Ayah 100:11 عَادِیَاتٌ کا لغوی مفہوم :۔ عَادِیَاتٌ: عادیۃ کی جمع ہے جو عادی کا مونث ہے اور عادی بمعنی وہ جماعت جو قتل و قتال کے لیے تیار ہوا اور تَعَادَالْقَوْمُ بمعنی لوگوں نے دوڑ میں مقابلہ کیا اور عَدَاالْفَرْسِ بمعنی گھوڑے نے دوڑ لگائی اور عادِیَاتٌ سے مراد وہ جنگ پر جانے والے (گھوڑے) ہیں جو مقابلہ کی دوڑ میں حصہ لیتے رہے ہوں۔ واضح رہے کہ عادیات کے معنی میں گھوڑوں کا مفہوم شامل نہیں ہے۔ بلکہ ضَبْحًا کا لفظ عادیات کو گھوڑوں سے مخصوص کردیتا ہے۔ کیونکہ ضبح صرف اس آواز کو کہتے ہیں جو سرپٹ دوڑنے کی وجہ سے گھوڑوں کے منہ سے نکلتی ہے۔ یعنی گھوڑوں کا ہانپنا۔
Ayah 100:22 اس آیت میں گھوڑوں کے رات کو دوڑنے کا مفہوم از خود شامل ہے کیونکہ ان کے سموں کی پتھروں پر ضرب سے جو چنگاریاں نکلتی ہیں وہ زیادہ تر رات کو نظر آتی ہیں۔
Ayah 100:33 اہل عرب ہر وقت قبائلی لڑائیوں اور لوٹ مار میں مشغول رہتے تھے۔ ان کی عادت یہ تھی کہ حملہ کے لیے رات کے وقت سفر کرتے تاکہ دشمن کو حملہ کی خبر نہ ہوسکے۔ رات کو وہ شب خون مارنا اپنی کسر شان اور اپنی شجاعت کے خلاف سمجھتے تھے۔ رات کو سفر کرنے کے بعد صبح دم حملہ کردینے میں انہیں تین فائدے حاصل ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ دوسرے اس وقت انہیں ہر چیز واضح طور پر نظر آنے لگتی تھی۔ تیسرے شب خون مارنے کی بدنامی سے بھی بچ جاتے تھے۔
Ayah 100:44 نَقْعًا بمعنی گرد راہ، وہ گردو غبار جو کوئی تیز رفتار سواری اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہے۔ یہ خاکی ذرات بوجھل ہونے کی وجہ سے پھر آہستہ آہستہ زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس آیت میں دراصل گھوڑوں کی تیز رفتاری کی تعریف ہے جو رات کو زمین ٹھنڈی اور شبنم آلود ہونے کے باوجود اس سے گرد و غبار اٹھاتے ہیں۔
Ayah 100:55 اس بات میں اختلاف ہے کہ اس میں جَمْعًا سے مراد کون سی جمعیت یا لشکر ہے ؟ بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں جَمْعًا سے مراد وہ قبیلہ ہے جس پر انتقام یا لوٹ مار کی غرض سے حملہ کیا جاتا ہے۔ اور گھوڑوں سے مراد وہی گھوڑے ہیں جو عرب قبائل ایسے موقعوں پر استعمال کیا کرتے تھے۔ اپنے اس موقف کے حق میں ان کی دلیل یہ ہے کہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے جواب قسم کے دوران فرمایا کہ : انسان مال کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے اور چونکہ عرب قبائل مال کی محبت کی وجہ سے ہی ایسے حملے کرتے تھے لہذا یہاں جن گھوڑوں کی قسم کھائی گئی ہے وہ وہی لوٹ مار کرنے والے گھوڑے ہیں اور بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی نہیں بلکہ گھوڑوں کے رسالہ اور ان پر سوار مجاہدین کی قسم کھائی ہے جو کافروں کے لشکر پر جا پڑتے ہیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ کسی منزل پر پہنچ جاتے تو صبح کا انتظار کرتے رہتے۔ اگر بستی سے اذان کی آواز آجاتی تو پھر حملہ نہیں کرتے تھے اور اگر نہ آتی تو حملہ کردیتے۔ (مسلم، کتاب الصلوۃ۔ باب الامساک عن الاغارۃ علٰی قوم فی دارالکفر اذا سمع فیھم الاذان) اور درج ذیل حدیث اگرچہ اس بات کی صراحت نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ نے عام گھوڑوں کی قسم کھائی ہے یا مجاہدین اور ان کے گھوڑوں کی۔ تاہم اس میں جہاد کے لیے تیار کیے ہوئے گھوڑوں کی بہت فضیلت بیان ہوتی ہے۔
