107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 107:1

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے،

اوپر سورة الماعون کا ترجمہ لکھا گیا ہے۔ ماعون ایسی چیز کو کہتے ہیں جو معمولی سی چیز ہو اگر کسی کو استعمال کے لیے دے دی جائے تو دینے والے کے مال میں کوئی خاص کمی نہ آئے چونکہ اس سورت کے آخر میں ماعون سے منع کرنے والوں کی مذمت وارد ہوئی ہے اس لیے سورة الماعون کے نام سے معروف اور مشہور ہے۔ اس سورت میں چھ چیزوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اولاً فرمایا ﴿ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بالدِّيْنِؕ001﴾ اے نبی کیا آپ نے اسے دیکھا جو دین یعنی جزاء کو جھٹلاتا ہے یعنی قیامت کے دن کا اور اس بات کا انکار کرتا ہے کہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے اور اعمال کی جزا سزا ملے گی۔
Ayah 107:2

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

سو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے

ثانیا : اس شخص کی بےرحمی کا ذکر کیا اور فرمایا ﴿ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَۙ002﴾ (سو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے)
Ayahs 107:3–4

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا،

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

سو ایسے نمازیوں کے لیے بڑی خرابی ہے

ثالثاً یوں فرمایا : ﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ003﴾ (کہ یہ شخص مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا) اس میں اس منکر قیامت کی کنجوسی کی انتہا بتادی کہ یہ خود تو کسی مسکین پر کیا خرچ کرتا، دوسروں کو بھی خرچ کرنے کی ترغیب نہیں دیتا۔ یتیم کو بھی دھکے دیتا ہے اور مسکین پر بھی رحم نہیں کھاتا، روز جزاء کی تکذیب کرنے والے کی یہ دونوں صفات بیان فرمائی ہیں جس میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ایمان ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے دل نرم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر مومن بندے رحم کرتے ہیں اور ترس کھاتے ہیں اور یوم آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اس کی جزا ملنے کی امید رکھتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اور روز جزاء کے واقع ہونے کا انکار کرتے ہیں ان میں رحم دلی نہیں ہوتی اگر کسی پر کچھ خرچ کرتے ہیں تو وہ بھی اپنے دنیوی مطلب سے کرتے ہیں اور یوم جزاء میں ثواب ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ جب آخرت ہی کو نہیں مانتے تو ثواب کی کیا امید رکھیں گے۔ سورة الحاقۃ میں کافروں کا عذاب بتانے کے بعد فرمایا ﴿اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ0033 وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ0034﴾ (بیشک وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا) ۔ منکر قیامت کی بعض صفات بیان فرمائیں، جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دعوے کے مطابق عمل نہیں کرتے۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو منافق ہیں۔ (ان کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے) اور وہ لوگ بھی ہیں جو ملت اسلامیہ سے تو خارج نہیں لیکن اعمال کے اعتبار سے ان کا طرز زندگی اوامر اسلامیہ کے خلاف ہے، فرمایا : ﴿ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠ۙ004 الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ005﴾ (سو ایسے نمازیوں کے لیے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا دینے والے ہیں) ۔ (یہ پہلی صفت ہوئی) ﴿ الَّذِيْنَ هُمْ يُرَآءُوْنَۙ006﴾ جو دکھلاوا کرتے ہیں (یہ دوسری صفت ہوئی) ﴿ وَ يَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (رح) 007﴾ اور معمولی چیز کو منع کردیتے ہیں (یہ تیسری صفت ہوئی) ۔
Ayah 107:5

