لاحق ہوئی ہے۔ اور حضور نے اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو کا طریقہ مقرر فرمایا ہے۔ اس کے برعکس عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی نماز سے غافل ہیں۔ نماز پڑھی تو اور نہ پڑھہ تو، دونوں کی ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کبھی پڑھتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے۔ پڑھتے ہیں تو اس طرح کہ نماز کے وقت کو ٹالتے رہتے ہیں اور جب وہ بالکل ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتے ہیں۔ یا نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو بےدلی کے ساتھ اٹھتے ہیں اور بادل ناخواستہ پڑھ لیتے ہیں جیسے کوئی مصیبت ہے جو ان پر نازل ہوگئی ہے۔ کپڑوں سے کھیلتے ہیں، جمائیاں لیتے ہیں، خدا کی یاد کا کوئی شائبہ تک ان کے اندر نہیں ہوتا۔ پوری نماز میں نہ ان کہ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور نہ یہ خیال رہتا ہے کہ انہوں نے کیا پڑھا ہے۔ پڑھ رہے ہوتے ہیں نماز اور دل کہیں اور پڑا رہتا ہے۔ مارا مار اس طرح پڑھتے ہیں کہ نہ قیام ٹھیک ہوتا ہے نہ رکوع نہ سجود۔ بس کسی نہ کسی طرح نماز کی سی شکل بنا کر جلدی سے جلدی فارغ ہوجانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ تو ایسے ہیں کہ کسی جگہ پھنس گئے تو نماز پڑھ لی، ورنہ اس عابدت کا کوئی مقام ان کی زندگی میں نہیں ہوتا، نماز کا وقت آتا ہے تو انہیں محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ نماز کا وقت ہے۔ موذن کی آواز کان میں آتی ہے تو انہیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ یہ کیا پکار رہا ہے، کس کو پکار رہا ہے اور کس لیے پکار رہا ہے۔ یہی آخرت پر ایمان نہ ہونے کی علامات ہیں۔ کیونکہ دراصل اسلام کے مدعیوں کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ نہ نماز پڑھنے پر کسی جزا کے قائل ہیں اور نہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ کے نہ پڑھنے پر کوئٰ سزا ملے گی۔ اسی بنا پر حضرت انس بن مالک اور عطا بن دینار کہتے ہیں کہ خدا کا شکر ہے اس نے فِیْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ نہیں بلکہ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ فرمایا۔ یعنی ہم نماز میں بھولتے تو ضرور ہیں مگر نماز سے غافل نہیں ہیں اس لیے ہمارا شمار منافقوں میں نہیں ہوگا۔ قرآن مجید میں منافقین کی اس کیفیت کو دوسری جگہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ۔ " وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر کسمساتے ہوئے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ نہیں کرتے مگر بادل ناخواستہ " (التوبہ 54) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تلک صلوۃ المنافق، تلک صلوۃ المنافق، تلک صلوۃ المنافق یجلس یرقب الشمس حتی اذا کانت بین قرنی الشیطان قام فقر اربعا لا یذکر اللہ فیھا الا قلیلا " یہ منافق کی نماز ہے یہ منافق کی نماز ہے، یہ منافق کی نماز ہے، عصر کے وقتبیٹحا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا (یعنی غروب کا وقت آجاتا ہے) تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے جن میں اللہ کو کم ہی یاد کرتا ہے "۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد) حضرت سعد بن ابی وقاص سے ان کے صاحبزادے مصعب بن سعد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا تھا جو نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں۔ (ابن جریر، ابو یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن۔) یہ روایت حضرت سعد کے اپنے قول کی حیثیت سے بھی موقوفا نقل ہوئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی حیثیت سے اس کی مرفوعا روایت کو بیہقی اور حاکم نے ضعیف قرار دیا ہے) حضرت مصعب کی دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد سے پوچھا کہ اس آیت پر آپ نے غور فرمایا ؟ کیا اس کا مطلب نماز کو چھوڑ دینا ہے ؟ یا اس سے مراد نماز پڑھتے پڑھتے آدمی کا خیال کہیں اور چلا جانا ہے ؟ خیال بٹ جانے کی حالت ہم میں سے کسی پر نہیں گزرتی ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں، اس سے مراد نماز کے وقت کو ضائع کرنا اور اسے وقت ٹال کر پڑھنا ہے (ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابو یعلی، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن) اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نماز میں دوسرے خیالات کا آجانا اور چیز ہے اور نماز کی طرف کبھی متوجہ ہی نہ ہونا اور اس میں ہمیشہ دوسری باتیں ہی سوچتے رہنا بالکل دوسری چیز۔ پہلی حالت تو بشریت کا تقاضا ہے، بلا ارادہ دوسرے خیالات آ ہی جاتے ہیں، اور مومن کو جب بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ نماز سے اس کی توجہ ہٹ گئی ہے تو وہ پھر کوشش کر کے اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ دوسری حالت نماز سے غفلت برتنے کی تعریف میں آتی ہے، کیونکہ اس میں آدمی صرف نماز کی ورزش کرلیتا ہے، خدا کی یاد کوئی ارادہ اس کے دل میں نہیں ہوتا، نماز شروع کرنے سے سلام پھیرنے تک ایک لمحہ کے لیے بھی اس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، اور جن خیالات کو لیے ہوئے وہ نماز میں داخل ہوتا ہے انہی میں مستغرق رہتا ہے۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو ریا کاری کرتے ہیں 10

