107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 107:1–3

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بھلا تم نے اس شخص (کے حال) پر (بھی) نظر کی جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے ؟

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

اور (اس سبب سے) یہ شخص (ایسا سنگ دل ہوگیا ہے کہ) یتیم کو دھکے دیتا ہے

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور مسکین (کو آپ کھانا دینا تو درکنار لوگوں کو بھی اس) کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔

[1] یعنی جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے اور وہ مسکین کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے۔ دینے والا مسکین کو کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کا حق ادا کر رہا ہے۔
Ayahs 107:4–5

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

پس تباہی ہے ان نمازیوں کے لئے

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو اپنی نماز کی طرف سے غفلت کرتے ہیں،

[2] یعنی کبھی پڑھتے ہیں کبھی نہیں پڑھتے۔ پڑھتے ہیں تو اس طرح کہ نماز کے وقت کو ٹالتے رہتے ہیں اور جب وقت ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتے ہیں۔
Ayah 107:6

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو ریاکاری کرتے ہیں

[3] یعنی جو دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں۔ مراد اس سے منافقین ہیں۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور (دل کے ایسے تنگ ہیں کہ) برتنے کی چھوٹی موٹی چیزیں بھی (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں۔

[4] اس سے مراد عام ضرورت کی اشیاء مثلاً ترازو، نمک، پانی، دیاسلائی وغیرہ ہیں۔ [5] اس سورت میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔ پہلی تین آیتوں میں ان کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو علانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں اور آخری چار آیتوں میں ان منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل میں آخرت اور اس کی جزاوسزا کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دونوں قسم کے گروہوں کے طرز عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے اندر ایک مضبوط، مستحکم اور پاکیزہ کردار عقیدہ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