108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 108:1–3

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا

انعام رب ذوالجلال بعطاء کوثر وہلاکت و بربادی دشمن رسول مقبول ﷺ : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انا اعطینک الکوثر ...... الی ........ شانئک ھو الابتر “۔ (ربط) سورة ماعون میں حکمت اعتقادیہ عملیہ کے جملہ اقسام کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کے ساتھ انسانی زندگی کے جو اعمال واخلاق باعث عیب ہیں ان کی مذمت بھی کردی گئی تھی تو اب اس سورت میں خیر کثیر کا ذکر ہے، جس کے باعث انسانی حیات عظمت وبلندی کے مقام تک پہنچتی ہے اور اس خیر کثیر کی شاخیں اور نہریں اس طرح پھیل جاتی ہیں کہ قیامت تک نسل انسانی ان کے ذریعہ ہر قسم کی سیرابی اور شادابی حاصل کرتی رہے اور اس پر پھل وپھول لگے رہیں، یہی وہ فرمان مبارک ہے جو (آیت) ” ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “۔ کے عنوان سے نازل فرمایا گیا تو ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اے ہمارے پیغمبر بیشک ہم نے آپ کو عطا کردی ہے کوثر، خیر کثیر اور حوض کوثر جس کی خیر و برکت سے اللہ کے بندوں کو سیرابی نجات اور آخرت کی بےپایاں نعمتیں اور خیر حاصل ہوگی اور آخرت کی اس خیر کثیر (جو حوض کوثر کی صورت میں ہوگی) کے علاوہ دنیا میں بھی آپ ﷺ کو اور آپ کے ذریعہ تمام عالم کو خیر کثیر رشد وہدایت اور فلاح وسعادت کے علوم کی شکل میں دے رہی ہے، دنیا اور آخرت کی خیر عطا کئے جانے کا حق یہ ہے کہ بس آپ خاص۔ 1 حاشیہ۔ 1 (یہ لفظ عربیت کی رد سے (آیت) ” لربک “ میں لام جو اختصاص کے لئے مستعمل ہوتا ہے کے پیش نظر بڑھایا گیا۔ 12) اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھتے رہیں، تاکہ اس انعام عظیم کا حق اپنے بدن اور روح سے ادا کریں اور قربانی کریں تاکہ اپنے مال سے اس کے انعام کا حق ادا ہوجائے ، انعامات خداوندی سے جو عظمت آپ کو ملی ہے وہ رہتی دنیا اور قیامت تک قائم رہے گی اور اس طرح آپ ﷺ کے ذریعہ عالم کو جو خیر کثیر پہنچ رہی ہے اس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا اس پر آپ اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کی کوئی فکر نہ کریں کہ اسلام کے اور آپ کے دشمن آپ کی دشمنی اور بدخواہی میں کیا کررہے ہیں آپ یقین رکھیں ان کی بدخواہی دشمنی اور سازشوں سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ یقیناً آپ کا دشمن۔ 2 حاشیہ۔ 2 (دشمن لفظ شانی کا ترجمہ شنان بغض وعداوت کو کہا جاتا ہے تو مراد وہی ہوئی کہ آپ ﷺ سے بغض ودشمنی رکھنے والا۔ 12) ہی دم بریدہ ہے، اور بےنام ونشان رہے گا نہ اس کی کوئی نسل باقی رہے گی نہ اس کا کوئی نام اور نہ بھلائی کا عمل اور نہ ہی اس کا کوئی علم وہنر سب کچھ ختم ہو کر وہ نام ونشان سے بھی مٹ جائے گا اور کوئی اس کا بھلائی سے ذکر بھی کرنے والا نہ رہے گا، جب کہ اللہ نے آپ ﷺ کو وہ عزت و عظمت دے دی کہ اس کی بلندی کی کوئی حد نہیں (آیت) ” ورفعنالک ذکر ک “۔ اور وہ علم وخیر کثیر عطا کی، دنیا اس سے مستفیض وسیراب ہے اور کوئی گوشہ اس سے خالی نہیں اور اس کی خوبی اور منفعت کا کائنات کے گوشہ گوشہ میں چرچا ہے آپ ﷺ کا نام اذانوں میں لیا جا رہا ہے کہ عالم میں کوئی چپہ زمین اس سے خالی نہیں اور شب وروز ہر لمحہ اشھد ان محمدا رسول اللہ کی صدا فضا میں گونجتی ہے پھر آخرت میں یہ انعام و اعزاز ہوگا کہ (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا “۔ تو اس طرح آپ کا ذکر آپ کا فیض کسی لمحہ منقطع نہ ہوگا پھر کسی کافر کو آپ ﷺ کے بیٹے کی موت پر یہ کہنا کہ محمد ﷺ تو اب ابتر ہوجائے گا یعنی منقطع النسل کس قدر بیہودہ اور لغو بات ہے جس ذات کا علم وفیض اور حکمت اور عقائد و اعمال اور کردار ومعاشرت کی خوبیاں تمام عالم میں پھیل رہی ہوں، اس کے آثار باقیہ اس کے ایک بیٹے کی موت سے بھلا کیونکر منقطع ہوسکتے ہیں۔ الکوثر کا مفہوم : الکوثر کے معانی از روئے لغت کثیر یعنی خیر کثیر اور ہر قسم کی بھلائی اور بہتری کے ہیں اور اس کو نعمت و برتری کے مفہوم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، اسی معنی لغوی کے لحاظ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ (جو حبر الامۃ ہیں) نے تفسیر کی ہے الخیر الکثیر، جیسا کہ امام بخاری (رح) ابن جریر (رح) اور حاکم (رح) نے اور اسی طرح امام ترمذی (رح) احمد بن حنبل (رح) اور ابن ماجہ (رح) نے بروایت سعید بن جبیر (رح) نقل کیا ہے اور خیر کثیر حکمت ہے۔ خیر کثیر اپنی معنوی وسعت کے لحاظ سے ہر قسم کی خیر کو شا مل ہے، اس بارے میں مفسرین نے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں۔ البحر المحیط میں تو چھبیس (26) اقوال نقل کئے ہیں، اور بیان کیا کہ اس میں ہر قسم کی دینی دنیوی حسی اور معنوی نعمتیں داخل ہیں جو آپ ﷺ کے طفیل امت کو ملنے والی تھیں ان نعمتوں میں سے ایک عظیم الشان نعمت کوثر بھی ہے جو آخرت میں آپ کو دی جائے گی، جس کی صفت احادیث کثیرہ میں اس طرح بیان فرمائی گئی کہ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اس کا ایک گھونٹ بھی پینے والا کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا۔ اسی حوض کوثر پر قیامت کے روز آپ ﷺ کا منبر ہوگا جیسے کہ ارشاد ہے ومنبری علی حوضی کہ میرا منبر میری حوض پر ہے جس کے پانی سے آپ ﷺ امت کو اور اولین وآخرین کو روز محشر سیراب فرمائیں گے، جیسے کہ دنیا میں ایک معنوی حوض کوثر یعنی ذخیرہ علوم رشد وہدایت سے تمام عالم کو سیراب فرمایا اور یہ وہ حکمت الہیہ ہے جو خداوند عالم نے آپ کے قلب مبارک میں بھر دی ہے اور دنیائے علم و حکمت کے جام اس حوض کوثر سے لئے جارہے ہیں اور سیراب ہورہے ہیں اور جو خوش نصیب علوم نبویہ کے چشمہ فیض سے دنیا میں سیراب ہوگا، انشاء اللہ قیامت میں اس حوض کوثر سے بھی سیراب ہوگا اور جو بدنصیب یہاں محروم رہا وہ وہاں بھی محروم رہے گا، اللہم اسقنامن حوضہ۔ آمین۔ حوض کوثر کا ثبوت اس قدر کثرت کے ساتھ احادیث سے ثابت ہے کہ محدثین نے ان روایات و احادیث کو حد تو اتر میں شمار کیا ہے، اور جو چیز بھی احادیث متواترہ سے ثابت ہو وہ قطعی اور یقینی ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کا انکار یا ایسی تاویل جو انکار کے درجہ میں آئے اصول شریعت کی رو سے کفر ہے ، صحیح بخاری کی روایت ہے کہ کوثر جنت کی وہ نہر ہے جو آپ کو شب معراج میں (بھی) دکھائی گئی تھی جس کے کنارے موتیوں کے خیمے تھے آپ نے اس کا پانی دیکھا تو مشک سے زیادہ خوشبودار تھا، آپ نے اس کے متعلق جبرئیل (علیہ السلام) سے پوچھا یہ کیا ہے جبریل امین (علیہ السلام) نے جواب دیا یہ وہی کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے (رواہ البخاری والمسلم ) الغرض کوثر کے مفہوم میں یہ تمام چیزیں داخل ہیں جس کا مصداق اکمل اور مظہر اتم قیامت کے رو زحوض کوثر ہے۔ اگر آپ کا کوئی صلبی فرزند انتقال کرگیا تو کیا ہوا آپ کے روحانی اولاد اور فیوض نبویہ سے مستفیض ہونے والی نسل تو قیامت تک قائم و باقی رہے گی، ابتر کے معنی دم بریدہ کے ہیں تو جس کی نسل منقطع ہوجائے اور اولاد میں کوئی باقی نہ رہے تو گویا وہ دم بریدہ ہے، سدی (رح) بیان کرتے ہیں کہ اہل عرب جب کسی شخص کی اولاد میں کوئی بیٹا نہ رہے تو اس کو ابتر کہا کرتے تھے، عطاء (رح) سے منقول ہے کہ یہ ابولہب کی طرف اشارہ ہے جس وقت آپ ﷺ کے صاحبزادہ قاسم ؓ کا انتقال ہوا تو ابولہب مشرکین مکہ کے مجمع میں دوڑتا ہوا گیا اور کہنے لگا ،” بتر محمد “ اس پر اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ان شائنک ھو الابتر “۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے، بعض مفسرین کا خیال ہے عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ خبیث آپ کو ابتر کہتا تھا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایکدفعہ رسول اللہ ﷺ کو نیند کا ایک جھونکاسا آیا، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا، مسکراتے ہوئے اور فرمایا مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے یعنی بہت ہی عظیم الشان اور آپ نے یہ سورت پڑھ کر سنائی۔