106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ قریش کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

اگرچہ ضحاک اور کلبی نے اس کو مدنی کہا ہے، لیکن مفسرین کی عظیم اکثریت اس کے مکی ہونے پر متفق ہے اور اس کے مکی ہونے کی مکمل شہادت خود اس سورت کے الفاظ رب ھٰذا البیت (اس گھر کے رب) میں موجود ہے۔ اگر یہ مدینہ میں نازل ہوتی تو خانہ کعبہ کے لیے " اس گھر " کے الفاظ کیسے موزوں ہو سکتے تھے ؟ بلکہ اس کے مضمون کا سورة فیل کے مضمون سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ غالباً اس کا نزول اس کے متصلاً بعد ہی ہوا ہوگا۔ دونوں سورتوں کے درمیان اسی مناسبت کی بنا پر سلف میں سے بعض بزرگ اس بات کے بھی قائل ہوئے ہیں کہ یہ دونوں دراصل ایک ہی سورت ہیں۔ اس خیال کو تقویت ان روایات کی بنا پر ملی ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے مصحف میں یہ دونوں ایک ساتھ لکھی ہوئی تھیں اور درمیان میں بسم اللہ مرقوم نہ تھی۔ نیز یہ کہ حضرت عمر نے ایک مرتبہ کسی فصل کے بغیر ان دونوں کو ملا کر نماز میں پڑھا تھا لیکن یہ رائے اس وجہ سے قابل قبول نہیں ہے کہ صحابہ کرام کی عظیم تعداد کے تعاون سے سیدنا عثمان (رض) نے قرآن مجید کے جو نسخے سرکاری طور پر لکھوا کر بلاد اسلام کے مراکز بھجوائے تھے ان میں دونوں کے درمیان بسم اللہ درج تھی اور اس وقت سے آج تک تمام دنیا کے مصاحف میں یہ الگ الگ سورتوں کی حیثیت سے ہی لکھی جاتی رہی ہیں۔ مزید برآں دونوں سورتوں کا انداز بیاں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہے کہ یہ علانیہ دو الگ سورتیں نظر آتی ہیں۔

