105. Surah Al-Fil

الفيلThe Elephant · 5 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 105:1

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader

کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی 1 والوں سے کیا برتاؤ کیا

1 یمن میں ابرہہ کا عالی شان گرجا تعمیر کرنا :۔ اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ تاہم اس کے مخاطب تمام اہل عرب ہیں۔ قرآن میں ان ہاتھی والوں کی کوئی تفصیل مذکور نہیں کہ یہ لوگ کون تھے ؟ کہاں سے آئے تھے اور کس غرض سے آئے تھے۔ اس لیے کہ یہ واقعہ بالکل قریبی زمانہ میں پیش آیا تھا اور عرب کا بچہ بچہ اس کی تفصیلات سے واقف تھا اور بہت سے شعراء نے اس واقعہ کو اپنے اپنے قصائد اور منظوم کلام میں قلمبند کردیا تھا۔ واقعہ مختصراً یہ تھا کہ یمن میں اہل حبشہ کی عیسائی حکومت قائم تھی اور ابرہہ نامی ایک شخص حکومت حبشہ کا نائب السلطنت مقرر تھا۔ وہ بیت اللہ کے اثر و رسوخ اور عزت و عظمت سے بہت حسد کرتا تھا۔ وہ چاہتا یہ تھا کہ عرب بھر میں یمن کے دارالخلافہ صنعاء کو وہی حیثیت حاصل ہوجائے جو مکہ کو حاصل ہے۔ اور قریش مکہ کعبہ کی وجہ سے جو سیاسی، تمدنی، تجارتی اور معاشی فوائد حاصل کر رہے ہیں وہ ہماری حکومت کو حاصل ہونا چاہئیں۔ اسی غرض سے اس نے صنعاء میں ایک عالی شان کلیسا تعمیر کرایا۔ خ کعبہ پر حملہ کا ارادہ :۔ کلیسا کی عمارت کعبہ کے مقابلہ میں بڑی پر شکوہ اور عالی شان تھی۔ اس کے باوجود لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے۔ بلکہ جب عرب قبائل کو اس کلیسا کی تعمیر کی غرض وغایت معلوم ہوئی تو کسی نے خفیہ طور پر اس کلیسا میں پاخانہ کردیا۔ اور ایک دوسری روایت کے مطابق کسی نے اسے آگ لگا دی۔ جس سے ابرہہ کو کعبہ پر چڑھائی کرنے اور اسے تباہ و برباد کرنے کا بہانہ ہاتھ آگیا۔ اور یہ ممکن ہے کہ اس نے خود ہی کعبہ پر چڑھائی کرنے کی کوئی معقول وجہ پیدا کرنے کے لیے خود ہی اس کلیسا کو آگ لگوائی ہو یا اس کی بےحرمتی کروائی ہو۔ بہرحال ابرہہ نے کعبہ پر چڑھائی کے لیے ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر جرار تیار کیا۔ اس لشکر میں تیرہ ہاتھی بھی تھے اور وہ خود بھی ایک اعلیٰ درجہ کے محمود نامی ہاتھی پر سوار تھا۔ یہ لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا تو راستہ میں اکثر عرب قبائل مزاحم ہوئے لیکن ابرہہ کے اتنے بڑے لشکر کے مقابلہ میں ان کی کیا حیثیت تھی۔ وہ شکست کھاتے اور گرفتار ہوتے گئے۔ بالآخر ابرہہ منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک مقام محسر تک پہنچ گیا۔ اس نے وہاں ڈیرے ڈال دیے۔ کچھ لوٹ مار بھی کی۔ عبدالمطلب جو ان دنوں کعبہ کے متولی اعظم اور قریشیوں کے سردار تھے، کے دو سو اونٹ بھی اپنے قبضہ میں کرلیے۔ پھر اہل مکہ کو پیغام بھیجا کہ میں صرف کعبے کو ڈھانے آیا ہوں۔ آپ لوگوں سے لڑنے نہیں آیا۔ لہذا اگر تم لوگ تعرض نہ کرو گے تو تمہارے جان و مال محفوظ رہیں گے اور میں اس سلسلہ میں گفت وشنید کے لیے تیار ہوں۔ خ ابرہہ اور عبدالمطلب کا مکالمہ :۔ اس پیغام پر عبدالمطلب اس سے گفتگو کرنے کے لیے اس کے ہاں چلے گئے۔ قریش مکہ کو اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ وہ کسی طرح بھی ابرہہ کے لشکر کے مقابلہ کی تاب نہیں لاسکتے۔ لہذا عبدالمطلب نے روانگی سے قبل ہی لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں اور اپنے اموال سمیت پہاڑوں میں چھپ جائیں۔ پھر ان لوگوں نے کعبہ میں جاکر خالصتاً اللہ تعالیٰ سے نہایت خلوص نیت کے ساتھ دعائیں کی تھیں کہ وہ اپنے گھر کی خود حفاظت کرے۔ کیونکہ ہم میں اتنی سکت نہیں۔ اس وقت بھی کعبہ میں تین سو ساٹھ بت موجود تھے مگر اس آڑے وقت میں وہ اپنے سب معبودوں کو بھول گئے اور اکیلے اللہ سے دعائیں کرتے رہے جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیں۔ جب عبدالمطلب ابرہہ کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجاہت سے بہت متاثر ہوا اور خود آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔ پھر پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ عبدالمطلب نے بڑی سادگی سے جواب دیا : اپنے اونٹوں کی واپسی اس جواب پر ابرہہ سخت حیران ہوا جیسے آپ کی قدر و منزلت اس کی نظروں سے گرگئی ہو، پھر کہنے لگا : میرا تو خیال تھا کہ آپ کعبہ کے متعلق کوئی بات کرینگے ؟ عبدالمطلب نے پھر سادگی سے جواب دیا کہ : اونٹوں کا مالک میں ہوں اس لیے ان کا مطالبہ کردیا۔ کعبہ کا مالک میں نہیں۔ اس کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ آپ جانیں اور وہ جانے۔ اس جواب پر وہ اور بھی حیران ہوا تاہم اس نے عبدالمطلب کے اونٹ واپس کردیے۔ عبدالمطلب واپس چلے آئے اور آکر لوگوں کو پھر اپنی حفاظت کی تاکید کردی۔ اور ابرہہ نے کعبہ کی طرف پیش قدمی کی تیاری شروع کردی۔ سب سے پہلا کام تو یہ ہوا کہ اس کے اپنے ہاتھی محمود نے کعبہ کی طرف پیش قدمی کرنے سے انکار کردیا۔ اسے بہتیرے تیر لگائے گئے اور آنکس مارے گئے مگر وہ آگے بڑھنے کا نام نہیں لیتا تھا اور جب اس کا رخ کعبہ کے علاوہ کسی دوسری طرف کیا جاتا تو فوراً دوڑنے لگتا تھا۔ یہ لوگ اسی کشمکش میں مبتلا تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ یا بالفاظ دیگر اپنے لشکر بھیج دیے۔ خ ابابیلوں کی کنکر باری :۔ ان پرندوں میں سے ہر ایک کی چونچ میں ایک ایک کنکر تھا اور دو کنکر دونوں پنچوں میں تھے۔ ان پرندوں نے وہی کنکر اس لشکر پر پھینک کر کنکروں کی بارش کردی۔ یہ کنکر ایسی تیزی سے لگتے تھے جیسے بندوق کی گولی لگتی ہو۔ جہاں کنکر لگتا زخم ڈال دیتا تھا اور کبھی آر پار بھی گزر جاتا تھا۔ چناچہ اس لشکر کے بیشتر افراد تو وہیں مرگئے۔ باقی جو بچے وہ واپس مڑے لیکن وہ راستہ میں مرگئے۔ ابرہہ خود بھی راستے میں ہی مرا تھا۔ اور اصحاب الفیل کی تباہی کا واقعہ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے صرف 50 دن پہلے محرم میں پیش آیا تھا۔
Ayahs 105:2–3

