106. Surah Quraish

قريشQuraysh · 4 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 106:1–2

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader

چونکہ (اللہ نے) قریش کو مانوس کردیا 1 تھا

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader

کہ وہ سردیوں اور گرمیوں میں (تجارتی) سفر سے مانوس ہوگئے تھے

1 ایلاف کے دو پہلو :۔ اِیْلاَفٌ کا مادہ الف ہے اور اس سے الفت مشہور و معروف لفظ ہے۔ الفت کا معنی ایسی محبت ہے جو خیالات میں ہم آہنگی کی وجہ سے ہو (مفردات) اور الف کے معنی کسی چیز کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کرکے انہیں ترتیب کے ساتھ جوڑ دینا۔ کسی کتاب کی تالیف کا بھی یہی مفہوم ہے۔ گویا ایلاف کے مفہوم میں الفت، موانست اور قریش کے منتشر افراد کی اجتماعیت کے سب مفہوم پائے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایلاف کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ایک کا پس منظر یہ ہے کہ قبیلہ قریش حجاز میں متفرق مقامات پر بکھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے قصی ّبن کلاب (رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ ) کو یہ خیال آیا کہ اپنے قبیلہ کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ چناچہ اس نے اپنے سارے قبیلہ کو مکہ میں اکٹھا کردیا۔ اسی بنا پر قصی ّکو مُجَمّع کا لقب دیا گیا۔ اس طرح کعبہ کی تولیت اس قبیلہ کے ہاتھ آگئی۔ اور ایلاف کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہاشم کے بیٹوں کو خیال آیا کہ اس بین الاقوامی تجارت میں حصہ لینا چاہیے جو ان قافلوں کے ذریعے ہوتی تھی جو یمن سے شام و فلسطین تک جاتے تھے۔ یمن میں بلاد مشرق سے تجارت ہوتی تھی اور شام میں افریقہ و مصر سے۔ چناچہ ہاشم کے بیٹوں نے آس پاس کے علاقوں سے تجارتی روابط قائم کیے اور عملاً تجارت میں حصہ لینا شروع کیا۔ جس سے مکہ ایک بین الاقوامی منڈی بن گیا۔ قریش کے قافلے سال بھر میں دو تجارتی سفر کرتے تھے۔ گرمیوں میں وہ شام و فلسطین کی طرف جاتے تھے۔ کیونکہ یہ علاقہ مکہ کی نسبت بہت ٹھنڈا تھا اور سردیوں میں ان کا قافلہ یمن کی طرف جاتا تھا کیونکہ یہ علاقہ مکہ کی نسبت گرم تھا۔ سال میں ان دو تجارتی سفروں سے اتنی آمدنی ہوجاتی تھی کہ سال کا باقی حصہ آرام سے گھر بیٹھ کر کھاتے تھے پھر بھی ان کے پاس بہت کچھ بچ جاتا تھا۔ اس طرح وہ آسودہ حال اور خاصے مالدار بن گئے۔ یہ دونوں موسموں کے تجارتی سفر ہی ان کی تمام تر دلچسپیوں کے مرکز و محور بن گئے تھے۔
Ayah 106:3

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader

لہٰذا 2 انہیں چاہیے کہ اس گھر (کعبہ) کے مالک کی (ہی) عبادت کریں

2 لاِ یْلاَفِ میں ابتدائی لام تعلیل کے لیے آیا ہے یعنی چونکہ اللہ نے قریش کے منتشر افراد کو مکہ میں ایک مقام پر اکٹھا کردیا تھا ان میں الفت پیدا کردی تھی اور وہ ایک دوسرے سے مانوس تھے۔ پھر کعبہ کی تولیت بھی ان کے سپرد کردی تھی۔ مزید برآں انہیں گرمی اور سردی کے تجارتی سفروں سے مانوس کردیا تھا لہذا انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر یعنی کعبہ کے مالک ہی کی عبادت کریں۔ کیونکہ قریش معاشرتی، سیاسی، تمدنی اور تجارتی جو فوائد بھی حاصل کر رہے تھے وہ اس کعبہ کی بدولت ہی حاصل کر رہے تھے۔ لہذا انہیں صرف ایک ہی رب کی عبادت کرنی چاہیے جو اس گھر کا مالک ہے۔ دوسرے معبودوں یا ان تین سو ساٹھ بتوں کی نہیں کرنی چاہیے۔
Ayah 106:4

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader

جس نے انہیں بھوک (کے دنوں) میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے (بچا کر) امن 3 عطا کیا

