Ayahs 107:1–7اے ہمارے پیغمبر یا اے مخاطب، کیا تو نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے، اعمال کے بدلہ کو اور انکار کرتا ہے قیامت کا اور اعمال کی جزاء وسزا کا، حالانکہ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت رکھی ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے اس کے انعامات کو سمجھے اور ان انعامات کے باعث اس پر ایمان لائے اور اس کی نعمتوں کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو غریبوں مساکین ویتامی پر خرچ کرے لیکن افسوس صد افسوس یہ مکذب بالدین خدا اور قیامت کا منکر اور اس کی نعمتوں کو فراموش کرنے والا تو ایسا شخص ہے غرور وتکبر کے نشہ میں مست دھکے دیتا ہے یتیم کو اور خود تو کسی کی کیا مدد کرتا دوسرے کو بھی ترغیب نہیں دیتا مسکین کو کھانا دینے کی، ایسی سنگدلی اور بندوں کے حقوق سے غفلت کے ساتھ یہ بھی عیب ہے کہ خالق کا حق بھی نہیں پہچانتا اور نہ اس کو ادا کرنے کی طرف رخ کرتا ہے اور اگر کسی وقت اپنی کسی غرض یا کسی خوف کے باعث اللہ کی عبادت کرنے والوں کے ساتھ ہو بھی جاتا ہے تو ہزار خرابیوں اور غفلت ولاپرواہیوں کا مظاہرہ ہوتا ہے، سو بڑی ہی ہلاکت و بربادی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غافل وبے خبر ہیں جو صرف دکھلاوا کرتے ہیں، یعنی ریا کاری اور نمود ہوتا ہے نہ انکو نماز کا اہتمام و خیال ہے نہ اس میں پابندی ہے نہ اس میں خشوع خضوع اور طمانیت ہے۔
حاشیہ (ان الفاظ سے اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تلک صلوۃ المنافق قام فتقراربع نقر لایذکر اللہ الا قلیلا “۔ کہ ایسی نماز منافق کی نماز ہے کہ کھڑا ہوا اور چار ٹھونگیں مار لیں، اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کیا، 12)
کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی اور اگر پڑھی بھی تو چند ٹکریں مار لیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم احکم الحاکمین کے دربان میں اس کے سامنے کھڑے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں اس کے سامنے کس کیفیت سے کھڑے ہونا چاہئے اعتقادی اور عملی خرابی اور ایسی گندگی کے علاوہ کمینہ پن اس حد تک ہے۔
اور کسی کے مانگنے پر انکار کردیتے ہیں حقیر سے حقیر چیز کا برتنے کی جس کے دینے میں نہ مال بوجھ نہ کوئی مشکل اور نہ وہ کوئی قیمتی چیز جیسے ڈول رسی یا کوئی برتن، جن میں عام طور پر نہ بخل کیا جاتا ہے اور نہ ان کے مانگنے کو عیب کہا جاتا ہے تو ایسی حقیر سی چیز ہی جو دینے پر تیار نہ ہو وہ کیا صدقات وزکوۃ ادا کرے گا کیا کسی مسکین کو کھلائے گا یا یتیم کی تربیت و کفالت کرے گا، تو ظاہر ہے کہ اعتقادی گندگی اور عملی خرابیوں کے بعد ایسی اخلاقی گراوٹ انتہائی افسوسناک امر ہے اور انسانیت کے لئے تباہ کن بات ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ اسلام اور اسلامی تعلیمات انسان اور معاشرہ کو ایسی گندگیوں اور کمینہ خصلتوں سے پاک رکھنے والی ہیں جن کی تعلیم وہدایت سرور کائنات ﷺ کے ذریعہ دنیا کو دی گئی اس لئے ہر مسلمان شخص کو چاہئے کہ وہ اللہ کے ساتھ اخلاص اور مخلوق کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کرے، ریا کاری اور بداخلاقی سے بچے۔