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں،

پہلی صفت میں یہ بیان کیا کہ کہنے کو نمازی بھی ہیں لیکن نماز سے غفلت برتتے ہیں، یہ لفظ ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو نماز کو بالکل ہی نہیں پڑھتے اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو وقت سے ناوقت کر کے پڑھتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو اس کو ارکان اور شروط کے مطابق اداء نہیں کرتے اور ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو خشوع کی طرف دھیان نہیں دیتے اور اس کے معانی میں غور نہیں کرتے۔ مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ الفاظ کا عموم ان سب کو شامل ہے اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو شخص ان صفات میں سے کسی بھی ایک صفت سے متصف ہوگا اسی درجہ میں آیات کا مضمون اس کو شامل ہوگا، پھر لکھا ہے کہ جس میں یہ سب صفات موجود ہوں وہ پوری طرح آیت کی وعید کا مستحق ہوگا اور اس میں پوری طرح نفاق عملی پایا جائے گا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے تو کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے ان میں اللہ کو بس ذرا سا یاد کرتا ہے۔ دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ یہ لوگ ریا کاری کرتے ہیں بعض لوگ سستی کی وجہ سے بعض کاروباری دھندوں کی وجہ سے نماز کو بےوقت کر کے پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے دل نماز پڑھنے کا حقیقی جذبہ ہی نہیں ہوتا، دل تو چاہتا نہیں مگر یہ بھی خیال ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اس لیے وقت نکلتے ہوئے کھڑے ہو کر جلدی سے جھوٹے دل سے ٹکریں مار لیتے ہیں۔ ریاکاری بہت بری بلا ہے سورة ٴ نساء میں منافقین کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ 1ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى 1ۙ يُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًاٞۙ00142﴾ (بےشک منافقین اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ ان کے دھوکے کی جزا دینے والا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر ذرا سا) ۔ بات یہ ہے کہ جسے اللہ سے ثواب لینا ہو وہ خوب اچھی طرح دل کے ساتھ عبادت میں لگتا ہے اللہ تعالیٰ کے ذکر کو زبان پر جاری کرتا ہے اور دل میں بساتا ہے اس کے لیے خلوت اور جلوت برابر ہے وہ مخلوق کو اس لائق سمجھتا ہی نہیں کہ ان کے لیے کوئی ایسا عمل کرے جو عبادات میں سے ہو، اور جسے مخلوق کو راضی کرنا ہے وہ برے دل سے تھوڑا سا عمل کرتا ہے وہ بھی لوگوں کے سامنے (تنہائی میں نہیں کرسکتا) ذرا سا عمل کیا اس کا ڈھنڈورہ پیٹ دیا، تہجد پڑھا لوٹا بجا دیا، صبح ہوئی تو لوگوں کے سامنے ترکیب سے بیان کردیا کہ میاں آج رات کو اٹھا تو سردی کے مارے لرزہ چڑھ گیا، قرآن شریف پڑھا، لوگوں کو معتقد بنانے کے لیے، اگر چند قاری جمع ہوگئے تو مجلس منعقد کرنے والوں سے ناراض ہوگئے کہ تم نے میرے بعد دوسرے کی تلاوت کیوں رکھی، میرا جو رنگ جما تھا اسے خراب کردیا، مقرر صاحب اسٹیج پر تشریف لائے، تقریر فرمائی نہ اپنے گلے سے اتری نہ سننے والوں کے کانوں سے آگے بڑھی، مقرر داد لینے والے اور سننے والے کانوں کو غذا دینے والے عمل کا ارادہ کسی کا نہیں ہے۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو ایسے ہیں ریاکاری کرتے ہیں

﴿الَّذِيْنَ هُمْ يُرَآءُوْنَۙ006﴾ کو مستقل آیت قرار دے کر اور ﴿ يُرَآءُوْنَ﴾ کا مفعول حذف فرما کر ہر قسم ریاکاروں کی مذمت بیان فرما دی۔ بدنی عبادات کے علاوہ مالیات خرچ کرنے میں بھی ریاکاری ہوتی ہے۔ مسجد بنا دی تو شہرت کے لیے اپنے نام پر مسجد کا نام رکھنے کی ضد، کسی مدرسہ میں کوئی حجرہ بنوا دیا اس پر اپنے نام کا کتبہ لگانے کا اصرار، کوئی کتاب چھپوا کر تقسیم کردی اس پر اپنے نام کی تشہیر، زکوٰۃ دے دی تو اس کا اشتہار، مدارس کے سفراء سے رسید لے کر اپنے ہاتھ سے اپنے القاب و آداب کے ساتھ نام لکھنا تاکہ روئیداد میں القاب کے ساتھ نام چھپے۔ یہ چیزیں دیکھنے میں آتی رہتی ہیں اور بہت سے لوگ کسی کی مالی امداد کرتے ہیں تو احسان جتاتے ہیں اور دکھ دیتے ہیں۔ سورة ٴ بقرہ میں فرمایا : ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بالْمَنِّ وَ الْاَذٰى1ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآء النَّاسِ وَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ (اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان دھر کے اور ایذا پہنچا کر باطل نہ کرو اس شخص کی طرح جو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ پر یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتا) ۔ یاد رہے کہ اللہ نے جو عبادت کی توفیق دی اس سے دل میں مسرت اور خوشی آجانا، یہ ریاکاری نہیں ہے اور لوگوں کے سامنے عمل کرنے کا نام بھی ریاکاری نہیں۔ ریاکاری یہ ہے کہ لوگوں کو معتقد بنانے کا اور شہرت اور جاہ کا ارادہ ہو بعض جاہل مسجد میں جماعت سے نماز نہیں پڑھتے شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی ہے کہ لوگوں کے سامنے عمل کروں گا تو ریاکاری ہوجائے گی حالانکہ ریاکاری دل کے اس ارادہ کا نام ہے کہ لوگ میری تعریف کریں اور میرے معتقد بنیں۔ سورة البقرہ میں فرمایا : ﴿اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ 1ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ﴾ (اگر تم صدقات کو ظاہر کر کے دو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر ان کو چھپاؤ اور فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) ۔ دیکھو صدقات ظاہر کر کے دینے کو بھی اچھی بات بتادی، مومن بندے کے لیے لازم ہے کہ خلوت میں ہو یا جلوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عمل کرے۔ مخلوق سے نہ جاہ کا امیدوار ہو نہ مال کا طالب۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور ماعون سے منع کرتے ہیں۔

تیسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ وَ يَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (رح) 007﴾ (کہ یہ لوگ ماعون سے روکتے ہیں) ماعون کے بارے میں مفسر ابن کثیر نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں، سب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز استعمال سے نہ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے نہ بدلتی ہے نہ خراب ہوتی ہے اس کے دینے میں کنجوسی کرنا یہ ماعون کا روکنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے دریافت کیا گیا کہ ماعون کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ جو لوگ آپس میں مانگے کے طور پردے دیتے ہیں جیسے ہتھوڑا، ہانڈی، ڈول، ترازو اور اسی طرح کی چیزیں ماعون ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا متاع البیت یعنی گھر کا استعمالی سامان ماعون ہے حضرت عکرمہ نے ماعون کی مثال دیتے ہوئے چھلنی، ڈول اور سوئی کا بھی تذکرہ فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے ﴿وَ يَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (رح) 007﴾ کا یہ مطلب بتایا ہے کہ زکوٰۃ فرض ہوتے ہوئے بھی زکوٰۃ نہیں دیتے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت مجاہد اور حضرت عکرمہ ؓ سے یہ تفسیر نقل کی گئی ہے۔ (ابن کثیر صفحہ 555، 556: ج 4) اگر ریاکاری کے طور پر اچھی نماز پڑھے چونکہ وہ اللہ کے لیے نہیں اس لیے خالق جل مجدہ کے حق کی ادائیگی میں وہ بھی کنجوسی ہے اس کنجوسی کو ذکر کرنے کے بعد مال کی کنجوسی ذکر کی اس میں مانگے پر استعمالی چیز نہ دینے کا تذکرہ فرماتے ہوئے ﴿ وَ يَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ﴾ فرمایا جو مانگے پر کوئی چیز صرف استعمال کے لیے نہ دے۔ جو استعمال سے نہ گھٹے وہ بالکل کوئی چیز کسی کو کیا دے سکتا ہے جو بالکل ہاتھ سے نکل جائے۔ زکوٰۃ نہ دینا بھی کنجوسی کی ایک شق ہے ایک آدمی کے پاس مال جمع ہوگیا اس میں قواعد شرعیہ کے مطابق زکوٰۃ فرض ہوگئی۔ جو کل مال کا چالیسواں حصہ ہوتا ہے وہ بھی پورا ایک سال گزرنے پر فرض ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کے باوجود زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کی تو یہ بہت بڑی کنجوسی ہے۔ کوئی شخص استعمال کی چیز ذرا بہت دیر کے لیے دینے سے منکر ہوجائے جیسے یہ کنجوسی ہے اسی طرح معمولی چیز نہ دینا بھی کنجوسی ہے کسی کو آگ دے دی ماچس کی تیلی دے دی، تلاوت کرنے کے لیے قرآن مجید دے دیا یا نماز پڑھنے کے لیے چٹائی دے دی۔ ان سب چیزوں میں ثواب بہت زیادہ مل جاتا ہے اور روک لینے سے کوئی اپنے پاس مال زیادہ جمع نہیں ہوجاتا جن لوگوں کا مزاج کنجوسی کا ہوتا ہے وہ کسی کو کچھ دینے یا ذرا سی مدد کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیز ہے جس کا منع کرنا حلال نہیں ؟ فرمایا پانی، نمک اور آگ، عرض کیا یا رسول اللہ پانی کی بات تو سمجھ میں آگئی نمک اور آگ میں کیا بات ہے۔ فرمایا جس نے کسی کو آگ دے دی گویا اس سارے مال کا صدقہ کردیا جسے آگ نے پکایا اور جس نے نمک دے دیا گویا اس نے سارے مال کا صدقہ کردیا جسے نمک نے مزیدار بنایا اور جس نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جہاں پانی نہیں ملتا، گویا اس نے ایک جان کو زندہ کردیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 260 از ابن ماجہ) حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے تیرا مسکرا دیناصدقہ ہے اور امر بالمعروف صدقہ ہے، نہی عن المنکر صدقہ ہے جو شخص راستہ گم کیے ہو اسے راہ بتادینا صدقہ ہے کمزور بینائی والے کی مدد کردینا صدقہ ہے اور راستہ سے پتھر، کانٹا، ہڈی ہٹا دینا صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 169) فائدہ : لفظ حض (مضاعف) قرآن مجید میں صرف تین جگہ آیا ہے اور تینوں جگہ یتیم کو کھانا نہ کھلانے کی شکایت کے تذکرہ میں وارد ہوا ہے، دو جگہ مجرد ہے ایک جگہ سورة الحاقہ میں اور ایک جگہ سورة الماعون میں، تیسرا جو سورة الفجر میں ہے یہ باب تفاعل سے ہے۔ واللہ المستعان وعلیہ التکلان فی کل حین وآن