102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 102:1

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

تمہیں کثرت (کی ہوس) نے غافل کر رکھا 1 ہے

1 لہو کا لغوی مفہوم :۔ الْھٰکُم : لھو کا معنی عموماً کھیل تماشا لیا جاتا ہے۔ لیکن اصل میں لہو ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اصل مقصد سے یا کسی اہم تر چیز سے ہٹائے رکھے اور اَلْھٰی کے معنی میں کسی گھٹیا کام میں مشغول رہ کر اس سے اہم تر کام سے خیال ہٹا دینا گویا الْھٰی میں توجہ ہٹا دینے کا سبب غفلت یا بھول نہیں ہوتی بلکہ دوسرے فضول کام ہوتے ہیں۔ خ تکاثر کی مختلف صورتیں :۔ تَکَاثُر کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) آدمی کوئی چیز زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ (2) لوگ کسی چیز کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کریں (3) وہ ایک دوسرے پر فخر جتلائیں کہ دوسرے کے مقابلہ میں انہیں فلاں چیز کثرت سے حاصل ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ کثرت کس چیز میں ہو ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کے نفس کو مرغوب ہو وہ اسے زیادہ سے زیادہ تعداد یا مقدار میں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ چیزیں مال و دولت، اولاد اور بلند وبالا اور عالیشان رہائش گاہیں، منصب و اقتدار، کسی قبیلے کے افراد کی کثرت سب کچھ ہوسکتا ہے۔
Ayah 102:2

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

تاآنکہ تم قبروں کو جا ملتے ہو 2

2 انہیں چیزوں کے حصول میں انسان اپنی پوری زندگی کھپا دیتا ہے اور ان چیزوں سے اہم تر چیزوں سے اس کی توجہ ہٹی رہتی ہے اور وہ اہم تر چیزیں یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یاد، اخلاقی حدود وقیود کی پابندی، حقداروں کے حقوق کی ادائیگی اور اپنی عاقبت کی فکر۔ ایسی باتوں سے غافل رہ کر وہ مرغوبات نفس کے حصول میں ہی پڑا رہتا ہے تاآنکہ اسے موت آجاتی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک دفعہ دو قبیلے اپنے اپنے جتھے کی کثرت تعداد پر فخر کر رہے تھے۔ جب گننے پر ایک قبیلہ کے آدمی دوسرے سے کم نکلے تو شکست خوردہ قبیلہ کہنے لگا کہ ہمارے اتنے آدمی فلاں لڑائی میں مارے جاچکے ہیں۔ بیشک چل کر قبریں شمار کرلو۔ وہاں پتہ لگے گا کہ ہماری جمعیت تم سے کتنی زیادہ ہے اور ہم میں کیسے کیسے نامور گزر چکے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ قبریں شمار کرنے لگے۔ ان کی اس جہالت پر متنبہ کرنے کے لیے یہ سورت نازل ہوئی۔ اس روایت کی صحت کے متعلق تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم یہ ایک پہلو سے اس مضمون کی خوب وضاحت کرتی ہے۔ البتہ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث صحیح اور قابل احتجاج ہے : عبداللہ بن شخیر آپ ﷺ کے پاس آئے اور وہ یہ سورت پڑھ رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ابن آدم کہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے۔ یہ میرا مال ہے۔ حالانکہ تیرا مال صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کردیا اور جاری کیا، یا کھالیا اور فنا کردیا یا پہن لیا اور پرانا کردیا۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
Ayahs 102:3–5

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں چاہئے، جلد ہی تم جان 3 لو گے

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

پھر (سن لو) ایسا ہرگز نہیں چاہیے، جلد ہی تم جان لو گے

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں چاہیے کاش ! تم یقینی طور پر جان لیتے

3 یعنی تمہاری کثرت کے حصول کی خواہشات اور انہیں باتوں پر فخر و مباہات کی باتیں سراسر لغو اور باطل ہیں اور مرنے کے ساتھ ہی تمہیں خوب معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری یہ زندگی بھر کی کوششیں فضول اور بےکار تھیں۔ اور ان میں کوئی کوشش اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو مرنے کے بعد تمہارے کام آسکے۔
Ayah 102:6

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

کہ تمہیں ضرور 4 جہنم کو دیکھنا ہے

4 دوبارہ اور سہ بارہ تاکیداً فرمایا گیا کہ تمہارے ایسے خیالات قطعاً درست نہیں ہیں۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے دلائل میں کچھ تھوڑا بہت بھی غور و فکر کرلیتے تو تمہیں یقیناً یہ بات معلوم ہوجاتی کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے سب سامان ہیچ ہیں اور اس طرح غفلت میں نہ پڑے رہتے۔ تمہیں یہ بھی معلوم ہوجاتا کہ حقیقتاً اچھے کام کون سے ہیں ؟ اور آخرت سے توجہ ہٹانے اور غافل کردینے والے کون سے ؟ نیز یہ کہ کثرت کے حصول کے چکر میں پڑ کر زندگی گزارنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں یقیناً جہنم کو دیکھنا ہوگا اور اس کے کچھ آثار تمہیں مرنے کے فوراً بعد عالم برزخ میں ہی نظرآنے لگیں گے۔
Ayah 102:7

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر (سن لو) کہ تم اسے آنکھوں دیکھے یقین کے ساتھ 5 دیکھ لو گے۔

5 دوزخ کے آثار تو تم مرنے کے فوراً بعد دیکھ لو گے۔ پھر جب قیامت کے دن تم میدان محشر میں اکٹھے کیے جاؤ گے تو پھر اسے اپنی آنکھوں سے یوں دیکھ لو گے کہ تمہیں اس کے یقینی ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہ جائے گا۔
Ayah 102:8

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے بارے میں باز پرس 6 ہوگی۔

6 انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو لاتعداد ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا کہ (وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 18؀) 16 ۔ النحل :18) (14: 34، 16: 18) یعنی تم پر اللہ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر تم انہیں شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے۔ تاہم ان نعمتوں کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو خداداد ہیں مثلاً جوانی اور صحت جو اکیلے ہی ہزار نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ایسی نعمتوں کے متعلق یہ سوال ہوگا کہ ان کو تم نے کس قسم کی کوششوں میں صرف کیا تھا۔ اور دوسری وہ نعمتیں ہیں جن میں انسان کے اپنے کسب کو بھی دخل ہے۔ جیسے مال و دولت اور ہر قسم کی جائداد۔ ایسی نعمتوں کے متعلق دو طرح کے سوال ہونگے۔ ایک یہ کہ ان چیزوں کو کن اور کیسے ذرائع سے حاصل کیا اور دوسرا یہ کہ ان کو خرچ کون سے کاموں میں کیا۔ یعنی ان کا مصرف جائز تھا یا ناجائز ؟ اس کی مزید تفصیل درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے : 1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے آپ ﷺ سے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! کون سی نعمت کا ہم سے سوال ہوگا (ہماری خوراک) یہی دو کالی چیزیں (کھجور اور پانی) ہے دشمن سر پر ہے اور تلواریں ہمارے کندھوں پر رہتی ہیں (پھر باز پرس کس چیز کی ہوگی ؟ ) آپ نے فرمایا : تاہم یہ ضرور ہوگا۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) 2۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے آپ ﷺ کو تروتازہ کھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ : یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (مسلم۔ کتاب الاشربہ۔ باب جواز استتباعہ غیرہ)