103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

زمانے 1 کی قسم

1 عصر کے دو معنی :۔ عصر کا لفظ بنیادی طور پر دو معنوں میں آتا ہے (1) عصر کا وقت جو انتہائی مصروفیات کا وقت ہوتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اس وقت کی نماز کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ 238۔ ) 2 ۔ البقرة :238) اور احادیث میں یہ صراحت مذکور ہے۔ کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی عصر کی نماز ضائع ہوگئی۔ وہ سمجھ لے کہ اس کا گھر بار اور مال لٹ گیا۔ (ترمذی، ابو اب الصلوۃ۔ باب ماجاء فی السہو عن وقت صلوۃ العصر) اور عصر کا دوسرا معنی زمانہ اور اس سے وہی زمانہ یا عرصہ مراد لیا جاسکتا ہے۔ جو بنی نوع انسان کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کا وقت ہے۔ بنی نوع انسان کی پیدائش سے پہلے کا نہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عصر کو بنی نوع انسان پر بطور شاہد بیان فرماتے ہیں اور جب انسان کا وجود ہی نہ تھا تو شہادت کیسی ؟
Ayah 103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

بلاشبہ انسان گھاٹے 2 میں ہے

2 اس آیت کے مختلف مفہوم :۔ خُسْرٍ بمعنی راس المال میں کمی واقع ہونا۔ کسی سودے میں نفع کی بجائے الٹا نقصان ہوجانا، ٹوٹا، گھاٹا اور اس کی ضد رِبْحٌ ہے بمعنی کسی سودے میں نفع ہوجانا۔ اب اگر زمانہ سے مراد گزرا ہوا زمانہ لیا جائے تو اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ گزرے ہوئے زمانہ کی پوری تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان انفرادی طور پر بھی اور بحیثیت مجموعی بھی ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہا مگر اس گھاٹے سے صرف وہ لوگ بچ سکے ہیں جن میں وہ چار صفات پائی جائیں جو آگے مذکور ہیں اور اگر عصر سے مراد گزرنے والا زمانہ لیا جائے جو بڑی تیزی سے گزرتا جارہا ہے تو اس سے مراد ہر انسان کی مدت عمر ہوگی جو اسے اس دنیا میں بطور امتحان عمل کے لیے دی گئی ہے اور بڑی تیزی سے گزر رہی ہے۔ یہ مدت بھی اس بات پر شاہد ہے کہ جو شخص اس مدت سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا رہا وہ اعمال سرانجام نہیں دے رہا جو آگے مذکور ہیں۔ وہ سراسر گھاٹے میں جارہا ہے اور اس کا سرمایہ حیات دم بہ دم لٹ رہا ہے۔ ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے اس سورة العصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو یہ صدا لگا رہا تھا۔ اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ دم بدم پگھل کر ضائع ہوتا جارہا ہے اور امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ سورت اپنے مضامین کے لحاظ سے اتنی جامع ہے کہ انسانی ہدایت کے لیے صرف یہی ایک سورت بھی کافی تھی اور طبرانی کی ایک روایت کے مطابق جب صحابہ کرام ؓ ایک دوسرے سے جدا ہونے لگتے تو یہ سورت ایک دوسرے کو پڑھ کر سناتے پھر سلام کہہ کر ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں خسارہ سے مراد اخروی نقصان ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان چار صفات کے حامل انسان دنیا میں خسارہ میں ہی رہتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بھی ایسے لوگ خسارہ کے بجائے فائدہ میں رہ سکتے ہیں لیکن یہ بات یقینی نہیں۔ ممکن ہے انہیں دنیا میں خسارہ ہی رہے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ آخرت میں بہرحال یہی لوگ خسارہ سے محفوظ رہیں گے اور اخروی نجات ان کے لیے یقینی ہوگی۔
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے 3 ۔

3 مومنوں کی چار لازمی صفات :۔ اس آیت میں وہ چار صفات مذکور ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے انسان اخروی خسارہ سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ پہلی صفت ایمان بالغیب ہے۔ جس کے چھ اجزاء ہیں اور وہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 3 کے تحت تفصیل سے ذکر کیے جاچکے ہیں۔ دوسری صفت اعمال صالحہ کی بجاآوری ہے۔ اعمال صالحہ کا لفظ اس قدر وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ خیر اور بھلائی کا کوئی کام اس سے باہر نہیں رہتا۔ البتہ اس کی دو اہم شرائط ہیں۔ ایک ایمان بالغیب جس کا پہلے ذکر ہوچکا۔ ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کا کوئی تصور ہی نہیں اور دوسری یہ کہ وہ کام شریعت کی ہدایات کے مطابق سرانجام دیا جائے۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔ حق کی ضد باطل ہے۔ حق کا لفظ عموماً دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) سچ اور سچائی۔ حقیقت، درست یعنی ہر وہ بات یا چیز جو تجربہ اور مشاہدہ کے بعد درست ثابت ہو۔ اور (2) وہ حق جس کا ادا کرنا انسان پر واجب ہو، خواہ وہ اللہ کا حق ہو یا بندوں کا حق ہو یا خود اس کے اپنے نفس کا حق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود ہی راستباز رہنے یا حقوق ادا کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو حق اختیار کرنے اور حق پر قائم رہنے اور حقوق ادا کرنے کی تاکید بھی کرتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام اجتماعی زندگی کو خاص اہمیت دیتا ہے اور ان لوگوں کے کرنے کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں باطل یا برائی سر اٹھانے لگتی ہے تو سب اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور حق کو غالب کرنے اور رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ بالفاظ دیگر تو اصوبالحق کا مفہوم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی ہے جس کی اہمیت کتاب و سنت میں بیشمار مقامات پر مذکور ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ اسلام یا حق کو غالب کرنے یا رکھنے کے راستہ میں جتنی مشکلات حائل ہوتی ہیں یا مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے تو وہ صرف خود ہی صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتے بلکہ ایک دوسرے کو اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں صبر کا ایک مفہوم احکام شریعت پر ثابت قدمی سے پابند رہنا بھی ہے۔ ایسی باتوں کے لیے بھی وہ ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہتے ہیں۔ جس معاشرہ میں اور اس کے افراد میں یہ چاروں صفات پائی جائیں ان کے متعلق یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور آخرت میں وہ خسارہ سے محفوظ رہیں گے۔