Ayah 107:1ترکیب ¦ الہمزہ للاستفہام لقصد التعجب رایت والرئویۃ بمعنی المعرفۃ فتعدی الی مفعول واحدو ھوالذی الخ وقیل بمعنی اخبرنی فتعدی الی مفعولین والثانی محذوف ای من ھو فذلک الخ الفاء جواب الشرط والتقدیر ان تاملتہ فذالک ویجوزان تکون عاطفۃ علی الذی یکذب اماعطف ذات علی ذات اوصفۃ علی صفۃ فعلی الاول ذلک مبتدء الذی یدع الخ خبرہ ولا یحض الخ عطف علیٰ یدع وعلی الثانی فی محل النصب عطفاً علی الموصول الذی ھو فی محل نصب یدع یدفع یعنف و منہ قولہ یدعون ای نارجھنم دعا فویل مبتدء للمصلین خبرہ والفاء لترتیب الدعاء علیھم بالویل الذین ھم بیان للمصلین وکذامابعدہ ویمنعون معطوف علی یراء ون و الماعون فاعول من المعن وھو الشیء القلیل یقال مال معن ای قلیل قالہ قطرب وقیل مفعول من عانہ یعینہ والاصل معو ون فحذفت احدی الواوین کقول۔ والماعون اسم لمایتع اور ہ الناس بینھم من الدلوو الف اس والقدر۔
تفسیر ¦ یہ سورة بھی جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی۔ عطاء و جابر و ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اور قتادہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں نصف اول مکی ہے جو عاص بن وائل ؓ کی شان میں اور نصف مدنی ہے جو عبدالرحمن بن ابی منافق مدینہ کی شان میں نازل ہوئی۔ قول اول قوی تر ہے اور ماعون برتنے کی چیزوں کو کہتے ہیں اس میں ماعون کے منع کرنے والوں کی برائی ہے جو ادنیٰ مرتبہ احسان کا ہے اس لیے اس کو سورة ماعون کہتے ہیں اس میں سات آیت ہیں۔
ربط اس کا سورة قریش سے یہ ہے کہ سورة قریش میں خدا تعالیٰ نے اپنے انعام یاد دلا کر قریش کو اپنی عبادت اور راستی کی طرف رغبت دلائی تھی اس سورة میں قریش کے وہ امراض روحانیہ بتلائے جاتے ہیں کہ جو مہلک ہیں اور خدا سے ملنے میں سدِّراہ ہیں۔
واضح ہو کہ یہ سورة تمام حکمت نظریہ اور عملیہ میں سے تہذیب اخلاق ‘ سیاست مدن، تدبیر المنزل کا لب لباب ہے کس لیے کہ سب سے اول بات حکمت نظریہ کی اعتقاد درست کرنا ہے خصوصاً اس بات کا یقین کرلینا کہ انسان کے نیک و بداعمال کی جزاء و سزا ملتی ہے۔ مرنے کے بعد روح ایک دوسرے عالم میں جاتی ہے جہاں اس کو اپنے نیک و بداعمال کا ثواب و عذاب دیکھنا پڑتا ہے۔ خدائے عادل انسان سے ضرور بازپرس کرتا ہے اس کے مساعی جمیلہ کا نیک بدلہ دیتا ہے۔ یہی اعتقاد تمام حکمت کی جڑ ہے۔ اگر یہ اعتقاد نہیں ہر قسم کی بدکاری دل کھول کر کرنے میں کوئی مانع نہیں اور اعمال خیر کی مشقت اٹھانے اور مال صرف کرنے کا بھی کوئی محرک نہیں اس لیے سب سے اول دین یعنی جزاء و سزا کی تصدیق ضرور ہے اور یہ سعادت کی سیڑھی کا اول درجہ ہے اور جزاء و سزا کا اعتقاد مع درستی اعمال دین اسلام کا جز ہے۔ اس لیے اگر دین سے مراد دین اسلام کی تصدیق لی جائے تو بھی ٹھیک ہے۔ اس لیے سب سے اول دین کے منکر کی تعجب کے صیغوں میں برائی بیان فرماتا ہے۔ فقال ارایت الذی یکذب بالدین کہ اے پیغمبر ! علیک السلام یا اے مخاطب تو نے اس کو بھی دیکھا جو دین یعنی اعمال کی جزاء و سزا کو یا دین اسلام کو جھٹلا رہا ہے ایسے بھی لوگ ہیں۔ یہ تکذیب سے روکنے میں نہایت پراثر الفاظ ہیں۔ یعنی ایسا کرنا نہ چاہیے بلکہ تصدیق کرنی چاہیے۔ حکمت نظریہ کے اصل الاصول سے فارغ ہو کر حکمت عملیہ کے اصول کی طرف توجہ کرتا ہے۔ حکمت عملیہ میں سب سے پہلی بات تہذیب اخلاق ہے اور تہذیب اخلاق میں دو ہی جز ہیں۔ اول دفع شربالخصوص یتیم یعنی نابالغ بچے سے برائی نہ کر دفع شر طلب منفعت سے مقدم ہے اس لیے اس کو مقدم کیا اور فرمایا فذالک الذی یدع الیتیم کہ جزا کا جھٹلانے والا ہی سنگدل یتیم کو دھکے دیتا اور جھڑکتا ہے۔ کس لیے کہ جانتا ہے کہ مر کر کسی فعل کی سزا اور کسی عمدہ کام کی جزا تو ملتی نہیں اس شنیع فعل کو تکذیب دین کی علامت کردیا جس میں ایسی ناپاک خصلت ہے گویا اس کو دین کی تصدیق نہیں۔ کس لیے کہ تصدیق و تکذیب ایک ذہنی چیز ہے بظاہر معلوم نہیں ہوتی۔ اب اس کی علامت بیان فرما دی کہ وہ مکذب ہے جو ایسے افعال کرتا ہے درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ دوسرا مرتبہ تہذیب اخلاق کا یہ ہے کہ بندگان خدا پر رحم کرے اور جو خود سلوک کرنے کی قدرت نہ ہو تو ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ زبان سے اوروں کو ہی ترغیب دلائے پھر جس میں یہ ادنیٰ مرتبہ بھی نہیں وہ تہذیب اخلاق سے محروم ہے۔ اس لیے اس کے بعد اس کو بیان فرماتا ہے۔ ولایحض علیٰ طعام المسکین کہ فقیروں، محتاجوں کو خود کھانا دینا تو درکنار اور کو بھی رغبت نہیں دلاتا یعنی اس کی ذات سے کسی کو بھی فائدہ نہیں۔ یہ تکذیب دین کی دوسری علامت ہے کس لیے کہ جب سزا کا معتقد نہ ہوا تو برے کاموں سے کیوں باز آنے لگا اور جب جزائے خیر ملنے کا معتقد نہیں تو نیک کام کیوں کرنے لگا۔
یہ تہذیب اخلاق وہ تھی کہ جس کا تعلق لوگوں سے تھا اس لیے اس کو تدبیر المنزل کا بھی مسئلہ کہا جاتا ہے اور سیاست مدن کا بھی۔ کس لیے کہ جب لوگوں پر ظلم سے باز نہ آیا اور درماندوں کے ساتھ نیک سلوک نہ کیا تو اس سے معاشرت اور تمدن میں بڑا خلل واقع ہوتا ہے اور اگر بغور دیکھئے تو تمدن اور معاشرت میں جو کچھ رنجشیں اور باہمی عداوت پیدا ہوتی ہے انہیں دو باتوں سے ہوتی ہے۔ جس جھگڑے اور قضیے کی اصل دریافت کرو گے تو یہی دو باتیں نکلیں گی یا تو تعدی اور زیادتی ہوگی خواہ زبان سے سخت کلامی ‘ بدخلقی ‘ غیبت ‘ گالی ‘ گلوچ ‘ ہجو وتوہین یا ہاتھ پائوں سے دوسرے کے مال یا آبرو پر حملہ ہوگا خواہ سرقہ کے طور پر یا علانیہ غصب ہوگا اور کوئی چالاکی۔ الغرض کوئی نہ کوئی تعدی وظلم مخاصمت کی بنیاد ہوگی۔ یا اپنی خوبی و منافع کا بند کرنا ہوگا۔ حقداروں کو نہ دینا، بیوی بچوں کو ترسانا، ہمسایوں، دوستوں کو محروم رکھنا خواہ مال سے خواہ کلمۃ الخیر سے خواہ کسی اور مفید کوشش سے۔ پھر یہی اسباب باہمی رنج اور حسد و بغض و کینہ و عداوت کے باعث ہوجاتے ہیں اور جہاں یہ دونوں نہیں یہ فساد بھی نہ ہوں گے۔
