107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 107:1

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو روز جزا 1 کو جھٹلاتا ہے

1 دین کے چار معنی :۔ دین کا لفظ چار معنوں میں آتا ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی کامل اور مکمل حاکمیت (2) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی (3) قانون جزا و سزا (4) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت۔ کفار مکہ ان چاروں باتوں کے منکر تھے۔ وہ صرف ایک اللہ ہی کو الٰہ نہیں مانتے تھے بلکہ اپنی عبادت میں دوسرے معبودوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اللہ کے قانون جزا و سزا کے بھی منکر تھے اور آخرت کے بھی۔ اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آپ ﷺ کو ہے لیکن تبصرہ کفار مکہ پر ہے کہ انکار آخرت نے ان میں کون سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں پیدا کردی تھیں۔
Ayah 107:2

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

یہی تو ہے جو یتیم کو دھکے 2 دیتا ہے

2 اہل عرب عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کردیتے تھے۔ حالانکہ حقیقتاً میراث کے وہ ضرور حقدار ہونا چاہئیں۔ لیکن اہل عرب کا دستور تھا کہ جو شخص میت کے وارثوں سے زیادہ بااثر اور زور آور ہوتا وہی ساری میراث پر قبضہ جما لیتا تھا اور یتیموں کو دھتکار دیتا تھا۔ یہ ان کی زر پرستی اور انکار آخرت کا نتیجہ تھا۔ نیز اگر کوئی یتیم ان سے مدد مانگنے آتا تو اس سے برا سلوک کرتے تھے۔ اور اس کے اصرار پر دھکے مار کر دفع کردیتے تھے اور اگر کوئی کسی یتیم کی پرورش کا ذمہ لیتا بھی تھا تو اسے ڈانٹ ڈپٹ ہی کرتا رہتا تھا۔
Ayahs 107:3–4

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب 3 (بھی) نہیں دیتا

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

پھر ایسے نمازیوں کے لیے (بھی) ہلاکت ہے

3 یتیموں کی پرورش سے غفلت برتنا یا محتاجوں کے کھانے تک کی فکر نہ کرنا، انہیں خود کھلانا تو درکنار کسی کو اس کی ترغیب تک نہ دینا ایسی اخلاقی اور معاشرتی برائیاں ہیں جو ہر مذہب میں مذموم سمجھی جاتی ہیں اور سمجھی جاتی رہی ہیں۔ مگر جب انسان کو مال و دولت جوڑنے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھنے کی فکر لاحق ہوجائے تو وہ اتنا بخیل بن جاتا ہے کہ اسے اور ضرورت مندوں اور محتاجوں کی حالت زار دیکھنے پر قطعاً رحم نہیں آتا اور ان کی اس سنگدلی کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں روز آخرت کی جوابدہی کا یقین ہی نہیں ہوتا۔
Ayah 107:5

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نماز سے غافل 4 رہتے ہیں

4 اس سورت کی آیت نمبر 4 اور 5 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ کیونکہ ان میں منافقوں کی نماز کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور منافقوں کا مکی دور میں کوئی وجود نہ تھا۔ یہ فرقہ مدنی دور میں ہی وجود میں آیا تھا جب مسلمانوں کی ریاست قائم ہوچکی تھی۔ نماز سے غافل رہنے سے مراد یہ ہے کہ کبھی پڑھ لی، کبھی نہ پڑھی، کبھی بےوقت پڑھ لی جب وقت تنگ ہوچکا ہو۔ جلدی جلدی چند ٹھونگیں مار لیں۔ نماز کو بس ایک عادت اور ورزش کے طور پر پڑھ لیا۔ مگر اللہ کی یاد ایک لمحہ کے لیے بھی نہ آئی۔ بس دنیوی خیالات میں مستغرق رہے۔ غرض نماز سے غفلت کی بیشمار صورتیں ہیں جو اسی ضمن میں آتی ہیں۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو ریا کاری کرتے 5 ہیں

5 اگر اس آیت کو سابقہ آیت سے متعلق قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسی بھی وہ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اللہ کے حکم یا آخرت کے ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ پھر اس ریا کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ منافق نماز اس لیے پڑھتے ہیں کہ دوسرے مسلمان انہیں دیکھ لیں اور ان کا شمار مسلمانوں میں ہوجائے۔ دوسری یہ کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص انہیں نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے تو اس وقت وہ نماز بنا سنوار کر اور لمبی کرکے پڑھنے لگتے ہیں۔ ایسی نمازیں ان کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ان کی ہلاکت کا سبب بن جائیں گی اور حقیقتاً ایسے لوگ بھی آخرت کے منکر ہی ہوتے ہیں۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور معمولی برتنے کی چیزیں (بھی مانگنے پر) نہیں دیتے 6 ۔

6 مَاعُوْن ہر اس برتنے والی چیز کو کہتے ہیں جو معمولی قسم کی ہو اور عام لوگوں کے استعمال میں آنے والی ہو۔ برتنے کی اشیاء گھریلو استعمال کی چھوٹی موٹی چیزیں مثلاً کلہاڑی، ہنڈیا، کھانے کے برتن، ماچس وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ زر پرستی کی ہوس اور آخرت سے انکار نے ان لوگوں میں اتنا بخل پیدا کردیا ہے کہ یتیموں کو ان کا حق ادا کرنا اور محتاجوں کی ضروریات کا خیال رکھنا تو درکنار، وہ معمولی معمولی عام برتنے کی چیزیں عاریتاً مانگنے پر بھی دینے سے انکار کردیتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ بعض لوگ مانگ کر کوئی برتنے کی چیز لے لیتے ہیں پھر واپس ہی نہیں کرتے یا اس چیز کا نقصان کردیتے ہیں تو ایسی صورت میں شریعت نے جو احکام دیئے ہیں وہ درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے : خ عاریتاً مانگی ہوئی چیز کے متعلق احکام :۔ 1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی کسی بیوی کے ہاں قیام پذیر تھے۔ کسی دوسری بیوی نے کھانے کی رکابی بھیجی تو اس بیوی نے جس کے ہاں آپ ﷺ ٹھہرے ہوئے تھے (از راہ رقابت) خادم کے ہاتھ کو جھٹکا دیا۔ رکابی گرگئی اور ٹوٹ گئی۔ آپ ﷺ رکابی کے ٹکڑے اور جو کھانا اس میں تھا اسے جمع کرنے لگے اور فرمایا : تمہاری ماں کو غیرت آگئی پھر خادم کو ٹھہرایا اور اس بیوی سے ایک سالم رکابی لے کر اس بیوی کے ہاں بھجوا دی جس نے بھیجی تھی اور یہ ٹوٹی ہوئی رکابی اسی گھر میں رکھ لی، جہاں ٹوٹی تھی۔ (بخاری، کتاب المظالم، باب اذاکسر قصعۃ اوشیأا لغیرہ) 2۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مانگی ہوئی چیز واپس کرنا، ضامن کو تاوان بھرنا، اور قرضہ کی ادائیگی لازم ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب البیوع، باب ان العاریۃ مؤادۃ) 3۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جس ہاتھ نے جو کچھ لیا ہو اسی پر اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ (خواہ نقد رقم ہو یا کوئی اور چیز) (ابوداؤد۔ کتاب البیوع۔ باب فی تضمین العاریہ )