Al-Maa'un 107:7

Al-Maa'un · from ayah 7

107:7

وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۟۠وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ

اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And withhold [simple] assistance.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 32 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Maa'un

All translations of 107:7

اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور برتنے کی چیز روکتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور دوسروں کو معمولی چیز دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بر تنے کی چیز مانگے نہیں دیتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ برتنے کی معمولی سی چیز بھی مانگے نہیں دیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور عام برتنے کی چیزیں روکتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور معمولی برتنے کی چیزیں (بھی مانگنے پر) نہیں دیتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ادنیٰ چیزوں میں بھی بخالت کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ روکتے ہیں برتنے کی معمولی چیزوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور حقیر چیزوں تک کو روکے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور عام استعمال کی چیز بھی (مانگنے پر) نہیں دیتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور برتنے کی چیزیں عاریتاً نہیں دیتے

— محترمہ رفعت اعجاز

and deny people the articles of common necessity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and refuse (to give even) small gifts.

— Muhammad Taqi Usmani

and refuse (to give even) small gifts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And withhold Al-Ma`un.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And withhold [simple] assistance.

— Saheeh International

and refuse to help the needy.

— Muhammad Sarwar

And withhold the necessaries of life.

— Muhammad Habib Shakir

And who withholds even common necessaries.

— Abdul Majid Daryabadi

But refuse (to supply) (even) neighbourly needs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 107:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

نماز میں غفلت اور یتیموں سے نفرت : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ تم نے اس شخص کو دیکھا جو قیامت کے دن کو جو جزا سزا کا دن ہے جھٹلاتا ہے یتیم پر ظلم و ستم کرتا ہے اس کا حق مارتا ہے اس کے ساتھ سلوک و احسان نہیں کرتا مسکینوں کو خود تو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس کار خیر پر آمادہ نہیں کرتا جیسے اور جگہ ہے (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ 17 ۙ) 89۔ الفجر :17) یعنی جو برائی تمہیں پہنتی ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ نہ تم یتیموں کی عزت کرتے ہو نہ مسکینوں کو کھانا دینے کی رغبت دلاتے ہو یعنی اس فققیر کو جو اتنا نہیں پاتا کہ اسے کافی ہو پھر فرمان ہوتا ہے کہ غفلت برتنے والے نمازیوں کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الماعون 11 اصل میں لفظ ماعون استعمال ہوا ہے۔ حضرت علی، ابن عمر، سعید بن جبیر، قتادہ، حسن بصری، محمد بن حنفیہ، ضحاک، ابن زید، عکرمہ، مجاہد، عطاء اور زہری رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ ہے۔ ابن عباس، ابن مسعود، ابراہیم نخعی، ابو مالک، ؓ ، اور بہت سے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد عام ضرورت کی اشیاء مثلا ہنڈیا، ڈول، کلہاڑی، ترازو، نمک، پانی، آگ، چقماق (جن کی جانشین اب دیا سلائی ہے) وغیرہ ہیں جو عموما لوگ ایک دوسرے سے عاریۃ مانگتے رہتے ہیں۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے۔ حضرت علی کا بھی ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ بھی ہے اور یہ چھوٹی چھوٹی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

خلاصہ تفسیر کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کردیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ماعون کا مفہوم: ’یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ‘۔ لفظ ’مَاعُوْنٌ‘ روزمرہ استعمال کی ان چیزوں کے لیے آتا ہے جن کے عاریت لین دین میں کوئی قباحت خیال نہیں کی جاتی بلکہ ہر پڑوسی اپنے پڑوسی سے ان کو بعض اوقات مانگنے پر مجبور ہوتا ہے اور ان کا مانگنا اور دینا دونوں، اچھے معاشرہ میں حسن معاشرت کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی پڑوسی کو آپ سے کسی ضرورت سے ایک چارپائی یا بستر، یا کوئی برتن یا چھری یا دیا سلائی یا اسی طرح کی کوئی اور چیز مانگنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے تو ہر شریف پڑوسی اس کی ضرورت نہایت خوش دلی سے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ صرف وہی لوگ اس طرح کے موقع پر تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو نہایت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 معن شیء قلیل کہتے ہیں۔ بعض اس سے مراد زکوٰۃ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اصل مال کے مقابلے میں بالکل تھوڑی سی ہوتی ہے (ڈھائی فی صد) اور بعض اس سے گھروں میں برتنے والی چیزیں مراد لیتے ہیں جو پڑوسی ایک دوسرے سے عاریتا مانگ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ گھریلو چیزیں عاریتا دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے اور اس کے برعکس بخل اور کنجوسی برتنا، یہ منکرین قیامت ہی کا شیوہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: ”معمولی چیز“ قرآن کریم کے لفظ ”ماعون“ کا ترجمہ کیا گیا ہے، اسی لفظ کے نام پر سورت کا نام ماعون ہے۔ اصل میں ”ماعون“ ان برتنے کی معمولی چیزوں کو کہتے ہیں جو عام طور سے پڑوسی ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں، جیسے برتن وغیرہ۔ پھر ہر قسم کی معمولی چیز کو بھی ماعون کہہ دیتے ہیں۔ حضرت علی ؓ اور کئی صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس کی تفسیر زکوٰۃ سے کی ہے، کیونکہ وہ بھی انسان کی دولت کا معمولی (چالیسواں) حصہ ہوتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی تفسیر یہی فرمائی ہے کہ کوئی پڑوسی دوسرے سے کوئی برتنے کی چیز مانگے تو انسان اسے منع کرے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–7

یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی زکوٰۃ و صدقات وغیرہ تو کیا ادا کرتے معمولی برتنے کی چیزیں بھی مثلاً (ڈول، رسی، ہنڈیا، دیگچی، کلہاڑی، سوئی دھاگا وغیرہ) کسی کو مانگے نہیں دیتے جن کے دے دینے کا دنیا میں عام رواج ہے۔ بخل اور فسق کا جب یہ حال ہو تو ریا کاری کی نماز سے ہی کیا فائدہ ہوگا۔ اگر ایک آدمی اپنے کو مسلمان نمازی کہتا اور کہلاتا ہے مگر اللہ کے ساتھ اخلاص اور مخلوق کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھتا، اس کا اسلام لفظ بےمعنی، اور اس کی نماز حقیقت سے بہت دور ہے۔ یہ ریا کاری اور بد اخلاقی تو ان بدبختوں کا شیوہ ہونا چاہیے جو اللہ کے دین اور روز جزا پر کوئی اعتقاد نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۔ } ”اور عام استعمال کی چیز بھی مانگنے پر نہیں دیتے۔“ مَاعُوْن کے معنی روز مرہ استعمال کی چیزیں ہیں ‘ جو ہر پڑوسی بوقت ضرورت اپنے پڑوسی سے عاریتاً لے لیتا ہے اور اپنی ضرورت پوری کر کے واپس لوٹا دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے کردار کی پستی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے پاس سے آگ کی چنگاری ماچس وغیرہ اور نمک جیسی معمولی اشیاء تک بھی کسی کو دینا پسند نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 مَاعُوْن ہر اس برتنے والی چیز کو کہتے ہیں جو معمولی قسم کی ہو اور عام لوگوں کے استعمال میں آنے والی ہو۔ برتنے کی اشیاء گھریلو استعمال کی چھوٹی موٹی چیزیں مثلاً کلہاڑی، ہنڈیا، کھانے کے برتن، ماچس وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ زر پرستی کی ہوس اور آخرت سے انکار نے ان لوگوں میں اتنا بخل پیدا کردیا ہے کہ یتیموں کو ان کا حق ادا کرنا اور محتاجوں کی ضروریات کا خیال رکھنا تو درکنار، وہ معمولی معمولی عام برتنے کی چیزیں عاریتاً مانگنے پر بھی دینے سے انکار کردیتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ بعض لوگ مانگ کر کوئی برتنے کی چیز لے لیتے ہیں پھر واپس ہی نہیں کرتے یا اس چیز کا نقصان کردیتے ہیں تو ایسی صورت میں شریعت نے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اور دوسروں کو دینے میں بخل کرتے ہیں) (آیت) ” الماعون “۔ ماعون روز مرہ کے استعمال کی معمولی معمولی چیزوں کو کہتے ہیں، اور ہراس چیز کو جس سے دوسروں کو کا کام نکل سکے۔ قال ابوعبیدۃ کل ما فیہ منفعۃ فھو الماعون (جصاص) قال ابوعبیدۃ والزجاج والمبرد ھو فی الجاھلیۃ کل مافیہ من منفعۃ من قلیل اوکثیر (روح) مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں کے دل مخلوق خدا کی ہمدردی سے اس قدر خالی ہیں کہ کسی کی معمولی سی اعانت بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ بلکہ گراں گزرتی ہے۔ شریعت کو ملت کی اصلاح انفرادی واجتماعی کا جس درجہ اہتمام مطلوب ہے ! اس سورت سے بالکل ظاہر ہو رہا ہے۔ جن لوگوں میں عام انسانی ہمدردی اتنی بھی نہیں، انہیں دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ویمنعون الماعون، ماعون کے اصل لفظی معنی ” شئی قلیل “ کے ہیں، اس لئے ماعون ایسی استعمالی اشیاء کو کہا جاتا ہے جو عادۃً آپس میں عاریۃً دی جاتی ہیں، جیسے کلہاڑی، پھاوڑا یا کھانے پکانے کے برتن، چاقو، چھری وغیرہ ان اشیاء کا ضرورت کے وقت پڑوسیوں سے مان لینا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا اور جو اس میں دنیے سے بخل کرے، وہ بڑا کنجوس و کمینہ سمجھا جاتا ہے آیت مذکورہ میں لفظ ماعون سے بعض نے زکوۃ مراد لی ہے اور زکوۃ کو ماعون اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ مقدار کے اعتبار سے نسبتۃ بہت قلیل ہے یعنی صرف چالیسواں حصہ، حضرت علی، ابن عمر، حسن بصری، قتادہ، ضحاک ؓ وغیرہ جمہور مفسرین نے اس آیت میں ماعون کی تفسیر زکوۃ سے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و یمنعون الماعون . اور وہ ماعون کو روکتے ہیں۔ قطرب نے کہا اصل لغت میں ماعون تھوڑی چیز کو کہتے ہیں۔ یہاں زکوٰۃ مراد ہے۔ حضرت علی ‘ حضرت ابن عمر ‘ حسن ‘ قتادہ اور ضحاک سے یہی تفسیر منقول ہے۔ زکوٰۃ کو ماعون کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت مال کی تھوڑی زکوٰۃ ہوتی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : کلہاڑی ‘ ڈول ‘ ہانڈی اور انہی جیسی چیزیں ماعون ہیں۔ سعید بن جبیر کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے۔ مجاہد نے کہا : ماعون سے مراد عاریت (مانگی ہوئی ‘ مستعار چیز) ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا : ماعون سے اعلیٰ اور ادنیٰ ہر چیز مراد ہے۔ اعلیٰ چیز فرض زکوٰۃ ہے اور ادنیٰ چیز مستعار لیا ہوا استعمال کا گھریلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 7) اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا سو ان منافقوں کے لیے دوزخ میں سخت عذاب ہے یعنی جو اپنی نمازوں میں لا پروائی کرتے ہیں اور انہیں چھوڑے بیٹھے ہیں کہ جب لوگوں کو دیکھتے ہیں تو نماز پڑھ لیتے ہیں ورنہ نہیں پڑھتے اور نیک کام سے روکتے ہیں یا یہ کہ زکوٰۃ اور معمولی سی چیز بھی نہیں دیتے۔ شان نزول : فَوَیْلٌ للمصلین الخ ابن منذر نے طریف بن ابی طلحہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ نمازوں میں آتے تو مسلمانوں کو اپنی نمازیں دکھاتے تھے اور جب غائب ہوتے تو چھوڑ دیتے اور مانگی ہوئی چیز کو روک لیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ویمنعون الماعون : آخرت پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا معاملہ تو ان کی نمازوں ہی سے ظاہر ہے، لوگوں سے بھی ان کا معاملہ درست نہیں۔ وہ معمولی چیز کے ساتھ بھی کسی کو فائدہ پہنچانے پر تیار نیہں ہیں، جب اس کے عوض انہیں دنیا میں کچھ ملنے کی توقع نہ ہو۔ (الماعون“ ”معن“ سے ہے، جس کا معنی ”شیء قلیل“ (تھوڑی سی چیز) ہے۔ ”تفسیر الوسیط للطنطاوی“ میں ہے :”الماعون“ کی اصل ”معونۃ“ ہے جس کا مادہ ”عون“ (مدد) ہے، اس کا ”الف“”تائ“ کے بدلے میں لایا گیا ہے جو آخر سے حذف کردی گئی ہے۔ گویا ”الماعون“ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے عام ضرورتوں میں مدد لی جاتی ہے۔“ (الوسیط (علی ؓ اورب عض مفسرین نے اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر 6: وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۔ ماعون میں دس اقوال ہیں۔ اموال کی زکوۃ : (1) اس سے مراد ان کے اموال کی زکوۃ ہے ؛ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہی روایت نقل کی ہے حضرت علی شیر خدا سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ امام مالک نے بھی یہی کہا ہے : اس سے مراد منافق ہے جو زکوۃ ادا نہیں کرتا۔ ابوبکر بن عبدالعزیز نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہا : منافق جب نماز پڑھتا ہے تو ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھتا ہے اگر نماز اس سے فوت ہوجاتی ہے تو اس پر کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو زکوۃ فرض کی ہے وہ اسے روک لیتا ہے، زید بن اسلم نے کہا : اگر نماز بھی ان کے لیے مخفی ہوتی جس طرح زکوۃ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–7

