Explained with ayahs 1–3
شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید نہر :
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ پر غنودگی سی طاری ہوگئی اور دفعتہ سر اٹھا کر مسکرائے پھر یا تو خود آپ نے فرمایا یا لوگوں کے اس سوال پر کہ حضور ﷺ کیسے مسکرائے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر اس وقت ایک سورت اتری پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس پوری سورت کی تلاوت کی اور فرمایا جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا وہ ایک جنت کی نہر ہے جس پر بہت بھلائی ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئیگی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہیں بعض لوگ اس سے ہٹائے…
Read the full tafseer →سورة الکوثر 1
کوثر کا لفظ یہاں جس طرح استعمال کیا گیا ہے اس کا پورا مفہوم ہماری زبان تو درکنار شاید دنیا کی کسی زبان میں بھی ایک لفظ سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کثرت سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے لغوی معنی تو بےانتہا کثرت کے ہیں، مگر جس موقع پر اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے اس میں محض کثرت کا نہیں بلکہ خیر اور بھلائی اور نعمتوں کی کثرت، اور ایسی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے جو افراط اور فراوانی کی حد کو پہنچی ہوئی ہو، اور اس سے مراد کسی ایک خیر یا بھلائی یا نعمت کی نہیں بلکہ بیشمار بھلائیوں اور نعمتوں کی کثرت ہے۔ دیباچے میں اس سورة کا جو پس منظر ہم نے بیان کیا ہے اس پر ایک مرتبہ پھر نگاہ ڈال کر دیکھیے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک ہم نے آپ کو کوثر (جنت کی ایک حوض کا نام بھی ہے اور ہر خیر کثیر بھی اس میں شامل ہے) عطا فرمائی ہے (جس میں دنیا و آخرت کی ہر خیر و بھلائی شامل ہے دنیا میں دین اسلام کی بقاء و ترقی اور آخرت میں جنت کے درجات عالیہ سب داخل ہیں) سو (ان نعمتوں کے شکر میں) آپ اپنے پر ورگدار کی نماز پڑھئے (کیونکہ سب سے بڑی نعمت کے شکر میں سب سے بڑی عبادت چاہئے اور وہ نماز ہے) اور تکمیل شکر کے لئے جسمانی عبادت کے ساتھ مالی عبادت یعنی اسی کے نام کی) قربانی کیجئے (جیسا دوسری آیتوں میں عموماً نماز کے ساتھ زکوة کا حکم ہے اس میں زکوة کے بجائے قربانی کا ذکر شاید اس لئے اختیار کیا گیا کہ قربانی میں مالی عبادت…
Read the full tafseer →لفظ ’کوثر‘ کی تحقیق: ’کَوْثَرٌ‘ مبالغہ ہے ’کُثْرٌ‘ کا۔ ’کُثْرٌ‘ کے معنی دولت و ثروت کے ہیں۔ اس وجہ سے ’کَوْثَرٌ‘ کے معنی ہوں گے بڑی کثرت اور بڑی برکت و ثروت والا۔ یہ تسمیہ کے لیے بھی مستعمل ہے اور بطریق صفت بھی اس کا استعمال عام ہے۔
ازروئے عربیت یہاں ’کوثر‘ کی تین تاویلیں ممکن ہیں:
۱۔ یہ اسمیت کی طرف متنقل ہو کر کسی خاص چیز کے لیے مخصوص ہو گیا ہو جس کا نام اللہ تعالیٰ نے ’کَوْثَر‘ رکھا ہو۔
۲۔ اس کو کسی ایسے موصوف محذوف کی صفت مانیے جس کے ساتھ اس کو خصوصیت ہو۔ مثلاً کہتے ہیں ’مرد عَلٰی جرد‘ یعنی ’رجال مرد عَلٰی خیر جرد‘ (نوخیز جوان اصیل گھوڑوں پر) قرآن مجید میں ہے: ’وَالذّٰرِیٰتِ‘ (الذاریات…
Read the full tafseer →1۔ 1 کوثر، کثرت سے ہے اس کے متعدد معنی بیان کیے گئے ہیں۔ ابن کثیر نے " خیر کثیر " کے مفہوم کو ترجیح دی ہے کیونکہ اس میں ایسا عموم ہے کہ جس مییں دوسرے معانی بھی آجاتے ہیں۔ مثلاً صحیح حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ اس سے ایک نہر مراد ہے جو جنت میں آپ ﷺ کو عطا کی جائے گی۔ اس طرح بعض حدیث میں مصداق حوض بتایا گیا ہے، جس سے اہل ایمان جنت میں جانے سے قبل نبی ﷺ کے دست مبارک سے پانی پئیں گے۔ اس حوض میں بھی پانی اسی جنت والی نہر سے آ رہا ہوگا۔ اسی طرح دنیا کی فتوحات اور آپ ﷺ کا رفع و دوام ذکر اور آخرت کا اجر وثواب، سب ہی چیزیں " خیر کثیر " میں آجاتی ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: ”کوثر“ کے لفظی معنی ہیں ”بہت زیادہ بھلائی“۔ اور کوثر جنت کی اس حوض کا نام بھی ہے جو حضور اقدس ﷺ کے تصرف میں دی جائے گی، اور آپ کی امت کے لوگ اس سے سیراب ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ اس حوض پر رکھے ہوئے برتن اتنے زیادہ ہوں گے جتنے آسمان کے ستارے۔ یہاں یہ لفظ اگر ”بہت زیادہ بھلائی“ کے معنی میں لیا جائے تو اس بھلائی میں حوض کوثر بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