دوسری قسم کی تہذیب اخلاق اور بھی ہے جو اس قسم اول کے بعد ضروری ہے وہ کیا اپنے مالک و خالق کے ساتھ رابطہ اور اخلاص و نیاز پیدا کرنا۔ یہ تہذیب نفس ہے۔ یہ اعلیٰ درجہ کی حکمت ہے۔ یہ خاص حصہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور اولیائِ کرام کا ہے اور اس لیے اس کو حکمت نوامیسہ کہتے ہیں۔ یہ وہ فن ہے کہ جس سے روح میں نوروسرور پیدا ہوتا ہے اور مرنے کے بعد اس کی روح عالم قدس کی طرف اس طرح دوڑتی اور اڑ کر جاتی ہے کہ جس طرح اوپر سے ڈھیلا نیچے اپنے حیزطبعی کی طرف میل کرتا ہے اور اس فن کی طرف فقرائِ اہل کمال کو بڑی رغبت ہوتی ہے اور جس کو اس کی لذت نصیب ہوجاتی ہے پھر وہ دوسرے شغلوں میں مشغول ہونا ایک جبر سمجھتا ہے۔ اسی کے لیے مرتاضین جنگلوں پہاڑوں میں گوشہ نشینی کرتے ہیں اور کیا کیا محنتیں اٹھاتے ہیں مگر بغیر مرشد کامل آنحضرت ﷺ کے منزل مقصود کو نہیں پہنچتے اس کو تزکیہ نفس بھی کہتے ہیں اب اس کے دو اصول ارشاد فرماتا ہے۔ اول فویل للمصلین الذین ھم عن صلوٰتہم ساھون کہ خرابی ہے ان نمازیوں کی جو اپنی نماز سے بیخبر ہیں۔ فضائل نماز۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ جس میں جسم اور روح دونوں شریک ہیں اور یہ ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر بحضور قلب اور مع شرائط ہو تو روح کو ایسا جلد روشن کرتی ہے کہ پھر بندہ کو خودبخود معاصی اور ہر قسم کی بدکاری سے نفرت ہوجاتی ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں آیا ہے۔ ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر۔ پھر ایسے بدبخت جو نماز سے بیخبر ہیں افعال ذمیمہ مذکورہ بالا سے کس طرح باز آسکتے ہیں۔ کس لیے کہ ان میں ملکیت کا تقاضا جا کر بہیمیت و شیطانیت کا تقاضا غالب آجاتا ہے اس جملہ میں نہ صرف نماز ادا کرنے کی تاکید ہے بلکہ ہمہ تن متوجہ ہونے کا بھی حکم ہے کس لیے کہ دکھلاوے اور غفلت کی اور رسمی نماز نہیں ایسا نمازی دراصل نماز سے بیخبر ہے۔ یہ تزکیہ نفس کا اول رکن ہے جو اسلام میں پنجگانہ فرض ہے۔
فائدہ : نماز سے سہو جیسا کہ آیت میں ہے اور نماز میں سہو فرق رکھتا ہے۔ اول کے معنی ہیں نماز میں سستی کرنا یا بالکل ترک کرنا۔ اور شرائط سے وقت پر نہ پڑھنا حضور دل سے ادا نہ کرنا جیسا کہ مدینہ کے منافق کیا کرتے تھے جیسا کہ ان کے حق میں فرمایا۔ واذاقاموا الی الصلوٰۃ قامواکسالیٰ یرائون الناس کہ جب نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو سستی سے اٹھتے ہیں لوگوں کو دکھانے کو اور اللہ کو یاد نہیں کرتے اور نماز میں سہو اس کی کسی چیز کو بھول جانا پھر یہ کبھی استغراق کلی سے ہوتا ہے جیسا کہ نبی ﷺ ظہر کی نماز میں بھول گئے اور بیچ کا قاعدہ کئے بغیر دو رکعت پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے اور پھر آخر میں سجدہ سہو کیا اور اکثر اولیائِ کرام کو بھی یہ پیش آیا ہے اور کبھی کسی اور وجہ سے بھی پیش آتا ہے مگر اس کا تدارک شرع میں سجدہ سہو سے کردیا گیا ہے۔ بہرطور نماز میں سہو منافقین کی شان نہیں پیدا کرتا اور یوں انسان کو بھول چوک لگی ہوئی ہے مگر نماز سے سہو سخت بات ہے۔
