108. Surah Al-Kawthar
الكوثرAbundance · 3 ayahsتفسیر الکتاب
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ Open ayah 108:1 in the Quran reader
(اے پیغمبر، ) یقینا ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا ہے،
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ Open ayah 108:2 in the Quran reader
پس (اس کے شکریے میں) اپنے رب کی نماز پڑھو اور (اسی کے نام کی) قربانی کرو۔
[1] کوثر کے معنی خیرکثیر کے ہیں یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ یہاں اس سے مراد دنیا اور آخرت کی بیشمار بھلائیاں اور نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت حوض کوثر بھی ہے جس کے پانی سے رسول اللہ ﷺ امت کو محشر میں سیراب فرمائیں گے۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے جنت میں جانے تک پیاس نہ لگے گی۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ Open ayah 108:3 in the Quran reader
بیشک تمہارا دشمن ہی بےنام و نشان (ہوکر) رہے گا۔
[2] اصل میں لفظ '' ابتر '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی دم کٹے جانور کے ہیں مگر محاورے میں ابتر اس شخص کو کہتے ہیں جس کے کوئی اولاد نرینہ نہ ہو۔ کفار آپ ﷺ کو ابترو مقطوع النسل کا طعنہ دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص کے کوئی بیٹا نہیں، بس زندگی تک اس کا نام ہے پھر اس کا کوئی نام لیوا نہ رہے گا۔ اس پر فرمایا گیا کہ بےنام و نشان آپ ﷺ نہیں آپ ﷺ کے دشمن ہوں گے۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی اور آپ ﷺ کے دشمن ایسے بےنام و نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو ان میں سے آج کوئی نہیں جانتا کہ وہ ابو جہل یا ابو لہب یا عاص بن وائل وغیرہ اعدائے اسلام کی اولاد میں سے ہیں اور جانتا بھی ہو تو یہ کہنے کو تیار نہیں ہے کہ اس کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ اس کے برعکس رسول اللہ ﷺ کی روحانی اولاد سے ساری دنیا پٹی پڑی ہے۔ آپ ﷺ کی یاد، نیک نامی، محبت اور عقیدت کروڑوں انسانوں کے دلوں کو گرما رہی ہے۔