تاریخی پسِ منظر

اس سورت کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھا جائے جس سے اس کے مضمون اور سورة فیل کے مضمون کا گہرا تعلق ہے۔ قریش کا قبیلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جد اعلٰی قصی بن کلاب کے زمانے تک حجاز میں منتشر تھا۔ سب سے پہلے قصی نے اس کو مکہ میں جمع کیا اور بیت اللہ کی تولیت اس قبیلے کے ہاتھ میں آگئی۔ اسی بنا پر قصی کو مجمّع (جمع کرنے والے) کا لقب دیا گیا۔ اس شخص نے اپنے اعلٰی درجہ کے تدبر سے مکہ میں ایک شہری ریاست کی بنیاد رکھی، اور جملہ اطراف عرب سے آنے والے حاجیوں کی خدمت کا بہترین انتظام کیا جس کی بدولت رفتہ رفتہ عرب کے تمام قبائل اور تمام علاقوں میں قریش کا اثر و رسوخ قائم ہوتا چلا گیا۔ قصی کے بعد اس کے بیٹوں عبد مناف اور عبد الدار کے درمیان مکہ کی ریاست کے مناصب تقسیم ہوگئے، مگر دونوں میں سے عبد مناف کو اپنے باپ ہی کے زمانے میں زیادہ ناموری حاصل ہوچکی تھی اور عرب میں اس کا شرف تسلیم کیا جانے لگا تھا۔ عبد مناف کے چار بیٹے تھے ہاشم، عبد شمس، مطلب اور نوفل۔ ان میں سے ہاشم عبد المطلب کے والد اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پردادا کو سب سے پہلے یہ خیال پیدا ہوا کہ اس بین الاقوامی تجارت میں حصہ لیا جائے جو عرب کے راستے بلاد مشرق اور شام و مصر کے درمیان ہوتی تھی اور ساتھ ساتھ اہل عرب کی ضروریات کا سامان بھی خرید کر لایا جائے تاکہ راستے کے قبائل ان سے مال خریدیں اور مکہ کی منڈی میں اندرون ملک کے تجار خریداری کے لیے آنے لگیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایران کی ساسانی حکومت اس بین الاقوامی تجارت پر اپنا تسلط قائم کرچکی تھی جو شمالی علاقوں اور خلیج فارس کے راستوں سے رومی سلطنت اور بلاد مشرق کے درمیان ہوتی تھی۔ اس لیے جنوبی عرب سے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو تجارتی راستہ شام و مصر کی طرف جاتا تھا اس کا کاروبار بہت چمک اٹھا تھا۔ دوسرے عربی قافلوں کی بہ نسبت قریش کو یہ سہولت حاصل تھی کہ راستے کے تمام قبائل بیت اللہ کے خدام ہونے کی حیثیت سے ان کا احترام کرتے تھے۔ حج کے زمانے میں نہایت فیاضی کے ساتھ حاجیوں کی جو خدمت قریش کے لوگ کرتے تھے اس کی بنا پر سب ان کے احسان مند تھے۔ انہیں اس امر کا کوئی خطرہ نہ تھا کہ راستے میں کہیں ان کے قافلوں پر ڈاکہ مارا جائے گا۔ راستے کے قبائل ان سے رہگذر کے وہ بھاری ٹیکس بھی وصول نہ کرسکتے تھے جو دوسرے قافلوں سے طلب کیا جاتا تھا۔ ہاشم نے انہیں تمام پہلوؤں کو دیکھ کر تجارت کی اسکیم بنائی اور اپنی اس اسکیم میں اپنے باقی تینوں بھائیوں کو شامل کیا۔ شام کے غسانی بادشاہ سے ہاشم نے، حبش کے بادشاہ سے عبد شمس نے، یمنی امراء سے مطلب نے اور عراق وفارس کی حکومتوں سے نوفل نے تجارتی مراعات حاصل کیں۔ اس طرح ان لوگوں کی تجارت بڑی تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی۔ اسی بنا پر یہ چاروں بھائی متجّرین (تجارت پیشہ) کے نام سے مشہور ہوگئے اور جو روابط انہوں نے گرد و پیش کے قبائل اور ریاستوں سے قائم کیے تھے ان کی بنا پر ان کو اصحاب الایلاف بھی کہا جاتا تھا جس کے معنی " الفت پیدا کرنے والوں " کے ہیں۔ اس کاروبار کی وجہ سے قریش کے لوگوں کو شام، مصر، عراق، ایران، یمن اور حبش کے ممالک سے تعلقات کے وہ مواقع حاصل ہوئے، اور مختلف ملکوں کی ثقافت و تہذیب سے براہ راست سابقہ پیش آنے کے باعث ان کا معیار دینش (بینش) اتنا بلند ہوتا چلا گیا کہ عرب کا کوئی دوسرا قبیلہ ان کی ٹکر کا نہ رہا۔ مال و دولت کے اعتبار سے بھی وہ عرب میں سب پر فائق ہوگئے اور مکہ جزیرۃ العرب کا سب سے زیادہ اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ ان بین الاقوامی تعلقات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ عراق سے یہ لوگ وہ رسم الخط لے کر آئے جو بعد میں قرآن مجید لکھنے کے لیے استعمال ہوا۔ عرب کے کسی دوسرے قبیلے میں اتنے پڑھے لکھے لوگ نہ تھے جتنے قریش میں تھے۔ انہی وجوہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ قریش قادۃ الناس " قریش لوگوں کے لیڈر ہیں " حوالہ مسند احمد مرویات عمرو بن العاص۔ اور حضرت علی (رض) کی روایت بیہقی میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کان ھٰذا الامر فی حمیر فنزعہ اللہ منہم و جعلہ فی قریش " پہلے عرب کی سرداری قبیلۂ حمیر والوں کو حاصل تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے وہ ان سے سلب کر کے قریش کو دے دی۔ " قریش اسی طرح ترقی پر ترقی کرتے چلے جا رہے تھے کہ مکہ پر ابرھہ کی چڑھائی کا واقعہ پیش آ گیا۔ اگر اس وقت ابرھہ اس شہر مقدس کو فتح کرنے اور کعبے کو ڈھا دینے میں کامیاب ہوجاتا تو عرب میں قریش ہی کی نہیں خود کعبہ کی دھاک بھی ختم ہوجاتی۔ زمانۂ جاہلیت کے عرب کا یہ عقیدہ متزلزل ہوجاتا کہ یہ گھر واقعی بیت اللہ ہے۔ قریش کو اس گھر کے خادم ہونے کی حیثیت سے جو احترام پورے ملک میں حاصل تھا وہ یک لخت ختم ہوجاتا۔ مکہ تک حبشیوں کی پیش قدمی کے بعد رومی سلطنت آگے بڑھ کر شام اور مکہ کے درمیان کا تجارتی راستہ بھی اپنے قبضے میں لے لیتی اور قریش اس سے زیادہ خستہ حالی میں مبتلا ہوجاتے جس میں وہ قصی بن کلاب سے پہلے مبتلا تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھایا کہ پرندوں کے لشکروں نے سنگریزی مار مار کر ابرھہ کی لائی ہوئی 60 ہزار حبشی فوج کو تباہ و برباد کردیا، اور مکہ سے یمن تک سارے راستے میں جگہ جگہ اس تباہ شدہ فوج کے آدمی گر گر کر مرتے چلے گئے تو کعبہ کے بیت اللہ ہونے پر تمام اہل عرب کا ایمان پہلے سے بدرجہا زیادہ مضبوط ہوگیا، اور اس کے ساتھ قریش کی دھاک بھی ملک بھر میں پہلے سے زیادہ قائم ہوگئی۔ اب عربوں کو یقین ہوگیا کہ ان لوگوں پر اللہ کا فضل خاص ہے۔ وہ بےکھٹکے عرب کے ہر حصے میں جاتے اور اپنے تجارتی قافلے لے کر ہر علاقے سے گزرتے۔ کسی کی یہ جرات نہ تھی کہ ان کو چھیڑتا۔ انہیں چھیڑنا تو درکنار، ان کی امان میں کوئی غیر قریش بھی ہوتا تو اس سے کوئی تعرض نہ کیا جاتا تھا۔

