107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت پر یقین، زندگی بھر کئے گئے اعمال کا حساب اور اللہ کے عدل و انصاف پر کامل اعتماد یہ ایسی نعمت ہے کہ اس سے ہماری زندگی کا دھارا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور اخلاق و کردار کا اندازبدل کر رہ جاتا ہے۔ ایک وہ شخص جو اس غلط فہمی مبتلا ہے کہ بس وہ جو کچھ ہے وہ یہی زندگی ہے۔ وہ اسی زمین سے پیدا ہوا اور اسی میں فنا ہوجائے گا۔ اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔ قیامت، آخرت، حساب کتاب، جواب دہی اور سز اجزاء یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کا اس بات پر یقین کامل ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں اسے اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہو کر زندگی کے تمام اعمال کا حساب دینا ہے جس پر جزا یا سزا کا فیصلہ ہوگا۔ ان دونوں شخصوں کے اخلاق اعمال، سیرت و کردار، رفتار اور گفتار میں زمین وآسمان کا فرق ہوگا۔ ١۔ آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والا کافر یا منافق بےماں باپ کے یتیم بچوں کے ساتھ شفقت و محبت، حسن سلوک اور احسان کا معاملہ کرنے کے بجائے حقیر و ذلیل کرنے، دھکے اور ٹھوکروں میں اڑانے کی سنگ دلانہ حرکتوں میں کوئی شرم محسوس نہ کرے گا۔ ایسا آدمی کسی غریب، بےبس اور ضرورت مند کی مجبوریاں سے فائدہ تو اٹھائے گا مگر ان کی بھوک مٹانے کی نہ خود کوشش کرے گا اور نہ دوسروں کو اس طرف رغبت اور توجہ دلائے گا۔ اگر ایسا آدمی منافق ہے تو وہ دنیا دکھائے کے لئے نمازیں پڑھنے پر مجبور ہوگا اور اس کی نمازیں اللہ کی رضا و خوشنودے کے بجائے ریاکاری، دکھاوے اور سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے ہوں گی۔ اس کی نمازوں میں امنگوں کے بجائے سستی اور کاہلی نمایاں ہوگی۔ وہ اخلاقی طور پر اس قدر نچلی سطح تک گر جائے گا کہ وہ اپنے قریب رہنے والے پڑوسیوں کو گھریلو استعمال کی وہ چیزیں جیسے نمک، پیاز، دیا سلائی وغیرہ جن کے دینے سے اس کا کوئی خاص نقصان بھی نہیں ہوگا مگر وہ اپنی تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے دینے سے انکار کردے گا۔ ٢۔ لیکن جس کے دل میں ایمان و یقین کی شمع روشن ہوگی، جسے اس بات کا یقین ہوگا کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا ہے اسے آخرت کی پکڑ اور گرفت کا ڈر اور حساب کتاب کا خوف ہوگا ایسے شخص کا رویہ، انداز فکر، اخلاق اور کردار ایک کافر اور منافق سے بہت مختلف ہوگا۔ اس کے ہر عمل میں اللہ کی رضا و خوشنودی کا رنگ جھلکتا نظر آئے گا۔ اس کو آخرت کی فکر بےچین کئے رکھے گی۔ وہ یتیم اور بےآسرا بچوں کے ساتھ شففقت و محبت کا ایسا برتائو کرے گا جس سے ان کے ساتھ ہمدردی ، محبت اور غم خواری کا حق ادا ہوسکے گا۔ اگر وہ خود کھائے گا اور اپنے بال بچوں کو کھلائے گا تو اس کو اپنے پڑوسی کی فکر بھی دامن گیر ہوگی کہ وہ اور اس کے بچے رات کو بھوکے نہ سو رہے ہوں۔ وہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں، غریبوں ، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھے گا بلکہ وہ دوسروں کو بھی ان کے حسن سلوک کی طرف راغب اور متوجہ کرے گا۔ ایسا آدمی ہر عبادت کو خاص طور پر نمازوں کو ان کے پورے آداب، خشوع و خضوع اور وقت پر ادا کرے گا اور وہ اس تصور سے نمازیں پڑھے گا کہ وہ احکم الحاکمین کے دربار میں حاضر ہے۔ اس کا ہر عمل محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوگا۔ ہر آنکھ رکھنے والا انسان اس بات کو اچھی طرح دیکھ کر فیصلہ کرسکتا ہے کہ یہ دو مختلف اعمال و کردار رکھنے والے آدمی انجام کے اعتبار سے ایک جیسے ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ ان دونوں میں سے ایک شخص وہ ہے جو قیامت کے دن جہنم کا ایندھن بن جائے گا اور دوسرا جنت اور اس کی تمام راحتوں کا حق دار ہوگا۔