روایات میں آتا ہے کہ قریش کے اوباش رسول اللہ ﷺ کا ہر وقت پیچھا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کے خلاف سازشوں میں لگے رہتے تھے اور آپ کے ساتھ طنزومزاح کرتے رہتے تھے۔ اس طرح وہ بزعم خود عوام الناس کو آپ کی دعوت حق سننے سے باز رکھتے تھے جو آپ لے کر آئے تھے ۔ ان اوباشوں کے سرخیل عاص ابن وائل ، عقبہ ابن ابو معیط ، ابولہب ، ابوجہل وغیرہ تھے۔ یہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ ” ابتر “ ہیں ، یعنی ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان میں بعض نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اسے چھوڑ دو ، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، جب یہ مرجائے گا تو یہ تحریک خود بخودختم ہوگی۔
عرب معاشرے میں چونکہ نرینہ اولاد کی بہت بڑی اہمیت تھی ، اس لئے ان کے ہاں…
Read the full tafseer →7 " کوثر " کے معنی " خیر کثیر " کے ہیں۔ یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہتری، یہاں اس سے کیا چیز مراد ہے۔ " البحرالمحیط " میں اس کے متعلق چھبیس اقوال ذکر کئے گئے ہیں اور اخیر میں اس کو ترجیح دی ہے کہ اس لفظ کے تحت میں ہر قسم کی دینی و دنیاوی دولتیں اور حسی و معنوی نعمتیں داخل ہیں۔ جو آپ ﷺ کو، یا آپ ﷺ کے طفیل میں امت مرحومہ کو ملنے والی تھیں۔ ان نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت وہ " حوض کوثر " بھی ہے جو اسی نام سے مسلمانوں میں مشہور ہے اور جس کے پانی سے آپ ﷺ اپنی امت کو محشر میں سیراب فرمائیں گے۔ اے ارحم الراحمین ! تو اس خطا کار و سیاہ کاروں کو بھی اس سے سیراب کیجئے) (تنبیہ) " حوض کوثر " کا ثبوت بعض…
Read the full tafseer →آیت 1 { اِنَّآاَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کیا۔“
الکوثر : کثرت سے ماخوذ ہے ‘ اس کا وزن فَوْعَلْ ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کا اتنا کثیر ہونا کہ اس کا اندازہ نہ لگایا جاسکے۔ چناچہ اس کا ترجمہ ”خیر کثیر“ کیا گیا ہے۔
”الکوثر“ کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے حوض کوثر مراد ہے ‘ جو میدانِ حشر میں ہوگا اور اس سے حضور ﷺ اپنی امت کے پیاسوں کو سیراب فرمائیں گے۔ لیکن درحقیقت وہ بھی ”خیر کثیر“ ہی میں شامل ہے۔ ”خیر کثیر“ کی وضاحت سے متعلق بھی تفاسیر میں لگ بھگ پچیس تیس اقوال ملتے ہیں۔ حضور ﷺ کو عطا ہونے والے خیرکثیر کی سب سے بڑی مثال خود قرآن…
Read the full tafseer →1 کوثر کے مختلف مفہوم اور مختلف پہلو :۔ کَوْثَر۔ کَثُرَ سے مشتق ہے جس میں بہت مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اور اہل لغت نے اس کا معنی خیر کثیر لکھا ہے اور بہت سی احادیث سے ثابت ہے کہ کوثر بہشت میں ایک نہر کا نام ہے جو آپ کو عطا کی گئی۔ چناچہ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کو اونگھ آگئی۔ اٹھے تو تبسم فرمایا۔ اور تبسم کی وجہ یہ بتائی کہ ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی۔ پھر یہی سورت کوثر پڑھی اور فرمایا جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا : وہ ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے بہشت میں دی ہے۔ نیز اس سلسلے میں درج ذیل احادیث بھی ملاحظہ…
Read the full tafseer →1۔ (دنیا وآخرت دونوں میں جو عین دلیل ہے آپ کے کمال مقبولیت کی) رسول اللہ ﷺ کیلئے آخرت میں خیر کثیر تو آپ ﷺ کے مراتب قرب ودرجات عالیہ کے لحاظ سے ظاہر ہی ہے، اور خیر دنیا آپ ﷺ کو اپنی امت کی کثرت تعداد اور ان کی دنیوی واخروی فلاح کے لحاظ سے ہوئی، آیت کا صیغہ ماضی درآنحالیکہ ظہور خیر کثیر کا تعلق مستقبل سے ہے، اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ ایسا ہونا بالکل قطعی اور حتمی ہے، (آیت) ” الکوثر “۔ کوثر کے لفظی معنی خیر کثیر کے ہیں، اور یہ لفظ دنیا وآخرت دونوں کی ساری بھلائیوں کا جامع ہے۔ وھذا اللفظ یتناول خیرات الدنیا و خیرات الاخرۃ (کبیر) لاجرم تناول جمیع خیرات الدنیا والاخرۃ (کبیر) اور اس کے تحت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ، شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ ﷺ کو نہر کوثر عطا کی، (کوثر) جنت میں ایک نہر یا حوض ہے، جس پر آپ ﷺ کی امت وار ہوگی، یا کوثر خیر کثیر کو کہتے ہیں، جو کہ نبوت، قرآن اور شفاعت اور ان جیسی چیزیں ہیں، پس آپ ﷺ اپنے رب کے لئے عید الاضحی کی نماز پڑھئے اور اپنی قربانی کیجیے یقیناً آپ ﷺ کا دشمن ہی دم بریدہ (لاوارث) ہے (یعنی ہر خیر سے منقطع ہے یا مقنطع النسل ہے) ، یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی، جس نے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے صاحبزادے قاسم ؓ کے انتقال کے وقت ابتر (یعنی مقنطع النسل) کہا تھا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : الکوثر…
Read the full tafseer →انا اعطینک الکوثر . اہل لغت نے لکھا ہے کہ کوثر بروزن فوعل کثرت سے مشتق ہے ‘ جیسے نوفل ‘ نفل سے۔ جو
چیز تعداد میں زیادہ یا مرتبہ اور قدر میں بڑی ہو ‘ عرب اس کو کوثر کہتے ہیں۔ اسی کی تائید کرتا ہے حضرت ابن عباس کا یہ قول کے کوثر سے مراد ہے وہ خیر کثیر جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمائی تھی۔ اس قول کے راوی ابو بشر اور عطاء بن سائب ہیں۔ دونوں نے سعید بن جبیر کے حوالہ سے یہ قول نقل کیا ہے۔ ابو بشر کا بیان ہے میں نے سعید بن جبیر سے کہا : لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت کے اندر ایک نہر ہے۔ سعید نے جواب دیا : جنت کے اندر والی نہر بھی تو اسی خیر کثیر کا ایک حصہ ہے جو اللہ نے حضور ﷺ کو عطا فرمائی تھی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کی ہے اور قرآن بھی اسی میں سے ہے یا یہ کہ حوض کوثر عطا کی ہے تو اس شکریہ میں نماز پڑھیے اور اپنے سینہ کو قبلہ کی طرف کیجیے یا یہ کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیے یا یہ کہ رکوع اور سجود کامل طور پر کیجیے تاکہ آپ کا سینہ مبارک ظاہر ہوجائے یا یہ کہ عید الضحیٰ کی نماز پڑھیے اور قربانی ذبح کیجیے۔ آپ کا دشمن یعنی عاص بن وائل ہمہ قسم کی بھلائی اہل و عیال اور مال و دولت سے بےنام و نشان ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا کوئی ذکر کرنے والا نہیں اور آپ کے کمالات ذکر ہو کر رہیں گے۔
ہوا یہ کہ جب حضور کے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان…
Read the full tafseer →(1) انا اعطینک الکوثر :”الکوثر“”کثرۃ“ سے ”فوعل“ کا وزن ہے جو مبالغے کا معنی دے رہا ہے، بےانتہا کثرت۔ یعنی دشمن تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آپ کو بےانتہا دیا ہے۔”الکوثر“ میں وہ ساری خیر کثیر شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی، مثلاً اسلام، نبوت، الخاق حسنہ، بہترین تابع دار امت، جنت اور دوسری نعتیں جو شمار نہیں ہوسکتیں۔ لغت کے لحاظ سے ”اکلوثر“ کا معنی یہی ہے ، البتہ بہت سی صحیح احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ محشر میں آپ ﷺ کو جو حوض عطا کرے گا اس کا نام بیھ آپ…
Read the full tafseer →بیشک ہم نے آپ کو (جو کچھ عطا کیا) بےحد و حساب عطا کیا۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
کوثر سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1: انا اعطینک الکوثر۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : قبائل پر فخر کرنا، ضحاک نے کہا ؛ معاش اور تجارت پر فخر نے تمہیں غافل کردیا۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے ؛ لھیت عن کذا، الھی لھیا ولھیانا۔ جب تو اسے بھول جائے، اسے ترک کدے اور اس سے اعراض کرے۔ الھاہ اسے غافل کردے۔ لھاہ بہ تلھیۃ اسے مشغول کردیا۔ تکاثر کا معنی کثرت میں مقابلہ کرنا۔ مقاتل، قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا ؛ یہ یہودیوں کے حق میں بات نازل ہوئی ،۔ جب انہوں نے کہا ؛ ہم بنی فلاں سے زیادہ ہیں۔ بنی فلاں، بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا اعطیناک الکوثر مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے عمرو بن یمون (رح) سے روایت کیا کہ جب عمر ؓ کو نیزہ مارا گیا اور لوگ مضطرب اور بکھر گئے تو عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھے اور انہوں نے قرآن میں سب سے چھوٹی سورتیں پڑھیں اور نماز مکمل کی۔ یعنی آیت انا اعطینک الکوثر اور آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح۔
