Ayah 107:1اریت الذی یکذب بالدین . استفہام بمعنی تعجب ہے۔ رویت سے مراد دیکھنا اور پہچاننا۔ بحر مواج میں ہے
کہ استفہام تقریری ہے اور رویت بمعنی علم یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے متعلق نازل ہوئی (ایک روایت میں مقاتل کا قول) یا ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ سدی ‘ ابن کیسان اور مقاتل کا دوسرا قول یہی ہے یا عمرو بن عامر مخزومی کے متعلق نازل ہوئی۔ (ضحاک)
ان اقوال پر سورة کا ابتدائی حصہ مکی ہوگا اور آخری مدنی۔ بروایت عطاء حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ ارایت الذی یکذب بالدین ایک منافق شخص کے متعلق نازل ہوئی ‘ ان تمام روایات پر الذیْ عہدی ہوگا۔ بعض لوگوں نے جنسی قرار دیا ہے۔ دین سے مراد ہے اسلام یا جزاء۔
Ayah 107:2فذلک . فاء سببی ہے ما بعد فاء ما قابل فاء کی علت کے مقام پر ہے اور ذٰلِکَ خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے ‘ بعض لوگوں
نے فاء کو جزائیہ کہا ہے اور شرط محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا ‘ کیا تم نے دین کی تکذیب کرنے والے کو پہچانا ‘ اگر نہ پہچانا تو سمجھ لو کہ وہ وہی شخص ہے جو
الذی یدع الیتیم . یتیم کو دھکے دیتا ہے ‘ یعنی اس پر ظلم کرتا ہے اور اس کا حق رکھتا ہے۔ وعٌّ کا معنی ہے قوت
سے دھکا دینا۔
Ayah 107:3ولا یحض علی طعام المسکین . یعنی اس کو چونکہ جزاء کا ہی یقین نہیں ہے ‘ اس لیے نہ اپنے نفس کو
مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ابھارتا ہے ‘ نہ اپنے گھر والوں کو اور دوسرے لوگوں کو اس کا مشورہ دیتا
ہے۔
Ayah 107:4فویل للمصلین . فاء جزائیہ ہے یعنی جب یتیم کی پروا نہ
کرنا ‘ ضعف عین کی علامت اور موجب ذم و زجر ہے تو پھر اس نماز کی طرف سے غافل ہونا جو دین کا ستون ہے اور دکھاوٹ کرنا جو کفر کی ایک شاخ ہے اور اس زکوٰۃ کو روکے رکھنا جو اسلام کا پل ہے بدرجۂ اولیٰ موجب ذم اور مستحق تنبیہ ہے ‘ اسی مفہوم کے لحاظ سے فاء کے بعد لفظ ویل ذکر کیا (جس سے معلوم ہوا کہ یہ اوصاف تباہی اور عذاب شدید کا موجب ہیں) ۔
یا فاء سببی ہے (یعنی ماقابل فاء ما بعد فاء کا سبب ہے) لیکن لھُمْ کی جگہ للمصلین فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ پہلے مخلوق کے ساتھ معاملات کا ذکر تھا اور اس جگہ خدا کے ساتھ معاملہ کرنے کا ذکر ہے۔ سا ہون سے مراد ہیں ‘ غفلت کرنے والے ‘ پروا نہ رکھنے والے۔ بغوی نے بروایت مصعب بن سعد ؓ حضرت سعد بن ابی وقاص کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ھُمْ عن صلٰوتھم ساھونَ کی تشریح پوچھی گئی۔ فرمایا : (نماز کی طرف سے سہو کرنے کا مطلب ہے) نماز کا وقت ضائع کردینا۔
ابن جریر اور ابو یعلی کی روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (ساھون) وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے (مقررہ) وقت سے مؤخر کرتے ہیں۔
ابو العالیہ نے کہا : یعنی مقررہ اوقات پر نماز نہیں پڑھتے اور رکوع و سجود کو پورا نہیں کرتے۔ قتادہ ؓ نے کہا : سہو کا معنی یہ ہے کہ اس کو پروا نہیں ہوتی کہ نماز پڑھی یا نہیں پڑھی۔ بعض لوگوں نے ساھون کا معنی یہ بیان کیا کہ اگر وہ نماز پڑھ لیتے ہیں تو ثواب کی امید نہیں رکھتے اور نہیں پڑھتے تو عذاب سے نہیں ڈرتے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ نماز میں غفلت اور سستی کرتے ہیں۔ حسن بصری (رح) نے کہا : ساھی سے مراد وہ شخص ہے کہ اگر نماز پڑھتا ہے تو دکھاوٹ کی اور نماز فوت ہوجاتی ہے تو اس کو افسوس نہیں ہوتا۔
Ayah 107:5الذین ھم عن صلوتھم ساھون
