105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیر درِ منثور
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
اے مخاب کیا تو نے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھ والوں کے ساتھ کیا کیا ؟
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا ان کی تدبیر کو سرتاپا غلط نہیں کردیا
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور ان پر پرندے بھیج دئیے غول در غول
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
وہ ان پر کنکر کی پتھریاں پھینک رہے تھے
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
سو اللہ نے ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھوسہ
اصحاب فیل کا واقعہ
2۔ ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے دلائل میں عثمان بن مغیرہ بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب الفیل کے قصہ میں سے یہ ہے کہ ابرہہ الاشرم الحبشی یمن کا بادشاہ تھا۔ اور اس کا پوتا اکسوم بن الصباح الحمیری حج کے لیے نکلا جب وہ مکہ سے روانہ ہوا تو نجران کے گرجے میں اترا۔ صبح کو اہل مکہ میں سے کچھ اس کے پاس آئے اور اکسوم کے زیورات اور سامان لے لیا (یعنی اس کو لوٹ یا) ۔ تو وہ غصہ ہو کر اپنے نانا کی کی طرف چلا گیا۔ اور اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو بیس ہزار خولانیوں اور اشعریوں کے ساتھ بھیجا اسے شہر بن معقود کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ خثعم کی زمین پر نازل ہوئے۔ خثعم ان کے راستوں سے ایک طرف کو ہٹ گیا۔ جب وہ طائف سے قریب پہنچا تو بنو خثعم اور نصر اور ثقیف میں سے کچھ لوگ اس کی طرف نکلے اور انہوں نے کہا ہمارے طائف کے ساتھ تیری کوئی غرض اور حاجت نہیں۔ بیشک یہ ایک چھوٹی سی بستی ہے لیکن ہم تجھ کو مکہ میں ایک ایسے گھر کا بتاتاے ہیں جس کی عبادت کی جاتی ہے اور جو اس کی طرف پناہ لیتا ہے وہ اپنے بادشاہ کے تسلط سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اس کے لیے عرب کی ملکیت مکمل ہوجاتی ہے۔ سو تجھ پر لازم ہے تو ہم کو چھوڑ دے کوئی تعرض نہ کرے۔ پس وہ کعبہ کی طرف چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ وادی مغمس پر پہنچا تو اس نے وہاں عبدالمطلب کے اونٹوں کو پایا جو سو اونٹنیاں پٹے پہنے ہوئے تھیں اور اس نے ان کو اپنے ساتھیوں کے درمیان ہبہ کردیا۔ جب یہ بات عبدالمطلب کو پہنچی تو آپ اس کے پاس آئے اور آپ خوبصور اور حسین تھے۔ اور اہل یمن میں سے اس کا ایک دوست تھا۔ جس کو ذوعمرہ کہا جاتا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ وہ آپ کے اونٹوں کو واپس کردے۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ لیکن اگر تو چاہے تو میں تجھ کو بادشاہ کے پاس لے جاسکتا ہوں۔ عبدالمطلب نے کہا ایسا کردے۔ تو وہ آپ کو اس کے پاس لے آیا عبدالمطلب نے اس سے کہا۔ تیری طرف میری ایک حاجت ہے۔ اس نے کہا میں ہر حاجت کو پوری کروں گا جو تو چاہے۔ عبدالمطلب نے کہا بیشک ہم شہرحرام میں اور عرب کی زمین اور عجم کی زمین کے درمیان راستہ میں سکونت پذیر ہیں اور میرے سو اونٹ تھے جو قلادہ پہنے ہوئے ہیں جو اس وادی میں مکہ اور تہامہ کے درمیان چرتے ہیں انہیں چرانے والے لوگ بھی ان پر مقرر ہیں اور ہماری تجارت کے کام بھی آتے ہیں اور دشمنوں سے ہماری حفاظت بھی کرتے ہی مگر تیرے لشکر نے ان کو پکڑ لیا۔ اور تیری طرح کے لوگ اپنے پڑوسیوں پر ظلم نہیں کرتے۔ وہ ذی عمرو کی طرف متوجہ ہوا پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا اور تعجب کرتے ہوئے کہا۔ اگر مجھ ہر چیز کا سوال کرتا جسے انہوں نے اکٹھا کیا ہوا تھا تو میں ان کو دے دیا۔ لیکن تیرے اونٹ ہم نے تیری طرف واپس کردئیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی دے دئیے۔ لیکن آپ کو کونسی چیز روک رہی کہ تو مجھ بات کرے اپنی اس عمارت کعبۃ اللہ اور اپنے اس شہر کے بارے میں۔ عبدامطلب نے اس سے کہا کہ بیشک یہ ہماری عبادت گاہ ہے اور ہمار یہ شہر ہے لیکن دونوں کا ایک مالک اور رب ہے اگر وہ چاہے گا کہ ان دونوں کی حفاظت فرمائے تو تو وہ ضرور حفاظت فرمائے گا۔ لیکن میں نے تجھ سے بات کی ہے اپنے مال کے بارے میں چناچہ اس وقت اس نے اپنے لشکر کو کوچ کا حکم دیا کہ کعبہ کو ضرور منہدم کیا جائے گا۔ اور مکہ مکرمہ کو لوٹا جائے گا اور عبدالمطلب واپس لوٹے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔
(1) لاہم ان المر یمنع رحلہ فامنع حلالک
اے اللہ ہر شخص اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما
2۔ لا یغلبن صلیبہم ومحالہم عدوا محاللک
عداوت میں ان کی صلیب اور ان کی قوت کل تیرے ی قوت پر ہگز غالب نہ آئے۔
3۔ فاذا فعلت فربما تحمی فامر مابدألک
پس جب تو ایسا کرے گا تو تو بچالے گا یہ ایسا امر یہ جو تیرے لیے ظاہر ہوچکا ہے
(4) فاذا فعلت فانہ امر تتم بہ فعالک
جب تو ایسا کرے گا تو یہ ایسا امر ہے جس کے ساتھ تیرے کام مکمل ہوجائیں گے۔
(5) وغدوا غدوا بجموعہم والفیل کی یسبو عیالک
اور وہ صبح سویرے اپنے لشکروں اور ہاتھیوں کے ساتھ چے تاکہ وہ تیرے عیال کو قیدی بنائیں۔ (6) فاذا ترکتہم وکعبتا فواحر با ہنالک
اور جب تو نے ان کو اور کعبہ کو چھوڑدیا تو افسوسناک جنگ ہوگی۔
جب شہر اور اصحاب فیل متوجہ ہوئے اور ایک فیصلے پر وہ سب متفق ہوگئے تو جب وہ مکہ ارادہ کرتے تو ان کا بڑا ہاتھی بیٹھ جاتا اور جب اس کا رخ پھیردیتے تو تیزی سے چلنے لگتا اس طرح ہوتا رہا یہاں تک کہ ان پر رات چھاگئی اور سمندر کی جانب سے ان پر پرندے ظاہر ہوئے اور ان کی سونڈیں تھیں اور وہ ایک چڑیا کی طرح چمگادڑ کے مشابہ سرخ و سیاہ رنگ میں تھے۔ جب ان لوگوں نے ان کے پرندوں کو دیکھا تو ان سے ڈر گئے اور جو کچھ ان کے ہاتھوں میں تھا گرپڑا۔ ان پرندوں نے ان پر لڑھکنے والے پتھر بندوق کی گولی کی طرح پھینکے وہ پتھر آدمی کے سر پر لگتا۔ اور اس کے پیٹ سے نکل جاتا۔ جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو عبدالمطلب نے اپنے ساتھیوں سمیت پہاڑوں پر صبح کی تو انہوں نے کسی کو ان پر غالب آتے ہوئے نہ دیکھا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو تیز رفتار گھوڑے پر بھیجا۔ تاکہ وہ ان کو دیکھ کر آئے تو اس نے دیکھا کہ وہ سارے کے سارے تباہ ہو کر گرے پڑے ہیں تو اپنے سر کو اٹھائے ہوئے اپنی ران کو کھولے ہوئے فوراً واپس آیا جب اس کے باپ نے اس کو دیکھا تو کہا کہ میرا بیٹا عرب کے بہترین گھڑ سواروں میں سے ہے اور وہ نہیں کھولتا اپنی رانوں کو مگر خوشخبری یا ڈراوے کے لیے۔ جب وہ قریب ہوا اپنی مجلس والوں سے تو انہوں پکار کر پوچھا تیرے پیچھے کیا ہے ؟ اس نے کہا وہ سب ہلاک ہوگئے ہیں پس عبدالمطلب اور اس کے ساتھی نکلے اور انہوں نے اپنے مال اٹھائے اس وقت عبدالمطلب نے اس منظر میں یہ اشعار کہے۔
انت منحت الجیش والا فیالا وقد رعوا بمکۃ الا فیالا