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی یکذب بالدین مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی یکذب بالدین میں بالدین سے مراد ہے حساب۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ارأیت الذی کذب بالدین سے مراد ہے کہ اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے۔ آیت فذلک الذی یدع الیتیم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ یتیم کو اس کے حق سے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو طالب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ یقسم حقا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَمْنَعُوْنَ : اور روکتے ہیں ][ الْمَاعُوْنَ : گھریلو اشیاء کو (گردش سے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تیسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ وَ يَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (رح) 007﴾ (کہ یہ لوگ ماعون سے روکتے ہیں) ماعون کے بارے میں مفسر ابن کثیر نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں، سب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز استعمال سے نہ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے نہ بدلتی ہے نہ خراب ہوتی ہے اس کے دینے میں کنجوسی کرنا یہ ماعون کا روکنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے دریافت کیا گیا کہ ماعون کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ جو لوگ آپس میں مانگے کے طور پردے دیتے ہیں جیسے ہتھوڑا، ہانڈی، ڈول، ترازو اور اسی طرح کی چیزیں ماعون ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا متاع البیت یعنی گھر کا استعمالی سامان ماعون ہے حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

اے ہمارے پیغمبر یا اے مخاطب، کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے، اعمال کے بدلہ کو اور انکار کرتا ہے قیامت کا اور اعمال کی جزاء وسزا کا، حالانکہ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھی ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے اس کے انعامات کو سمجھے اور ان انعامات کے باعث اس پر ایمان لائے اور اس کی نعمتوں کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو غریبوں مساکین ویتامی پر خرچ کرے لیکن افسوس صد افسوس یہ مکذب بالدین خدا اور قیامت کا منکر اور اس کی نعمتوں کو فراموش کرنے والا تو ایسا شخص ہے غرور وتکبر کے نشہ میں مست دھکے دیتا ہے یتیم کو اور خود تو کسی کی کیا مدد کرتا دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا مسکین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–7

4:۔ ” فویل “ تو ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت اور ویل ہے جو نماز کی حقیقت اور اس کے اصل مقصد سے غافل ہیں۔ عن ابن عباس ھو المصلی الذی ان صلی لم یرج لھا ثوابا وان ترکہا لم یخش علیہا عقابا (قرطبی ج 20 ص 211) ۔ ” الذین ھم یراءون “ وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اور دنیوی مصلحتوں کے تحت نماز پڑھتے ہیں۔ خداوند تعالیٰ کی رضاء مقصود نہیں ہوتی۔ ” ویمنعون الماعون “ الماعون، بالکل معمولی اور ادنی سی چیز مثلاً سوئی، پانی، نمک آگ وغیرہ۔ وھو الشیء القلیل (روح) اور وہ ایسے بد اخلاق ہیں کہ ایک حقیر سی چیز بھی کسی کو استعمال کے لیے نہیں دیتے۔ اس سورت میں جو اوصاف ذکر کیے گئے ہیں وہ منافقوں کے اوصاف ہیں۔ کو نہا فی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الماعون ہے۔ اس کی آخری آیت میں ماعون کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لفظ سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اکثر مفسرین 1 ؎ کی یہی رائے ہے۔ تاہم بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی زندگی میں اور نصف حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا۔ اس سورة کے مدنی ہونے کا تصور اسی وجہ سے ہے کہ اس میں منافقین کا ذکر ہے اور وہ مدنی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ مکی دور میں منافقین کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یا کافر تھے۔ یا مخلص مسلمان اس سورة کی سات آیتیں ہیں۔ یہ پچیس الفاظ اور ایک سو پچیس حروف پر مشتمل ہے۔ 1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 360/پارہ 30 ، تفسیر اتقان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۝ 7 ۧ منع المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ تعالی: وَيَمْنَعُونَ الْماعُونَ [ الماعون/ 7] ، وقال : مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق/ 25] ، ويقال في الحماية، ومنه : مكان منیع، وقد منع وفلان ذو مَنَعَة . أي : عزیز ممتنع علی من يرومه . قال تعالی: أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] ، وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ [ البقرة/ 114] ، ما مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ [ الأعراف/ 12] أي : ما حملک ؟ وقیل : ما الذي صدّك وحملک علی ترک ذلک ؟ يقال : امرأة منیعة كناية عن العفیفة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

