107. Surah Al-Maa'un

الماعونAlmsgiving · 7 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 107:1

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 107:1 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا (نہیں) اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے روز جزاء کو ؟

1 ۔ انکار آخرت کا نتیجہ مکارم اخلاق سے محرومی، والعیاذ باللہ : سو اس سے سزا و جزا کے منکر شخص کے حال میں غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو جھٹلاتا ہے روز جزا کو ؟ یعنی کیا تم نے اس کے بارے میں سوچا اور غور نہیں کیا کہ آخرت اور روز جزا کے اس انکار سے وہ اخلاق و کردار کے اعتبار سے کتنا اور کس قدر گر جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ نہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچانتا ہے اور نہ اس کی مخلوق اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہر کرتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں وہ ایک سنگ دل، بےرحم، ریا کار اور خود غرض انسان بن کر رہ جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل سواء و شر۔ سو روز جزا کی تکذیب اور اس کا انکار والعیاذ باللہ محرومیوں کی محرومی اور فساد اخلاق کی جڑ بنیاد ہے، کیونکہ ایسے شخص کے اندر اس انفاق کا کوئی داعیہ اور محرک باقی رہ نہیں جاتا، جو خالص اللہ کی رضا و خوشنودی اور محض خدمت خلق اور ہمدردی غرباء کے لیئے کیا جاتا ہے اس لیے ایسا شخص اگر کچھ خرچ کرا بھی ہے تو اپنی کسی ذاتی غرض، کسی دنیاوی مفاد یا ریا و نمود کے لیے کر ات ہے بےغرض اور مخلصانہ فیاضی صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو آخرت کی جزا و سزا پر صڈق دل سے ایمان رکھتا ہے، سو اس سے سزا و جزا کے منکر شخص کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ وہ کس عظمت سے محروم ہو کر کیسی ذلت اور محرومی میں جا پہنچا ہے۔ پس انکار آخرت اور جزا و سزا کی تکذیب والعیاذ باللہ العظیم کا نتیجہ و انجام مکارم اخلاق سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔
Ayah 107:2

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 107:2 in the Quran reader

سو ایسا ہی شخص (بےرحمی اور بےدردی سے) دھکے دیتا ہے یتیم کو

2 ۔ منکر آخرت کے کبر و غرور کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص دھکے دیتا ہے یتیم کو یعنی اپنی سنگ دلی اور بےرحمی کی بنا پر وہ یتیم کو دھتکارتا اس کی تذلیل و تحقیر کرتا اور اس کا حق مار کھاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس ثابت ہوا کہ انسان کو سیدھے راستے پر رکھنے والی اور اعلی اخلاق و کردار سے آراستہ پیراستہ کرنے والی چیز اصل میں عقیدہ آخرت اور روز جزا پر ایمان و یقین ہی ہے۔ پس جو لوگ اس سے محروم ہیں وہ حقیقت میں سیدھی راہ، مکارم اخلاق اور ہر خیر سے محروم ہیں، والعیاذ باللہ العظیم، فصدق اللہ القائل فی کتابہ العزیز، وَاِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ (المومنون 74 پ 18) یعنی یقینی طور پر وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں اور جب کوئی راہ راست ہی سے ہٹ جائے اور وہ اس سے محروم ہوجائے تو پھر اس کی کامیابی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس اس سب سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ عقیدہ آخرت مکارم اخلاق سے سرفرازی کی اصل اساس اور حقیقی بنیاد ہے، اور جو لوگ اس سے محروم ہیں والعیاذ باللہ العظیم وہ سراسر محروم ہیں اور وہ کبر و غرور میں مبتلا ہو کر یتیموں پر رحم کرنے اور ترس کھانے کے بجائے الٹا ان کو دھکے دے دے کر اپنے سے دور کرتے ہیں۔ سو ایسے متکبر و مغرور منکروں کو کل قیامت کے روز دھکے دے دے کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (الطور 13 پ 27) یعنی ایسے لوگوں کو وہ دن یاد رکھنا چاہیے جس دن کہ ان کو دھکے مار مار کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔
Ayahs 107:3–4

