Ayah 104:11 ھَمَزَ کا لغوی مفہوم :۔ ھُمَزَۃٌ : ھَمَزَ بمعنی کسی شخص کی کسی حرکت، کام یا بات پر طعن وتشنیع کرنا، خواہ وہ کام طعن وتشنیع کے قابل ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ طعن وتشنیع زبان سے کی جائے یا آنکھوں کے اشارے سے ہی کام چلا لیا جائے اور لَمَزَ بمعنی کسی کے عیب تلاش کرتے رہنا اور اس ٹوہ میں رہنا کہ اس کا کوئی کمزور پہلو ہاتھ آجائے۔ عیب جوئی یا عیب چینی کرنا پھر دوسرے سے ایسی باتوں کی غیبت کرنا۔ اس آیت میں دراصل ان معززین قریش کو متنبہ کیا جارہا ہے جو ہر وقت مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے، ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے، جو غلطیاں ان کی نظر میں معلوم ہوتیں ان پر طعن وتشنیع کرتے اور جو باتیں معلوم نہ ہوتیں ان کی ٹوہ میں لگے رہتے تھے۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ تمہاری ایسی حرکتوں کا انجام تمہاری اپنی تباہی اور ہلاکت ہے۔
Ayah 104:22 ان کا ایسی حرکتیں کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ مالدار تھے اور اپنی دولت کے نشہ میں مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر ایسی حرکتیں کرتے تھے۔ مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بخیل بھی انتہا درجے کے تھے۔ روپے پیسے کو محفوظ رکھنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں انہیں خاص لطف آتا تھا۔ واضح رہے کہ اگرچہ ان آیات کا روئے سخن رؤسائے قریش کی طرف ہے۔ لیکن الفاظ عام ہیں اور ان کا اطلاق ایسے تمام مالداروں پر ہوتا ہے جو ان صفات کے حامل ہوں اور یہ تو عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مالداروں اور زر پرستوں کو مال جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں ایک خاص فرحت محسوس ہوتی ہے۔
Ayah 104:33 اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مال کے جمع کرنے میں اس قدر منہمک ہے جیسے اسے کبھی موت آئے گی ہی نہیں۔ اور اس کا مال علاج وغیرہ کے ذریعہ اس کو موت کے منہ سے بچانے کا سبب بن جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اس کا یہ مال و دولت ہمیشہ اس کے پاس ہی رہے گا۔ حالانکہ دولت ایک ڈھلتی چھاؤں اور آنی جانی چیز ہے۔
Ayahs 104:4–54 لَیُنْبَذَنَّ : نَبَذَ بمعنی کسی چیز کو ردی اور بےکار سمجھتے ہوئے پھینک دینا یا کسی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسے پس پشت ڈال دینا اور حُطَمَۃَ سے مراد دوزخ ہے۔ حُطَمَ یعنی توڑنا مروڑنا اور حُطَام توڑی مڑوری ہوئی یا ریزہ ریزہ شدہ چیز کو کہتے ہیں اور یہ لفظ کسی کو روند کر ریزہ ریزہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دولت کے نشہ میں بدمست لوگوں کو نہایت حقیر اور ذلیل سمجھ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayah 104:65 سارے قرآن میں غالباً یہی ایک مقام ہے جہاں دوزخ کی آگ کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے کہ اللہ نے اس آگ کو بھڑکایا ہے۔ اسی سے اس آگ کی شدت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اللہ متکبرین کو سب سے زیادہ رسوا کن عذاب دیتا ہے۔
Ayah 104:76 فوأد کا لغوی مفہوم :۔ أفْئِدَۃَ : فوأد کی جمع ہے جو فأد سے مشتق ہے اور فَأدَ اللَحْمَ بمعنی گوشت کو بھوننا اور لَحْمٌ فَئِیْدٌیعنی بھونا ہوا گوشت، ابن الفارس کے نزدیک یہ لفظ گرمی اور شدید حرارت پر دلالت کرتا ہے۔ اور فُوَادُ سے مراد دل کا وہ حصہ ہے جو انسان کے جذبات، جذبات کی شدت اور تاثیر سے تعلق رکھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ دل کے اس حصے پر پہنچے گی جو جذبات کا مرکز ہے۔ جس میں زر پرستی کا جذبہ ہے اور جو دوسرے لوگوں کو حقیر اور ذلیل سمجھنے اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے کے جذبات سے معمور ہے۔ یہ آگ اس کے جذبات کو اور دل کے اس حصے کو بھون کر رکھ دے گی۔
Ayah 104:87 یعنی ایسے لوگوں کو نہایت ذلت کے ساتھ بےکار چیز سمجھ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا پھر اوپر سے منہ بند کردیا جائے گا اور اس میں دروازے یا کھڑکی تو درکنار کوئی سوراخ تک نہ رہنے دیا جائے گا۔
Ayah 104:98 اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ آگ ہی لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہوگی۔ جس میں یہ بند کیے جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ آگ کے لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ جکڑ کر اوپر سے منہ بند کردیا جائے گا اور تیسرا یہ کہ دوزخ کا منہ بند کرنے کے بعد اس کے اوپر لمبے لمبے ستون کھڑے کردیئے جائیں گے۔