فائدہ : مکہ معظمہ میں جبکہ یہ سورة نازل ہوئی تھی مسلمانوں میں نماز شروع ہوگئی تھی جس پر کفار قریش مسلمانوں سے تمسخر کیا کرتے تھے اور یہی ان کا نماز سے اور اس کی حقیقت سے بیخبر ہونا تھا پھر اس لیے کہ نماز سے غفلت مدینہ کے منافق کرتے تھے اس سورة کے نصف کا نزول مدینہ میں قرار دینا بیکار تاویل ہے۔
اب تزکیہ نفس کا دوسرا اصل الاصول بیان فرماتا ہے۔ ان الذین ھم یراؤن کہ خرابی ہے ان کی جو کوئی نیکی بھی کرتے ہیں تو لوگوں کے دکھانے اور نمود کے لیے کرتے ہیں۔ اس میں تعلیم ہے کہ خلوص نیت اور توجہ الی اللہ ہر کام کے لیے ہونی چاہیے۔ ہر ایک نیک کام جس کی بنیاد خلوص پر ہوگی اس کا نیک ثمرہ دنیا و آخرت میں ہوگا ورنہ برباد ہوجائے گا۔ خلوص کے فضائل۔ خلوص عجیب چیز ہے تمام حسنات کی بنیاد یہی ہے اور جو کام خلوص سے ہوتا ہے روح میں اس سے نورانیت حاصل ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد رفع درجات کا باعث ہوتا ہے۔ یہ ریاکاری کہ جس کی مذمت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہود کے فقیہوں کے سامنے بیان فرمائی ایک روحانی مرض ہے اور برا ہی مرض ہے اگر کوئی ذرا بھی عقل سلیم رکھتا ہو تو فوراً کہہ سکتا ہے کہ رات بھر پیرومرشد اور ولی اور بزرگ کہلانے کے لیے جاگنا ‘ روزے رکھنا ‘ مال خرچ کرنا ‘ دنیا کی آسائش جائز چھوڑ کر زاہد بننا ‘ زاہدوں کا لباس پہننا اور طرح طرح کی مشقتیں اٹھانا مال نمود کے لیے صرف کرنا ایک لغو حرکت ہے آخرت میں تو کچھ ثواب نہیں اس بات پر تو اس ریاکار کا دل بھی جو خلوص سے خالی ہے فتویٰ دیتا ہے اب رہی دنیا کی نیک نامی سو ایسا کون ہے جس کو سب نے مان لیا ہو پھر بھی ہزاروں برا کہنے والے ہوتے ہی ہیں اور جو کسی نے دھوکا کھا کر اچھا بھی جانا تو اس کو کیا ملا۔ صرف یہی بات کہ نفس خبیث خوش ہوگیا مگر اس کے ساتھ ہی جبکہ یہ جھوٹا ملمع اتر جاتا ہے تو اتنا ہی رنج بھی ہوتا ہے اور سنت اللہ جاری ہے کہ وہ جھوٹے طمع کو زائل ہی کردیتا ہے۔ بہت سے ریاکاروں کی چند روز کی چمک ظاہر ہوئی مگر تھوڑے ہی دنوں بعد نیست و نابود بھی ہوگئے نام رہا نہ نشان قبروں پر گدھے کھڑے ہگتے ہیں اور جو خلوص قلبی سے حسنات کرتے ہیں نہ ان کو کسی کے اچھا کہنے کی پروا نہ برا کہنے کی اور وہ سات پردوں میں بھی اپنے آپ کو چھپاتے ہیں۔