Ayah 107:6الذین ھم یراؤن . یُرْآءُ وْنَ رویت سے باب مفاعلت ہے۔ لوگوں کو وہ اپنے (اچھے) اعمال دکھاتے ہیں تاکہ لوگ ان کی تعریف کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دکھاوٹ کی نماز پڑھی۔ اس نے شرک کیا ‘ جس نے دکھاوٹ کا روزہ رکھا ‘ اس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوٹ کی خیرات کی اس نے شرک کیا۔ (رواہ احمد عن شداد بن اوس)
Ayah 107:7و یمنعون الماعون . اور وہ ماعون کو روکتے ہیں۔ قطرب نے کہا اصل لغت میں ماعون تھوڑی چیز کو کہتے ہیں۔
یہاں زکوٰۃ مراد ہے۔ حضرت علی ‘ حضرت ابن عمر ‘ حسن ‘ قتادہ اور ضحاک سے یہی تفسیر منقول ہے۔ زکوٰۃ کو ماعون کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت مال کی تھوڑی زکوٰۃ ہوتی ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : کلہاڑی ‘ ڈول ‘ ہانڈی اور انہی جیسی چیزیں ماعون ہیں۔ سعید بن جبیر کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول آیا ہے۔ مجاہد نے کہا : ماعون سے مراد عاریت (مانگی ہوئی ‘ مستعار چیز) ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا : ماعون سے اعلیٰ اور ادنیٰ ہر چیز مراد ہے۔ اعلیٰ چیز فرض زکوٰۃ ہے اور ادنیٰ چیز مستعار لیا ہوا استعمال کا گھریلو سامان۔ محمد بن کعب ؓ اور کلبی ؓ نے کہا : ماعون وہ معروف چیزیں ہیں جن کا لین دین لوگ آپس میں کرتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا : ماعون وہ چیز ہے جس کو روک رکھنا (دوسروں کو نہ دینا) درست نہیں ‘ جیسے پانی ‘ نمک ‘ آگ۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ پانی تو خیر۔ نمک اور پانی میں کیا بات ہے ؟ فرمایا : حمیرا ! جس نے آگ دے دی گویا اس نے اس آگ سے پکا ہوا کل کھانا دے دیا اور جس نے نمک دے دیا ‘ اس نے گویا اس نمک سے درست کیا ہوا کھانا دے دیا اور جس نے کسی مسلمان کو ایسے مقام پر جہاں پانی ملتا ہے پانی پلایا اس نے گویا ایک بردہ آزاد کیا اور جس نے پانی نہ ملنے کے مقام میں کسی مسلمان کو پانی پلایا ‘ اس نے گویا اس کو زندہ کردیا۔ (رواہ ابن ماجہ)
ابن عباس ؓ نے فرمایا آیت : فویل للمصلین الذین ...... منافقوں کے متعلق نازل ہوئی ‘ جو مسلمانوں کو دکھانے کیلئے نماز پڑھتے تھے لیکن اگر مسلمان موجود نہ ہوتے تو نماز نہیں پڑھتے تھے اور عاریت (کی چیزوں) کو روک رکھتے تھے۔ (ابن المنذر بروایت ابوطلحہ ؓ
حضرت انس اور حسن کا قول مروی ہے کہ دونوں نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے کہ اس نے عن صلٰوتھم ساھون فرمایا اور فی صلٰوتھم ساھون نہیں فرمایا۔ عن صلٰوتھم ساھون کا معنی یہ ہے کہ نماز کو ترک کرتے ہیں ‘ نماز کی پروا نہیں کرتے اور یہ منافقوں کا فعل ہے۔
اور فی صلٰوتھم ساھون کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں ان کو کچھ ادھر اور ادھر کے خیالات آجاتے ہیں اور شیطانی وسوسے پیدا ہوجاتے ہیں ‘ ان وسوسوں کا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور جہاں تک ممکن ہو دفع کرے لیکن اگر دفع نہ کرسکا تو معاف ہیں۔ (مدارک)
حضرت عثمان بن ابی العاص کی روایت ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! شیطان آکر میرے اور میری نماز اور قراءت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور مشتبہ بنا دیتا ہے۔ فرمایا : اس شیطان کا نام خنزف ہے۔ جب تم کو اس کی آہٹ معلوم ہو تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار تھتکار دو ۔ حضرت عثمان ؓ کا بیان ہے ‘ میں نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کو مجھ سے دور کردیا۔ (رواہ مسلم)
حضرت قاسم بن محمد سے کسی شخص نے کہا : مجھے نماز میں وہم ہوجاتا ہے اور کثرت سے ہوتا رہتا ہے۔ فرمایا : اپنی نماز جاری رکھو ‘ جب تک نماز ختم نہیں کرلو گے یہ وہم دور نہ ہوگا۔ تم یہی کہتے رہو گے کہ میری نماز ابھی پوری نہیں ہوئی ‘ واللہ اعلم۔