108. Surah Al-Kawthar

الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 108:1–3

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader

سو آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بےنام ونشان ہے

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا اعطیناک الکوثر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے عمرو بن یمون (رح) سے روایت کیا کہ جب عمر ؓ کو نیزہ مارا گیا اور لوگ مضطرب اور بکھر گئے تو عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھے اور انہوں نے قرآن میں سب سے چھوٹی سورتیں پڑھیں اور نماز مکمل کی۔ یعنی آیت انا اعطینک الکوثر اور آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ 4۔ بیہقی نے اپنی سنن میں ابن شبرمہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں تین آیات سے کم کوئی سورة نہیں ہے۔ 5۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انا اعطینک الکوثر کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ جنت کے اندر کے حصے میں ایک نہر ہے۔ اس کے کناروں پر موتی اور یاقوت کے گنبد ہیں۔ جن میں آپ کی ازواج اور خدام ہیں۔ پھر پوچھا کونسی چیز ہے کہ جس کے سبب اس کا ذکر کیا گیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ باب صفا سے داخل ہوئے اور باب المروہ سے باہر نکل گئے۔ عامر بن وائل السہمی آپ کے سامنے آگیا۔ پھر عاص قریش کی طرف لوٹ آیا۔ قریش نے اس سے کہا اے ابو عمرو ! ابھی ابھی تیرے سامنے کون آیا ؟ اس نے کہا وہ ابتر تھا۔ اور اس لفظ سے نبی اکرم ﷺ کو مراد لیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ سورة کوثر نازل فرمائی آیت انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر، ان شانیک ہوا لابتر۔ بیشک ہم نے آپ کو کوثر دی پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، بیشک آپ کا دشن ہی بےنام ونشان ہے۔ یعنی آپ کا دشمن عاص بن وائل ہی خیر سے خالی اور بےنام ونشان ہے۔ اے محمد ﷺ جہاں میرا ذکر کیا جائے گا اے محمد ﷺ ! وہاں آپ کا بھی ذکر کیا جائے گا۔ اور جس نے میرا ذکر کیا اور آپ کا ذکر نہ کیا تو اس کے لیے جنت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ وحباء الالہ بالکوثر الاکبر فیہ النعیم والخیرات ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوثر عطا فرمائی اس میں بیشمار نعمتیں اور خیرات و برکات ہیں۔ 6۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابو داوٗدوالنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں انس بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ اونگھ آئی۔ اور پھر مسکراتے ہوئے اپنے سر مبارک کو اٹھایا اور فرمایا کہ مجھ پر ابھی ابھی ایک سورة نازل ہوئی اور آپ نے سورة کوثر پڑھی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم انا اعطینک الکوثر یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا۔ اللہ اور اسکا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک نہر ہے میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جنت میں اس میں خیر کثیر ہے۔ میری امت اس پر آئے گی قیامت کے دن۔ اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ ایک بندے کو اس میں سے کھینچ کر نکال لیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے رب یہ میری امت میں ہے کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ جو کچھ اس نے آپ کے بعد کیا۔ 7۔ مسلم اور بیہقی نے ایک دوسری سند سے اس طرح بیان کیا پھر آپ نے اپنے سر مبارک کو اٹھایا اور یہ سورة آخر تک پڑھی اور بیہقی نے کہا کہ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اہل التفاسیر والمغازی کے درمیان کہ یہ سورة مکی ہے اور یہ الفاظ اس کے مخالف نہیں ہے۔ پس اس کا مشابہ ہونا اولیٰ ہے۔ 8۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ انا اعطینک الکوثر۔ 9۔ احمد وابن المنذر وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت انا اعطینک الکوثر پڑھی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے کوثر عطا کی گئی ہے پس یہ جنت میں ایک نہر ہے جو جاری ہے اور اس میں کوئی شگاف نہیں۔ اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے گنبد ہیں۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کی مٹی تک مارا تو وہ انتہائی خوشبودار کستوری تھی۔ 10۔ الطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا اچانک میں ایسی نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے تھے۔ تو میں نے اپنا ہاتھ وہاں تک مارا جہاں پانی چل رہا تھا۔ تو وہ انتہائی خوشبو دار کستوری تھی۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ کوثر کیا چیز ہے ؟ 11۔ احمد والترمذی وابن جریر وابن المنذر والحاکم وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ! کوثر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ جنت میں ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے اور وہ دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ اس میں ایسے پرندے ہیں کہ ان کی گردنیں اونٹ کے گردنوں کی طرح ہی۔ عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ بیشک وہی بڑے موٹے تازے ہوں گے۔ تو آپ نے فرمایا اے عمر ! اس کے پھل اس سے بڑھ کر لذیذ اور ملائم ہوں گے۔ 12۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے کوثر عطا کی گئی ہے میں نے کہا یارسول اللہ ! کوثر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک نہر ہے جنت میں اس کا عرض اور لمبائی اتنی ہے جیسے مشرق اور مغرب کے درمیان کا فاصلہ ہے اس میں سے جو کوئی پئیے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ اور اس میں جو کوئی وضو کرے گا تو وہ کبھی غبار آلود نہ ہوگا اس میں سے وہ نہیں پئے گا۔ جس نے میرے عہد کو توڑ دیا اور نہ ہی وہ پئے گا جس نے میرے اہل بیت میں سے کسی کو قتل کیا۔ 13۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی وصححہ وابن ماہ وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عطا بن سائب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محرب بن دثار نے کہا کہ سعید بن جبیر ؓ نے کوثر کے بارے میں کیا فرمایا ؟ میں نے کہا کہ انہوں نے ہم کو ابن عباس ؓ سے یہ بیان کیا کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے تو اس نے کہا تو نے سچ کہا اللہ کی قسم ! بلاشبہ وہ خیر کثیر ہے۔ لیکن ہم ابن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ آیت انا اعطینک الکوثر نازل ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے اس کے کنارے سونے کے ہیں وہ موتیوں اور یاقوت پر جاری ہے۔ اس کی مٹی عمدہ مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ کوثر جنتی نہر ہے۔ 14۔ ابن ابی شیبہ والبخاری وابن جریر وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انا اعطینک الکوثر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک نہر ہے تمہارے نبی اکرم ﷺ کو عطا کی گئی ہے جنت کے اندر اور اس کے دونوں کناروں پر کھوکھلے موتی ہیں جس میں برتن اور لوٹے ستاروں کی تعداد میں پڑے ہوئے ہیں۔ 15۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن ابی نجیح کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت انا اعطینک الکوثر میں الکوثر سے مراد خیر کثیر ہے اور انس بن مالک ؓ نے فرمایا کہ وہ جنت میں ایک نہر ہے اور عائشہ ؓ نے فرمایا وہ ایک جنت میں ہر ہے کوئی آدمی اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں داخل کرے گا وہ اس نہر کے چلنے کی آواز سنے گا۔ 16۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے کوثر دی گئی۔ اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ 17۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 18۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت انا اعطینک الکوثر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو جنت میں عطا فرمائی۔ 19۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے اس کے دونوں کنارے سونے اور چاندی کے ہیں۔ وہ یاقوت اور موتیوں پر جاری ہے۔ اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ 20۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا اعطینک الکوثر سے مراد ایک نہر ہے جنت میں۔ اس کی گہرائی ستر ہزار فرسخ ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اس کے دونوں کنارے موتی، یاقوت اور زبرجد کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے نبی محمد ﷺ کے لیے خاص فرمایا دوسرے انبیاء میں سے۔ 21۔ بخاری وابن جریر والحاکم نے ابی بشر کے طریق سے سعید بن جبیر سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کوثر وہ خیر ہے جو اللہ تعالیٰ خاص طور پر آپ کو عطا فرمائی۔ ابو بشر نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ کوثر جنت کی نہر ہے تو انہوں نے کہا وہ نہر جو جنت میں ہے وہ بھی اسی خیر میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے خاص کر آپ کو عطا فرمائی۔ 22۔ طبرانی نے الاوسط میں حذیفہ ؓ سے آیت انا اعطینک الکوثر کے بارے میں روایت کیا کہ کوثر جنت میں ایک وسیع نہر ہے۔ جس میں سونے اور چاندی کے برتن ہے ان کی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 23۔ ابن جریر وابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن حمزہ بن عبدالمطلب کے گھر تشریف لائے۔ اس کو نہ پایا اتو ان کی بیوی سے ان کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا ابھی باہر گئے ہیں۔ یا رسول اللہ ! کیا آپ اندر تشریف نہیں لاتے۔ آپ اندر داخل ہوئے تو اس نے کہا ابھی باہر گئے ہیں یا رسول اللہ ! کیا آپ اندر تشریف نہیں لاتے۔ آپ اندر داخل ہوئے تو اس نے آپ کو حیس (ایک قسم کا حلوا) پیش کیا۔ آپ نے اس میں سے کھایا۔ تو ان کی بیوی نے کہا مبارک ہو آپ کو یارسول اللہ ! آپ تشریف لائے۔ اور میں ارادہ رکھتی تھی کہ میں آپ کے پاس آؤں تاکہ آپ کو مبارک باد پیش کروں۔ کیونکہ مجھے ابوعمارہ نے یہ خبر دی کہ بلاشبہ آپ کو نہر عطا کی گئی ہے جنت میں جس کو کوثر کہا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اور اس کی زمین یاقوت، مرجان اور زبرجد اور موتیوں کی ہے۔ 24۔ ابن مردویہ نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ! کوثر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جنت کی نہروں میں سے ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ اس کا عرض اتنا ہے جتانا ایلہ ہے پھر اس نے کہا اس کے سنگریزے اور کنکریاں بھی ہیں ؟ فرمایا اہاں اس کی کنکریاں ہیرے اور جواہر ہیں۔ اور اس کے سنگریزے موتی ہی۔ پھر اس نے کہا اس کے لیے درخت بھی ہیں ؟ فرمایا ہاں اس کے دونوں کناروں پر سونے کے درخت ہیں جن کی لمبی شاخیں اس پر جھکی ہوئی ہیں۔ پھر پوچھا کیا ان شاخوں کے ساتھ پھل بھی ہیں۔ فرمایا ہاں وہاں سرخ یاقوت اور زبرجد کئی قسمیں اگی ہیں۔ اس میں آبخورے اور برتن پیالے بھی ہیں۔ وہ دوڑ کر آئیں گے اس کی طرف جو ان سے پینے کا ارادہ کرے گا۔ جو بکھرے ہوئے ہیں اس کے درمیان میں گویا کہ وہ چمکتے ہوئے ستارے ہیں۔ 25۔ ابن المنذرنے ضحاک (رح) آیت انا اعطینک الکوثر کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ایک نہر ہے جنت میں اس کے دونوں کنارے موتیوں کے گنبد ہیں اس میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ہوں گی۔ 26۔ ہناد وابن جریر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص یہ پسند کرے کہ وہ کوثر کے چلنے کی آواز کو سنے تو وہ اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں رکھے۔ 27۔ ابن جریر وابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کوثر سے مراد دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔ 28۔ ہناد وابن جریر وابن ابی حاتم وابن عساکر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ کوثر سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو نبوت، خیر اور قرآن عطا فرمایا۔ وانحر سے کونسی قربانی مراد ہے 29۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ کوثر سے مراد ہے قرآن۔ 30۔ ابن ابی حاتم والحاکم نے وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں علی بن اطالب ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ سورة آیت انا اعطینک الکوثر نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ قربانی کیا ہے۔ جس کا میرے رب نے مجھے حکم فرمایا ہے تو انہوں نے فرمایا وانحر سے مراد ذبح کرنا نہیں ہے لیکن آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب آپ نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہیں تو آپ اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھایا کریں۔ جب آپ تکبیر کہیں اور جب آپ رکوع کریں اور جب آپ اپنے سر کو رکوع سے اٹھائیں کیونکہ یہ ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی نماز ہے جو ساتوں آسمانوں میں ہیں۔ اور بیشک ہر چیز کے لیے ایک زینت ہے اور نماز کی زینت ہے ہر تکبیر کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہاتھوں کا اٹھانا اسی اطاعت اور عاجزی میں سے ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا آیت فماستکانوا لربہم وما یتضرعون (المومنون آیت 76) پھر بھی اپنے رب کے سامنے عاجزی نہ کی اور نہ گڑگڑائے۔ 31۔ ابن جریر نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ آیت فصل لربک سے مراد ہے اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے آیت وانحر اور قربانی کیجیے یعنی نماز کو شروع کرنے کے وقت تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھائیے۔ 32۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فصل لربک وانحر اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف وحی فرمائی کہ جب آپ نماز کے لیے تکبیر کہیں۔ تو اپنے ہاتھ اپنے سینے تک بلند کریں۔ پس یہی نحر ہے۔ 33۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں والبخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والدارقطنی فی الافراد وابوالشیخ والحاکم وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں علی بن ابی طالب ؓ سے آیت فصل لربک وانحر کے کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی کے درمیان رکھا اور پھر ان دونوں کو اپنے سینے پر رکھا۔ 34۔ ابو الشیخ و بیہقی نے اپنی سنن میں انس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا۔ 35۔ ابن ابی حاتم وابن شاہین وسننہ وابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت فصل لربک وانحر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے اپنے داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا۔ نماز میں تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے۔ 36۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے آیت فصل لربک وانحر کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ نماز پڑھیں اور اپنے سر کو رکوع سے اٹھائیں تو سیدھے کھڑے ہوجائیں۔ 37۔ ابن ابی حاتم نے ابو الاحوص (رح) سے آیت فصل لربک وانحر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ اپنے سینے کو قبلہ طرف کریں۔ 38۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت فصل لربک وانحر کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے رب کے لیے فرض نماز پڑھ اور اسی سے سوال کیجیے۔ 39۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فصل لربک وانحر سے مراد ہے کہ اپنے رب کا شکر کا ادا کیجیے۔ 40۔ ابن جریر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت حدیبیہ کے دن نازل ہوئی کہ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا کہ آپ قربانی کیجیے۔ اور واپس لوٹ جائیے تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور قربانی کے متعلق خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر دو رکعت پڑھیں پھر آپ قرانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے۔ اور ان کو نحر کیا اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں آیت فصل لربک وانحر۔ 41۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد، عطا اور عکرمہ رحمہم اللہ سے آیت فصل لربک وانحر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ صبح کی نماز مزدلفہ میں ادا کیجیے اور قربانی کا جانور منیٰ میں ذبح کیجیے۔ 42۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فصل لربک وانحر سے مراد ہے فرض نماز اور وانحر سے مراد ہے عیدالضحی کے دن جانور ذبح کرنا۔ 43۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت فصل لربک وانحر کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے اضحیٰ کی نماز اور النحر سے مراد ہے اونٹ کو نحر کرنا۔ 44۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت فصل لربک وانحر سے مراد ہے عید کی نماز۔ 45۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانحر سے مراد ہے اونٹ کو نحر کرنا۔ 46۔ ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نماز سے پہلے قربانی کرتے تھے پھر حکم کیا گیا کہ پہلے نماز پڑھیں پھر قربانی کریں۔ 47۔ بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس رض اللہ عنہما سے آیت وانحر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ قربانی کے دن دعا کیجیے۔ 48۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی طرف وحی فرمائی تو قریش نے کہا کہ ہم میں سے محمد ﷺ بےنام ونشان ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ان شانئک ہوا البتر بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام ونشان ہے۔ کفار ہی ابتر ہیں 49۔ بزار وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کعب بن اشرف مکہ آیا تو قریش نے اس سے کہا کہ تو اہل مدینہ میں سے سب سے بہتر ہے اور ان کا سردار ہے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا اس صابی کی طرف جو اپنی قوم میں ابتر ہے اور وہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر ہے اور ہم حاجیوں کے میزبان ہیں۔ اور حاجیوں کو پانی پلانے والوں میں سے ہیں۔ اور بیت اللہ کی خدمت کرنے والوں میں سے ہیں۔ کعب بن اشرف نے کہا تم اس سے بہتر ہو تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ان شانئک ہو الابتر اور یہ آیت بھی نازل ہوئی آیت الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب سے لے کر آیت فلن تجد لہ نصیرا تک۔ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا سے لے کر تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا۔ تک۔ 50۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابو ایوب ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ کے بیٹے ابراہیم وفات پا گئے تو بعض مشرکین بعض کی طرف چلے اور کہنے لگے بیشک یہ صابی آج کی رات بےنام ونشان ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت انا اعطینک الکوثر سورة کے آخر تک۔ 51۔ ابن سعد وابن عساکر نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ کے بڑے صاحبزادے حضرت قاسم تھے پھر زینب، پھر عبداللہ، پھر ام کلثوم، پھر فاطمہ پھر رقیہ ؓ ن تھیں۔ قاسم وفات پاگئے۔ یہ آپ کی اولاد میں سے سب سے پہلے مکہ میں فت ہونے والے یہی تھے۔ پھر عبداللہ بھی وفات پا گئے۔ تو عیاض بن وائل سہمی نے کہا کہ ان کی نسل کٹ گئی اور وہ بےنام ونشان ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ان شانئک ہوا الابتر۔ 52۔ ابن عساکر نے میمون بن مہران کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے حضرت خدیجہ الکبری ؓ نے حضرت عبداللہ کو جنم دیا۔ پھر ان کے بعد اولاد کے پیدا ہونے میں دیر لگی۔ اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی سے بات کر رہے تھے اور عاص بن وائل آپ کی طرف دیکھنے لگا اچانک اس آدمی نے اس سے کہا یہ کون ہے ؟ وائل نے کہا کہ یہ ابتر ہے یعنی نبی مکرم ﷺ اور قریش کہتے تھے جب کسی آدمی کا کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ان شانئک ہوا الابتر۔ یعنی آپ کے ساتھ بغض و عداوت رکھنے والا ہی ابتر ہے۔ جو ہر خیر سے کٹا ہوا ہے۔ 53۔ بیہقی نے دلائل میں محمد بن علی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے قاسم اس عمر کو پہنچے کہ وہ جانور پر سواری کرسکیں۔ اور تیز رفتاری کے ساتھ چل سکیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ تو عمرو بن عاص نے کہا کہ محمد ﷺ اپنے بیٹے کی موت کے سبب ابتر ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت انا اعطینک الکوثر یعنی اے محمد ﷺ یہ بدلہ ہے حضرت قاسم کے وصال کی مصیبت کے عوض۔ آیت فصل لربک وانحر ان شانئک ہوالابتر۔ بیہقی (رح) نے کہا کہ اسی طرح اس سند کے ساتھ روایت کیا اور یہ ضعیف ہے اور مشہور ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 54۔ الزبیر بن بکار وابن عساکر نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے قاسم مکہ میں فوت ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ اس کے جنازہ سے واپس آتے ہوئے عاص بن وائل اور اس کے بیٹے عمرو کے پاس سے گذرے۔ جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگا بیشک میں اس سے دشمنی رکھتا ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ (یعنی رسول اللہ ﷺ ابتر ہوگیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان شانئک ہوا لابتر نازل فرمائی۔ 55۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان شانئک ہوالابتر کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے عاص بن وائل مراد ہے۔ 56۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی کی نرینہ اولاد مرجاتی تھی تو قریش کہا کرتے تھے بتر فلاں یعنی فلاں بےنام ونشان ہوگیا جب نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے وفات پاگئے تو عاص بن وائل نے کہا کہ آپ ابتر ہوگئے ہیں اور ابتر سے مراد ہے منفرد ہونا یعنی اکیلا رہ جانا۔ 57۔ ابن المنذر وابن جریج وعبدالرزاق وابن ابی حاتم وابن مردیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان شانئک سے مراد ہے بیشک آپ کا دشمن۔ 58۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان شانئک سے مراد ہے ابو جہل۔ 59۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے شہر بن عطیہ سے روایت کیا اور انہوں نے ابن ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ عقبہ بن ابی معیط کہتا تھا کہ نبی ﷺ کا کوئی بیٹا باقی نہیں رہا اور یہ ابتر ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں آیت ان شانئک ہوا الابتر بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام ونشان ہے۔ نازل فرمایا۔