خدا پاک ان کو دنیا میں قبولیت عامہ عطا کرتا ہے۔ بنی آدم کے دلوں میں میلان و محبت پھونک دیتا ہے۔ وہ دنیا میں عرصہ دراز تک نیک نامی سے یاد کئے جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ع نمے کنجد اندر خدائی خودی۔ جو خدائے جبار و جلیل بقاء وکبریائی کا حصہ لینا چاہتا ہے تو غیرت الٰہی اس کو مٹا ڈالتی ہے جن کی بقا اپنی ہستی مٹانے کے بعد ہوئی ہے وہ اسی کی بقاء سے ہمیشہ باقی رہا کرتے ہیں۔ ریاکار نماز میں خدا کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ انہیں کو کرتے ہیں جن کو یہ سجدہ دکھانا چاہتے ہیں۔ ہائے ہائے ان کا معبود اصلی اہل دنیا اور دنیا ہوتی ہے اور اسی طرح جو لوگ شہرت حاصل کرنے کے لیے کوئی دنیاوی کام کرتے ہیں اور فضول خرچی میں برباد ہوجاتے ہیں آخر ان کی شہرت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔ دو دن کے بعد اس کی فضول خرچی کا تذکرہ بھی نہیں ہوتا۔
الغرض شہرت اور نمود نہایت بیکار چیز ہے جس سے کوئی فائدہ دینی و دنیاوی نہیں اور اس کی طلب امراض نفسانیہ میں سے بڑا سخت اور مہلک مرض ہے۔ اس مرض اور جملہ امراض سے رسول پاک نے لوگوں کو شفا بخشی تھی اور اس نجاست سے پاک کردیا تھا جس کا ذکر اس آیت میں ہے ویزکیھم۔
اب ایک تیسرا اصل الاصول اور بیان فرماتا ہے فقال ویمنعون الماعون کہ وہ جو ماعون کو منع کرتے ہیں ان کی خرابی ہے۔ یہ وہ بات ہے جو نظر توحیدی سے محجوب ہونے کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے ماعون کے معنی میں علماء کے متعدد اقوال ہیں۔
(1) ابوبکر و علی و ابن عباس و ابن الحنیفۃ و ابن عمر ؓ و حسن و سعید بن جبیر و عکرمہ و قتادہ و ضحاک (رح) کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ ہے کس لیے کہ بندگی جو تہذیب نفس اور تنویر روح کا سبب ہے اس کی دو قسم ہیں۔ اول جانی سو وہ نماز ہے دوم مالی وہ زکوٰۃ ہے۔ اس لیے نماز کے بعد زکوٰۃ کا ذکر آیا۔ (2) اکثر مفسرین کا قول یہ ہے کہ ماعون وہ چیز ہے کہ جس کو عادتاً مانگنے پر روکا نہیں جاتا اور جس کو امیر و فقیر دونوں بوقت ضرورت مانگ لیا کرتے ہیں اور جو اس کو نہ دے وہ بدخلق اور لئیم الطبع اور دوں ہمت سمجھا جاتا ہے جیسا کہ کدال، پھاوڑا، ڈول، رسی، چھلنی، نمک، آگ، پانی، ہانڈی وغیرہ استعمال کی چیزیں اور ماعون فاعول کے وزن پر معن سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں تھوڑی حقیر چیز جیسا کہ برتنے کی چیزیں۔ اور زکوٰۃ کو بھی اسی لیے ماعون کہا جاتا ہے کہ وہ کل مال کا چالیسواں حصہ ہے جو کل کی نسبت بہت ہی تھوڑا ہے بخل اور دناءت کی ممانعت کرنا مقصود ہے جو بندے اور خالق میں حجاب اکبر ہے اور اسی لیے علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے گھر میں ایسی چیزیں رہیں جو ہمسایہ کے کام آئیں۔ اور سر اس کا یہ ہے کہ ایک دل میں دو محبت جمع نہیں ہوسکتیں پھر جن پر تجلی انوارِالٰہی ہے وہ اسی کو سب سے زیادہ محبوب جانتے ہیں۔ کما قال والذین آمنوا اشد حباً للہ پھر یہ محبت یہاں تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے محبوب کی مخلوق کو بھی نظر رحمت سے دیکھتا ہے اور اپنے آقا کے گھر کے آدمی یعنی غلام سمجھا کرتا ہے خواہ کوئی نمک حرام اور نافرمان ہی غلام کیوں نہ ہو مگر اس کی حاجت روائی اور کاربراری بھی یہ اسی محبت سے عمدہ جانتا ہے۔ اس لیے اپنی جان سے مال سے دریغ نہیں کرتا، حاجتمندوں کے لیے یہ وقف ہوتا ہے اور جس کو اس کی محبت نہیں تو اس کے دل میں دنیا کی محبت بھر جاتی ہے۔ دنیا کے اسباب معاش اس کے دل میں جگہ پائے ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنی محبوب چیز کو کسی کو دینا اور اپنے پاس سے جدا کرنا گوارا نہیں کرتا اور اسی کو بخل کہتے ہیں اور یہ حالت بندے اور خدا تعالیٰ میں ایک بڑا پردہ ہے۔
یہ حالت سخت ظلمت ہے مرنے کے بعد جہنم کی صورت میں ظہور کرے گی اور مرتے وقت ہر ہر شے کی محبت اس کی جان کو عذاب الیم ہوگی اور اس لیے بخیل مرنے سے بہت ڈرتا ہے اس کی روح اس عالم کی طرف جانے کا نام سن کر لرزتی ہے۔ کس لیے کہ وہ تو اسی خسیس جہان پر فریفتہ ہے اول تو دوسرے جہان کا یقین نہیں کس لیے کہ آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے، کان بہرے ہیں، دیوار حائل ہے اور جو یقین بھی ہو تو وہاں کا چور ہے جاتے ڈرتا ہے… اس جملہ ویمنعون الماعون میں بخل کی برائی بیان ہے جو تزکیہ نفس کے لیے ضروری بات ہے اسی لیے بخیل کو کبھی خدا تعالیٰ کا قرب میسر نہیں آتا ؎
بخیل اربود زاہد بحرو بر بہشتی نبا شد بحکم خبر
سبحان اللہ کس عمدہ پیرایہ میں مکارم اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے اور حکمت کے فنون سکھائے گئے ہیں اس قدر مختصر کلام میں یہ مضامین اور پھر الفاظ کی فصاحت ‘ کلام کی بلاغت بڑا اعجاز ہے۔
فائدہ : سورة کے الفاظ میں کسی شخص کا ذکر نہیں بلکہ عموماً طبائعِ انسانیہ کے رذائل بتلائے گئے ہیں جو اس کو خسارہ میں ڈالنے والے ہیں خواہ وہ ابوجہل میں ہوں ‘ خواہ ابولہب میں ‘ خواہ امیہ بن خلف میں ‘ یا عاص بن وائل میں یا مدینہ کے منافق عبداللہ بن ابی میں اور دراصل ان لوگوں میں یہ رذائل موجود تھے۔ یتیم کے جھڑکنے کی بابت ابوجہل کا ایک قصہ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ فریبی جب کوئی دولت مند مرنے کو ہوتا تو اس کے پاس جا کر کہتا کہ اپنا مال مجھے سپرد کر دے ورنہ تیرے بال بچے بعد میں اور وارثوں کے سبب تباہ ہوجائیں گے۔ اس لیے وہ اس کو دے دیا کرتا تھا پھر یہ اس کے یتیم بچوں کو صاف صاف جواب دیتا اور جھڑک کر نکال دیتا تھا۔ چناچہ ایک یتیم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ میری طرف سے چل کر فرمائیے۔ آپ تشریف لے گئے اس پر وہ اور بھی برافروختہ ہوگیا اور یتیم کو مارنے اٹھا اور آنحضرت ﷺ کو برا بھلا کہا اس کے بعد یہ سورة نازل ہوئی جس میں ان قبائح کی برائی ہے۔
Ayahs 107:2–71 ؎ یعنی جب جزا و سزا کا قائل نہیں تو پھر ہر قسم کی بےرحمی اور سنگدلی کرتا ہے۔ یتیم پر رحم کرنا مسکین کو کھانا کھلانا رحمدلی کی بات ہے اس کو بھی نہیں کرتا اور خدا کی طرف بھی نہیں سکتا اس لیے غفلت اور دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے اور یہاں تک وفی الطبع ہوجاتا ہے کہ معمولی برتنے کی چیزیں بھی مانگے نہیں دیتا۔ 12 منہ