ترجمہ : تو نے ہماری حفاظت کی حبشی لشکر اور ہاتھیوں سے اس حال میں کہ وہ مکہ مکرمہ پر ہاتھیوں کے لشکر سے حملہ آور ہوئے
ترجمہ : ہم کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ ہم سے لڑیں گے اور ان کی جانب سے ہر امر انتہائی تکلیف دہ اور پیچیدہ ہوگا
شکرا وحمد والک ذالجلالا
ترجمہ : اے خداوند ذولجلال ! ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں اور ہم تیری ثنا کرتے ہیں۔
پس شہر اکیلا بھاگ گیا۔ پہلی مزل پر جس پر وہ اترا اس کا داہنا ہاتھ جسم سے گرگیا پھر دوسری مزل پر اترا تو اس کا داہنا پاؤں جسم سے الگ ہوگیا وہ اپنے گھر اور اپنی قوم کے پاس پہنچا کہ وہ ایک ایسا جسم تھا جس کا کوئی عضو نہ تھا۔ اس نے اپنی قوم کو صورت حال سے آگاہ کیا پھر اس کی جان نکل گئی اور وہ لوگ دیکھتے رہے۔
بیت اللہ پر کوئی غالب نہیں آسکتا
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معا فی الدلائل ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہاتھی والے آئے یہاں تک کہ وہ صناع مقام پر اترے۔ ان کے پاس عبدالمطلب تشریف لائے اور فرمایا بیشک یہ اللہ کا گھر ہے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ انہوں نے کہا ہم نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ ہم اس کو گرائیں گے۔ وہ اپنے ہاتھیوں کو آگے چلاتے تھے مگر وہ پیچھے ہٹتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پرندوں کا غول بھیجے۔ اور ان کو سیاہ رنگ کا پتھر دیے کہ جن پر مٹی تھی۔ پر جب وہ ان کے بالمقابل آئے تو ان پر پھینک دئیے۔ ان میں سے کوئی ہاتھی نہیں رہا مگر یہ اس کو خارش نے آلیا اور ان میں سے کوئی بھی اپنی جلد کھجلاتا تھا تو اس کا گوشت گرپڑتا تھا۔
4 ابن المنذر والحاکم وصححہ وابو نعیم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہاتھی والے آئے یہاں تک کہ جب وہ مکہ قریب پہنچے تو حضرت عبدامطلب ان کے پاس آئے اور ان کے حاکم سے کہا ہماری طرف کس لیے آئے ہو ؟ کیا میں نے جب پیغام نہیں بھیجا تھا کہ جو تو چاہتا ہے وہ ہم تیرے پاس لے آئیں گے تو اس نے جواب دیا کہ مجھے اس گھر کے بارے میں بھی یہ خبر دی گئی ہے کہ جو کوئی اس میں داخل ہوجاتا ہے وہ امن میں ہوجاتا ہے۔ میں اس کے رہنے والوں کو ڈرانے آیا ہوں عبدالمطلب نے کہا ہم تیرے پاس ہر چیز کو لائیں گے جو تو چاہے گا تو واپس لوٹ جا۔ اس نے واپس لوٹنے سے انکار کردیا کہ وہ اس میں داخل ہوگا۔ چناچہ وہ اس کی طرف چل پڑا اور عبدالمطلب پیچھے رہ گئے اور پہاڑ پر کھڑے ہو کر کہا میں اس گھر اور اس کے رہنے والوں کی ہلاکت کو نہیں دیکھ سکتا۔ پھر یہ دعا فرمائی۔ پھر فرمایا اے اللہ ! ہر ایک کا ایک گھر ہوتا ہے پس تو اپنے گھر کی حفاظت فرما تاکہ کبھی ان کی قوت تیری قوت پر غالب نہ آجائے۔ اے اللہ ! اگر آپ نے ایسا کردیا تو حکم کیجیے جو آپ چاہیں پس سمندر کی طرف سے بادل کی طرح ان پرندوں کے غول آئے اور ان پر چھا گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا آیت ترمیہم بحجارۃ من سجیل اور ہاتھی بری طرح چیخنے لگے اور انہوں نے ان کو ایسا بنادیا جیسے بھوسہ ہو کھایا ہوا۔
5۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم ترکیف فعل ربک باصحب الفی کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھوں والوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا کے بارے میں روایت کیا کہ ابرہۃ الاشرم حبشہ سے آیا۔ اور اہل یمن کے گمراہ اور باغی لوگ بھی اس کے ساتھ تھے سب بیت اللہ کی طرف چل دئیے تاکہ اس کو گرادیں کیونکہ عرب لوگوں نے یمن کی سرزمین میں ان کے معبد کو نقصان پہنچایا پس وہ اپنے لشکر کے ساتھ ہاتھیوں کو لائے یہاں تک کہ جب وہ بجلۃ الیمانیہ کے پاس تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سفید رنگ کے پرندوں کے غول بھیجے جو بڑے پرندے تھے۔ انہوں نے پتھر پھینکنا شروع کیے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح بنادیا ابو یکسوم بچ نکلا لیکن وہ راستے میں جب بھی کسی مقام پر اترتا تھا۔ تو اس کے جسم کا کچھ گوشت گرجاتا تھا یہاں تک کہ جب وہ اپنی قوم میں آیا تو ان کی ساری صورتحال بتائی پھر ہلاک ہوگیا۔
6۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے آیت الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل کے بارے میں روایت کیا کہ ابو یکسوم انتہائی جابر اور ظالم حکمران تھا۔ وہ اپنے لشکر میں ہاتھیو کو ہانک کر اپنے ساتھ لے آیا۔ تاکہ بیت اللہ کو گرادے اپنے گرجا گھر کی وجہ سے جو یمن میں گرادیا تھا۔ جب ہاتھی حرم شریف کے قریب پہنچا تو وہ اپنے ہانکنے والے کو خارتا جب وہ حرم سے لوٹنے کا ارادہ کرتے حرم سے تو وہ تیزی سے دوڑنے لگتا۔
ہاتھی نے حرم میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔
7۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابو یکسوم حاکم حبشہ آیا اور اس کے ساتھ ہاتھی بھی تھے جب وہ حرام کے پاس پہنچا توہاتھی بیٹھ گیا۔ اور حرم میں داخل ہونے سے انکار کردیا جب اس کو واپس لوٹنے کے لیے پھیرتے تو وہ واپس لوٹنے کے لیے تیزی سے مڑتا اور جب آکر حرم کی طرف پھیرتے تو وہ بیٹھ جاتا اور چلنے سے انکار کردیتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر چھوٹے چھوٹے سفید رنگ کے پرندے بھیجے ان کے منہ میں پتھر تھے جو چنے کے دانہ کے برابر تھے لیکن وہ جس پر گرتا تھا اس کو ہلاک کردیتا تھا۔
8۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہاتھ والے آئے یہاں تک کہ صفاع مقام پر اترے ان کے پاس عبدالمطلب آئے اور کہا بیشک یہ بیت اللہ ہے اس پر کوئی غالب نہیں آسکا۔ انہوں نے کہا ہم واپس نہیں جائیں گے یہاں تک کہ ہم اس کو گرائیں گے۔ اور اپنے ہاتھیوں کو آگے بڑھاتے تھے مگر وہ پیچھے ہٹتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے پرندوں غول بھیجے اور ان کو سیاہ رنگ کے پتھر دئیے جن پر مٹی تھی جب کو ان کے بالمقابل پہنچے اور ان کے اوپر آگئے پھر ان پر پتھر برسا دئیے ان میں سے کوئی باقی نہیں بچا مگر اس کو خارش لگ گئی۔ اور ان میں سے جو انسان بھی اپنے جسم کو کھجلاتا تھا اس کا گوشت اس سے گرنے لگتا تھا۔
9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذ وابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے پتھر برسائے ہاتھی والوں پر تو اس میں سے کوئی پتھر نہیں پڑتا تھا مگر اس کو گردیتا تھا۔ اور وہی چیچک کی ابتدا تھی۔ جس سے سب مرگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سیلاب بھیجا جو ان کو بہا کرلے گیا اور ان کو سمندر میں ڈال دیا۔ پوچھا گیا ابابیل کیا ہیں ؟ فرمایا اس سے مراد غول ہیں۔
10۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ طیرا ابابیل یعنی پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ
11۔ فریابی وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ عہما سے روایت کیا کہ طیر ابابیل سے مراد ہے فوج درفوج۔ وہ پرندے ان پر سمندر میں سے نکلتے تھے۔
