108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 108:1–3

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تمہیں بہت کچھ دیا ہے

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

پھر اسی کی نماز پڑھو اور قربانی کرو

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

تمہارا بدخواہ ہی پس بریدہ ہے۔

ترکیب ¦ انامبتدء اعطیناک 1 ؎ خبروالکاف مفعول اول لاعطینا الکوثر مفعول ثان۔ والکوثر علے وزن فوعل من الکثرۃ وصف بہ للمبالغۃ فی الکثرۃ مثل النوفل من النفل والجوھر من الجھر والعرب تسمی کل شیء کثیر فی القدرا والعددوالبرکات کو ثرا۔ فصل الفاء لترتیب مابعدھا علی ماقبلھا اوللتفریع صل امر لربک متعلق بصل۔ وانحر عطف علی صل ان اسمھا شانئک اسم الفاعل من الشنان لامن الشین فان اسم الفاعل منہ شائن لاشان والشانئی لمبغض العدو ھو فصل اوتاکید الابتر خبران وقیل ھو مبتدء والابترخبرہ والجملۃ خبر ان الابترا فعل من البتر بمعنی القطع من الاصل۔ یقال بترتہ ابترۃ بتراولابترمن الرجال من لاعقب لہ من النسل وذکر الخیر ومن الدواب مالاذنب لہ۔ تفسیر ¦ یہ سورة اکثر کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن الزبیر و عائشہ ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ مقاتل اور کلبی اسی کو ترجیح دیتے ہیں مگر قتادہ اور مجاہد و عکرمہ و حسن بصری کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ اول قول جمہور کا ہے اور قوی تر ہے اس میں تین آیت ہیں۔ ربط۔ اس سورة مبارکہ کو سورة ماعون سے یہ ہے کہ سورة ماعون میں حکمت کے جمیع اقسام بیان ہوئے تھے اور یہ بھی ضمناً بتلایا گیا تھا کہ ایسے بھی محروم اور بدبخت بنی آدم ہیں کہ جن کو اس حکمت میں سے کچھ بھی نصیب نہیں یا بعض اقسام نصیب نہیں وہ دنیا میں آئے اور خالی ہاتھ چلے گئے نہ وہاں کے لیے کچھ خیر لے گئے نہ دنیا میں زندہ نام اور یادگار چھوڑ گئے۔ یہ لوگ دراصل ابتر یعنی بےنسل اور دم بریدہ ہیں جس سے کفار مکہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جن پر ازلی بدبختی سوار تھی ابوجہل وغیرہ۔ اب اس سورة میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ایسے بھی خوش نصیب ہیں کہ جن کو جمیع اقسام کی حکمت عطا ہوئی اور ان کے سینوں سے اوروں کے لیے حکمت کی نہریں نکلی ہوئیں تاقیامت یادگار باقی رہیں گی اور ان کا دل حکمت کا حوض یا دریائے بےپایاں ہے اور دراصل حکمت ہی خیر کثیر ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے : ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً ۔ اس میں بتلایا جاتا ہے کہ وہ بانصیب اے نبی کریم ﷺ اپنے زمانہ میں آپ اور آپ کے جانشین اور مبتعین ہیں اس لیے اس سورة میں آنحضرت ﷺ کا ان جملہ فنون سے فیضاب ہونا بیان فرماتا ہے اور یہ بھی کہ یہ آپ کا فیض تاقیامت جاری رہے گا جس سے بنی آدم کے نیک لوگ آپ کو ہمیشہ نیکی سے یاد کیا کریں گے۔ واعظین اپنے منبروں پر اور مصنفین اپنی کتابوں میں ابد تک آپ کی ثناء و صفت کریں گے اور آپ کی ذریت دنیا میں پھیل گئی اور کبھی منقطع نہ ہوگی 1 ؎ وقراء طلحۃ والراعفرانی وانس وابن محیض انطیناک بالنون وھی بمعنی قضنینا لک فی لغۃ العرب العاربۃ۔ 