مقصودِ کلام

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے زمانے میں یہ حالات چونکہ سب ہی کو معلوم تھے، اس لیے ان کے ذکر کی حاجت نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کے چار مختصر فقروں سے صرف اتنی بات کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے جب تم خود اس گھر (خانۂ کعبہ) کو بتوں کا نہیں بلکہ اللہ کا گھر مانتے ہو، اور جب تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اس گھر کے طفیل یہ امن عطا کیا، تمہاری تجارتوں کو فروغ بخشا اور تمہیں فاقہ زدگی سے بچا کر یہ خوشحالی نصیب فرمائی تو تمہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔

Ayah 106:1

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

چونکہ قریش مانوس ہوئے 1

سورة القریش 1 اصل الفاظ ہیں لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔ ایلاف الف سے ہے جس کے معنی خوگر ہونے، مانوس ہونے، پھٹنے کے بعد مل جانے، اور کسی چیز کی عادت اختیار کرنے کے ہیں۔ اردو زبان میں الفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔ ایلاف سے پہلے جو لام آیا ہے اس کے متعلق عربی زبان کے بعض ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہ عربی محاورے کے مطابق تعجب کے معنی میں ہے۔ مثلا عرب کہتے ہیں کہ لزید و ما صنعنا بہ، یعنی ذرا اس زید کو دیکھو کہ ہم نے اس کے ساتھ کیسا نیک سلوک کیا اور اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ پس لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ کا مطلب یہ ہے کہ قریش کا رویہ بڑا ہی قابل تعجب ہے کہ اللہ ہی کے فضل کی بدولت وہ منتشر ہونے کے بعد جمع ہوئے اور ان تجارتی سفروں کے خوگر ہوگئے جو ان کی خوشحالی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور وہ اللہ ہی کی بندگی سے روگردانی کر رہے ہیں۔ یہ رائے اخفش، کسارئی، اور فراء کی ہے، اور اس رائے کو ابن جریر نے ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب جب اس لام کے کسی بات کا ذکر کرتے ہیں تو وہی بات یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی سمجھتی جاتی ہے کہ اس کے ہوتے جو شخص کوئی رویہ اختیار کر رہا ہے وہ قابل تعجب ہے۔ بخلاف اس کے خلیل بن احمد، سیبویہ اور زمخشری کہتے ہیں کہ یہ لام تعلیل ہے اور اس کا تعلق آگے کے فقرے فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ سے ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ یوں تو قریش پر اللہ کی نعمتوں کا کوئی شمار نہیں، لیکن اگر کسی اور نعمت کی بنا پر نہیں تو اسی ایک نعمت کی بنا پر وہ اللہ کی بندگی کریں کہ اس کے فضل سے وہ ان تجارتی سفروں کے خوگر ہوئے، کیونکہ یہ بجائے خود ان پر اس کا بہت بڑا احسان ہے۔
Ayah 106:2