12۔ ابن ابی شیبہ وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طیران ابابیل سے مراد ہے کہ وہ سبز رنگ کے پرندے تھے اور ان کی سونڈیں اونٹ کی سونڈ کی طرح تھیں اور ناک کتے کی ناک کی طرح تھی۔
13۔ عبد بن حمید ابن عباس ؓ سے طیرا ابا بیل کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے پنجے آدمی کی ہتھیلیوں کی طرح تھے اور ان کی کچلیاں، درندوں کی کچلیوں کی طرح تھیں۔
ہر پرندے کے پاس تین پتھر
14۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو نعیم والبیہقی معا فی الدلائل عبید بن عمیر اللیثی (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ ہاتھی والوں کے ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندے بھیجے جو سمندر سے اٹھے اور وہ چمگادڑوں کی طرح تھے اس میں ہر پرندے کے پاس تین سیاہ پتھر تھے چونچ میں ایک پتھر تھا اور دو پتھر اس کے پاؤں میں تھے پھر وہ پرندے آئے یہاں تک کہ ان کے سروں پر منڈلانے پھر چلائے اور ان پر وہ پتھر پھینک دئیے۔ اپنی چونچ میں اور پاؤں میں لیے ہوئے تھے۔ سو جو پتھر ان میں سے کسی آدمی پر پڑتا تھا تو وہ دوسری جانب سے نکل جاتا تھا۔ اگر اس کے سر پر واقع ہوتا تو پاخانے کے راستے سے نکل جاتا۔ اگر وہ بدن میں سے کسی حصہ پر واقع ہوتا تو دوسری جانب سے خارج ہوجاتا اور اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کو بھیجا جس کے سبب ان کی ٹانگیں ٹکرائیں اور شدت میں مزید اضافہ ہوگیا تو سب ہلاک ہوگئے۔
15۔ سعید بن منصوروعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی نے الدلائل میں عکرمہ (رح) طیرا ابابیل کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سفید رنگ کے پرندے تھے۔۔ اور ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ وہ پرندے سبز رنگ کے تھے سمندر کی طرف سے آئے تھے۔ اور ان کے منہ درندوں کے مونہوں کی طرح تھے۔ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد ایسے پرندے دیکھے گئے انہوں نے ان کے جسموں پر چیچک کی طرح نشانات لگادئیے اور سب سے پہلے یہ چیچک دیکھی گئی۔
16۔ ابن مردویہ نے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے آیت الم تر کیف فعل ربک باصحب الفیل کے بارے میں روایت کیا کہ جب ہاتھی والے مکہ پر چڑھائی کے لیے آئے اور ان کا سردارابو یکسوم حبشی تھے۔ یہاں تک کہ وہ وادی مغمس میں آئے۔ تو وہ ان پر پرندے آگئے کہ ہر پرندے کی چونچ میں ایک پتھر تھا اور ان کے پاؤں میں دو پتھر تھے پرندوں نے وہ پتھر ان پر برسائے۔ اسی کو فرمایا آیت وارسل علیہم طیرا ابابیل۔ کہ وہ غول درغول ایک دوسرے کے پیچھے تھے آیت ترمیہم بحجارۃ من سجیل یعنی وہ پتھر مٹی کے تھے اور فرمایا کہ وہ چھوٹے ستاروں کے ٹکڑے تھے بکریں کی مینگنیوں کی طرح پس پرندوں نے ان کو وہ پتھر برسائے آیت فجعلہم کعصف ماکول تو وہ کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح ہوگئے۔ یعنی ان کو اس طرح بنادیا جیسے کھائی ہوئی کھیتی کے بوسیدہ پتے ہوتے ہیں پھر فرمایا کہ پتھروں نے ان کو اس طرح پھاڑدیا جیسے کھیتی کے پتے پھٹے اور گلے سڑے ہوتے ہیں جو کھتی کھائی اور بوسیدہ ہو اور فرمایا کہ وہ مکہ کی طرف آئے نبی اکرم ﷺ کی پیدائش مبارک سے تئیس سال پہلے۔
17۔ ابن المنذر نے ابوالکنود (رح) سے آیت ترمیہم بحجارۃ من سجیل کے بارے میں روایت کیا کہ وہ پتھر چنے سے کم اور مسور کے دانے سے تھوڑے بڑے تھے۔
18۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عمران (رح) سے طیرا ابابیل کے بارے میں روایت کیا کہ وہ بہت پرندے تھے اور وہ بہت پھر لے کر آئے ان میں سے بڑے پتھر چنے کے دانے کے برابر تھے اور چھوٹے پتھر مسور کے دانہ کے برابر تھے۔
19۔ ابو نعیم نے الدلائل میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت ترمیہم بحجارۃ من سجیل کے بارے میں روایت کیا کہ پتھر بندوق کی گولی کی طرح تھا وہ برسائے گئے کہ ان پر سرخ مہر لگی ہوئی تھی۔ ہر پرندے کے پاس تین پتھر تھے۔ دو پتھر اسکے پاؤں میں اور ایک پتھر اس کی چونچ میں تھا۔ ان پرندوں نے ان پر آسمان سے آکر حلقہ بنالیا۔ پھر ان پر وہ پتھر برسائے اور ان کا لشکر بھاگ نہ سکا۔
20۔ ابو نعیم نے نافل بن معاویہ الدیلمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے وہ کنکریاں دیکھی ہیں جو ہاتھی والوں پر برسائی گئی تھیں وہ کنکری چنے کے دانے کے برابر تھی اور مسور کے دانے سے بڑی تھی وہ سرخ اور مہر لگی ہوئی تھی گویا کہ وہ چھوٹے ستاروں کے ٹکڑے ہیں۔
21۔ ابو نعیم نے حکیم بن حزام (رح) سے روایت کیا کہ وہ پتھر چنے اور مسور کے دانہ کی مقدار میں ہے ہی پتھر برسائے گئے جو سرخ اور مہر لگے ہوئے تھے جیسا کہ ٹکڑے ہوتے ہیں اگر قوم کو ان کے ذریعہ عذاب نہ دیا گیا ہوتا تو میں ان میں سے اتنے اٹھالیتا کہ اپنے لیے مسجد بنالیتا اور یہ پتھر مکہ میں بہت ہیں۔
22۔ ابو نعیم نے ام کرز الخزاعیہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ میں نے ان پتھروں کو دیکھا جو ہاتھی والوں پر پھینکے گئے تھے جو سرخ اور مہر لگے ہوئے تھے گویا کہ وہ ستاروں کے ٹکڑے ہیں۔ جس نے اس کے علاوہ کوئی بات کہی تو اس نے اس میں سے کچھ دیکھا ہی نہیں اور نہ ہی ان پتھروں تک پہنچا اور یقینی طور پر وہ پتھر ان سے چھپ گئے۔
23۔ ابو نعیم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ دوہاتھیوں کو لے کر آئے ان میں ایک محمود تھا وہ بیٹھ گیا اور دوسرا ہاتھی فشجع تھا وہ پتھروں سے مارا گیا۔
اصحاب الفیل کے واقعہ میں ہاتھ بان کی گفتگو
24۔ ابو نعیم نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ مجھے اس نے بیان کیا کہ جس نے بات کی ہاتھی کے قائد اور اس کے سائق یعنی چلانے والے سے اس نے ان دونوں سے پوچھا کہ مجھے ہاتھی کے بارے میں کچھ بتاؤ۔ کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ تو ان دونوں نے بتایا کہ ہم نجاشی اکبر بادشاہ کا ہاتھی کو لے کر آئے وہ اسے لے کر جس لشکر پر بھی حملہ آوار ہوا تو اس نے اس کو شکست فاش دی۔ لیکن جب حرم شریف کے قریب پہنچا اور جب بھی ہم اس کا رخ حرم کی طرف کرتے تو وہ گھٹنے کے بل بیٹھ جاتا تھا اور کبھی ہم اس کو مارتے تو وہ گر جاتا ار وہ گھٹنے کے بل بیٹھ گیا اور کھڑا نہ ہوا اتنے میں عذاب آگیا تو ہم نے پوچھا کیا دونوں کے علاوہ کوئی اور بھی بچا ؟ انہوں نے جواب دیا ابھی ان سب پر عذاب نہیں پہنچا تھا کہ ابرہہ واپس لوٹا اور کچھ نے اس کی اتباع کی وہ اپنے شہروں کی طرف جانے لگے لیکن جب وہ کسی زمین پر ٹھہرتے تو ان کا کوئی عضو جسم سے کٹ کر نیچے گرجاتا یہاں تک کہ جب وہ بلاد خثعم تک پہنچے تو اس کے سر کے علاہ کوئی عضو اس پر باقی نہ تھا پھر وہ مرگیا۔
