Ayahs 107:1–31۔ یعنی وہ بددین شخص ایسا سنگدل اور تنگدل ہے کہ خود تو بیچارے یتیموں کے ساتھ حسن سلوک تو کیا کرے گا، الٹا ان کے ساتھ بیدردی کا برتاؤ کرتا ہے اور دوسروں تک کو مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک پر آمادہ نہیں کرتا، حق تلفیوں میں جسارت وقساوت اسی کے دل میں پیدا ہوتی ہے جو آخرت کا منکر یا عملا منکر ہوتا ہے۔ (آیت) ” یکذب بالدین “۔ دین سے یہاں عموما مراد جزاء و حساب ہی سے لی گئی ہے۔ وھو قول اکثر المفسرین ان المراد رأیت الذی یکذب بالحساب والجزاء (کبیر) ارأیت۔ ہمزہ استفہام مخاطبین کے ذہن میں مکذب کے تعارف کے لئے شوق و جستجو پیدا کرنے کو ہے۔ استفہام ارید بہ تشویق السامع الی تعرف المکذب (روح) رأیت۔ رؤیت سے یہاں لازمی طور پر رؤیت بصری ہی مراد نہیں ہوسکتا ہے کہ محض جاننا مراد ہو، والرؤیۃ بمعنی المعرفۃ (روح) ذلک۔ اشارۂ بعید ان لوگوں کی بعد منزلت کو ظاہر کرنے کو ہے۔ ان کی انہی بداعمالیوں کی بناء پر۔ قیل ان اسم الاشارۃ ھنا مقحم للاشارۃ الی بعد المنزلۃ فی الشروالفساد (روح) الذی۔ لفظ واحد ہے مگر معنی جمع۔ مراد ریا کار نمازیوں کی جنس ہے۔ معناہ الجمع لان المراد بہ الجنس (کشاف) (آیت) ” یدع الیتیم “۔ یتیموں کے ساتھ بدسلوکی اور ان کی حق تلفی عرب جاہلیت میں عام طور سے شائع تھی، (آیت) ” طعام المسکین “۔ عرب بڑے فیاض اور مہمان نواز تھے ؛۔ کھانا کھلانا ان کے ہاں بہترین بھلائی سمجھا جاتا تھا۔ اور بخیل اپنی برائی میں بطور سند کے پیش کیا جاتا۔
Ayahs 107:4–62۔ یعنی نماز اگر پڑھتے بھی ہیں، تو نمائش اور دکھاوے کی، جسے اصل عقیدہ سے کوئی تعلق ہی نہیں، گویا بندوں کے حق ضائع کرتے کرتے خالق کے حق ضائع کرنے میں بھی دلیر ہوگئے ہیں۔ عام خیال یہ پھیلا ہوا ہے، اور اپنی جگہ پر صحیح بھی ہے کہ حقوق العبد، حقوق اللہ پر مقدم ہیں، لیکن یہ تقدم صرف زائد مؤکد اور اشد ہونے کے لحاظ سے ہے، ورنہ فی نفسہ اہمیت تو ظاہر ہے، کہ حقوق اللہ ہی کی ہے۔ حقوق العبد بھی تو اسی لیے فرض ہیں کہ اللہ کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہاں تنبیہ فرمائی ہے کہ سورت میں ذکر ان افعال کا ہے جو تکذیب دین سے پیدا ہوتے ہیں، خواہ کفرا خواہ نفاقا، باقی اگر وہ بلاتکذیب دین ہوں تو مذموم اس وقت بھی ہوں گے، مگر اس درجہ میں نہیں۔
Ayah 107:73۔ (اور دوسروں کو دینے میں بخل کرتے ہیں) (آیت) ” الماعون “۔ ماعون روز مرہ کے استعمال کی معمولی معمولی چیزوں کو کہتے ہیں، اور ہراس چیز کو جس سے دوسروں کو کا کام نکل سکے۔ قال ابوعبیدۃ کل ما فیہ منفعۃ فھو الماعون (جصاص) قال ابوعبیدۃ والزجاج والمبرد ھو فی الجاھلیۃ کل مافیہ من منفعۃ من قلیل اوکثیر (روح) مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں کے دل مخلوق خدا کی ہمدردی سے اس قدر خالی ہیں کہ کسی کی معمولی سی اعانت بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ بلکہ گراں گزرتی ہے۔ شریعت کو ملت کی اصلاح انفرادی واجتماعی کا جس درجہ اہتمام مطلوب ہے ! اس سورت سے بالکل ظاہر ہو رہا ہے۔ جن لوگوں میں عام انسانی ہمدردی اتنی بھی نہیں، انہیں دین کی تکذیب کرنے والا ٹھہرایا ہے۔ ماعون۔ کے دوسرے معنی زکوٰۃ کے کئے گئے ہیں۔ قال علی وابن عباس ؓ روایۃ وابن عمر ؓ وابن المسیب الماعون الزکوۃ (جصاص) اے الزکاۃ کماجاء عن علی وابنہ محمد بن الحنفیۃ وابن عباس ؓ وابن عمر ؓ وزید بن اسلم والضحاک وعکرمۃ (روح) مفہوم اس صورت میں بھی وہی رہتا ہے۔ یعنی زکوٰۃ جیسی واجب چیز کو بھی ان کا دل گوارا نہیں کرتا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سورت میں ذمائم اخلاق یعنی فسوق، غفلت، ریاء وبخل کی مذمت مذکور ہے۔ صاحب کشاف نے چھٹی ہجری کے وسط اول میں اس سورت کی تفسیر میں ریاء کار نمازیوں کی تفصیلی حالت کا مرقع کھینچتے ہوئے لکھا ہے کہ بڑے رنج کا مقام ہے کہ ہمارے زمانہ میں اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والے، بلکہ طبقہ علماء تک کے لوگ اسی قسم کی ریائی نمازیں پڑھتے رہتے ہیں۔ وکم تری من المتسمین بالاسلام بن من العلماء منھم من ھو علی ھذہ الصفۃ فیامصیبتنا (کشاف) آٹھ سو سال بعد چودھویں صدی ہجری کے وسط میں یہ ماتم کن الفاظ میں کیا جائے ؟