سورة الماعون 10 یہ فقرہ ایک مستقل فقرہ بھی ہوسکتا ہے اور پہلے فقرے سے متعلق بھی۔ اگر اسے ایک مستقل فقرہ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نیک کام بھی وہ خالص نیت کے ساتھ خدا کے لیے نہیں کرتے بلکہ جو کچھ کرتے ہیں دوسروں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی تعریف ہو، لوگ ان کو نیکو کار سمجھیں، ان کے کار خیر کا ڈھنڈورا دنیا میں پٹے، اور اس کا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں انہیں دنیا ہی میں حاصل ہوجائے۔ اور اگر اس کا تعلق پہلے فقرے کے ساتھ مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ مفسرین نے بالعموم دوسرے ہی معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ پہلی نظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کا تعلق پہلے فقرے سے ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مراد منافقین ہیں جو دکھاوے کی نماز پڑھتے تھے، اگر دوسرے لوگ موجود ہوتے تو پڑھ لیتے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو نہیں پڑھتے تھے "۔ دوسری روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں " تنہا ہوتے تو نہ پڑھتے اور علانیہ پڑھ لیتے تھے " (ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب) قرآن مجید میں بھی منافقین کی یہ حالت بیان کی گئی ہے کہ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا " اور جب وہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں، لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں "۔ (النساء۔ 142)
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور معمولی ضرورت کی چیزیں 11 (لوگوں کو)دینے سے گریز کرتے ہیں

سورة الماعون 11 اصل میں لفظ ماعون استعمال ہوا ہے۔ حضرت علی، ابن عمر، سعید بن جبیر، قتادہ، حسن بصری، محمد بن حنفیہ، ضحاک، ابن زید، عکرمہ، مجاہد، عطاء اور زہری رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ ہے۔ ابن عباس، ابن مسعود، ابراہیم نخعی، ابو مالک، ؓ ، اور بہت سے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد عام ضرورت کی اشیاء مثلا ہنڈیا، ڈول، کلہاڑی، ترازو، نمک، پانی، آگ، چقماق (جن کی جانشین اب دیا سلائی ہے) وغیرہ ہیں جو عموما لوگ ایک دوسرے سے عاریۃ مانگتے رہتے ہیں۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے۔ حضرت علی کا بھی ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ بھی ہے اور یہ چھوٹی چھوٹی عام ضروریات کی چیزیں بھی۔ عکرمہ سے ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ ماعون کا اعلی مرتبہ زکوٰۃ ہے اور ادنی ترین مرتبہ یہ ہے کہ کسی کو چھلنی، ڈول یا سوئی عاریۃ دی جائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب محمد ﷺ یہ کہا کرتے تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ حضور کے عہد مبارک میں یہ کہا کرتے تھے) کہ ماعون سے مراد ہنڈیا، کلہاڑی، ڈول، ترازو، اور ایسی ہی دوسری چیزیں مستعار دینا ہے (ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، نسائی، بزار، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن، سعد بن عیاض ناموں کے تصریح کے بغیر قریرب قریب یہی قول رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے نقل کرتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے متعدد صحابہ سے یہ بات سنی تھی (ابن جریر، ابن ابی شیبہ) دیلمی، ابن عساکر اور ابو نعیم نے حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی یہ تفسیر بیان فرمائی کہ اس سے مراد کلہاڑی اور ڈول اور ایسی ہی دوسری چیزیں ہیں۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو غالبا یہ دوسرے لوگوں کے علم میں نہ آئی ہوگی، ورنہ ممکن نہ تھا کہ پھر کوئی شخص اس آیت کی کوئی اور تفسیر کرتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ماعون چھوٹی اور قلیل چیز کو کہتے ہیں جس میں لوگوں کے لیے کوئی منفعت یا فائدہ ہو۔ اس معنی کے لحاظ سے زکوٰۃ بھی ماعون ہے، کیونکہ وہ بہت سے مال میں سے تھوڑا سا مال ہے جو غریبوں کی مدد کے لیے دنیا ہوتا ہے، اور وہ دوسری عام ضرورت کی اشیاء کی بھی ماعون ہیں جن کا ذکر حضرت عبداللہ بن مسعود اور ان کے ہم خیال حضرات نے کیا ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ ماعون کا اطلاق ان تمام چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہوتا ہے جو عادۃ ہمسایے ایک دوسرے سے مانگتے رہتے ہیں۔ ان کا مانگنا کوئی ذلت کی بات نہیں ہوتا، کیونکہ غریب اور امیر سب ہی کو کسی نہ کسی وقت ان کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ البتہ ایسی چیزوں کو دینے سے بخل برتنا اخلاقا ایک ذلیل حرکت سمجھا جاتا ہے، عموما ایسی چیزیں بجائے خود باقی رہتی ہیں اور ہمسایہ ان سے کام لے کر انہیں جوں کا توں واپس دے دیتا ہے۔ اسی ماعون کی تعریف میں یہ بھی آتا ہے کہ کسی کے ہاں مہمان آجائیں اور وہ ہمسائے سے چارپائی یا بستر مانگ لے، یا کوئی اپنے ہمسائے کے تنور میں اپنی روٹی پکا لینے کی اجازت مانگے۔ یا کوئی کچھ دنوں کے لیے باہر جارہا ہو اور حفاظت کے لیے اپنا کوئی قیمتی سامان دوسرے کے ہاں رکھوانا چاہے۔ پس آیت کا مقصود یہ بتانا ہے کہ آخرت کا انکار آدمی کو اتنا تنگ دل بنا دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کوئی معمولی ایثار کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