4۔ بیہقی نے اپنی سنن میں ابن شبرمہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں تین آیات سے کم کوئی سورة نہیں ہے۔
5۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ…
Read the full tafseer →[انآ اَعْطَيْنٰكَ : بیشک ہم نے عطا کی آپ ﷺ کو ][ الْكَوْثَرَ : بےانتہا (خیر)]
نوٹ 1: کوثر کے معنی ہیں بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ یہاں اس سے کیا چیز مراد ہے اس کے متعلق متعدد اقوال ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس لفظ کے تحت ہر قسم کی دینی و دنیوی اور حسی و معنوی نعمتیں داخل ہیں جو آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے طفیل اس امت کو ملنے والی تھیں۔ ان میں سے ایک بہت بڑی نعمت وہ حوض کوثر ہے جس کے پانی سے آپ ﷺ اپنی امت کو محشر میں سیراب فرمائیں گے۔ بعض روایات سے اس کا محشر میں ہونا اور اکثر سے جنت میں ہونا ثابت ہوتا ہے۔ علماء نے اس کی تطبیق یوں کی ہے کہ اصل نہر جنت میں ہوگی اور اسی کا پانی میدان حشر میں کسی حوض…
Read the full tafseer →یہ سورة الکوثر کا ترجمہ ہے بعض حضرات نے اسے مدنی سورت بتایا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس میں تین آیات ہیں اور تعداد آیات کے اعتبار سے یہ قرآن حکیم کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔ لفظ کوثر فوعل کے وزن پر ہے جس کا معنی خیر کثیر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی منقول ہے اسی خیر کثیر میں سے نہر کوثر بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو عطا فرمائی۔ سورت کے سبب نزول کے بارے میں کئی روایات تفسیر کی کتابوں میں لکھی ہیں جنہیں انشاء اللہ تعالیٰ ہم آخری آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھیں گے۔
ارشاد فرمایا : ﴿ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ001﴾ (ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا فرمایا) ۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
انعام رب ذوالجلال بعطاء کوثر وہلاکت و بربادی دشمن رسول مقبول ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انا اعطینک الکوثر ...... الی ........ شانئک ھو الابتر “۔
(ربط) سورة ماعون میں حکمت اعتقادیہ عملیہ کے جملہ اقسام کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کے ساتھ انسانی زندگی کے جو اعمال واخلاق باعث عیب ہیں ان کی مذمت بھی کردی گئی تھی تو اب اس سورت میں خیر کثیر کا ذکر ہے، جس کے باعث انسانی حیات عظمت وبلندی کے مقام تک پہنچتی ہے اور اس خیر کثیر کی شاخیں اور نہریں اس طرح پھیل جاتی ہیں کہ قیامت تک نسل انسانی ان کے ذریعہ ہر قسم کی سیرابی اور شادابی حاصل کرتی رہے اور اس پر پھل وپھول لگے رہیں، یہی وہ فرمان مبارک ہے جو (آیت)…
Read the full tafseer →2:۔ ” انا اعطینک “ الکوثر بروزن فوعل، جو چیز عدد و قدر اور منزلت و منفعت میں کثیر ہو اسے کوثر کہا جاتا ہے۔ العرب تسمی کل شیئ کثیر فی العدد والقدر والخطر کو ثرا (قرطبی ج 20 ص 127) ۔ الکوثر سے مراد کے بارے میں مفسرین کے تقریبان پندرہ اقوال ہیں۔ سب سے زیادہ معروف قول دو ہیں۔ اول یہ کہ اس سے مراد حوض کوثر ہے جو رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوگا اور آپ اس سے اپنی امت کو سیراب کریں گے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا۔ قیامت کے دن آپ کو حوض کوثر کا ملنا متواترات میں سے ہے۔ دوم یہ کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے جو دین و دنیا کا کوثر ہے اور دین و دنیا کی خیر کثیر کا سر چشمہ ہے یا اس سے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکوثر ہے۔ یہ مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیتیں ہیں اور یہ بارہ الفاظ اور بیالیس حروف پر مشتمل ہے۔