12 منہ اور ان احمقوں کے نزدیک جو سلسلہ جاری رہنے کا باعث خاص صلبی بیٹوں پر منحصر ہے اور تیرے دو صلبی بیٹوں 1 ؎ کے فوت ہوجانے سے جو خدیجۃ الکبریٰ کے پیٹ سے تھے اور مکہ میں فوت ہوگئے تھے ان کا خوش ہو کر یہ کہنا کہ چلو سلسلہ منقطع ہوا ان کے بعد کوئی نام لینے والا باقی نہیں رہے گا۔ اب یہ ابتر ہوگئے محض بیہودہ خیال ہے۔ دراصل یہی ابتر یعنی مقطوع السلسلہ ہیں ان کے پیشاب کے بیٹے ان کا نام زندہ رہنے کا باعث نہیں ہوسکتے۔ بعض مفسرین نے خاص اسی بات کو (کہ آپ کے فرزند کے مرنے کے بعد کفار قریش نے آپ کو ابتر کہنا شروع کردیا تھا اور یہ آپ کے رنج و ملال کا باعث تھا جس کے دور کرنے کو سورة کوثر نازل ہوئی) سبب نزول قرار دیا ہے لیکن سبب نزول وہی ہے جو ابھی ہم نے بیان کیا۔ اس سورة مبارک کی تین آیت ہیں اور ہر ایک میں اسرار و لطائف ودیعت رکھے ہیں۔ فرماتا ہے انااعطیناک الکوثر کہ ہم نے نہ کسی اور نے تجھے جو تیری ہمیشہ سے تربیت کرتے رہے ہیں کوثر عطا کیا ہے۔ کوثر کی تحقیق ¦ کوثر فوعل کے وزن پر ہے جس کے لغت میں معنی ہیں بہت زیادہ کے۔ جس سے مراد خیر کثیر یعنی ہر قسم کی بھلائی اور بہتری اور نعمت اور برتری ہے اور معنی لغوی کے لحاظ سے ابن عباس ؓ نے جو حبرالامۃ ہیں اس لفظ کوثر کی تفسیر کی ہے جیسا کہ بخاری و ابن جریر و حاکم نے اور اسی طرح ترمذی و امام احمد و ابن ماجہ نے بروایت سعید بن جبیر ؓ نقل کا ہے۔ اور وہ خیر کثیر حکمت ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا اور پھر یہ لفظ کوثر جس کے معنی خیرکثیر کے ہیں بڑا وسیع المعنی ہے۔ ہر ایک قسم کی خیر کثیر کو شامل ہے مفسرین نے ہر ایک خیر کو جدا جدا بھی مراد لیا ہے اس لیے اس بارے میں ان کے پندرہ قول ہیں جن کو امام رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں شرح و بسط سے نقل کیا ہے لیکن خلاصہ ان کا یہ ہے۔ (1) وہ حوض کوثر ہے جس کی بابت بیشمار احادیث صحیحہ وارد ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ جہاں پیاس اور گرمی ہوگی اور کسی کو پانی نہ ملے گا العطش العطش پکاریں گے۔ نبی کریم ﷺ کو ایک حوض عطا کرے گا جس کی درازی اور چوڑان سینکڑوں کوس کا ہوگا، اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ جو ایک بار پئے گا پھر عرصات میں اس کو پیاس نہ لگے گی۔ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ و اہل بیت لوگوں کو پلائیں گے۔ تمام اولین و آخرین پیاس کے مارے ادھر ہی دوڑتے چلے آئیں گے جو سعید ہیں اس سے فیضاب ہوں گے اور شقی محروم کئے جائیں گے۔ یہ اس حکم الٰہیہ کا مظہر ہے جو آپ کے دل فیض منزل میں بھر دی گئی تھی اور حوض دل کا مظہر حوض کوثر ہوگا جس کی وسعت کی کچھ انتہا نہ تھی پلانے والے وہی لوگ ہیں کہ جو دنیا میں اس حکمت کے جام پلاتے تھے پھر جس نے دنیا میں آپ کے حوض حکمت کا جام پیا وہ وہاں بھی پئے گا اور جو بدبخت یہاں محروم رہا وہاں بھی رہے گا۔ اللھم اسقنا من حوضہ یہ ہے وہ حوض کوثر کا سر جو کج فہموں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ (2) کوثر وہ جنت کی نہر ہے جو آپ کو شب معراج میں دکھائی گئی تھی جس کے کنارے موتیوں کے خیمے تھے آپ نے اس کے پانی کو جو دیکھا تو مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔ پھر آپ نے جبرئیل ( علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کیا ہے جواب دیا کہ یہ وہی کوثر ہے جو اللہ نے تم کو دیا ہے۔ (رواہ البخاری و مسلم وغیرہما) ۔ یہ بھی اسی نہر غیبی کا مظہرہ ہے جو آپ کے حوض قلب میں رات دن پڑا کرتی تھی اور وہ حوض دل ہمیشہ لبریز رہا کرتا تھا۔ (3) اولاد کی کثرت۔ سو اولاد دو قسم کی ہوتی ہے جسمانی اور روحانی۔ بحمداللہ جسمانی نسل بھی آپ کی بکثرت ہے اور روحانی تو تمام امت ہے جو تعداد میں صحیح جغرافیہ کے لحاظ سے ہر قوم سے زائد ہے حالانکہ اس قدر تھوڑے عرصہ میں ایسی ذریت کسی کی بھی نہ پھیلی اور دن بدن ترقی ہے اور ایک وقت آنے والا ہے کہ تمام دنیا یا اکثر حصہ میں آپ ہی کی ذریت ہوگی۔ قومیں اسلام لے آئیں گی ولہ الحمد۔ (4) علماء و اولیاء سو یہ بھی ایک خیرکثیر ہے اور بحمداللہ اس امت میں جس قدر اہل کمال گزرے ہیں اور اب بھی ہیں اور آیندہ بھی ہوں گے جو بمنزلہ ٔ انبیاء بنی اسرائیل کے ہیں وہ کسی کو نصیب نہیں ہوئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں یہ سلسلہ حواریوں پر ختم ہوگیا۔ ان کے بعد پھر نہیں دیکھا گیا کہ کوئی صاحب نفس قدسی پیدا ہوا ہو جس کے کرامات و کمالات انہیں کے اعجاز شمار ہوتے ہوں اور دراصل کمالات کی نسل یہی لوگ ہیں مثلاً کوئی خوشنویس ہے، اس کی خوشنویسی کی اولاد وہ صلبی فرزند نہیں جو اس کمال سے بےبہرہ ہے وہ صرف اس کے جسم کی اولاد ہے جو اس کا کمال نہ تھا بلکہ شاگرد رشید فرزند کمال ہے اسی طرح نبوت کی پاک نسل اور روحانی فرزند وہی ہیں جن میں کمالات نبوت اور اس کے برکات ہوں اور یہی سر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین یوشع بن نون ہوئے (علیہ السلام) جو ان کے فیض نبوت کے فرزند رشید تھے حالانکہ صلبی اولاد بھی موجود تھی اور یہی سبب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روحانی فرزند اکبر ابوبکر صدیق ؓ جانشین قرار پائے جن کی نسبت…… آپ نے یہ فرمایا تھا۔ ماصبہ اللہ فی صدری صببتہ فی صدر ابی بکر کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ میرے سینہ میں ڈالا تھا وہ میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا۔ یہ نسل بھی آپ کی تاقیامت باقی رہے گی۔ (5) نبوت عظمیٰ سو یہ اعلیٰ درجہ کی خیر کثیر ہے یہ بجز آپ کے کسی کو نصیب نہیں ہوئی کوئی بھی تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر نہیں بھیجا گیا نہ اس قدر برکات و انوار غیبیہ کسی کے ظاہر ہوئے نہ کسی پر سلسلہ نبوت بجز آپ کے تمام ہوا۔ (6) قرآن مجید سو یہ بھی خیرکثیر ہے جس کے برکات کا کچھ شمار نہیں۔ (7) کوثر دین اسلام ہے اور اس میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ دارین کے حسنات و برکات اسی پر موقوف ہیں۔ (8) وہ فضائلِ روحانیہ جو آپ کو حاصل ہوئے۔ (9) آپ کی رفعت ذکر کہ ہر جگہ آپ کا نام تعظیم سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ بھی بڑی خیر کثیر ہے ہر ایک کے نصیب نہیں ہوتی۔ ہزاروں اس کی تمنا میں مرگئے۔ (10) آپ کے علوم جن کی نسبت فرماتے ہیں کہ مجھے اولین و آخرین کے علوم دیے گئے۔ (11) کوثر آپ کا خلق عظیم ہے اور درحقیقت اخلاق حمیدہ بھی ایک بڑی نعمت ہے۔ (12) کوثر مقام محمود ہے جو قیامت کے دن آپ کو دیا جائے گا جس کو دیکھ کر تمام انبیاء (علیہم السلام) حسرت کریں گے۔ (13) کوثر یہ سورة مبارکہ ہے کل تین آیت ہیں اور بیشمار مطالب کو حاوی ہے اور جس کا مقابلہ کسی عرب کے شاعر وبلیغ سے نہ ہوسکا۔ مشہور ہے کہ جاہلیت میں فصحاء بلغاء اپنے اس کلام کو جو ان کے نزدیک بےمثل ہوتا تھا تفاخر سے لکھ کر کعبہ کے پردے پر لگا دیتے تھے۔ جب یہ سورة نازل ہوئی تو دیکھ کر حیرت میں رہ گئے اور سب نے اپنے کلام اتار لیے۔ پھر کسی کو بھی اس کے اوپر لکھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ایک بڑے فصیح وبلیغ نے اس کے اوپر یہ لکھ دیا۔ ماھذا کلام البشر کہ یہ بشر کا کلام نہیں کیونکہ قوت بشریہ کے احاطہ سے باہر ہے اور یہ اعجاز ہے اور یہ خیر کثیر ہے۔ (14) کوثر سے مراد وہ تمام نعمتیں ہیں جو آنحضرت ﷺ کو عطا ہوئیں۔ (15) کوثر وہ اعلیٰ مقام قرب ہے جس سے اوپر اور مقام بندہ کو مل نہیں سکتا۔ دراصل یہ سب اقوال اسی پہلے معنی خیر کثیر کی تفسیرات ہیں۔ 1 ؎ قاسم وعبد اللہ۔ 12 منہ فائدہ 1: انااول لایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ جو کچھ عطا ہے ہماری عطا ہے۔ اور نیز عاشق صادق کو جو کچھ فرحت معشوق کی ذات سے ہوتی ہے وہ اس کے عطیات سے نہیں ہوتی اس لیے انافرما کر اپنی ذات کی طرف متوجہ کیا۔ پھر صفات کی طرف اور یہ اعلیٰ مقام ہے اور جس کو کوثر عطا ہو اس کے مناسب ہے۔ اعطینا فرمایا آتینا نہ فرمایا کس لیے کہ دینا عام ہے خواہ کسی خدمت کے معاوضہ میں ہو خواہ مفت۔ برخلاف اعطاء کے کہ وہ مفت ہوتی ہے اور کرم ہی کرم ہوتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ جو کچھ عطا ہوا ہے ہمارے فضل و عنایت سے ہے جس کا شکریہ لازم ہے۔ پھر اعطینا ماضی کا صیغہ استعمال میں آیا نہ فعطی مضارع کا تاکہ معلوم ہو کہ آپ کو دے دیا گیا نہ صرف وعدہ ہی وعدہ ہے اور یہ بھی سمجھا جائے کہ جن چیزوں کا آیندہ ملنا ہے وہ بھی یقینا ملیں گی گویا ایسے کریم کا وعدہ بمنزلہ دے دینے کے ہے۔ پھر خطاب میں لفظ مفرد استعمال ہوا کم نہ فرمایا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ یہ عطیہ خاص آنحضرت ﷺ کے لیے ہے اس میں اور کسی کا حصہ نہیں اور جو کسی کو حصہ ملتا ہے تو آپ ہی کے طفیل سے ملتا ہے بالاستقلال کچھ نہیں ملتا اور اس لیے کوئی کیسی ہی عبادت کرے ریاضت کرے اور آنحضرت ﷺ کا دامن نہ پکڑے وہ درگاہِ حق سبحانہ ٗ سے محروم رہتا ہے کبھی کشودکار نہیں ہوتا۔ اسی لیے صدہا جوگی فقیر جنہوں نے عمر بھر ریاضات شاقہ کی تھیں اور فتوح غیب کا دروازہ ان پر نہ کھلا تو اسلام لائے۔ پھر یہ فرمایا کہ ہم نے تجھے کوثر عطا کیا۔ یہ بتلانا ہے کہ برخلاف ان بدنصیبوں کے کہ جن کا ذکر سورة ماعون میں ہوا آپ کو حکمت و انوار غیبیہ سے مالامال کردیا گیا اور آپ دولت کو اپنی فیاضانہ طبیعت سے لوگوں کو دیتے ہیں اور وہ نہیں لیتے بجائے شکر کرنے کے لڑتے مارتے ہیں ان کو بخل و دناءت کا وصف حاصل تھا یتیم کو جھڑکتے اور کھانے کی رغبت نہیں دلاتے اور آپ کی یہ فیاضی ہے۔ یہ نعمت کوثر ان کے اس وصف بد کے مقابلہ میں ہے۔ پھر جس طرح تکذیب دین کا ناپاک مادہ ان میں تھا اور ان کو ویسے ہی بدافعال پر ابھارتا تھا۔ بخل و دناءت اور ناشکری ان سے سرزد ہوتی تھی اسی طرح آپ کو کوثر عطا ہے آپ کو اس کے موافق کام کرنا چاہیے۔ اسی لیے فرمایا ہے۔ (1) فصل لربک کہ خاص اپنے رب کے لیے نہ کسی غیر کے لیے نماز پڑھیں، شکریہ کریں اور نماز کو کوثر سے کمال مشابہت بھی ہے کس لیے کہ اس میں اپنے خالق سے مناجات و عجز و نیاز شہد سے زیادہ شیریں ہے اور جو اس میں انوار غیبیہ چمکا کرتے ہیں وہ دودھ سے زیادہ سفید اور روشن ہیں اور دل کو جو یقین و سرور اس میں حاصل ہوتا ہے وہ برف سے زیادہ سرد ہے اور آداب و سنن نماز کے ان سرسبز درختوں اور جواہر کی پٹڑیوں سے مشابہ ہیں جو حوض کوثر کے اردگرد ہوں گے اور اذکار و تسبیحات جو نماز کے ہر رکن میں مقرر ہیں ان جواہرات کے آب خور دن اور پیاسوں سے مشابہ ہیں کس لیے کہ ان سے بھر بھر کر شراب محبت الٰہی پی جاتی ہے اور شوق کی پیاس کو بجھایا جاتا ہے۔ اور نیز یہ ان بدبختوں کے اس فعل کے مقابلہ میں ہے الذین ھم عن صلاتہم ساھون کہ وہ اپنی نماز سے بیخبر ہیں اور لربک کا لفظ یراء ون کے مقابلے میں ہے کہ وہ دکھاوے کو کرتے ہیں۔ آپ نماز اور ہر کار نیک اپنے رب کے لیے کیجئے۔ اور یہ بھی ہے کہ شکرانہ نعمت جان سے بھی کرنا چاہیے وہ نماز پڑھنا ہے اور مال سے بھی۔ اسی لیے اس کے بعد فرمایا وانحر کہ اس کے لیے قربانی بھی کیجئے جو جان کی قربانی کے قائم مقام ہے اور اس سے فقراء کو نفع بھی پہنچتا ہے۔ یہ ان کے اس بخل کے مقابلہ میں ہے ویمنعون الماعون کہ وہ لوگوں کو برتنے کی چیزوں سے بھی منع کرتے ہیں جس میں کوئی حرج ان کا نہیں تھا۔ فائدہ : انحر سے مراد جمہور کے نزدیک قربانی کرنا ہے پھر عام ہے کہ حج میں ہو یا عید الضحیٰ کے روز یا عقیقہ میں جیسا کہ صل سے نماز پڑھنا عموماً مراد تھا۔ نماز فرض اور نفل اور نماز عید و نوافل سب کو شامل تھا یہ اس لیے کہ مکہ میں اس وقت نماز بھی فر ض ہوچکی تھی اور نوافل بھی آپ بکثرت پڑھتے تھے اور قربانی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے چلی آتی تھی مگر فرق یہ تھا کہ کفار قریش نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ میں تحریف کردی تھی۔ نماز میں صرف تالیاں بجانا اور کودنا ہی رہ گیا تھا اور وہ بھی بتوں کے آگے اور اسی طرح قربانی بھی بتوں کے لیے کرنے لگے تھے اس لیے اس آیت میں انہیں دونوں اصول عبادت کی اصلاح کے لیے فرما دیا اپنے رب کے لیے نماز پڑھ ان قواعد سے جو تجھے بتائے گئے اور قربانی بھی اپنے رب کے لیے کر نہ غیر اللہ کے لیے اور اس قربانی میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نفس کو ذبح کر اپنی ذات کو اس کی ذات میں فنا اور محو کر دو اور یہ روحانی قربانی ہے جو خاص انبیاء (علیہم السلام) و اولیائے کرام کا حصہ ہے اور اسی طرح ان کی نماز بھی رب کے لیے ہے نہ ثواب کے لیے نہ عذاب سے بچنے کے لیے محض اس کی ذات پاک کے لیے۔ بعض علماء انحر سے مراد نماز کے متعلق افعال لیتے ہیں جیسا کہ صل سے شکرگزاری کرنا مراد لیتے تھے پھر ان کے متعدد اقوال ہیں۔ (1) تکبیر اولیٰ کے وقت ہاتھ اٹھانا۔ (2) بعض کہتے ہیں ہر تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا۔ (3) بعض کہتے ہیں کہ دعا کے وقت سینہ تک ہاتھ اٹھانا۔ (4) جلسہ استراحت کرنا کہ سینہ سیدھا ہوجائے۔ واحدی فرماتے ہیں کہ ان سب اقوال کی اصل یہ ہے کہ نحر سینے کو کہتے ہیں (نحرشترکشتن و بریدن سینہ و برسینہ زدن و در سینہ شدن نحر و منحر بالفتح پیش سینہ (صراح) اونٹ کی قربانی بھی سینہ کے پاس سے یعنی اس کے حلقوم کی جڑ سے ہوتی ہے جو سینہ سے ملا ہوتا ہے اور رفع الیدین میں بھی سینہ تک ہاتھ اٹھانا ہوتا ہے۔ مگر قربانی کرنے کے معنی اس جگہ مراد ہیں اور یہی قول قوی ہے کس لیے کہ نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا اکثر جگہ قرآن مجید میں ذکر ہے۔ اور قربانی بھی ایک قسم کی زکوٰۃ ہے۔ دوم۔ مشرکین بتوں کے لیے نماز پڑھتے تھے، سجدہ و رکوع کرتے تھے اور انہیں کے لیے جانوروں کی قربانی کرتے تھے جیسا کہ اب مشرکین ہند بتوں کو بکرا چڑھاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو اس امر میں تاکید کر کے مشرکوں کو سنا دیا گیا کہ یہ فعلِ بد ہے۔ ہر عبادت کا مستحق حق سبحانہ ٗ ہے اور اہل توحید کا یہی دستور ہے۔ اور رفع الیدین وغیرہ آداب صلوٰۃ تو فصل میں آگئے۔ پھر ان کے بالخصوص ذکر کرنے سے کیا فائدہ تھا ؟ سوم عبودیت کی دو ہی باتیں ہیں اول تعلیم امر اللہ دوم شفقت برخلق خدا۔ پس فصل میں پہلی بات کی طرف اور وانحر میں دوسری طرف ایما ہے۔ چہارم انحر کا لفظ عرب کے محاورہ میں قربانی کے معنی میں مستعمل ہے اور معنی پیدا کرنا لغت تراشی ہے۔ سعادت کے طریقے بیان فرما کر یہ بات بھی بتلاتا ہے کہ یہ سعادت آپ ہی کے اتباع میں حاصل ہے کس لیے کہ آپ اللہ کی طرف سے مامور ہیں اور جو آپ سے محبت نہ رکھے بغض و عداوت رکھے وہ دین و دنیا میں نامراد ہے۔ اس لیے فرماتا ہے ان شانئک ھوالابتر کہ اے محمد ﷺ آپ سے عداوت رکھنے والا جو دراصل اللہ تعالیٰ سے عداوت و بغض رکھتا ہے وہی پس بریدہ ہے جس کا بعد میں کوئی عمل صالح دنیا میں باقی نہیں نہ اس کا کوئی نام لینے والا نہ اس کے بعد میں اس کا سلسلہ جاری ہے یعنی جمیع اقسام حسنات سے محروم ہے اور بحمداللہ آج تک کہ تیرہ سو چودہ برس ہوئے یہ پیشین گوئی آفتاب کی طرح روشن چلی آتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے دشمن اور توہین کرنے والے جو آپ کے عہد میں تھے کیا کیا مصیبت دیکھ کر مرے اور پیچھے نام نہ رہا۔ جب آنحضرت ﷺ کے دو فرزندوں کا انتقال ہوا تو عاص بن وائل سہمی وغیرہ کفار مکہ نے آپس میں یہ کہا تھا کہ یہ ابتر یعنی اوت نپوت ہے۔ حق سبحانہ ٗ اپنے حبیب کی طرف سے آپ جواب دیتا ہے کہ دراصل وہی اوت نپوت ہیں۔