3 قریش مکہ پر اللہ کے احسانات :۔ مکہ اور اس کے آس پاس کا تمام علاقہ یا پہاڑی ہے یا ریگستانی۔ جہاں کوئی پیداوار نہیں ہوتی تھی بلکہ پورے علاقہ حجاز کا یہی حال تھا۔ لوگوں کا عام پیشہ بھیڑ بکریاں اور اونٹ پالنا تھا۔ یا پھر لوٹ مار اور ڈاکہ زنی۔ عرب قبائل تجارتی قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور ایک دوسرے کو بھی۔ اس بدامنی اور رہزنی سے صرف قریش بچے ہوئے تھے اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے انہیں عرب بھر میں عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا۔ رہزن قبیلے ان کے تجارتی قافلہ سے تعرض نہیں کرتے تھے، بلکہ جس قافلے کو قریش پروانہ راہداری دے دیتے وہ بھی محفوظ سفر کرسکتے تھے۔ اور قریش کا وطن مکہ تو ویسے ہی امن والا شہر تھا اور لوگ یہیں آکر پناہ لیتے تھے۔ قریش کے قافلوں سے راستہ میں جگاٹیکس بھی وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ قریش کے بدامنی سے محفوظ ہونے کا یہ حال تھا کہ اگر کوئی شخص کبھی نادانستہ کسی قریش پر حملہ آور ہوتا اور وہ صرف اتنا کہہ دیتا کہ انا حرمی تو حملہ آور کے اٹھے ہوئے ہاتھ وہیں رک جاتے تھے۔ قریش مکہ کو دوسرے قبائل عرب پر جو سیاسی اور معاشی تفوق حاصل تھا اس کی وجہ محض کعبہ کی تولیت تھی۔ جسے تمام قبائل عرب اللہ کا گھر سمجھتے تھے۔ اس اللہ کے گھر میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ جنہیں رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن توڑا تھا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ یہ سارے بت صرف قریش کے نہیں تھے بلکہ تمام قبائل عرب اپنے اپنے بت کا ایک مثنیٰ بیت اللہ میں بھی لا کر رکھ دیتے تھے اور یہ قریش کی مہربانی تھی کہ کسی قبیلہ کو اپنا بت بیت اللہ میں رکھنے دیں یا نہ رکھنے دیں۔ کیونکہ بیت اللہ کے متولی یہی لوگ تھے۔ پھر اگر کوئی قبیلہ قریش مکہ سے کوئی ناروا سلوک کرتا تو قریش اس قبیلہ کے بت کی گردن مروڑ سکتے تھے۔ اسے توڑ پھوڑ بھی سکتے تھے اور کعبہ سے باہر بھی پھینک سکتے تھے۔ بالفاظ دیگر قبائل عرب کعبہ میں اپنے بت اس لیے رکھتے تھے کہ ان کا اور ان کے خدا کا نام بلند ہو اور قریش اس لیے رکھ لیتے تھے کہ ان قبائل کے خدا ہمارے پاس بطور یرغمال رہیں گے۔ یہ تھی وہ اصل وجہ جس کی بنا پر دوسرے قبائل قریشیوں کا احترام کرنے پر مجبور تھے۔ اور کسی کو ان کے تجارتی قافلوں کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ اور اسی بت پرستانہ نظام کی بدولت قریش مکہ کئی طرح کے فائدے اٹھا رہے تھے۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان بتوں اور اس بت پرستانہ نظام کے خلاف صدا بلند کی تو قریش نے اس کا یہ جواب دیا تھا کہ اگر ہم تمہاری بات مان لیں تو پھر تو ہم زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ ہمارے تجارتی قافلے بھی لوٹ مار کی زد میں آجائیں گے۔ قبائل عرب میں جو ہمارا احترام اور عزت کی جاتی ہے وہ سب کچھ خاک میں مل جائے گا اور ہمارے سیاسی تفوق کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔ ان حالات میں ہم تمہاری باتوں کو کیونکر قبول کرسکتے ہیں ؟ تو قریش کے اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے پانچ جواب دیئے تھے۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ق کے حواشی 78 تا 85) علاوہ ازیں تھوڑی مدت پہلے ابرہہ نے کعبہ پر چڑھائی کی تو اللہ نے اس کے لشکر کو برباد کردیا تھا۔ اس واقعہ سے اہل عرب کے دلوں میں قریش کا عزت و احترام اور بھی بڑھ گیا تھا۔ اسی عزت و احترام کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ان کے تجارتی قافلے ہر طرح کی لوٹ مار اور جگا ٹیکس سے محفوظ سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں کثیر منافع حاصل ہوجاتا تھا۔ اتنا زیادہ جتنا کسی دوسرے تجارتی قافلے کو ہونا ناممکن تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ دوسرے عرب قبائل تو بھوکوں مر رہے تھے جبکہ قریش نہایت آسودہ حالی اور امن و چین کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنے انہیں احسانات کا ذکر کرکے فرمایا کہ ان احسانات کا نتیجہ تو یہی ہونا چاہیے کہ تم صرف اکیلے پروردگار کی جو اس کعبہ کا مالک ہے عبادت کرتے۔ مگر تم ایسے احسان فراموش ثابت ہوئے ہو کہ اس کے ساتھ اپنے دوسرے معبودوں کو بھی شریک بنالیتے ہو۔