108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیرِ جلالین
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
ترجمہ، شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ ﷺ کو نہر کوثر عطا کی، (کوثر) جنت میں ایک نہر یا حوض ہے، جس پر آپ ﷺ کی امت وار ہوگی، یا کوثر خیر کثیر کو کہتے ہیں، جو کہ نبوت، قرآن اور شفاعت اور ان جیسی چیزیں ہیں، پس آپ ﷺ اپنے رب کے لئے عید الاضحی کی نماز پڑھئے اور اپنی قربانی کیجیے یقیناً آپ ﷺ کا دشمن ہی دم بریدہ (لاوارث) ہے (یعنی ہر خیر سے منقطع ہے یا مقنطع النسل ہے) ، یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی، جس نے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے صاحبزادے قاسم ؓ کے انتقال کے وقت ابتر (یعنی مقنطع النسل) کہا تھا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : الکوثر جنت کی ایک نہر یا حوض کا نام ہے، سعید بن جبیر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ کوثر ہر اسی شئی کو کہتے ہیں جس میں خیر زیادہ ہو، کوثر کثیرۃ سے ماخوذ ہے جیسے نوفل نفل سے بنا ہے، جو چیز تعداد میں کثیر اور باعظمت اس کو عرب کوثر کہتے ہیں۔
قولہ : شانئک تیرا دشمن، یہ شناء سے ماخوذ ہے، جس کے معنی دشمنی کے ہیں۔
قولہ : ابتر لاولد، دم کٹا، یہ بتر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے، (ن س) بترا کاٹنا، کٹنا، باتر، شمشیر براں۔
تفسیر و تشریح
شان نزول :
ابن ابی حاتم ؓ نے سدی سے اور بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت محمد بن علی بن حسین ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس شخص کی اولاد ذکور مرجائے اس کو عرب ابتر یعنی مقطوع النسل کہتے تھے، جس وقت آپ ﷺ کے صاحبزادے قاسم ؓ یا ابراہیم ؓ کا بچپن میں انتقال ہوگیا تو کفار مکہ آپ ﷺ کو ابتر کا طعنہ دینے لگے، طعنہ دینے والوں میں عاص بن وائل کا نام خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے، اس پر سورة کوثر نازل ہوئی۔ (معارف ملخصاً )
بعض روایات میں ہے کہ کعب بن اشرف یہودی ایک مرتبہ مکتہ المکرمہ آیا تو قریش مکہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ آپ اس نوجوان کو نہیں دیکھتے جو کہتا ہے کہ وہ ہم سب سے دین کے اعتبار سے بہتر ہے ؟ حالانکہ ہم حجاج کی خدمت کرتے ہیں اور بیت اللہ کے نگہبان ہیں، لوگوں کو پانی پلاتے ہیں، کعب نے یہ بات سن کر کہا تم لوگ اس سے بہتر ہو، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر)
انا اعطینک الکثور، امام بخاری (رح) تعالیٰ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کوثر وہ خیر کثیر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی ہے، ابن عباس ؓ کے خاص شاگرد سعید بن جبیر ؓ سے کسی نے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے تو سعید بن جبیر ؓ نے جواب دیا کہ وہ جنت کی نہر جس کا نام کوثر ہے وہ بھی اس خیر کثیر میں داخل ہے۔