107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 107:1–7

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

سو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانے دینے کی ترغیب نہیں دیتا

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

سو ایسے نمازیوں کے لیے بڑی خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نماز کو بھلادیتے ہیں

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو ایسے ہیں کہ ریاکاری کرتے ہیں

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور ماعون سے منع کرتے ہیں

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی یکذب بالدین مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی یکذب بالدین میں بالدین سے مراد ہے حساب۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ارأیت الذی کذب بالدین سے مراد ہے کہ اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے۔ آیت فذلک الذی یدع الیتیم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ یتیم کو اس کے حق سے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو طالب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ یقسم حقا للیتیم ولم یکن یدع للذی یسارہن الاصاغر ترجمہ : وہ یتیم کے لیے حق کو تقسیم کرتا ہے اور نہ ہوجا جو دھکے دے ان کے بائیں جانب چھوٹے بچوں کو۔ 7۔ سعید بن منصور نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت یدع الیتیم سے مراد ہے کہ وہ اس کو پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ 8۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یدع الیتیم سے مراد ہے کہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فویل للمصلین الذین ہم صلاتہم سا ہون پس ان نمازوں کے لیے ہلاکت ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ سے مراد وہ منافق ہیں جو اپنی نماز میں لوگوں کے دکھاوے کے لیے اسے پڑھتے ہیں جب وہ حاضر ہوں اور جب غائب ہوں تو انہیں چھوڑدیتے ہیں اور لوگوں سے بغض رکھتے ہوئے انہیں کوئی چیز ادھار نہیں دیتے۔ اور یہ ماعون ہے۔ 10۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت الذین ہم عن صلاتھہم ساھون کے بارے میں روایت کیا کہ وہ منفاق ہیں جو لوگوں سے چھپنے کی حالت میں نماز کو چھوڑ دیتے ہیں اور علانیہ حالت میں نماز پڑھتے ہیں۔ گویا لوگوں کے دکھاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ 11۔ فریابی وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت الذین ہم عن صلاتہم سا ہون کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے منافقین مراد ہیں۔ 12۔ فریابی و سعید بن منصور وابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں مصعب بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد سے کہا اللہ تعالیٰ کے س قول آیت الذین ہم عن صلاتہم سا ہون کے بارے میں بتائیے کہ ہم میں سے کون غافل نہیں ہوتے ہیں اور ہم میں سے کون ہے جس کے دل میں طرح طرح کے خیالات نہیں آتے ؟ انہوں نے فرمایا بیشک یہ وہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وقت کا ضائع کرنا ہے۔ 13۔ ابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت الذین ہم عن صلاتہم سا ہون کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ لوگ مراد ہیں جو اپنی نمازوں کو ان کے وقت سے موخر کردیتے ہیں۔ 14۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابو برزہ اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت الذین ہم عن صلاتہم ساھون نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر یہ آیت تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ تم میں سے ہر آدمی کو ساری دنیادے دی جائے اور یہ وہ شخص ہے اگر وہ نماز پڑھے تو اسے اپنی نماز کی بہترین اور خیر کی فکر اور خواہش نہ ہو اور اگر وہ نماز کو چھوڑ دے۔ تو اسے اپنے رب کا خوف نہ ہو۔ 15۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم صلاتہم سا ہون سے مراد ہے وہ لوگ جو اپنی نمازوں کو ان کے وقت سے موخر کردیتے ہیں۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ آیت عن صلاتہم سا ہون سے مراد ہے کہ جو نمازوں کے اوقات کو ضائع کردیتے ہیں۔ نماز میں غفلت کی تفصیل 17۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی بت ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابو العالیہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول الذین ہم عن صلاتہم ساھون کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا ہے ؟ ابو العالیہ (رح) نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نہیں جانتا کہ کتنی رکعتیں گذر چکی ہیں دو یا تین۔ حسن (رح) نے فرمایا ٹھہرجاؤ یہ وہ شخص ہے جو غافل ہوجاتا ہے ان کے اوقات سے یہاں کہ نماز فوت ہوجاتی ہیں۔ 18۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عن صلاتہم ساھون میں سا ہون سے مراد ہے غافل ہونے والا۔ 19۔ ابن الانباری فی المصاحف والبیہقی فی سننہ والخطیب فی تالی التلخیص میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح قراءت کی آیت الذین ہم عن صلاتہم سا ہون۔ 20۔ ابن جریر نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے فرمایا آیت ہم عن صلاتہم ساھون فرمایا اور فی صلاتہم نہیں فرمایا۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت عن صلاتہم سا ہون سے مراد ہے کہ وہ شخص جو نماز پڑھتا ہے اس طرح کرتا ہے یعنی اپنے دائیں بائیں جانب متوجہ ہوتا ہے۔ 22۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے آیت عن صلاتہم ساھون کے بارے میں روایت کیا کہ وہ نماز پڑھتے ہیں ریاکاری کے طور پر حالانکہ نماز ان کی مقصود نہیں ہوتی۔ 23۔ عبدالرزاق وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت عن صلاتہم ساھون کے بارے میں روایت کیا کہ وہ نماز کے بارے میں پرواہ نہیں کرتا کہ اس نے پڑھی یا نہ پڑھی۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم یراء ون۔ جو دکھاوا کرتے ہیں یعنی وہ اپنی نمازوں کے ساتھ دکھاوا کرتے ہیں۔ 25۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داوٗد والنسائی والبزار وابن جریر وبن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ والبیہقی فی سننہ کئی طرق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ماعون یعنی عاریتا دینے میں ان چیزوں کو شمار کرتے تھے۔ ڈول اور ہنڈیا اور کلہاڑی اور ترازو اور جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو لیتے دیتے ہیں۔ ماعون سے کیا مراد ہے ؟ 26۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم اصحاب محمد ﷺ بیان کیا کرتے تھے کہ ماعون سے مراد ڈول، ہانڈی اور کلہاڑا اور وہ چیزیں جن سے مستغنیٰ نہیں ہوا جاسکتا 27۔ فریابی و بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ الماعون سے مراد ہے کلہاڑی، ہانڈی اور ڈول اور اس طرح کی دوسری چیزیں۔ 28۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مسلمان، منافقین سے عاریتا ڈول ہانڈی اور کلہاڑی اور اسی جیسی چیزیں مانگتے تھے تو وہ ان کو نہ دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ویمنعون الماعون نازل فرمائی۔ 29۔ ابو نعیم والدیلمی وابن عساکر نے ابوہرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ویمنعون الماعون۔ کے بارے میں فرمایا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں کلہاڑی، ہانڈی اور ڈول اور اس جیسی چیزوں سے اس سے یہی مراد ہے۔ 30۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے قرۃ بن دعموض النمیری (رح) سے روایت کیا کہ وہ وفد بن کر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ ہم کو کوئی وصیت فرمائیں گے ؟ آپ نے فرمایا ماعون کو نہ روکو ! صحابہ ؓ نے عرض کیا ماعون کیا ہے۔ آپ نے فرمایا پتھر لوہا اور پانی۔ پوچھا کون سا لوہا ؟ فرمایا تمہاری تانبے کی دیگیں اور لوگوں کے لوہے سے مراد وہ اوزا ہیں جن کے ساتھ وہ پیشہ کا کام کرتے ہیں۔ پھر وفد نے پوچھا پتھر کیا ہے ؟ فرمایا تمہاری پتھر کی ہانڈیاں۔ 31۔ الباوردی نے حرث بن شریح (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ جو اس سے مروز مرہ استعمال کی چیزیں نہیں روکتا۔ عرض کیا یارسول اللہ ماعون کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا پتھر میں ہے پانی میں ہے اور لوہے میں ہے عرض کیا کونسا لوہا ؟ فرمایا تانبے کی دیگیں اور کلہاڑی کا وہ لوہا جس کے ساتھ تم پیشے کا کام کرتے ہو، پھر عرض کیا یہ پتھر کیا ہے ؟ فرمایا وہ ہانڈی جو پتھر کی بنی ہوئی ہو۔ مسلمان بھائی سے ملاقات کے وقت سلام کرنا 32۔ ابن قانع نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ جب اس سے ملاقات کرے تو اسکو سلام کہے اور اسے اس سے بہتر الفاظ کے ساتھ جواب دے اور اس سے برتنے کی چیزوں کو نہ روکے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ماعون کیا ہے فرمایا پتھر۔ لوہا اور پانی اور ان جیسی دوسری چیزیں۔ 33۔ طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ سے روایت کیا کہ ہم کو ام عطیہ نے بتایا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم ماعون کو نہ روکیں۔ میں نے عرض کیا ماعون کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو لوگا آپس میں ایک دوسرے کو لیتے دیتے ہیں۔ 34۔ ابن ابی شیبہ وابن جرری نے سعید بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب ؓ سے روایت کیا کہ الماعون سے کلہاڑی، ہانڈی اور ڈول مراد ہیں۔ 35۔ آدم سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ والبیہقی والضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویمنعون الماعون اور برتنے کی چیز تک روکتے ہیں۔ سے مراد ہے کہ گھر کا وہ سامان جو عاریۃً دیا جاسکتا ہو۔ 36۔ فریابی نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ الماعون سے مراد ہے عاریتاً دینا 37۔ فریابی وابن المنذر والبیہقی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے الماعون کے بارے میں سوال کیا گیا۔ تو فرمایا وہ عاریتاً دینا ہے۔ کہا گیا کیا جو روکتا ہے اپنے گھر کے سامان کو اس کے لیے ہلاکت ہے ؟ فرمایا نہیں۔ لیکن جب کوئی تین چیزوں کو جمع کرلے تو اس کے لیے ہلاکت ہے جب نماز سے غافل ہوجائے۔ اور دکھاوا کرے اور برتنے والی چیزوں کو مانگنے پر بھی نہ دے۔ 38۔ فریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ الماعون سے مراد ہے فرض زکوٰۃ یعنی وہ اپنی نماز کے ساتھ ریاکاری کرتے ہی اور اپنی زکوٰۃ بھی نہیں دیتے۔ 39۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے آیت ویمنعون الماعون کے بارے میں روایت کیا کہ یہ منافق لوگ ہیں۔ ظاہری عمل سے تو اس کو پڑھ لیتے ہیں اور زکوٰۃ پوشیدہ عمل ہے تو اس کو روک لیتے ہیں۔ 40۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویمنعون الماعون سے مراد زکوٰۃ ہے۔ 41۔ عبدالرزاق والفریابی سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر نے ابوالمغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا اس سے مراد وہ مال ہے جس کا حق ادا نہ کیا جائے۔ میں نے ان سے کہا کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہی چیزیں ہیں جو لوگ آپس میں بطور نیکی ایک دوسرے کو لیتے دیتے ہیں۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا اس سے مراد وہی ہے جو میں نے تجھ سے کہی۔ 42۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ رأس الماعون مال کی زکوٰۃ ہے اور اس کا سب سے ادنیٰ درجہ میں چھلنی اور ڈول اور سوئی وغیرہ ہے۔ 43۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ماعون قریش کی زبان میں مال ہے۔ 44۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک اور ابن الحنفیہ رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ ماعون سے مراد زکوٰۃ ہے۔ 45۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماعون سے مراد ہے معروف۔ یعنی نیکی۔ 46۔ ابن مردویہ نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت ویمنعون الماعون کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ وہی لوگ مراد ہے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور بعض نے کہا وہ لوگ مراد ہیں جو اطاعت سے انکار کرتے ہیں۔ اور بعض نے یہ کہا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو عاریتاً کوئی چیز نہیں دیتے۔ 47۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویمنعون الماعون سے مراد ہے کہ اس کے بعد انہوں نے اس طرح نہیں کیا۔