زمانہ نزول کے متعلق مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ مکی سورة ہے یا مدنی مسند احمد 1 ؎ اور حدیث 2 ؎ کی دوسری کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک موقع پر مدنی زندگی میں حضور ﷺ اور صحابہ کی جماعت موجود تھی۔ تھوڑی دیر کے لئے آپ پر غنودگی کی حالت طاری ہوئی۔ جب وہ حالت رفع ہوئی تو آپ مسکرائے لوگوں نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی ایک سورة نازل فرمائی ہے۔ چناچہ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اور پھر سورة انا اعطینک الکوثر پڑھ کر سنا دی۔
اسی…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ 1 ۭ
عطا
العَطْوُ : التّناول، والمعاطاة : المناولة، والإعطاء :
الإنالة . قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] . واختصّ العطيّة والعطاء بالصّلة . قال : هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39]
( ع ط و ) العطوا
( ن ) کے معنی ہیں لینا پکڑنا اور المعاد طاہ باہم لینا دینا الاعطاء ( افعال ) قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ جزیہ دیں ۔ اور العطیۃ والعطاء خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض تفضیلا دی جائے ۔
كَوْثَرَ
وقوله : إِنَّا أَعْطَيْناكَ الْكَوْثَرَ [ الکوثر/ 1] قيل : هو نهر في الجنّة يتشعّب عنه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب ¦ انامبتدء اعطیناک 1 ؎ خبروالکاف مفعول اول لاعطینا الکوثر مفعول ثان۔ والکوثر علے وزن فوعل من الکثرۃ وصف بہ للمبالغۃ فی الکثرۃ مثل النوفل من النفل والجوھر من الجھر والعرب تسمی کل شیء کثیر فی القدرا والعددوالبرکات کو ثرا۔ فصل الفاء لترتیب مابعدھا علی ماقبلھا اوللتفریع صل امر لربک متعلق بصل۔ وانحر عطف علی صل ان اسمھا شانئک اسم الفاعل من الشنان لامن الشین فان اسم الفاعل منہ شائن لاشان والشانئی لمبغض العدو ھو فصل اوتاکید الابتر خبران وقیل ھو مبتدء والابترخبرہ والجملۃ خبر ان الابترا فعل من البتر بمعنی القطع من الاصل۔ یقال بترتہ ابترۃ بتراولابترمن الرجال من لاعقب لہ من النسل وذکر الخیر ومن…
Read the full tafseer →اِنَّـآ اَعْطَیْنٰـکَ الْـکَوْثَرَ ۔ (الکوثر : 1)
(بےشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کردیا۔ )
اِنَّــآ میں جمع کی ضمیر ہے اس سے مراد کیا ہے
اِنَّـآ میں جمع کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد فعل بھی جمع متکلم لایا گیا ہے۔ جمع کا صیغہ عام طور پر کثرت اور تعدد پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی عظمت و شان کے اظہار کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اسی مقصد کے لیے آیا ہے کہ ہمیں دیکھو، ہماری شان کا اندازہ کرو، ہماری عظمت کا استحضار پیدا کرو اور ہماری صفات پر مراقبہ کرو۔ ہم کائنات کے خالق ومالک اور عروس گیتی کو سنوارنے اور نکھارنے والے ہیں، ہمارے جودوکرم کی کوئی انتہاء نہیں، ہماری قدرتیں بےپناہ ہیں، ارشاد و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : الماعون میں اس شخص کی مذمت کی گئی ہے جو نماز سے لاپرواہی کرتا ہے اور ضرورت مند کو استعمال کے لیے معمولی چیز بھی نہیں دیتا الکوثر میں نبی ﷺ کو خوشخبری دے کر ہر شخص بالخصوص بخیل آدمی کو بتلایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت کی خیر کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
الکوثر کا شان نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ میں نبی ﷺ کے دوسرے بیٹے عبداللہ جن کو طاہر اور طیب بھی کہا جاتا ہے فوت ہوگئے اس کی موت پر ابولہب اور اس کے ساتھیوں نے انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی اور کہا ” بَتِرَ مُحَمَّدٌ ھٰذِہِ الَّلیْلَۃَ “ کہ آج رات محمد دم کٹا ہوگیا ہے لہٰذا تھوڑے دنوں کی…
Read the full tafseer →1 : اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ (بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عنایت فرمائی ہے) کو ثرؔ یہ فوعل کا وزن ہے۔ جو کثرت سے بنا ہے کثرت میں بہت ہی اضافہ۔