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader

کیا اس نے ان کی تدبیر 2 کو بےکار نہیں 3 بنادیا تھا ؟

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader

اور ان پرندوں کے غول کے غول بھیج دیے

2 ابرہہ کے مقاصد کیا تھے ؟ کَیْدَ بمعنی چال یا خفیہ تدبیر۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو علی الاعلان دن دہاڑے کعبہ پر حملہ کرنے آیا تھا اور برملا کہتا تھا کہ میں کعبہ پر حملہ کرنے آیا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں نے ہمارے کلیسا کی توہین کی ہے تو اس میں اس کی چال یا خفیہ تدبیر کیا تھی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ کعبہ کی تخریب کے بعد اہل عرب کی توجہ اپنے کلیسا کی طرف مبذول کرے۔ اور اس سے اس کا مقصد مذہبی فوائد کا حصول نہیں تھا بلکہ وہ تمام تر تجارتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا جو کعبہ کی وجہ سے قریش مکہ کو حاصل تھے۔ 3 تَضْلِیْلٍ ۔ ضَلّ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جس غرض کے لیے کوئی کام کیا جائے وہ مقصد حاصل نہ ہو اور وہ کام بالکل بےنتیجہ اور بےکار ثابت ہو۔ اس کی مزید تشریح سورة والضحیٰ کی آیت ( وَوَجَدَكَ ضَاۗلًّا فَهَدٰى ۝۠) 93 ۔ الضحی :7) کے حاشیہ میں دیکھیے۔
Ayah 105:4