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 107:3 in the Quran reader

اور وہ (دوسروں کو بھی) ابھارتا نہیں مسکین کے کھانے پر

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 107:4 in the Quran reader

پھر بڑی خرابی (اور ہلاکت) ہے ان نمازیوں کے لئے

3 ۔ منکر آخرت کے بخل اور اس کی کنجوسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص مسکین کے کھانے پر بھی نہیں ابھارتا، یہاں پر " اطعام مسکین " (مسکین کے کھلانے پر) نہیں فرمایا گیا بلکہ " طعام المسکین " ( مسکین کے کھانے پر) فرمایا گیا ہے، جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مسکین کو جو کھانا دیا جاتا ہے تو یہ اس پر کوئی احسان نہیں کیا جارہا، بلکہ یہ اس کا حق ہے جو اس کو دیا جاتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ (الذریات 19) یعنی ان کے مالوں میں حق ہے سائل کا بھی اور محروم کا بھی۔ صرف اتنی بات ہے کہ حضرت واہب مطلق جل جلالہ مسکینوں کا یہ حق ان کو مالداروں کے ہاتھوں سے دلانا اور ان کے ذریعے پہنچانا چاہتا ہے تاکہ اس سے ایک طرف مالدار کی آزمائش بھی ہو اور دوسری طرف وہ اس کے عوض اجر عظیم کے شرف سے بھی مشرف ہو جو کہ اس غفور رحیم رب رحیم کی ایک نہایت ہی عظیم الشان رحمت اور مہربانی ہے، ورنہ وہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ امیر کے ہاتھ سے سب کچھ لے کر چھین کر ان غریبوں مسکینوں کو دے دے، جس کے نمونے اور مظاہر وہ گاہے گاہے دکھلاتا بھی رہتا ہے۔ چناچہ کتنی ہی مرتبہ ایسا ہوتا ہے اور یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا ہے کہ آج کا شاہ کل کا گدا اور کل کا گدا آج کا شاہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پس اس ارشاد میں اوپر والی بات کو منفی پہلو سے ذکر فرمایا گیا ہے کہ بھلا جو شخص یتیموں کو دھکے دیتا ہو وہ لوگوں کو ان کی خدمت پر کیا ابھارے گا سو ایسے لوگوں کی قساوت قلبی کا ثبوت اور اس کا مظہر ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 107:5–6

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ Open ayah 107:5 in the Quran reader

جو غافل (و بیخبر ) ہیں اپنی نمازوں سے

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ Open ayah 107:6 in the Quran reader

جو دکھلاوا کرتے ہیں اپنے کاموں میں

4 ۔ نماز سے غفلت برتنے والوں کے لیے سخت پھٹکار، والعیاذ باللہ العظیم : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو غافل ہیں اپنی نمازوں سے " کہ کبھی پڑھی، کبھی نہ پڑھی، پڑھی بھی تو دیر کر کے اور جلدی جلدی سے اس سے فراغت حاصل کرلی، گویا کہ جان چھڑانے کی کوشش ہورہی ہے، اور سر سے ایک بوجھ اتارا جارہا ہے اور کبھی پڑھی تو کاہلی سے پڑھی، کیونکہ آخرت کی جزا و سزا پر جب یقین نہ ہو تو آدمی کی کیفیت یہی ہوتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ دوسرے مقام پر منافقین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا (النساء 142) یعنی جب یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور ظاہر ہے کہ جب دلوں کے اندر ایمان و یقین کی دولت اور قوت نہ ہو تو ایسے لوگوں کی کیفیت طبعی طور پر یہی ہوگی اور ان کی نماز کے لیے ایک بوجھ بن جائے گی، والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوء و انحراف ومن کل سوء و شر۔ سو ایسے لوگوں کے لیے جو اپنی نمازوں اور ان کے تقاضوں اور ان کی حقیقت سے غافل و لاپرواہ ہیں بڑی خرابی اور ہلاکت ہے، کیونکہ نماز ایک طرف تو حضرت خالق ومالک کا حق ہے اس کے بندوں پر اور دوسری طرف یہ ایک عظیم الشان ذریعہ و وسیلہ ہے حضرت حق جل مجدہ کی خیرات و سے سرفرازی اور دنیا و آخرت کی فائز المرامی کا، اور یہ قلب و روح کی زندگی و بالیدگی اور انسان کے لیے باطنی عروج کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اسی لیے حدیث پاک میں اس کو مومن کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 107:7

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠ Open ayah 107:7 in the Quran reader

اور وہ روکتے ہیں برتنے کی معمولی چیزوں کو

5 ۔ منکرین جزا و سزا کی " خست " طبع کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو دکھلاوا کرتے ہیں اور وہ روکتے ہیں برتنے کی معمولی چیزوں کو، یعنی ایسی معمولی چیزوں کو جن کے دینے پرتنے سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، جیسا کہ کلہاڑی، رسی، ڈول، سوئی، آگ اور پانی وغیرہ، کہ ان کے استعمال کرلینے سے ان کا بگڑتا کچھ نہیں، اسی طرح وہ زکوٰۃ بھی نہیں دیتے کہ جو مجموعی مال کے اعتبار سے ایک تھوڑا سا حصہ ہی ہوتی ہے، اور وہ " ماعون " ہی کہلاتا ہے، تو یہ سب کچھ ان لوگوں کے طبعی بخل اور تنگ ظرفی اور خست کا عکاس و غماز اور آئٰنہ دار ہے، سو یہ صفات و خصال منافقین کی ہیں اسی لیے بعض حضرات نے اس کو سورة المنافقین ( یعنی منافقوں کی سورت) کہا ہے۔ ( روح، ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، کیر، مظہری، معارف وغیرہ) سو ایمان و یقین کی مضبوطی اور پختگی سے انسان کے اندر مکارم اخلاق پیدا ہوتے ہیں، اور وہ اپنے رب کی رضا اور اپنی آخرت کے لیے ہر طرح کی قربانی کے لیے ہمیشہ تیار اور مستعد رہتا ہے، جبکہ ایمان و یقین کی محرومی سے وہ ہر خیر سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کو ریاء و نمود کے بغیر معمولی خرچہ بھی بھاری ہوجاتا ہے، پس ایمان و یقین کی دولت اور اس میں پختگی و مضبوطی دارین کی سعادت و سرخروئی اور ہر خیر اور خوبی کی اصل و اساس ہے، اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