1 ؎ یعنی جب جزا و سزا کا قائل نہیں تو پھر ہر قسم کی بےرحمی اور سنگدلی کرتا ہے۔ یتیم پر رحم کرنا مسکین کو کھانا کھلانا رحمدلی کی بات ہے اس کو بھی نہیں کرتا اور خدا کی طرف بھی نہیں سکتا اس لیے غفلت اور دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے اور یہاں تک وفی الطبع ہوجاتا ہے کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے نہیں دیتا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ۔ (الماعون : 7) (اور معمولی ضرورت کی چیزیں (مانگے بھی) نہیں دیتے۔ ) ان کی طبیعتوں کی خست ماعون کے متعدد معانی بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن علماء تفسیر کی کثیر جماعت نے اس کا معنی روزمرہ استعمال کی چیزیں بتایا ہے جو عام طور پر پڑوسی اپنے پڑوسی سے مانگ لیتا ہے۔ ایک ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے سے مانگ لیتے ہیں اور اس میں امیروغریب کا بھی کوئی فرق نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ کسی امیر گھر والے کو بھی کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی ضرورت پڑجاتی ہے اور وہ اپنے ہمسائے سے مانگ لیتا ہے۔ مثلاً دیاسلائی، ہنڈیا، ڈول، نمک مرچ، کلہاڑی، ترازو، اس طرح کی چیزیں جو ہر گھر کی ضرورت ہیں لیکن بعض…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–7

فہم القرآن ربط سورت : قریش کی ناشکری اور کفر و شرک کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ قیامت کی جواب دہی کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قرآن مجید نے کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سیاق وسباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہاں ” اَلدِّیْنِ “ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو قیامت کو جھٹلاتا ہے یہ ایسا شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ جس شخص کا قیامت پر ایمان نہیں ہوتا وہ نیکی اس جذبے کے ساتھ نہیں کرتا کہ مرنے کے بعد اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔ ایسا شخص مال کی محبت میں دوسرے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (اور زکوٰۃ بالکل نہیں دیتے) یعنی ان صفات والے منافقین ہیں۔ جو سراً تو نماز پڑھتے ہی نہیں کیونکہ وجوب نماز کے قائل نہیں اور ظاہر اً ریاکاری کیلئے پڑھتے ہیں۔ پس منافقین کے لئے ہلاکت ہے جو کہ اپنے کو من جملہ صورۃ ً نمازیوں میں شامل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنی نماز سے غافل ہیں وہ اس نماز سے قرب الٰہی کے طالب نہیں اور نہ ہی فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ وہ جھکتے اٹھتے تو معلوم ہوتے ہیں مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اور وہ زکوٰۃ سے دوسروں کو روکتے ہیں۔ اور جس میں منفعت ذاتی ہے۔ قول انس ؓ و حسن ؓ : کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” ویمنعون الماعون “ حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرمایا یہ زکوٰۃ ہے اور یہی ابن عمر، حسن، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ کا قول ہے اور عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” الماعون “ کلہاڑی ، ڈول، ہنڈیا اور اس کی مثل جیسی چیزیں اور یہی سعید بن جبیر کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں الماعون عاریۃ ہے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں اس کا اعلیٰ فروزکوٰۃ ہے اور اس کا ادنیٰ سامان کی عاریت ہے اور محمد بن کعب اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں الماعون وہ معروف چیز جس کو لوگ آپس میں لیتے دیتے ہیں۔ قطرب (رح) فرماتے ہیں الماعون کی اصل قلت سے ہے۔ عرب کہتے ہیں ” مالہ سعۃ ولا منعہ “ یعنی تھوڑی چیز۔ پس زکوٰۃ اور صدقہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ یہ نصف سورة مکی ہے جو منکرین جزا و سزا کی شان میں ہے اور نصف مدنی ہے جو منافقوں کی شان میں ہے نماز سے بیخبر ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ چناچہ مسند 2 ؎ ابو یعلی میں معتبر سند سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے آیت الذین ھم عن صلاتھم ساھون کے معنی پوچھے تھے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا ساھون سے یہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو وقت کو ٹال کر نماز پڑھتے ہیں یہ سعد بن ابی وقاص کا قول بمنزلہ حدیث نبوی کے ہے۔ کیونکہ صحابہ کی یہ عادت نہ تھی کہ قرآن شریف کی تفسیر وہ اپنی راے سے کریں چناچہ اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ ) کسی چیز کو عاریتا یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا روکتے مثلا برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیا کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیا لوگوں کو استعمال کے لیے دیتے وقت ان کا کیا حال ہوگا۔ اس سورة مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے اس کی حفاظت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–7