خ جہاد کے لیے گھوڑا رکھنے کی فضیلت :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : گھوڑوں کا حال تین طرح پر ہے۔ کسی کے لیے تو وہ باعث ثواب ہیں، کسی کے لیے معاف اور کسی کے لیے عذاب۔ ثواب تو اس کے لیے جو انہیں جہاد کی نیت سے باندھے اور چراگاہ یا باغ میں ان کی رسی کھلی چھوڑ دے وہ جہاں سے اور جہاں تک چریں گے اس کے لیے نیکیاں ہوں گی اور اگر انہوں نے رسی تڑا لی اور قدم دو قدم آگے چلے گئے تو ان کے پاؤں کے نشانات اور ان کی لید سب کچھ اس کے لیے نیکیاں ہوں گی اور اگر وہ کسی نہر پر جاکر پانی پی لیں۔ خواہ مالک کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی مالک کو نیکیاں ملیں گی۔ ایسے گھوڑے تو مالک کے لیے باعث ثواب ہیں۔ اور جس نے اپنی ضرورت پوری کرنے اور دوسرے سے سوال کرنے سے بچنے کے لیے گھوڑا رکھا اور اللہ کا جو حق گھوڑے کی گردن اور پشت پر ہے اور اسے نہ بھولا۔ تو ایسے شخص کے لیے گھوڑا رکھنا معاف ہے۔ اور جس نے گھوڑا فخر، ریا اور مسلمانوں کو ستانے کے لیے رکھا تو وہ اس کے لیے عذاب ہے پھر کسی نے آپ ﷺ سے گدھوں کے متعلق پوچھا : کہ کیا ان کا بھی یہی حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کوئی خاص حکم نازل نہیں کیا مگر یہ اکیلی جامع آیت (جو گدھوں کو بھی شامل ہے) ( فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ۭ ) 99 ۔ الزلزلة :7) (بخاری۔ کتاب التفسیر) ان علماء کے خیال کے مطابق اللہ کے ہاں مجاہدین اور ان کے گھوڑے ہی ایسی قدر و منزلت رکھتے ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ عام گھوڑے یہ اہمیت نہیں رکھتے۔
Ayah 100:66 کنود کا لغوی مفہوم :۔ جواب قسم میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں بیان فرمائیں بالفاظ دیگر ایسے گھوڑوں کی تین باتوں پر قسم کھائی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت یا اللہ سے غافل اور اکثر ناشکرے ہوتے ہیں۔ کنود ایسے ناشکرے کو کہتے ہیں جو مصائب و مشکلات کا تو ہر دم ذکر کرتا رہے مگر اللہ کے احسانات کا کبھی نام تک نہ لے یعنی وہ اللہ کا احسان ناشناس ہونے کے علاوہ ہر وقت اللہ اور اس کی تقدیر یا اپنی قسمت کا شاکی بھی رہتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے نرم سے نرم لفظ نمک حرام ہی ہوسکتا ہے۔
Ayah 100:77 دوسری بات جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ گھوڑا اپنے مالک کا اتنا وفادار ہوتا ہے کہ وہ اس کی خاطر لڑائی کے میدان میں جا گھستا ہے۔ جہاں ہر طرف قتل و غارت ہو رہی ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ اپنے مالک کی جان بچانے کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ مگر انسان ایسا نمک حرام واقع ہوا ہے کہ اپنے مالک اور رازق کے لیے جان و مال کی قربانی تو درکنار، وہ اپنے پروردگار کا شکر تک ادا نہیں کرتا بلکہ الٹا اس کے شکوے شکایت کرتا رہتا ہے۔