ایک قول :
وہ جنت کی ایک نہر ہے جو شہد سے زیادہ میٹھے پانی والی اور دودھ سے زیادہ صاف اور برف سے زیادہ ٹھنڈی اور مکھن سے زیادہ نرم ہے اور اس کے کنارے زبر جد اور اس کے برتن چاندی کے بنے ہیں۔
خیر کثیر ‘ قول ابن عباس ؓ :
اس سے خیرکثیر مراد ہے ان سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جنت کی ایک نہر ہے۔ تو آپ نے فرمایا وہ بھی خیر کثیر میں سے ہی ہے۔
Read the full tafseer →سورة الکوثر کا شان نزول
1 ۔” انا اعطیناک الکوثر “ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے جب آپ (علیہ السلام) کو اونگھ آئی۔ پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا تو ہم نے کہا کس چیز نے آپ کہ ہنسایا اے اللہ کے رسول ؟ (ﷺ ) آپ نے فرمایا مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے پڑھا بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ” انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھوالابتر “ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اس میں خیر کثیر ہے وہ حوض ہے اس پر میری امت قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ معتبر سند سے مسند 2 ؎ بزار میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کعب بن اشرف یہودی جب مکہ میں ایٓا تو قریش نے اس سے آنحضرت ﷺ کا تذکرہ کیا اس نے قریش کی خوشامد کے خیال سے جواب دیا کہ تمہارا دین قدیمی اور حق ہے اور آنحضرت کی شان میں یہ بھی کہا کہ ان کا کوئی بیٹا تو ہے نہیں۔ ان کی زندگی تک کا شور و غل ہے اور پھر ان کا کوئی نام بھی نہ لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی کہ اے رسول اللہ کے جو تمہارا دشمن ہے وہی ابتر ہے۔ ابتر اس کو کہتے ہیں جس کی موت کے بعد کوئی لڑکا اس کا نہ رہے۔ کوثر ایک تو اس نہر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائی ہے یہ نہر…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی محمد مصطفیٰ پر احسان کرتے ہوئے خطاب فرماتا ہے (اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ ) یعنی ہم نے آپ کو خیر کثیر اور فضل عظیم عطا کیا۔ منجملہ اس خیر کثیر میں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو عطا فرمائے گا ایک نہر بھی ہے جس کو الکوثر کہا جاتا ہے حوض کوثر کا طول ایک ماہ کی مسافت اور اس کا عرض بھی ایک ماہ کی مسافت ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے اس کے پینے کے برتن اپنی کثرت اور چمک میں آسمان کے ستاروں کے مانند ہوں گے جو کوئی حوض کوثر سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
Read the full tafseer →1 ۔ کوثر کا معنی و مفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ کوثر کثرت سے مبالغے کا صیغۃ ہے، یعنی وہ خیر کثیر جو دنیا آخرت کی سب بھلائیوں اور جملہ خیرات و برکات کو عام اور شامل ہے اور جس کی کامل و مجموعی شکل قرآن حکیم اور دین حنیف کی صورت میں اب تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے موجود ہے، اور جو حق و ہدایت کے نور سے سرفراز کرنے والی سب سے بڑٰ اور جامع نعمت ہے، جو دنیا و آخرت کی سعادت و کامیابی کی ضامن و کفیل ہے، جس سے دنیا تا قیام قیامت فیضیاب ہوتی رہے گی، اور جنت کی نعیم مقیم کی حق دار بنتی رہے گی، اور اسی خیر کثیر کا ایک عظیم الشان مظہر و مصداق حوض کوثر اور نہر کوثر کا وہ پانی بھی ہے جو صحیح احادیث و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
پیارے نبی ﷺ کے لیے اللہ کا انعام
تشریح : یہ چھوٹی سی سورت بہت بڑے مقاصد کو بیان کر رہی ہے۔ مثلاً کوثر کی خوشخبری نبی اکرم ﷺ کیلئے۔ یوں تو کوثر کا مطلب ہے خیر کثیر۔ یعنی وہ تمام درجات جو آپ ﷺ کو دئیے گئے۔ حسن کردار ' حسن سیرت ' حسن معاملہ اور سب سے بڑھ کر رتبہ کے لحاظ سے آپ ﷺ محسن انسانیت ' حامل قرآن اور تکمیل دین کے لحاظ سے آخری نبی کا بلند ترین درجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دیا گیا ہے۔ مگر یہاں اس سورت میں کوثر سے مراد وہ نہر ہے جو جنت میں موجود ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں احادیث سے ملتا ہے۔ جیسا کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا '' ایک دن میں جنت میں جا رہا تھا تو میں نے وہاں ایک نہر دیکھی ' جس کے کناروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الکوثر۔