معمولی ضرورت کی اشیاء نہ دینے والا قابل مذمت ہے قول باری ہے (ویمنعون الماعون اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں) حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ (ایک روایت کے مطابق) حضرت ابن عمر ؓ اور سعید بن المسیب تاقول ہے کہ ماعون زکوۃ کو کہتے ہیں۔ حارث نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ ماعون سے مراد آری، ہانڈی اور ڈول وغیرہ ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطابق عادیت میں کوئی چیز دینا مرا ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ ماعون مال کو کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ ہر ایسی چیز ماعون کہلاتی ہے جس میں منفعت کا پہلو موجود ہو۔ ابوبکر حبصاص کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 ۔ منکرین جزا و سزا کی " خست " طبع کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو دکھلاوا کرتے ہیں اور وہ روکتے ہیں برتنے کی معمولی چیزوں کو، یعنی ایسی معمولی چیزوں کو جن کے دینے پرتنے سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، جیسا کہ کلہاڑی، رسی، ڈول، سوئی، آگ اور پانی وغیرہ، کہ ان کے استعمال کرلینے سے ان کا بگڑتا کچھ نہیں، اسی طرح وہ زکوٰۃ بھی نہیں دیتے کہ جو مجموعی مال کے اعتبار سے ایک تھوڑا سا حصہ ہی ہوتی ہے، اور وہ " ماعون " ہی کہلاتا ہے، تو یہ سب کچھ ان لوگوں کے طبعی بخل اور تنگ ظرفی اور خست کا عکاس و غماز اور آئٰنہ دار ہے، سو یہ صفات و خصال منافقین کی ہیں اسی لیے بعض حضرات نے اس کو سورة المنافقین (…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–7

نماز سے غفلت ریا کاری اور بخل سے بچو تشریح : اس میں کچھ ایسی نصیحت کی باتیں بتائی گئی ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوار سکتی ہیں جس میں سب سے اول عقیدہآخرت کی مضبوطی ہے۔ اصل میں یہ عقیدہ انسانی کا میابی کے لیے ایک چابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ ہمارا محاسبہ ضرور ہوگا اور ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو ہمارے ظاہر باطن سے خوب واقفیت رکھتا ہے۔ جس کو نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے نہ سفارش کی گنجائش ہے نہ جھوٹ اور رشوت سے چھوٹ سکتے ہیں۔ تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو غلط کام کرے گا۔ لیکن ایسے سر پھرے لوگوں کی نہ پہلے کمی تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ تو ایسے ہی منافق لوگوں کے لیے اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–7