Ayah 100:88 مال ودولت سے انسان کی بےپناہ محبت :۔ تیسری بات جس پر قسم کھائی گئی ہے یہ ہے کہ انسان مال کی محبت میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ پیسہ ہی اس کا دین و ایمان ہے۔ مال و دولت کے حصول کی خاطر ہی وہ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ لوگوں سے فریب اور جھگڑے کرتا اور اللہ کی نافرمانی پر اتر آتا ہے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں انتہائی بخیل واقع ہوا ہے۔ مال و دولت سے جس قدر انسان کو محبت ہوتی ہے وہ ہر انسان بذات خود مشاہدہ کرسکتا ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی بات کی وضاحت کر رہی ہے :
سیدنا انس فرماتے ہیں کہ بحرین (بصرے اور عمان کے درمیان ایک شہر) سے آپ ﷺ کے پاس بہت سی رقم آئی۔ اور یہ رقم ان سب رقوم سے زیادہ تھی جو آپ ﷺ کو اس سے پیشتر آئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے مسجد میں ڈال دو ۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے تشریف لائے اور اس رقم کو دیکھا تک نہیں۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ اس رقم کے پاس آبیٹھے۔ پھر جس کسی پر آپ ﷺ کی نظر پڑی اسے دینا شروع کیا۔ اتنے میں سیدنا عباس آئے اور کہنے لگے : یارسول اللہ ﷺ ! مجھے بھی عطا کیجیے۔ میں نے اپنا بھی فدیہ ادا کیا تھا اور عقیل کا بھی (جنگ بدر میں اور اب زیر بار ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا : (جتنا چاہو) لے لو۔ سیدنا عباس لپیں بھر بھر کر اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے۔ پھر اسے اٹھانے لگے تو اٹھا نہ سکے۔ کہنے لگے، یارسول اللہ ﷺ ! کسی کو حکم دیجیے کہ مجھے اٹھوا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں (یہ نہیں ہوسکتا) پھر سیدنا عباس کہنے لگے : اچھا پھر ذرا خود ہی اٹھوا دیجیے آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں (یہ بھی نہ ہوگا) آخر انہوں نے کچھ درہم نکال دیے۔ پھر اٹھانے لگے تو بھی نہ اٹھا سکے اور کہا : یارسول اللہ ﷺ ! کسی کو حکم دیجیے کہ مجھے اٹھوا دے آپ ﷺ نے فرمایا : یہ نہیں ہوسکتا پھر سیدنا عباس نے کہا : آپ ﷺ ہی ذرا آسرا کیجیے آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں پھر انہوں نے مجبوراً اور درہم نکال دیئے اور اپنے کندھے پر لاد کر چل دیے۔ آپ انہیں اس وقت تک دیکھتے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے سیدنا عباس کی حرص پر بہت تعجب کیا۔ غرض آپ ﷺ وہاں سے اس وقت اٹھے جبکہ ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب القسمۃ فی المسجد)
Ayah 100:99 قبروں سے مراد قبرستان میں موجود قبریں ہی نہیں بلکہ ہر انسان کا مدفن ہے خواہ یہ سمندر کی تہ میں چلا جائے یا کسی درندہ کے پیٹ میں چلا جائے یا آگ میں جل کر راکھ بن جائے جو بھی صورت ہو بالآخر وہ زمین کے ذرات میں مل جائے گا اور اللہ کے ان ذرات کو جمع کرنے اور زمین سے باہر نکال لانے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 100:1010 اس کی تشریح سورة الطارق کی آیت ( يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ ۙ ) 86 ۔ الطارق :9) کے تحت حاشیہ نمبر 7 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 100:1111 اللہ تو آج بھی، پہلے بھی اور اس وقت بھی یعنی ہر وقت بندوں کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دن تمام لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اللہ دنیا کی زندگی میں بھی ان کے احوال سے پوری طرح باخبر تھا اور آج بھی پوری طرح باخبر ہے۔ لہذا کسی شخص کو انکار کی گنجائش نہ رہے گی۔