106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیر درِ منثور
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
قریش کی الفت رکھنے کی وجہ سے
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
ان کی وہ الفت جو سردی اور گرمی کے سفر کرنے سے ہے
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
سو ان کو چاہیے کہ اس بیت کے رب کی عبادت کریں
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو دیا اور انہیں خوف سے امن دیا
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ البخاری فی تاریخہ والحاکم وصححہ والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے الخلافیات میں ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصلتوں کے سبب فضیلت دی کہ ان سے پہلے کسی کو یہ فضیلت نہیں دی۔ اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ فضیلت دیں گے۔ وہ یہ ہیں بیشک میں ان میں سے ہوں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبوت ان میں ہے۔ اور خلافت ان میں ہے اور بیت اللہ کی دربانی ان میں ہے اور سقایہ حاجیوں کو پانی پلانا ان میں ہے اور ان کا مدد کرنا ہاتھی والوں پر۔ اور ان کی اللہ کی عبادت کرنا سات سال تک اور ایک روایت میں دس سال کا ذکر ہے اور اس عرصہ میں کسی نے بھی ان کے سوا اللہ تعالیٰ کی عبادت نہییں کی تو ان کے بارے میں یہ قرآن میں ایک ایسی سورت نازل ہوئی کہ اس میں ان کے علاوہ کسی کا ذکر نہیں یعنی سورة لایلف قریش۔
قریش کے سات خصائل
3۔ الطبرانی نے الاوسط میں وابن مردویہ وابن عساکر نے زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصائل کے سبب فضیلت دی۔ ان کو فضیلت دی کہ انہوں نے دس سال تک اللہ کی عبادت کی۔ اس وقت قریش کے سوا کوئی اس کی عبادت نہیں کرتے تھے۔۔ اور ان کو فضیلت دی کہ ان کی اللہ تعالیٰ نے ہاتھی کے دن مدد کی حالانکہ وہ مشرک تھے۔ اور ان کو فضیلت دی کہ ان بارے میں قرآن میں ایسی سورت نازل ہوئی جس میں ان کے علاوہ جہاں والوں میں سے کسی کا ذکر نہیں فرمایا اور وہ ہے آیت ایلف قریش۔ اور ان کو فضیلت دی کہ ان میں نبوت بھی ہے اور خلافت بھی ہے اور دربانی بھی اور پانی پلانا بھی ہے۔
4۔ خطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات باتوں کے ساتھ فضیلت دی میں ان میں سے ہوں۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ایک مکمل سورت نازل فرمائی ہے اپنی کتاب میں۔ اور اس میں ان کے علاہ کسی اور کا ذکر نہیں فرمایا اور بیشک انہوں دس سال اللہ کی عبادت کی اور ان کے علاوہ کسی اور نے اس کی عبادت نہیں کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کے خلاف ان کی مدد فرمائی اور خلافت اور پانی پلانا اور دربانی بھی ان میں سے ہے۔
5۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے لوگوں کو مکہ میں بیت اللہ کے پاس نماز پڑھائی اور اس میں سورة لایلف قریش پڑھی راوی نے کہا کہ جب انہوں نے آیت فلیعبدوا رب ہذا لبیت کی تلاوت کی تو آپ نے اپنی انگلی سے کعبہ کی طرف اشارہ فرمایا اور آپ نماز میں تھے۔
6۔ فریابی وابن جریر والطبرانی والحاکم وابن مردویہ نے اسماء بنت یزید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تعجب کرتے ہوئے فرمایا اے قریش تمہاری ماں ہلاک ہو آیت لایلف قریش الفہم رحلۃ الشتاء والصیف اے قریش حکم دیا جارہا ہے آیت فلعبدو رب ہذا لابیت الذی اطعمہم من جوع واٰمنہم من خوف تم عبادت کرو اس گھر کے رب کی جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور ان کو خوف سے امن دیا۔
8۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے لایلف قریش۔ الفہم رحلۃ الشتاء والصیف۔
قریش کے دو اسفار کا تذکرہ۔
9۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت لایلف قریش کو عیب قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ قریش میں الفت پیدا کرنے کے لیے ہے اور وہ سفر کرتے تھے گرمی میں اور سردی میں روم اور شام کی طرف۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ الفت و محبت کریں اس کے گھر کے رب کی عبادت کرتے ہوئے۔
10۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش کہ قریش میرا انعام ہے آیت الفہم رحلۃ الشتاء والصیف ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر میں مانوس کرنے کے باعث کہ وہ سردی میں مکہ مکرمہ میں رہا کرتے تھے اور گرمی کے موسم میں سفر کرتے تھے طائف کی طرف فلیعبدو ا رب ہذا لبیت ان کو چاہیے کہ وہ کعبہ کے رب کی عبادت کریں آیت الذی اطعمہم من جوع واٰمنہم من خوف۔ خوف سے مراد جذام ہے۔ یعنی جس نے ان کو رزق دے کر فاقہ سے نجات دی اور ان کو جذام سے امن دیا۔
11۔ فریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش یعنی یہ میرا انعام ہے قریش پر آیت الفہم رحلۃ الشتاء والصیف کہ ان کی الفت اور محبت یہ ہے کہ ان پر موسم سرما کا تجارتی سفر اور نہ ہی موسم گرما کا سفر تکلیف دہ اور گراں ثابت نہیں ہوتا آیت وامنہم من خوف یعنی ان کو ہر دشمن سے ان کے ان کے حرم میں امن عطا فرمایا۔
12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا یلف قریش الفہم یعنی اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں الفت پیدا کردی اور وہی ان کو لازم ہے آیت الذی اطعمہم من جوع جاس نے ان کو بھوک میں کھلایا یعنی جس نے قریش مکہ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی وجہ سے رزق عطا فرمایا کیونکہ آپ نے یہ دعا فرمائی تھی وارزقہم من الثمرات (ابراہیم آیت 37) اور ان کو رزق عطا فرما پھلوں میں سے آیت واٰمنہم من خوف اور ان کو خوف سے امن دیا کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا فرمائی تھی۔ رب اجعل ہذا البلد اٰمنا اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے۔
13۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لایلاف قریش کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ سورة الم تر کیف فعل ربک باصحب الفیل سے لے کر سورة کے آخر تک پڑھی اور فرمایا یہی لایلف قریش ہے کہ قریش کی محبت اور الفت کے سبب ہی ایسا کیا گیا تاکہ ان کی باہمی محبت والفت اور ان کی اجتماعیت منتشر نہ ہوجائے ہاتھیوں کا لشکر لے کر آنے والا ان کے حرم میں ظلم و زیادتی کرنے کی غرض سے آیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کا ذکر سورة فیل میں ہے
ہاشم بن عبدمناف کا کارنامہ
14۔ الزبیر بن بکار نے الموفقیات میں عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں کعبہ شریف کی خدمت کرتے تھے اور ان کی خدمت یہ تھی کہ جب اس کے سبب ان کے گھر والے ہلاک ہوجاتے یعنی ان کے مال ہلاک ہوجاتے یعنی ان کے مال ہلاک ہوجاتے تو وہ زمین کے کھلے میدان کی طرف نکل جاتے اور وہاں خیمے لگا کر رہنے لگتے اور ان میں طرح طرح کی مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کرتے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی خلت اور دوستی کا علم ہونے سے پہلے مرجاتے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ہاشم بن عبدمناف جوان ہوگئے۔ اور جب انہوں نے اپنی قوم میں شرافت ونجابت اور قدرومنزلت کو پالیا تو فرمایا اے قریش کی جماعت عزت اور غلبہ کثرت کے ساتھ ہے اور یقینی طور پر تم نے پایا عرب کو مال کی کثرت اور زیادہ عزت والے جماعت کے لحاظ سے تم سارے عرب میں سب سے بڑھ کر مال دار ہو۔ اور افراد کے لحاظ سے ان پر غالب ہو اور یہ خدمت کا جذبہ تم میں سے بہت لوگوں کو حاصل ہے میری ایک رائے ہے سب نے کہا یقیناً آپ کی رائے ٹھیک اور مفید ہوگی سو آپ ہم کو حکم دیں ہم اطاعت کریں گے۔ آپ نے فرمایا رائے یہ ہے کہ میں تمہارے اغنیاء کو تمہارے فقیروں کے ساتھ ملادوں پس آپ نے ایک دولت مند اور غنی آدمی کا سہارابنایا اور اس کے ساتھ اس کے گھروالوں کی تعداد کے مطابق ایک فقیر اور مفلس آدمی کو عیال سمیت ملا دیا۔ کہ وہ دونوں سفروں یعنی موسم گرما میں شام کی طرف اور سردی کے موسم میں یمن کی طرف اس کا معاون و مددگار ہوگا۔ اور غنی کے مال میں جو منافع اور بچت ہوگی تو زندگی گذارے گا فقیر اور اس کی اہل و عیال اس کے سائے میں۔ اور یہ چیز ان کی باہمی لڑائی جھگڑے کو ختم کردے گی۔ سب نے کہا ہاں یہ رائے درست ہے کہ پس اس طرح آپ نے لوگوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کردی جب اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر جو عذاب نازل فرمایا۔ یہی نبوت کی چابی تھی اور قریش کا پہلا غلبہ تھا۔ یہاں تک کہ سب لوگ ان سے خوفزدہ ہوگئے اور کہنے لگے یہ اللہ والے ہیں اور اللہ ان کے ساتھ ہے۔ اور نبی ﷺ کی پیدائش اسی سال میں تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ پر نازل فرمایا تو اسے آپ کی قوم جانتی ہے اور اصحاب فیل کا جو انجام ہوا اور جتنی ہاتھی والوں نے ہاتھیوں کے ساتھ ان کی مدد کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے ساتھ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کا ذکر سورة فیل میں فرمایا یعنی آیت الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل سورة کے آخر تک پھر فرمایا اے محمد ! تیری قوم کے ساتھ ایسا کیوں کیا حالانکہ ان دنوں وہ بتوں کی پوجا کرنے والے تھے۔ پھر خود ہی ان کے لیے فرمایا آیات لا یلف قریش سورة کے آخر تک یعنی قریش کی مدد اس لیے کی گئی چونکہ وہ آپس میں صلہ رحمی کرتے تھے حالانکہ وہ شرک پر تھے۔ پس یہی وہی سبب ہے جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان کو ہاتھیوں اور ان کے لشکریوں پر امن کردیا۔ اور ان میں جلد بازی اور خدمت کے سبب جو بھوک تھی اس سے انہیں کھانا عطا فرمائی اور ان کو خوف سے امن عطا فرمایا پھر وہ سفر سے الفت کرنے لگے۔ اور یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور انعام تھا۔
16۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش الفہم رحلۃ الشتاء والصیف۔ اس لیے کہ قریش کو مانوس کردیا ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے باعث یعنی وہ اس سے مانوس ہوگئے اور ان پر کوئی مشقت نہ رہی۔
17۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت لایلف قریش کے بارے میں روایت کیا کہ قریش کی عادت تھی۔ سردیوں اور گرمیوں کے موسم میں تجارت کے لیے سفر کرنا اور فرمایا آیت وامنہم من خوف اور ان کو امن دیا خوف سے۔ وہ لوگ کہتے تھے۔ ہم اللہ کے حرم کے رہنے والے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا تھا۔ اور وہ اس سے امن والے ہوتے تھے۔ اور ان کے علاوہ وہ عرب کے دوسرے قبائل میں سے جب وہ نکلتے تھے تو ان پر لوٹ مار کی جاتی تھی۔
18۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت لایلف قریش کے بارے میں روایت کیا کہ اہل مکہ سردی کے موسم میں باری باری تجارت کی غرض سے بیت اللہ آئے تھے اور وہ بالکل پر امن ہوتے تھے۔ اپنے حرم کی وجہ سے ان کو کسی چیز کا خوف نہ ہوتا تھا۔ اور باقی عرب کے لوگ اس پر قادر نہ تھے۔ اور خوف سے بچنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی امن کو ذکر فرمایا۔ جو ان کو حاصل تھا۔ یہاں تک کہ ان میں سے کسی آدمی کو عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی تھی تو کہا جاتا تھا یہ حرمی ہے یعنی حرم میں رہنے والا راوی نے کہا ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے قریش کو ذلیل کیا اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کریں گے۔ اور فرمایا میرا اور قریش کا انتظار کرو پس اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی تو لوگ ان کے تابع ہوں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان پر میری مدد کرے گا تو لوگ ان کے پیچھے لگیں گے۔ پس جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ اسلام میں تیزی سے داخل ہوئے۔ اور ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ تابع ہیں قریش کے خیر اور شر میں اور ان کے کفارہ تابع ہیں ان کے کفار تابع ہیں ان کے کفار کے اور ان کے مومن تابع ہیں ان کے مومنین کے۔
19۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لایلف قریش الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت سے اس طرح الفت و محبت کریں جیسے سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے تجارت سے الفت و محبت کرتے ہیں۔
20۔ فریابی وابن جریر وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے قریش کی محبت کو شام سے تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت سے اس طرح محبت والفت کریں جس طرح سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے الفت و محبت کرتے ہیں۔
21۔ سعید بن منصور ابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایلف قریش سے مراد ہے کہ قریش سردیوں اور گرمیوں کی موسم میں تجارت کی غرض سے سفر کرتے تھے تو اس نے ان میں باہمی الفت و محبت پیدا کردی۔
22۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ قریش گرمی اور سردی میں تجارت کرتے تھے اور سردیوں کے موسم میں سمندر اور ایلہ سے راستے سے فلسطین کی طرف جاتے تھے اور حرارت اور گرمی تلاش کرتے تھے اور گرمیوں کی موسم میں بصری اور اذرعات کی طرف جاتے تھے اور ٹھنڈک حاصل کرتے تھے۔ اسی کو فرمایا آیت ایلافہم۔
23۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ قریش کے تجارت کی غرض سے دوسفر ہوتے تھے۔ گرمی میں شام کی طرف اور سردی میں یمن کی طرف۔
24۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واٰمنہم من خوف سے مراد ہے کہ ان سے مال چھینا نہیں جاتا تھا۔ کہ وہ اس سے محفوظ نہ تھے۔
25۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت واٰمنہم من خوف یعنی حبشہ کے خوف سے وہ امن میں تھے۔
26۔ فریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت واٰمنہم من خوف سے مراد ہے کہ جذام سے اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا۔
قریش کی وجہ تسمیہ
27۔ بیہقی نے دلائل میں ابو ریحانہ العامری (رح) سے روایت کیا کہ معاویہ ؓ نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ قریش کو قریش کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے فرمایا ایک جانور کی وجہ سے جو سمندر میں ہوتا ہے جس کو قریش کہا جاتا ہے۔ جو سمندری جانوروں میں سب سے بڑا ہے۔ اس کے پاس لاغر اور کوئی چیز بھی گذرتی ہے تو وہ اس کو کھا جاتا تھا۔ پھر کہا مجھے اس میں شعر سناؤ تو آپ نے اس کو جمحی کے شعر سنائے چناچہ وہ کہتا ہے :
وقریش ہی التی تسکن البحر بہا سمیت قریش قریشا
ترجمہ : اور قریش وہ جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے اس وجہ سے قریش کو قریش کا نام دیا گیا۔
تاکل الغث والسمین ولا تترک منہا لذی الجناحین ریشا
ترجمہ : وہ کھاتا ہے کمزور موٹے جانور کو اور نہیں چھوڑتا ان میں سے پروں والے جانوروں کے پر کو بھی
ہکذا فی البلاد حی قریش یاکلون فی البلاد اکلا کمیشا
ترجمہ : اسی طرح شہروں میں قریش کا قبیلہ ہے جو شہروں کو انتہائی مضبوطی اور جراءت کے ساتھ نگل جاتے ہیں۔
ولہم اخر الزمان نبی یکثر القتل فیہم والخموشا
ترجمہ : اور ان کے لیے آخری زمانہ میں ایک نبی ہیں ان میں قتل اور زخم کثرت سے ہوتا ہے
28۔ ابن سعد نے سعید بن محمد بن جبیر بن مطعم رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ عبدالملک بن مروان نے محمد بن جبیر سے پوچھا قریش کا نام قریش کب رکھا گیا تو انہوں نے کہا جب وہ لوگ اکٹھے ہوئے حرم پاک میں اپنے افتراق اور انتشار کے بعد پس ان کے اس اکٹھا ہونے کے سبب وہ قریش بنے۔ عبدالملک نے کہا میں نے اس طرح نہیں سنا لیکن میں نے سنا کہ قصی کو قریش کہا جاتا تھا۔ اس سے پہلے قریش کا نام نہیں دیا گیا۔
29۔ ابن سعد نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ جب قصی حرم میں اترے اور اس پر غالب آئے اور بہت خوبصورت افعال کیے تو اسی سبب سے اس کو قریشی کہا گیا یہ پہلا شخص تھا جس کو یہ نام دیا گیا۔
30۔ احمد نے قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت کیا کہ وہ قریش کے پاس گئے اور ان سے بہت اچھا سلوک کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے قتادہ ! قریش کو گالیاں نہ دینا۔ شاید کہ تو ان میں سے بعض کے مقابلے میں حقیر جانتے ہوں اور جب تو ان کو دیکھے تو ان پر رشک اور غبطہ کرنے لگے اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکش ہوجائیں گے تو ان کو اس رتبہ اور مقام سے آگاہ کرتا جو ان کو رب کریم کے پاس حاصل ہے۔
31۔ ابن ابی شیبہ نے معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ اس امر میں قریش کے تابع ہیں جو ان کے اچھے لوگ تھے جاہلیت میں وہ اچھے ہیں اسلام میں بھی۔ بشرطیکہ وہ سمجھیں اللہ کی قسم اگر قریش کے مغرور ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور ان کو اس مقام اور مرتبہ سے آگاہ کردیتا جو ان کے اچھے اور نیک لوگوں کو اللہ کے نزدیک حاصل ہے۔ راوی نے کہا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین عورتیں وہ ہیں جو اونٹ پر سوار ہوئیں۔ اور قریش کی عورتیں کتنی نیک اور صالح ہیں۔ جو شوہر کا بڑا خیال رکھنے والیاں ہیں اس اعتبار سے کہ وہ گھر کا مالک ہے اور اولاد سے بڑی محبت کرنے والیاں ان کی چھوٹی عمر میں۔