سورة الماعون۔ آیات 1 تا 7۔ اسرار ومعارف۔ آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو قیامت اور اسلام کا انکار کیے بیٹھے ہیں انہیں دولت دنیا نے اندھا کردیا ہے کہ اسلام کے نظام معشیت سے گھبراتے ہیں اور یتیموں اور کمزوروں کو دھکے دے کر ان کا حق دبالیتے ہیں اور محتاج وبے بس کو اس کا حق نہیں دینا چاہتے یہ صرف کافر ہی نہیں ان میں برائے نام مسلمان اور منافق بھی شامل ہیں جو بظاہر نماز ادا کرتے ہیں مگر عبادات کے اس کے نتیجے سے بیخبر ہیں کہ عبادات کا نتیجہ تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کرے اور ظلم کو مٹا دے مگر یہ اس ظلم میں گرفتار ہیں دکھلاوے کو عبادت کرتے ہیں اور کسی کا حق توکیادیں گے مانگنے پر برتنے کی چیز بھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 6 یعنی خدا کے لئے نہیں پڑھتے بلکہ اس لئے پڑھتے ہیں کہ لوگ انہیں غازی و پرہیز گار جانیں اور عزت و احترام کا مقام دیں۔7 یعنی معمولی اور عمومی استعمال کی چیزیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہایت بخیل اور بےمروت ہیں نہ خدا کی عبادت ٹھیک طرح سے کرتے ہیں اور نہ خلق خدا سے وہ برتائو کرتے ہیں جو میل جول کا کام سے کم تقاضا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(107:7) ویمنعون الماعون۔ اس کا عطف یراء ون پر ہے اور برتنے (روزمرہ کے استعمال) کی چیزیں نہیں دیتے۔ (اور وہ ماعون کو روک رکھتے ہیں) یمنعون : مضارع جمع مذکر غائب منع (باب فتح) مصدر سے۔ وہ روک رکھتے ہیں۔ وہ نہیں دیتے۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون سے کیا مراد ہے اس میں چند اقوال ہیں :۔ (1) لغت میں ماعون تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔ اور یہاں مراد زکوۃ ہے (حضرت علی ؓ حسن بصری (رح)۔ قتادہ۔ ضحاک) زکوۃ کو ماعون کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے مال کی زکوٰۃ تھوڑی سی ہوتی ہے (صرف ڈھائی فیصد) (2) ماعون سے مراد روزمرہ کے استعمال کی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔ مثلا کلہاڑی، ڈول، ہانڈی وغیرہ (حضرت ابن مسعود ؓ حضرت ابن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن۔ ارءیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ الدین۔ انصاف کا دن۔ قیامت۔ یدع۔ دھکے دیتا ہے۔ لا یحض۔ آمادہ نہیں کرتا۔ ساھون۔ بیخبر ۔ سستی کرنے والے۔ یراء و ن۔ وہ دکھاتے ہیں۔ یمنعون ۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون۔ برتنے کی (چھوٹی چھوٹی) چیزیں۔ تشریح : چند جملوں پر مشتمل سورة الماعون میں فکر آخرت، حقوق اللہ اور حقوہ العباد کو اس قدر خوبصورتی سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں غوروفکر کرنے والا کسی کے حق میں کمی کا تصور بھی نہی کرسکتا۔ فرمایا۔ ……: کیا آپ نے دیکھا کہ کون ” الدین “ کو جھٹلاتا ہے۔ ممکن ہے اس سورت میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہو یا ہر دیکھنے والی آنکھ کو اس طرف متوجہ کیا ہو کہ کیا تم نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی یہ غافل لوگ زکوۃ صدقات وغیرہ کیا ادا کرتے معمولی برتنے کی چیزیں بھی مثلا سوئی دھاگہ پیالے وغیرہ کسی کو مانگنے نہیں دیتے جن کے دے دینے کا دنیا میں عام رواج ہے۔ مسئلہ : علماء نے فرمایا کہ مستحب ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ایسی چیزیں اپنی حاجت سے زیادہ رکھیں جن کی ہمسایوں کو حاجت ہوتی ہے اور انہیں عاریتا دیاکرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] اس سے مراد عام ضرورت کی اشیاء مثلاً ترازو، نمک، پانی، دیاسلائی وغیرہ ہیں۔ [5] اس سورت میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔ پہلی تین آیتوں میں ان کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو علانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں اور آخری چار آیتوں میں ان منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل میں آخرت اور اس کی جزاوسزا کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دونوں قسم کے گروہوں کے طرز عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے اندر ایک مضبوط، مستحکم اور پاکیزہ کردار عقیدہ آخرت کے بغیر پیدا نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