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

(یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس، 2

سورة القریش 2 گرمی اور جاڑے کے سفروں سے مرادیہ ہے کہ گرمی کے زمانے میں قریش کے تجارتی سفر شام و فلسطین کی طرف ہوتے تھے، کیونکہ وہ ٹھنڈے علاقے ہیں، اور جاڑے کے زمانے میں وہ جنوب عرب کی طرف ہوتے تھے، کیونکہ وہ گرم علاقے ہیں۔
Ayah 106:3

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اِس گھر کے ربّ کی عبادت کریں 3

سورة القریش 3 اس گھر سے مراد خانہ کعبہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ قریش کو یہ نعمت اسی گھر کی بدولت حاصل ہوئی ہے، اور وہ خود مانتے ہیں کہ وہ 360 بت اس کے رب نہیں ہیں جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں، بلکہ صرف اللہ ہی اس کا رب ہے۔ اسی نے ان کو اصحاب فیل کے حملے سے بچایا۔ اسی سے انہوں نے ابرھہ کی فوج کے مقابلے میں مدد کی دعا کی تھی۔ اس کے گھر کی پناہ میں آنے سے پہلے جب وہ عرب میں منتشر تھے تو ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ عرب کے عام قبائل کی طرح وہ بھی ایک نسل کے بکھرے ہوئے گروہ تھے۔ مگر جب وہ مکہ میں اس گھر کے گرد جمع ہوئے اور اس کی خدمت انجام دینے لگے تو سارے عرب میں محترم ہوگئے۔ اور ہر طرف ان کے تجارتی قافلے بےخوف و خطر آنے جانے لگے۔ پس انہیں جو کچھ بھی نصیب ہوا ہے اس گھر کے رب کی بدولت نصیب ہوا ہے، اس لیے اسی کی ان کو عبادت کرنی چاہیے۔
Ayah 106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے اُنہیں بھُوک سے بچا کر کھانے کو دیا 4 اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔ 5

سورة القریش 4 یہ اشارہ ہے اس طرف کہ مکہ میں آنے سے پہلے جب قریش عرب میں منتشر تھے تو بھوکوں مر رہے تھے۔ یہاں آنے کے بعد ان کے لیے رزق کے دروازے کھلتے چلے گئے اور ان کے حق میں حضرت ابراہیم ؑ کی وہ دعا حرف بحرف پوری ہوئی کہ اے پروردگار، میں نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک بےآب وگیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز قائم کریں، پس تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے (ابراہیم۔ آیت 37) سورة القریش 5 یعنی جس خوف سے عرب کی سرزمین میں کوئی محفوظ نہیں ہے اس سے یہ محفوظ ہیں، عرب کا حال اس دور میں یہ تھا کہ پورے ملک میں کوئی بستی ایسی نہ تھی جس کے لوگ راتوں کو چین سے سو سکتے ہوں، کیونکہ ہر وقت ان کو یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ نہ معلوم کب کوئی غارت گر گروہ اچانک اس پر چھاپا مار دے۔ کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اپنے قبیلے کے حدود سے باہر قدم رکھنے کی ہمت کرسکے، کیونکہ اکا دکا آدمی کا زندہ بچ کر واپس آجانا، یا گرفتار ہو کر غلام بن جانے سے محفوظ رہنا گویا امر محال تھا۔ کوئی قافلہ ایسا نہ تھا جو اطمینان سے سفر کرسکے، کیونکہ راستے میں جگہ جگہ اس پر ڈاکہ پڑنے کا خطرہ تھا، اور راستے بھر کے بااثر قبائلی سرداروں کو رشوتیں دے کر تجارتی قافلے بخیریت گزر سکتے تھے۔ لیکن قریش مکہ میں بالکل محفوظ تھے، انہیں کسی دشمن کے حملے کا خطرہ نہ تھا۔ ان کے چھوٹے اور بڑے ہر طرح کے قافلے ملک کے ہر حصے میں آتے جاتے تھے، کوئی یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ قافلہ حرم کے خادموں کا ہے، انہیں چھیڑنے کی جرات نہ کرسکتا تھا۔ حد یہ ہے کہ اکیلا قریشی بھی اگر کہیں سے گزر رہا ہو اور کوئی اس سے تعرض کرے تو صرف لفظ " حرمی " یا انا من حرم اللہ کہہ دینا کافی ہوجاتا تھا، یہ سنتے ہی اٹھے ہوئے ہاتھ رک جاتے تھے۔