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader

جو ان پر کنکروں 4 کے پتھر پھینکتے 5 تھے

4 سجیل فارسی کے لفظ سنگ گل (بمعنی مٹی کا پتھر) سے معرب ہے۔ یعنی وہ نوکدار کنکریاں جن میں مٹی کی بھی آمیزش ہوتی ہے اور مٹی سے کنکریاں بن رہی ہوتی ہیں۔ 5 تَرْمِیْھِمْرمی بمعنی کسی چیز کو نشانہ بناکر دور سے پتھر کنکر وغیرہ پھینکنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پرندے ان پر کنکر گراتے تھے۔ بلکہ فرمایا نشانہ بناکر پھینک رہے تھے۔ واضح رہے کہ تیر اندازی کے لیے بھی رمی کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ گویا وہ پرندے یا اللہ کے لشکر باقاعدہ ان پر حملہ آور ہوئے تھے۔
Ayah 105:5

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader

پھر انہیں یوں بنادیا جیسے کھایا ہوا بھوسا 6 ہو

6 عَصْفٌ بمعنی غلہ کے دانہ کے اوپر کے پردے اور چھلکے نیز توڑی اور بھوسہ وغیرہ جو مویشیوں کے لیے چارہ کا کام دیتا ہے۔ اور عَصْفٍ مَاکُولٍ سے مراد یا تو چارے کا وہ حصہ یا ڈنٹھل ہیں جو جانور چرنے کے بعد آخری حصہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یا چارے کا وہ حصہ ہے جو جانور کھاتے وقت یا جگالی کرتے وقت منہ سے نیچے گرا دیتے ہیں۔ گویا اس عذاب کے بعد ہاتھی والوں کی لاشوں کی حالت بھی سخت بگڑ گئی تھی۔ جو لوگ قرآن میں مذکور معجزات کی مادی تاویل کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں وہ اس معجزہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ چناچہ دور حاضر میں پرویز صاحب نے اپنی تفسیر مفہوم القرآن میں اس کی آخری تین آیات کا ترجمہ یا مفہوم یوں بیان فرمایا ہے : (انہوں (یعنی اصحاب الفیل) نے پہاڑ کے دوسری طرف ایک غیر مانوس خفیہ راستہ اختیار کیا تھا تاکہ وہ تم پر اچانک حملہ کردیں لیکن چیلوں اور گدھوں کے جھنڈ (جو عام طور پر لشکر کے ساتھ ساتھ اڑتے چلے جاتے ہیں، کیونکہ انہیں فطری طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت سی لاشیں کھانے کو ملیں گی) ان کے سروں پر منڈلاتے ہوئے آگئے اور اس طرح تم نے دور سے بھانپ لیا کہ پہاڑ کے پیچھے کوئی لشکر آرہا ہے (یوں ان کی خفیہ تدبیر طشت ازبام ہوگئی) چناچہ تم نے ان پر پتھراؤ کیا۔ اور اس طرح اس لشکر کو کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا۔ (یعنی ان کا کچومر نکال دیا۔ ) (مفہوم القرآن ص 1484) خ پرویزی تاویل اور اس کا جواب :۔ اب دیکھیے پرویز صاحب کا بیان کردہ مفہوم درج ذیل وجوہ کی بنا پر باطل ہے۔ 1۔ آپ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ چیلوں اور گدھوں کے جھنڈ عام طو پر لشکر کے ساتھ ساتھ اڑتے چلے جاتے ہیں تاکہ انہیں بہت سی لاشیں کھانے کو ملیں دور نبوی میں بیشمار جنگیں ہوئیں تو کیا کسی اور موقع پر بھی چیلوں اور گدھوں کے لشکر کے اوپر منڈلائے تھے ؟ دور نبوی کے علاوہ اور کسی بھی جنگ کے موقعہ پر کہیں اوپر چیلیں اور گدھ کبھی نہیں منڈلائے۔ لہذا یہ پرویز صاحب کی گپ ہے۔ 2۔ سجیل کا معنی پہاڑوں کے پتھر نہیں۔ بلکہ مٹی ملے کنکر ہیں اور یہ فارسی لفظ سنگ گل سے معرب ہے۔ 3۔ ایسے کنکر یا کنکریاں پہاڑوں کے اوپر نہیں ہوتیں۔ نہ ہی ایسی کنکریوں سے کسی ایسے لشکر جرار کو ہلاک کیا جاسکتا ہے جس میں ہاتھی بھی ہوں۔ 4۔ تَرْمِیْ واحد مونث غائب کا صیغہ پرندوں کی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن آپ نے اس کا ترجمہ تم نے ان پر پتھراؤ کیا بیان فرمایا۔ یہ تَرْمُوْنَ کا ترجمہ ہے۔ ترمی کا نہیں ہوسکتا۔ 5۔ علاوہ ازیں تاریخ سے بھی ایسی کوئی شہادت نہیں مل سکتی کہ اہل مکہ اصحاب الفیل کے مقابلے کے لیے نکلے ہوں۔