آیات 1 تا 3۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا فرمایا اگرچہ آخرت اور جنت میں ایک حوض کا نام بھی کوثر ہے مگر یہاں خیر کثیر بھی مراد ہے کل خیر صرف آپ کے پاس ہے اور آپ کا دامن چھوڑ کر کہیں بھی خیر کا تصور نہیں لہذا آپ اللہ کی عبادت و اطاعت کیجئے اور اس کی راہ میں قربانی کہ عرب میں اونٹ بہت پیارا تھا اور اس کی قربانی کو نحر کہتے ہیں۔
مفہوم یہ ہے کہ پوری زندگی کا نظام عبادت میں ڈھل جائے اور مال زور کی محبت اسکی راہ میں رکاوٹ نہ بنے بیشک آپ کے دشمنوں کانشان مٹ جائے گا مگر آپ کا نام نامی قیامت تک گونجتا رہے گا مشرکین نے طعنہ دیا تھا کہ آپ کی اولاد نرینہ نہیں آپ کا نام ختم ہوجائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 9 ” الکوثر “ کے معنی ” خیر کثیر “ کے ہیں یعنی بہت بھلائی اور بہتری … اکثر مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ اس سے مراد جنت کی ایک نہر ہے اس کی تصریح خود آنحضرت نے بھی فرمائی ہے۔ اس لئے یہی صحیح ہے۔ نیز آپ نے فرمایا :” میری امت کے لوگ اس پر قیامت کے دن پانی پئیں گے۔ (شوکانی)10 یعنی فرض نمازوں کی پابندی کیجیے اور نفل نمازیں بھی پڑھیے۔11 یعنی نماز کی طرح آپ کی قربانی بھی خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو صحیح مسلم میں ہے کہ جس نے اللہ کے سوا اور کسی کے لئے قربانی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے (فتح البیان) …اکثر مفسرین نے ” وانحر “ کے معنی قربانی کرنا ہی لئے ہیں اور یہی راجح ہیں۔ (دبہ قال غیر واحد من سلف مگر…
Read the full tafseer →(108:1) انا اعطینک الکوثر ۔ انا مبتدائ۔ اعطینک الکوثر اس کی خبر۔
اعطینا ماضی جمع متکلم اعطاء (افعال) مصدر سے۔ عطا کرنا۔ دینا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر، (مفعول اول اعطینا کا)
الکوثر : مفعول ثانی اعطینا کا۔
ترجمہ :۔ تحقیق ہم نے آپ کو (اسے رسول کریم ﷺ ) کوثر عطا کی۔
(1) الکوثر جنت کی ایک نہر اور حوض کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خصوصی طور پر عطا کی ہے۔ (عن انس مرفوعا۔ مسلم)
(2) حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ جنت کے ایک حوض کا نام ہے۔ (معالم التنزیل)
(3) اس سے مراد قرآن ہے۔ (حسن بصری)
(4) اس سے مراد قرآن اور نبوت ہے۔ (عکرمہ)
(5) اس سے مراد عام خیر کثیر ہے۔ (سعید بن جبیر از…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن۔
اعطینا ۔ ہم نے عطا یا۔ الکوثر۔ خیر کثیر۔ حوض کوثر۔ صل۔ نماز پڑھ۔ انحر۔ قربانی کر۔ شان۔ دشمن۔ الابتر۔ دم کٹا۔ نامراد۔
تشریح : قریشی سردار اور مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں اس قدر بےرحم، بد لحاظ اور پتھر دل ہوچکے تھے کہ جب نبی کریم ﷺ کے صاجزادے حضرت قاسم اور ان کے بعد دوسرے بیٹے حضرت عبد اللہ کا انتقال ہوا تو آپ کو اس غم کے موقع پر تسلی اور دلاسہ دینے کے بجائے انہوں نے اس پر کھلم کھلا خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب ان کے ہاں صرف چار بیتیاں رہ گئی ہیں لیکن وہ اولاد نرینہ جن سے کسی شخص کی نسل چلا کرتی ہے اب باقی نہیں ہے لہٰذا کسی غم اور فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک ایسا شخص جو سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول : جب نبی ﷺ کے فرزند حضرت قاسم کا وصال ہواتوکفار نے آپ کو مقطوع النسل کہا اور کہا کہ ان کی نسل نہیں رہی ان کے بعد اب ان کا ذکر بھی نہ رہے گا، یہ سب چرچا ختم ہوجائے گا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کفا کی تکذیب کی اور ان کابلیغ رد فرمایا، اور فرمایا کہ اے محبوب ہم نے تمہیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں اور فضائل کثیر عنایت کرکے تمام خلق پر افضل کیا، حسن ظاہر بھی دیاحسن باطن بھی نسب عالی بھی نبوت بھی، کتاب بھی حکمت بھی علم بھی شفاعت بھی، حوض کوثر بھی، مقام محمود بھی ، کثرت امت بھی