Ayahs 107:1–7

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

کیا آپ نے اس کو دیکھا جو انصاف کے دن (قیامت کے دن) کو جھٹلاتا ہے

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

پھر وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور محتاج کو کھانا دینے کی لوگوں کو ترغیب نہیں دیتا

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

پھر ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نمازوں میں غفلت برتتے ہیں

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

وہ جو دکھاوا کرتے ہیں

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور روز مرہ برتنے کی چیز تک کو منع کردیتے ہیں۔

لغات القرآن۔ ارءیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ الدین۔ انصاف کا دن۔ قیامت۔ یدع۔ دھکے دیتا ہے۔ لا یحض۔ آمادہ نہیں کرتا۔ ساھون۔ بیخبر ۔ سستی کرنے والے۔ یراء و ن۔ وہ دکھاتے ہیں۔ یمنعون ۔ وہ منع کرتے ہیں۔ الماعون۔ برتنے کی (چھوٹی چھوٹی) چیزیں۔ تشریح : چند جملوں پر مشتمل سورة الماعون میں فکر آخرت، حقوق اللہ اور حقوہ العباد کو اس قدر خوبصورتی سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں غوروفکر کرنے والا کسی کے حق میں کمی کا تصور بھی نہی کرسکتا۔ فرمایا۔ ……: کیا آپ نے دیکھا کہ کون ” الدین “ کو جھٹلاتا ہے۔ ممکن ہے اس سورت میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہو یا ہر دیکھنے والی آنکھ کو اس طرف متوجہ کیا ہو کہ کیا تم نے کبھی اس بات پر غوروفکر کیا ہے کہ ” الدین “ کو جھٹلانے والوں کا مزاج کیسا بن جاتا ہے کہ وہ اپنے پرائے کسی کا خیال تک نہیں کرتے۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ ” الدین “ سے مراد انصاف کا دن یعنی قیامت کا دن ہے۔ بعض نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد ملت اسلامیہ اور دین اسلام ہے۔ بہرحال قیامت کے دن اور ملت اسلامیہ کے سچے اصولوں کو جھٹلانے والوں کا یہی مزاج ہوسکتا ہے کہ وہ ایک غریب اور یتیم کے ساتھ حسن سلوک اور مشفقانہ برتائو کرنے کے بجائے اس کو ذلیل و خوار کرتے ہیں اور اس کو خود بھی دھکے دیتے ہیں اور ہر شخص کے سامنے اس کو اس قدر نیچا اور ذلیل کردیتے ہیں کہ ہر شخص اس کو دھکے دے کر اپنے قریب نہ بیٹھنے دے۔ ایسا شخص نہ تو خود ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے اور نہ دوسروں کو اس راستے پر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مجبوروں، غریبوں اور یتیموں کے ساتھ وہ شخص سنگ دلی کا مظاہرہ کرسکتا ہے جس کو اس بات کا یقین ہی نہ ہو ہکا سے بھی ایک دن مر کر اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور لمحے لمحے کا حساب دینا ہے۔ جس کو آخرت، قیامت اور ملت اسلامیہ کے اصولوں کا لحاظ نہیں ہوتا وہی نمازوں میں سستی کاہلی کرتا ہے۔ اس کا کوئی کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے نہیں ہوتا بلکہ سستی شہرت اور وقت واہ واہ کے لئے ہوتا ہے تاکہ ہر شخص اس کی دریا دلی کا قائل ہوجائے۔ وہ زکوٰۃ تو کیا ادا کرے گا اپنے پڑوسیوں کو وہ معمولی چیزیں دینے سے بھی کنجوسی کرے گا جس کے دینے میں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے یعنی وہ برتنے کی معمولی چیزوں سے بھی انکار کردے گا۔ اس سے معلو ہوا کہ آخرت پر یقین ہی سے انسان کی مزاج، عقیدہ اور ذہن میں تبدیلی آسکتی ہے۔ جس کو قیامت کا یقین ہی نہ ہو اور آخرت کی گرفت اور پکڑ کر انکار کرتا ہے اس میں انسانیت کی بھلائی اور محبت کے جذبے کے بجائے سنگ دلی کا مزاج پیدا ہوجاتا اور آخرت کی گرفت اور پکڑ کا انکار کرتا ہے اس میں انسانیت کی بھلائی اور محبت کے جذبے کے تحت کرتا ہے کہ اس کے حسن سلوک سے خود اس کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ فذلک ……: وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اصل میں جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے وہ بچہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ اور اس کا ہر فرد ایسے بچوں کے ساتھ بہترین حسن سلوک اور اچھا معاملہ کے کیونکہ ملت کا ہر فرد پوری توجہ کا حق دار ہوتا ہے۔ اگر یتیم بچوں کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے گا اور اس ان کے اخلاق و کردار کی نگرانی نہیں کی جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہی بچے کلپورے معاشرے کی تباہی کا سبب بن جائیں۔ لیکن اس کی فکر صرف ان لوگوں کو ہوتی ہے جنہیں اپنے دین اور اپنی ملت سے محبت ہوتی ہے جو لوگ صرف اپنی ذات ہی میں گم رہتے ہوں ان کو صرف اپنی ذات کی فکر ہوتی ہے ان کی نظر قوم کے بچوں پر نہیں ہوتی۔ ……: وہ مسکین کے کھانے پر آمادہ نہیں کرتا۔ یعنی نہ تو خود اس کو اس بات کی توفیق ہوتی ہے کہ وہ بھوکوں اور فاقہ زدہ لوگوں کی امداد و اعانت کرے نہ اپنے گھروالوں اور دوست احباب کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھیں۔ فکر آخرت سے بےنیاز یہ شخص فضولیات میں تو ہزاروں کی رقم خرچ کردے گا لیکن کسی مسکین، محتاج اور فرق فاہ سے بےحال شخص کے حال پر رحم نہیں کرے گا۔ اس کے برخلاف ہر وہ شخص جس کو اللہ و رول کے احکامات کا لحاظ ہوگا وہ خود بھی کھائے گا اور اس بات کا بھی خیال رکھے گا کہ اس کے پڑوسی یارشتہ دار میں کوئی بھوکا تو نہیں ہے۔ ………: ان لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو نمازوں سے غفلت اختیار کرتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نمازوں سے اس درجہ غفلت اختیار کرتے ہیں کہ نہ تو ان کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کس عالی شان دربار میں حاضر ہیں۔ نہ خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہیں نہ وقت کی پابندی کا۔ کبھی نماز پڑھ لی کبھی نہ پڑھی۔ نماز پڑھی تو دو چار ٹھونگیں مار لیں۔ قرآن کریم اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن اور منافق کی نماز میں بہت فرق ہے۔ مومن کی نماز میں اللہ کی عبادت و بندگی کو پورا پورا خیال ہوتا ہے۔ وقت کے اندر وہ نماز کو ادا کرتا ہے۔ نماز کے پورے آداب اور اصولوں کی پابندی کرتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ کی تو فقی سے آج وہ اپنے اللہ کے عالی شان دربار میں حاضر ہے۔ وہ فکر آخرت کو سامنے رکھ کر نماز کو پڑھتا ہے۔ کسی طرح کی سستی، کاہلی اور دکھاوا نہیں کرتا۔ اس کے برخلاف منافق کی نماز کے لئے فرمایا گیا ہے کہ وہ جب بھی دنیا کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس میں ذوق و شوق کے بجائے کاہلی، سستی اور اکتاہٹ کا انداز نمایاں ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ منافق آدی کا یہ حال ہوتا ہے کہ عصر کے وقت بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے (یعنی سورج ڈوبنے لگتا ہے تو) تو اٹھ کر ( مرغے کی طرح) دو چار ٹھونگیں مارلیتا ہے۔ جس میں وہ اللہ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔ (بخاری۔ مسلم۔ مسند احم) ۔ حضرت ابن ابی وقاص ؓ سے ان کے صاجزادے حضرت مصعب ابن سعد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جو نماز میں غفلت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں۔ (ابن جریر۔ بیہقی) ۔ اسی طرح حضرت مصعب ؓ کی ایک دوسری روایت بھی ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ نے اس آیت پر غور کیا ؟ کیا اس کا مطلب نماز کو چھوڑ دینا ہے ؟ یا اسے مراد نماز پڑھتے ہوئے آدمی کا خیال ادھر ادھر چلا جاتا ہے۔ اور کیا ہم میں سے ایسا کوئی شخص بھی ہے جس کا خیال ادھر ادھر نہ بھٹک جاتا ہو ؟ آپ نے جواب دیا کہ اس سے مراد نماز کے وقت کو ضائع کرنا اور اسے وقت سے ٹال کر پڑھنا ہے۔ (ابن جریر۔ بیہقی) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فی صلاتھم ساھون نہی فرمایا بلکہ عن صلاتھم ساھون فرمایا۔ یعنی وہ لوگ جو نمازوں سے غفلت اختیار کتے ہیں۔ پڑھی نہ پڑھی۔ پڑھی تو وقت ٹال کر پڑھی، اوپر سے دل سے اکتاہٹ کے ساتھ پڑھی اور پھر اس نماز میں بھی پورا دھیان نماز کی طرف نہیں بلکہ اپنے وجود اور کپڑوں سے کھیلنے میں گزر جاتا ہے۔ ساھون کی وضاحت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا۔ ساھون کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اضاعۃ الوقت۔ یعنی نماز کے وقت کو ضائع کرنا۔ یا وہ منافق مراد ہیں جو نماز پڑھتے ہیں لیکن اس کی طرف توجہ نہیں دیتے اور غفلت میں مبتلا رہتے ہیں۔ نمازوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر نماز جاتی رہے تو اس پر وہ ندامت تک کا اظہار نہیں کرتے۔ رکوع اور سجدوں کے آداب کا خیال نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نمازوں کو پوری طرح ادا کرنے اور ان کے آداب کا لحاظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین دکھاوا۔ ریاکاری : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’ الذین ھم یرائون “ یعنی وہ لوگ جو ریار کاری کرتے ہیں۔ اصل میں مومن کے ہر کام میں ایک اخلاص ہوتا ہے۔ اس کے پیش نظر ایک ہی جذبہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے کام کرے جس سے اللہ راضی ہوجائے اور اس کی رضا خوشنودی حاصل ہوجائے۔ لیکن منافق کی پہچان یہ ہے کہ اس کا ہر کام دنیا کو دکھانے، نمود ونمائش اور ریار کاری کے لئے ہوتا ہے۔ دراصل دکھوے اور ریاکاری کا عمل انسان کی ذہنی اور قلبی بیماری کا دوسرا نام ہے۔ وہ ہر وقت اسی فکر میں رہتا ہے کہ لوگ اس کے حسن عمل کو دیکھیں اور اس کی تعریف کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ریاکاری کے اس بدترین جذبے سے محفوط رکھے اور ہر وہ کا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوسکے۔ ……: وہ عام استعمال کی چیزیں جیسے نمک، مرچ، مصالحہ، دیا سلائی آگ اور کھانے پینے کی معمولی چیزیں جن کی عام طور پر ضروت پڑتی رہتی ہے ریاکاری کرنے والوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ ایسی معمولی چیزوں کے دینے سے بھی کنجوسی اور بخل کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کے دیدینے سے اس کا کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا۔ مثلاً پڑوس میں ایک خاتون کھانا پکار رہی ہیں۔ ان کے پاس سب کچھ ہے مگر نمک ختم ہوگیا یا مرچ مصالحہ ختم ہوگیا۔ اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ بھی نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر منگوا سکے اس حالت میں اگر وہ ان معمولی چیزوں میں سے کسی چیز کو مانگ لے تو یہ نہ تو کوئی عیب ہے اور نہ ان چیزوں کے دینے میں کسی قسم کا نقصان ہے۔ اصل میں اللہ یہ فرما رہے ہیں کہ جس کا آخرت پر یقین کامل ہوتا ہے وہ کبھی ایسی گری ہوئی حرکتیں نہیں کرسکتا کیونکہ ہماری اخلاقی زندگی میں فکر آخرت ایک فیصلہ کن طاقت کا نام ہے۔