108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsجواھر القرآن

Ayah 108:1

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے2 دی تجھ کو کوثر

2:۔ ” انا اعطینک “ الکوثر بروزن فوعل، جو چیز عدد و قدر اور منزلت و منفعت میں کثیر ہو اسے کوثر کہا جاتا ہے۔ العرب تسمی کل شیئ کثیر فی العدد والقدر والخطر کو ثرا (قرطبی ج 20 ص 127) ۔ الکوثر سے مراد کے بارے میں مفسرین کے تقریبان پندرہ اقوال ہیں۔ سب سے زیادہ معروف قول دو ہیں۔ اول یہ کہ اس سے مراد حوض کوثر ہے جو رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوگا اور آپ اس سے اپنی امت کو سیراب کریں گے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا۔ قیامت کے دن آپ کو حوض کوثر کا ملنا متواترات میں سے ہے۔ دوم یہ کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے جو دین و دنیا کا کوثر ہے اور دین و دنیا کی خیر کثیر کا سر چشمہ ہے یا اس سے ہر وہ خیر و برکت اور ہر وہ نعمت مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو عطاء فرمائی ہو۔ یہ قول حضرت عبداللہ بن عباس امام المفسرین سے منقول ہے۔ اور یہ قول حوض کوثر اور قرآن کو بطریق اولی شامل ہے۔ القول الخامس عشر ان المراد من الکوثر جمیع نعم اللہ علی محمد (علیہ السلام) وھو المنقول عن ابن عباس لان لفظ الکوثر یتنال الکثرۃ الکثیرۃ فلیس حمل الایۃ علی بعض ھذہ النعم اولی من حملہا علی الباقی فوجب حملہا علی الکل (کبیر) ۔ یہ سورت چونکہ مکیہ ہے اور اس کے نزول کے وقت ابھی نہ نزول قرآن کی تکمیل ہوئی تھی اور نہ بالعفعل حوض کوثر آپ کو ملا تھا اور نہ ابھی ہر نعمت اور خیر و برکت کا نزول ہی مکمل ہوا تھا اس لیے اعطیناک، حکمنا لک بالاعطاء پر محمول ہے۔
Ayah 108:2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

سو نماز پڑھ3 اپنے رب کے آگے اور قربانی کر

3:۔ ” فصل “ یہ ماقبل پر مرتب ہے۔ چونکہ ہم نے آپ کو الکوثر عطا کیا ہے اس لیے آپ بطور شکر نعمت محض ہماری رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے نماز پڑھیں اور حاجات و مصائب میں صرف مجھے پکاریں اور میرے سوا کسی اور کو نہ پکاریں۔ یہ شرک اعتقادی کی نفی کی طرف اشارہ ہے ” وانحر “ ای لربک۔ یہ شرک فعلی کی نفی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے نذر و نیاز دینا اور اسی کے نام کی قربانی کرنا غیر اللہ کے نام کی نہ کرنا۔
Ayah 108:3

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

بیشک4 جو دشمن ہے تیرا وہی رہ گیا پیچھا کٹا

4:۔ ” ان شانئک “ ایک دفعہ ایک مشرک رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا جب آپ سے جدا ہوا تو دوسرے مشرکوں نے پوچھا کس سے باتیں کر رہا تھا ؟ بولا، اس ابتر کے ساتھ، اس کا اشارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف تھا۔ کیونکہ آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہیں تھی۔ اس پر یہ آیت نزل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ مقطوع النسل نہیں ہیں۔ بلکہ یہ کفار اس صفت سے موصوف ہیں اور آپ کی روحانی اور جسمانی اولاد قیامت تک دنیا میں موجود رہے گی نیز آپ یہ مسئلہ بیان کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں کو تباہ کردے گا۔