25۔ ابو نعیم نے عطا وضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابرہہ الاشرم یمن سے آیا کعبہ کو گرانے کا ارادہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان پر بھیج دئیے طیرا ابابیل پرندوں کے جھنڈ اور وہ پرندے اس مجمع یعنی لشکر کار اردہ رکھتے تھے ان کی سونڈھیں تھیں وہ ایک کنکر آتھائے ہوئے تھے اپنی چونچ میں اور دو کنکر اپنے پاؤں میں وہ ایک کنکر آدمی کے سر پر گرادیتے تھے تو اس کا گوشت اور اس کا خون بہہ جاتا تھا۔ اور خالی ہڈیاں باقی بچ جاتی تھیں نہ ان پر گوشت ہوتا تھا۔ اور نہ کھال ہوتی تھی اور نہ خون ہوتا تھا۔
26۔ ابو نعیم نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ہذیل قبیلہ میں سے ایک آدمی سے سوال کیا کہ مجھے ہاتھی کے دن کا بتاؤ اس نے کہا ہاتھی کے دن گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھیجا گیا میں بھی ایک گھوڑی پر سوار تھا میں نے پرندوں کو دیکھا جو حرم سے نکلے ہر پرندے کی چونچ میں پتھر تھا اور اس کے پاؤں میں بھی ایک پتھر تھا بہت تیز ہوا چکی اور اندھیرا ہوگیا۔ یہاں تک کہ میری گھوڑی دو مرتبہ میرے سمیت بیٹھ گئی پھر اس ہوا نے ان کو یکبارگی کے ساتھ کاٹ دیا پھر اندھیرا چھٹ گیا۔ اور ہوا ٹھہر گئی پھر کہا کہ میں نے قوم کی طرف دیکھا کہ وہ مرے پڑے تھے۔
27۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ام ہانی ؓ ابو طالب کی بیٹی کے پاس ان پتھروں میں سے ایک قفیز کے برابر وہ پتھر دیکھے جو سرخ دھاری دار تھے گویا کہ وہ ظفار کے نگینے ہیں۔ ہر پتھر پر اس کا نام اور اس کے باپ کا نام لکھا ہوا تھا۔
28۔ ابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فجعلہم کعصف یعنی بھوسے کی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بنادیا۔
29۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے دلالئل میں ابن عباس ؓ سے آیت فجعلہم کعصف ماکول۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گندم کے پتوں یعنی بھوسے کی طرح بنادیا۔
30۔ فریابی وعبد بن حمید وابن ای حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت العصف ماکول سے مراد ہے گندم کے کھائے ہوئے پتے یعنی بھوسہ۔
31۔ عبد بن حمید نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ آیت کعصف ماکول سے مراد ہے گندم کے وہ پتے جن میں سوراخ ہوں۔
32۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کعصف ماکول سے مراد ہے کہ جب دانہ کھایا جائے تو وہ اندر سے خالی اور کھوکھلا ہوجائے۔
33۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کعصف ماکول سے مراد ہے کھیتی کے اڑنے والے پتے اور تنے کہ اس طرح ان کو بنادیا گیا۔
34۔ ابن اسحاق فی السیرہ والواقدی وابن مردویہ وابو نعیم ولبیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ہاتھی کے سائق اور قائد دونوں کو مکہ میں دیکھا کہ وہ دونوں اندھے اور اپاہج تھے لوگوں سے کھانا مانگتے تھے۔
35۔ عبد بن حمید والبیہقی نے دلائل میں ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں ہوئی۔
36۔ ابن اسحاق وابو نعیم والبیہقی نے قیس بن مخرمہ (رح) سے روایت کیا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ہاتھی کے سال پیدا ہوئے۔
37۔ بیہقی (رح) نے محمد بن جبیر بن مطعم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل کو ہوئی اور عکاظ کا بازار عام الفیل کے پندرہ سال بعد قائم ہوا۔ اور بیت اللہ کی تعمیر عامل الفیل کے پچیسویں سال شروع ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے عام الفیل کے چالیس سال کے بعد نبوت کا اعلان فرمایا۔