108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsاحکام القرآن
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
وانحر کی تفسیر
قول باری ہے (فصل لربک وانحر، پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو) حسن کا قول ہے کہ یوم النحر کی نماز اور قربانی مراد ہے۔ عطاء اور مجاہد کا قول ہے کہ ” صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھو اور منیٰ میں جاکر قربانی کرو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ تاویل دو باتوں کو متضمن ہے ایک تو بقر عید کی نماز کا ایجاب اور دوسری قربانی کا وجوب۔ ہم نے گزشتہ صفحات میں اس پر بحث کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے عاصم الجعدری سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ نماز میں بائیں بازو پر دایاں ہاتھ رکھ کر اپنے سینے پر باندھنا (وانحر) سے مراد ہے۔
ابوالجوزاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ” نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر گلے کے پاس رکھنا۔ “ عطاء سے مروی ہے کہ اس سے نماز میں رفع یدین مراد ہے۔ فرا کا قول ہے کہ اپنے سینے کے ساتھ استقبال قبلہ کرو۔
اگر یہ کہا جائے کہ پہلی تاویل کو حضرت براء بن عاذب ؓ کی حدیث باطل کردیتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ” بقر عید کے دن حضور ﷺ باہر تشریف لائے اور ہمیں بقیع کی طرف لے گئے وہاں آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر ہماری طرف رخ کرکے فرمایا۔ آج کے دن ہماری سب سے پہلی عبادت یہ ہے کہ ہم نماز سے ابتداء کریں اور پھر واپس جاکر قربانی کریں، جو شخص ایسا کرے گا وہ ہماری سنت کے ساتھ موافقت کرے گا لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرلے گا وہ اپنے اہل وعیال کے لئے گوشت مہیا کرنے میں تعجیل کرے گا اس کی یہ ذبح قربانی نہیں کہلائے گی۔ “
آپ نے عید کی نماز اور قربانی کو سنت قرار دیا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کو کتاب اللہ کے اندر ان دونوں باتوں کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح معترض نے خیال کیا ہے اس لئے جو چیز اللہ تعالیٰ جاری کردے اور ہم پر اسے فرض کردے تو اس کے متعلق یہ کہنا درست ہوتا ہے کہ ” یہ ہماری سنت ہے۔ “ اور یہ ہمارا فرض ہے۔ “ جس طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ” ہمارا دین ہے۔ “ اگرچہ اللہ تعالیٰ دین کو ہم پر فرض کرنے والا ہے۔
جن حضرات نے آیت کی تاویل قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کے حقیقی معنوں پر کی ہے ان کی تاویل اولیٰ ہے کیونکہ لفظ نحر کے حقیقی معنی یہی ہیں۔ نیز جب لفظ کا اطلاق کیا جائے تو اس سے اس کے حقیقی معنی ہی سمجھ میں آتے ہیں۔ اس لئے کہ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ (فلاں نے قربانی کی) تو اس سے یہی مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ اس نے جانوروں کی قربانی کی۔
اس سے بائیں ہاتھ دائیں ہاتھ رکھنے کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ آیت سے پہلی تاویل مراد ہے اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے۔ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ نمازی گلے کے پاس اپنا ہاتھ نہیں رکھے گا۔ دوسری طرف حضرت علی ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نمازی دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے گا۔ حضور ﷺ سے بہت سی روایات سے یہ ثابت ہے کہ آپ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے۔