ائمہ قریش میں سے ہوں گے
32۔ احمد وابن ابی شیبہ والنسائی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم انصار کے ایک آدمی کے گھر میں تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ اچانک تشریف لائے۔ یہاں تک کہ کھڑے ہوگئے اور درازوں کے دونوں اطراف کو پکڑ کر فرمایا آئمہ قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق ہے۔ اور تمہارے لیے بھی اس طرح ان پر حق ہے کہ جب تم ان کو حکم بناؤ تو وہ انصاف کریں۔ اور جب تم ان سے رحم طلب کیا کرو تو وہ رحم کریں۔ اور جب کوئی معاہدہ کریں تو اسے پورا کریں۔ پس ان میں سے جو اس طرح نہ کرے تو ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔
33۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قریشی کے لیے قوت غیر قریشی آدمی کی قوت کی دگنی ہے۔ زہری (رح) سے پوچھا گیا اس سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے رائے۔
34۔ ابن ابی شیبہ نے سہل بن ابی خثمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم قریش سے سیکھو اور تم ان کو نہ سکھاؤ اور تم آگے رکھو قریش کو اور ان کو پیچھے نہ کرو۔ کیونکہ قریش کے پاس غیر قریشی دو آدمیوں کے برابر قوت ہے۔
35۔ ابن ابی شیبہ نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم قریش سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے۔ اور نہ ان سے پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے۔ قریش کے بہترین لوگ تمام لوگوں میں بہترین ہیں اور قریش کے شریر اور برے لوگ تمام لوگوں سے زیادہ شریر اور برے ہیں۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر قریش کے مغرور اور متکبر ہونے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ان کو اس رتبہ سے آگاہ کردیتا جو ان کو اللہ تعالیٰ کے پاس حاصل ہے۔
36۔ ابن ابی شیبہ نے اسماعیل بن عبداللہ بن رفاعہ سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کو جمع کیا اور پوچھا تمہارے علاوہ کوئی اور بھی تمہارے اندر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں سوائے ہمارے بھانجوں اور ہمارے غلاموں اور ہمارے حلیفوں کے تو آپ نے فرمایا تمہارے بھانجے تم میں سے ہیں اور تمہارے غلام بھی تم میں سے ہیں۔ بیشک قریش سچ بولنے والے اور امانت دار ہیں جس کسی نے گمراہی کے سبب ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کی تو اللہ تعالیٰ اس کو اوندھے منہ گرادے گا (جہنم میں ) ۔
38۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امر میں لوگ قریش کے تابع ہیں۔ ان کے نیک لوگ تابع ہیں ان کے نیک لوگوں کے اور ان کے برے لوگ تابع ہیں ان کے برے لوگوں کے۔
39۔ ابن ابی شیبہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دروازہ پر کھڑے ہوئے وہاں قریش کے لوگ بھی تھے۔ آپ نے فرمایا بیشک یہ امر یعنی حکومت قریش میں رہے گا۔
40۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے لیے فرمایا بیشک یہ امر یعنی حکوت تم میں رہے گا اور تم اس کے والی ہو۔
41۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ امارات قریش میں رہے گی۔ جب تک لوگوں میں سے دو بھی باقی رہے۔ اور آپ نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دی یعنی اشارہ فرمایا۔
42۔ ابن ابی شیبہ نے عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بادشاہی قریش میں ہے اور قضا انصار میں ہے اور اذان حبشہ میں ہے۔
43۔ ابن ابی شیبہ نے عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے لیے دعا فرمائی۔ اور فرمایا اللہ ! جیسے تو نے ان کے پہلے لوگوں کا عذاب کا مزہ چکھایا اب ان کے آخری لوگوں کو بخشش کا مزہ چکھا۔
44۔ ابن ابی شیبہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی قتل کیا گیا۔ نبی ﷺ سے کہا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کو دور فرمائے کیونکہ وہ قریش سے بغض رکھتا تھا۔
45۔ الترمزی وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! آپ نے قریش کے پہلے لوگوں کو عذاب چکھایا۔ اب ان کے آخری لوگوں کو بخشش کا مزا چکھا۔