Ayahs 107:1–2یتیم کو دھکا نہ دیں
قول باری ہے (یدع الیتیم یتیم کو دھکے دیتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ یتیم کے حق سے اسے دھکے دے کر پرے کردیتا ہے۔
Ayahs 107:3–5نمازوں سے غفلت پر تنبیہ
قول باری ہے (الذین ھم عن صلاتھم ساھون) جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں) حرضت ابن عباس ؓ نے فرمایا ” نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں۔ “ مصعب بن سعد نے حضرت سعد ؓ سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے۔ مالک بن دینار نے حسن سے روایت کی ہے کہ نماز کی اس کے وقت میں ادا کرنے سے غفلت برتتے ہیں یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جاتا ہے۔
اسماعیل بن مسلم نے حسن سے روایت کی ہے کہ ” یہ منافق لوگ ہیں، نماز کو اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں اور جب نماز پڑھتے ہیں تو دکھلاوے کے طور پر پڑھتے ہیں۔ “ ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آیا اس نے دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ہے یا ایک رکعت کے بعد۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس تاویل کی شاید وہ روایت ہے جو ہمیں محمد بن بکر نے بیان کی۔ انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن حنبل نے، انہیں عبدالرحمن بن مہدی نے، انہیں سفیان نے ابومالک الاشجعی سے، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا (لا غرار فی الصلوٰۃ ولا تسلیم) جس کے معنی ہیں کہ کوئی شخص نماز میں غرار یعنی شک کی بنا پر سلام نہیں پھیرے گا۔
اس کی نظیر وہ روایت ہے جس کے راوی حضرت ابوسعید خدری ؓ ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من شک فی صلوٰتہ فلم یدراثلاثا صلی امرار بعا فلیصل رکعۃ اخری وان کانت قدتمت صلوتہ فالرکعۃ والسجد تان لہ نافلۃ۔ جس شخص کو اپنی نماز کی رکعتوں کے بارے میں شک ہوجائے اور اسے پتہ نہ ہو کہ آیا تین رکعتیں پڑھ لی ہیں یا چار تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے۔ اگر اس کی نماز مکمل ہوچکی ہوگی تو یہ رکعت اور اس کے دو سجدے اس کے لئے نفل ہوجائیں گے)
مجاہد سے مروی ہے کہ (ساھون) کے معنی ” لاھون “ (لاپرواہی کرنے والوں) کے ہیں۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ گویا مجاہد کی مرادیہ ہے کہ ایسے لوگوں کو نماز سے لاپرواہی کی بنا پر سہو لاحق ہوتا ہے اور یہ لوگ مذمت کے اس لئے مستحق قرار پائے کہ نماز کے اندر غور وفکر کی قلت کی وجہ سے اٹھیں سہو لاحق ہوا کیونکہ ان کی نماز دکھلاوے کی نماز تھی۔ ورنہ سہو کا لاحق ہونا ایک شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ اسے اس پر عذاب کا مستحق گردانا جائے۔
Ayahs 107:6–7معمولی ضرورت کی اشیاء نہ دینے والا قابل مذمت ہے
قول باری ہے (ویمنعون الماعون اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں) حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ (ایک روایت کے مطابق) حضرت ابن عمر ؓ اور سعید بن المسیب تاقول ہے کہ ماعون زکوۃ کو کہتے ہیں۔ حارث نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ ماعون سے مراد آری، ہانڈی اور ڈول وغیرہ ہیں۔
حضرت ابن مسعود ؓ کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطابق عادیت میں کوئی چیز دینا مرا ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ ماعون مال کو کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ ہر ایسی چیز ماعون کہلاتی ہے جس میں منفعت کا پہلو موجود ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ماعون کے متعلق جو اقوال مروی ہیں ان سب کا مراد ہونا درست ہے کیونکہ مذکورہ بالا چیزوں کو عاریت کے طور پر دینا واجب ہوتا ہے ۔ جب ان کی ضرورت پیش آتی ہو، اور انہیں دینے سے انکار کرنے والا قابل مذمت ہوتا ہے۔ کبھی ایک شخص ان چیزوں کو بلا ضرورت دینے سے انکار کردیتا ہے۔ یہ بات اس کے بخل اور مسلمانوں کے اختلاق سے اس کی پہلو تہی کی نشاندہی کرتی ہے۔ جبکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (بعثت لا تمم مکارم الاخلاق میری بعثت اس لئے ہوتی ہے کہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں) ۔