Ayahs 101:1–21 الْقَارِعَۃُ ۔ قرع بمعنی ایک چیز کو دوسری چیز پر اس طرح مارنا کہ آواز پیدا ہو اور قَرَعَ الْبَاب بمعنی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور قارِعَۃٌ بمعنی کھڑکھڑانے والی اور ابن الفارس کے نزدیک ہر وہ چیز جو انسان پر شدت کے ساتھ نازل ہو وہ قارِعَۃٌ ہے (مقاییس اللغۃ) یعنی کوئی عظیم حادثہ یا بھاری آفت جو انسان کو گھبراہٹ میں ڈال دے اور اس سے مراد قیامت ہے۔
Ayah 101:32 یعنی آپ اس دن کی پوری کیفیت کو پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکتے۔ پس اس کے کچھ آثار ہی بتائے جاسکتے ہیں جن سے اس دن کی شدت کا قدرے اندازہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 101:43 یہ کیفیت نفخہ صور اول کے وقت ہوگی۔ یعنی اس دن لوگ اس قدر بدحواس اور گھبراہٹ کا شکار ہوجائیں گے کہ نہایت بدنظمی کے ساتھ ایک دوسرے کے اوپر گر رہے ہوں گے۔ جیسے پروانے اپنی کثرت، ضعف اور بدنظمی کی وجہ سے شمع تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں۔ ان کا ہدف شمع ہوتی ہے جو گرمی کی وجہ سے انہیں بھون ڈالتی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ موت کے منہ میں جارہے ہیں۔
Ayah 101:54 یعنی زمین میں پہاڑوں کی گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ پھر وہ زمین بوس ہوں گے۔ اس دن گرد و غبار بن کر اڑتے پھریں گے۔ پہاڑوں کے بھی چونکہ مختلف رنگ ہوتے ہیں کوئی لال، کوئی کہیں سے سفید، کوئی کالا اور اسی طرح اون کے بھی مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اس لیے جب پہاڑ ہوا میں اڑیں گے تو ایسا معلوم ہوگا جیسے دھنکی ہوئی اور رنگی ہوئی اون کے گالے اڑ رہے ہیں۔
Ayahs 101:6–85 موازین کے مختلف معنی اور میزان الاعمال کی صورتیں : اس آیت میں نفخہ ئصور ثانی کے بعد میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا جارہا ہے۔ جبکہ لوگوں کے اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ مَوَازِیْنُ کا واحد موزون بھی ہے اور میزان بھی۔ اور ان دونوں کی جمع موازین آتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہوئے۔ ایک یہ کہ صرف موزون یا کچھ وزن رکھنے والی باتوں کو ہی تولا جائے گا۔ اور اللہ کے نزدیک وزن دار یا قابل قدر باتیں صرف نیک اعمال ہیں اور ان کے ساتھ ایمان ہونا بھی شرط اول ہے۔ کیونکہ کافروں کے نیک اعمال کا بھی وزن نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورة کہف کی آیت نمبر 105 میں فرمایا کہ (فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا 105۔ ) 18 ۔ الكهف :105) یعنی ہم ان کے اعمال کو سرے سے تولیں گے ہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ میزان کے معنی ترازو بھی ہے۔ اور وہ بوجھ یا وزن بھی جو ترازو کے کسی پلڑے میں تلنے کے لیے رکھا جائے اور ترازو کے دونوں پلڑوں میں سے ہر ایک پلڑا بھی۔ اس لحاظ سے یہ مطلب ہوگا کہ جس شخص کی نیکیوں کا پلڑا وزن دار یا بھاری ہوگیا تو ایسے لوگ ہی کامیاب سمجھے جائیں گے اور وہ اس روز خاطر خواہ عیش و آرام میں رہیں گے۔ واضح رہے کہ اعمال کے اوزان پر دو باتیں نہایت گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ایک یہ کہ کسی شخص نے یہ عمل کس نیت سے کیا تھا ؟ اور دوسرے یہ کہ اس میں خلوص اور محض رضائے الٰہی کا حصہ کتنا ہے۔ مثلاً نماز ہی کو لیجیے۔ نماز منافق بھی ادا کرتا ہے اور مومن بھی۔ لیکن ان کے ایک ہی جیسے عمل کے وزن میں زمین و آسمان جتنا بھی فرق ہوسکتا ہے۔ یا مثلاً ایک شخص محض رضائے الٰہی کی خاطر خلوص نیت کے ساتھ ایک مسکین کو کھانا کھلاتا ہے۔ دوسرا بھی یہی کام کرتا ہے لیکن مسکین سے کوئی بیگار لینا چاہتا ہے یا اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں میں اس کی مسکین پروری کا چرچا ہو تو ان دونوں کے اس ایک جیسے عمل کے وزن میں بہت فرق ہوگا۔ اللہ چونکہ لوگوں کی نیتوں اور دل کی سب باتوں سے واقف ہے۔ لہذا اعمال کا وزن نہایت انصاف پر مبنی ہوگا۔
Ayahs 101:9–106 ھاویۃ : ھوی یھوی بمعنی بلندی سے زمین پر گرنا۔ اُھویۃ گہرے کنوئیں کو بھی کہتے ہیں اور گہرے گڑھے کو بھی اور ھاویۃ سے مراد جہنم کی گہرائی یا گہری جہنم بھی ہوسکتا ہے۔ اور دوزخ میں ایک گہرے گڑھے کا نام بھی۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی نیکیوں کا پلڑا اوپر اٹھ گیا، اسے جہنم کی گہرائی میں یا جہنم کے گہرے گڑھے میں پھینک دیا جائے گا اور اُمّ کا لغوی معنی ماں یعنی جس طرح بچہ کا ملجا و ماویٰ ماں اور اس کی گود ہی ہوتی ہے اسی طرح ایسے شخص کا ملجا و ماویٰ یہی ھاویہ ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور ٹھکانہ میسر نہ آئے گا۔
Ayah 101:117 یعنی وہ محض ایک گہرا گڑھا ہی نہ ہوگا بلکہ اس کی آگ جہنم کی دوسری آگ کے مقابلہ میں زیادہ گرم اور تیز ہوگی۔