Ayahs 107:1–7نماز سے غفلت ریا کاری اور بخل سے بچو
تشریح : اس میں کچھ ایسی نصیحت کی باتیں بتائی گئی ہیں جو دنیا و آخرت کو سنوار سکتی ہیں جس میں سب سے اول عقیدہآخرت کی مضبوطی ہے۔ اصل میں یہ عقیدہ انسانی کا میابی کے لیے ایک چابی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہمیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ ہمارا محاسبہ ضرور ہوگا اور ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو ہمارے ظاہر باطن سے خوب واقفیت رکھتا ہے۔ جس کو نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے نہ سفارش کی گنجائش ہے نہ جھوٹ اور رشوت سے چھوٹ سکتے ہیں۔ تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو غلط کام کرے گا۔ لیکن ایسے سر پھرے لوگوں کی نہ پہلے کمی تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ تو ایسے ہی منافق لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیونکہ جو جزا سزا کے دن پر یقین نہیں رکھتا اس لیے یہ تمام برائیاں وہ بڑے آرام سے کرتا ہے اور ان سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا۔ سب سے پہلی برائی کہ یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
یتیم معاشرے کا ایسا فرد ہوتا ہے جو قدرت کے نظام حفاظت یعنی والدین کی شفقت سے محروم ہوتا ہے۔ اس پر شفقت کرنا نہ صرف اخلاقی فرض ہے بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے۔ '' یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھاناکھلا ''۔
اگر یتیم کو سہارا نہ دیا جائے تو وہ محرومی کی وجہ سے بھٹک سکتا ہے اور خود اور معاشرے کے لیے باعث زحمت ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس کی خبر گیری سب کا فرض ہے۔ دوسری یہ کہ بخیل ہوتا ہے اس حد تک کہ نہ تو خود بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ بھی اخلاقی کمزوری اور کردار کی خرابی کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے حکم ہے کہ '' مسکینوں سے محبت کرو اور ان سے مل بیٹھا کرو ''۔ کیونکہ اس میں انسان کی عظمت ہے اور فخروغرور کا سد باب ہوجاتا ہے اور انسان میں انسان دوستی ' انکساری ' ہمدردی اور شفقت و مہربانی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یوں انسان اللہ اور خلق خدا کا مقبول اور پیارا بندہ بن جاتا ہے۔
چوتھی یہ کہ نماز میں سستی کرتا ہے۔ نماز اللہ کی طرف سے عبادت کا ایک اسلامی طریقہ ہے اور صلوۃٰ کے اصطلاحی معنی ہیں۔ دعا ' رحمت ' استغفار اور حسن ثناء۔
'' بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے۔ (النساء : 103) '' نماز مومن کا نور ہے ''۔۔ (ترمذی)
'' جو صبح و شام نماز پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا ''۔۔ (بخاری)
یہ ایک انتہائی مقدس طریقہ ہے اللہ کے حضور حاضر ہو کر دعا کرنے کا اپنی حاجات بیان کرنے کا مدد مانگنے کا اور استغفار کرنے کا۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عبادت میں سرا سر ہمارا اپنا ہی فائدہ ہے نماز کے بیشمار فوائد ہیں جو کئی دفعہ بیان کئے جا چکے ہیں یہاں اس سورت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے جو اس قدر اچھی نعمت والی عبادت میں غفلت کرتے ہیں یا پڑھتے ہیں تو اس نیت سے کہ لوگ ان کو عبادت گزار کہیں۔ خلوص نیت سے نماز کے تمام واجبات کو پورا نہیں کرتا تو ایسے لوگوں کو نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگوں کو اس کوتاہی پر ضرور سزا ملے گی سورة الماعون میں ایسے نمازیوں کے لیے تباہی ' بردباری اور ہلاکت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اور ان کے لیے ویل (جہنم کی وادی کا نام) تیار کر رکھی ہے جس کی بھڑکتی ہوئی آگ میں وہ ڈالے جائیں گے۔
پانچویں :۔ بخل ' تنگ نظری اور خود غرضی۔ یعنی مدد کے طور پر اگر کوئی شخص اس سے کوئی چھوٹی موٹی چیز مانگ لے تو وہ دینے میں تردد کرتا ہے۔
خلاصہ سورة الماعون
کہ عقیدہ آخرت انسانی زندگی کو بہترین رخ عطا کرتا ہے اور یوں انسان میں مستحکم ' مضبوط اور پاکیزہ کردار پیدا ہوجاتا ہے۔ جو ایک مسلم کو غیر مسلم سے ممتاز کرتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پکے اور سچے مسلمان بننے کی توفیق دے آمین کیونکہ اگر۔
زبان نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
سورة الماعون مکمل ہوگئی۔ الحمد للہ