اعدائے دین پر غلبہ بھی ، کثرت فتوح بھی، اور بیشمار نعمتیں اور فضیلتیں جن کی انتہا نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] کوثر کے معنی خیرکثیر کے ہیں یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ یہاں اس سے مراد دنیا اور آخرت کی بیشمار بھلائیاں اور نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت حوض کوثر بھی ہے جس کے پانی سے رسول اللہ ﷺ امت کو محشر میں سیراب فرمائیں گے۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے جنت میں جانے تک پیاس نہ لگے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الکوثر
عین اس وقت جب حضور ﷺ کو ناکامی اور نامرادی کے طعنے دئے جارہے تھے اور اپنی کامرانیوں پر مسرت واجتہاج کا اظہار کیا جارہا تھا ۔ عین اس وقت جب کہ مکہ کی سرزمین بھی آپ ﷺ کے عقیدت مندوں کے لئے باوجود وسعت کے تنگ ہورہی تھی اور کفار کے دام دایلنے یہ تھے ۔ کہ اس شمع ہدایت وعرفان کو یک قلم بجھا دیا جائے ۔ یہ بشارت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خیر کثیر کے انعامات سے نوازا ہے ۔ آپ ﷺ کے رتبہ ودرجہ میں اضافہ ہوگا آپ ﷺ کے اعوان وانصار بڑھیں گے اور آپ ﷺ کے فتوحات مادی وروحانی کا دائرہ وسیع ہوگا ۔ اس لئے آپ ﷺ گھبرائیں نہیں اور برابر صبروسکون کے ساتھ اپنے رب کی عیادت کریں اور اس کے لئے…
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر ہم نے آپ کو کوثر یعنی خیر کثیر عطا فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ جس میں خیر دنیا یعنی بقاء دین و ترقی اسلام جو کہ موجب کثرت و اجر ہے و خیر آخرت یعنی مراتب قرب و درجات علیا سب داخل ہے، پھر اگر ایک بیٹا فوت ہوا اور اس پر مخالفین شماتت کرتے ہیں تو اس پر غم نہ کیجئے کیونکہ اس سے بڑھ کر آپ کو یہ دولتیں عطا فرمائی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →1 ؎ (الکوثر) قیل نھر فی الجنۃ و قیل بل ھو الخیر العظیم الذی اعطاہ اللہ تعالیٰ الرسول الکریم و ھذا القول ارجع لما تدل علہ ضیغۃ ( فوعل) من المبالغۃ والا فراط فی الکثرۃ التی من اللہ بھا علی رسولہ الکریم (الکوثر) کا لفظ صرف اس جگہ بیان ہوا ہے اگرچہ اس مادہ ک ث ر کے الفاظ قرآن کریم میں بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ کوثر کثرۃ سے بنا ہے اور جو چیز تعداد میں کثیر اور مرتبے ہو اس کو عرب کوثر کہتے ہیں ۔ صاحب معجم القرآن نے سیدنا ابن عباس ؓ کے اس قول ہی کو راجح قرار دیا ہے اور روایات میں جنت میں ایک نہر اور حوض بھی بتایا گیا ہے جو اس خیر کثیر کے تحت آ کر صحیح اور درست ہے۔
کوثر ہر شے کی کثرت کو کہا جاتا ہے۔ ( کو…
Read the full tafseer →Cause of Revelation
It is reported by Ibn Abi Hatim (رح) ، on the authority of Suddi, and by Baihaqi, in Dala'il-un- Nubuwwah, on the authority of Muhammad Ibn Ali Ibn Husain ؓ ، that the Arabs used to taunt and revile people who have lost their male issues. They used to refer to such a person as 'abtar', meaning 'having no male offspring or no male issue'. In keeping with this social evil, when the young son of the Holy Prophet ﷺ ، namely Qasim passed away, some leaders of Quraish, especially ` As Ibn Wh'il, started taunting the Holy Prophet ﷺ telling the people that they no longer need to…
Read the full tafseer →1 The full meaning of the word kauthar, as used here, cannot perhaps be expressed in one word in any language of the world. This is an intensive form of the noun kathrat which literally means abundance, but the context in which it has been used does not give the meaning of mere abundance but abundance of good, of spiritual benefits and blessings, and of such abundance which is unbounded and limitless, and it dces not imply any one good or benefit or blessing but abundance of countless benefits and blessings. Have a look again at the background of this Surah given in the Introduction. The…
Read the full tafseer →