سورة الماعون 1: ان آیات سے شخص معین مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس وقت کے عام سرمایہ دار مراد ہیں کہ ان کی ذہنیت اس قسم کی تھی کہ یہ اللہ سے نہیں ڈرتے تھے اور عیش و عشرت میں اس چیز کا کبھی خیال نہیں کرتے تھے کہ ہمیں اللہ کے سامنے ایک دن ان رنگ رلیوں کا جواب دینا ہے ۔ یہ فواحش اور برائیوں پر تو بےدریغ روپیہ خرچ کردیتے تھے ۔ لیکن اگر کوئی یتیم بےنوا آجائے تو اس کو ڈانٹ دیتے تھے ۔ ان کے دلوں میں کبھی یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اپنی ثروت میں مسکینوں اور غریبوں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کی ادنیٰ ضروریات بھی پوری کی جائیں ۔ یہ لوگ محض سنگ دل اور بداخلاق تھے اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی سرمایہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور روز مرہ کے برتنے کی چیز مانگے تک کو نہیں دیتے۔ یعنی روز مرہ جو چیزیں استعمال میں آتی ہیں ڈول، رسی، سوئی، تاگہ، لوٹا، پتیلی وغیرہ تک کسی کو عاریتہ نہیں دیتا یہ عام دستور ہے کہ ایک دوسرے سے عاریۃً روزمرہ کے استعمال کی چیزیں مانگ لیا کرتے ہیں اور اپنا کام نکال کرو واپس کردیتے ہیں مگر یہ کوئی چیز مانگے تک نہیں دیتا۔ بعض صحابہ ؓ نے نماز کی مناسبت سے زکوٰۃ مراد لی ہے۔ یعنی زکوٰۃ بالکل نہیں دیتے یعنی مخلوق کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں زکوٰۃجو بڑی چیز ہے وہ تک نہیں دیتا۔ زکوٰۃ تو کیا دے گا برتنے کی چیز تک مانگے نہیں دیتا۔ معلوم ہا کہ یہ شخص اسلام کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتا۔ تم تفسیر سورة الماعون

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–7

ف 4۔ کیونکہ اس میں اظہار مامور بہ اس لئے اس کو بالکلیہ ترک ہی کردیتے ہیں بخلاف نماز کے کہ اس کا اظہار مامور بہ اس لئے گاہ گاہ اظہار کے لئے پڑھ بھی لیتے ہیں اور جب نگاہ بچی چھوڑ دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ایسے خسیس ہیں کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے سے نہیں دیتے 7 ؎ ( الماعون) بھلائی۔ حسن سلوک ۔ بارش ۔ پانی ۔ گھر کا سامان ۔ فرمانبرداری ۔ زکوٰۃ وغیرہ ۔ ماعون کی لغت میں مختلف معانی ہیں جو چیز کسی مانگنے والے کی مدد کے لیے دے دی جائے وہ بھی ماعون اور جو روک لی جائے وہ بھی ماعون ہے۔ ( از لغات اضداد) اس لیے بعض اہل لغت کا قول ہے کہ ماعون کی اصل معونۃ تھی الف تاکہ عوض بڑھا یا گیا ۔ یہ قول اگرچہ بلا دلیل ہے لیکن ماعون کے مفہوم کے اعتبار سے بہت دل نشین ہے جو چیزدی جاتی ہے وہ دوسرے کے لیے سبب معونت بن جاتی ہے اور جونہی دی جات وہ اپنے لیے باعث معونت ہوتی ہے اس لیے دونوں صورتوں میں اس کو مامون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–7

The love of the world causes nations to lose faith and consign Allah to oblivion This Surah denounces some of the evil actions of the pagans and the hypocrites, and it holds out a threat of destruction to those who commit them. If these evil actions are committed by believers, who do not reject the true faith, they are still heinous and gravely sinful, but the threat of chastisement made in this surah does not apply to them. Therefore, verse [ 107:1] أَرَ‌أَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (Have you not seen him who denies the Requital?), as a preamble, makes plain that the person who…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 The word used is ma'un. The view held by Hadrat `Ali, Ibn `Umar, Sa`id bin Jubair, Qatadah, Hasan Basri, Muhammad bin Hanafiyyah, Dahhak, Ibn Zaid, `Ikrimah, Mujahid, `Ata' and Zuhri (may Allah show them mercy) is that it implies the zakat while Ibn `Abbas, Ibn Mas`ud, Ibrahim Nakha`i, Abu Malik and many other scholars have expressed the opinion that it implies items of common use; for example, cooking-pot, bucket, hatchet, balance, salt, water, fire, flint (now its successor, the match-stick) , etc. which the people generally borrow from each other. A statement of Sa'id bin Jubair and…

Read the full tafseer →