Ayah 107:1[اَرَءَيْتَ الَّذِي : کیا تو نے دیکھا اس کو جو ][ يُكَذِّبُ : جھوٹ جانتا ہے ][ بِالدِّيْنِ : بدلے (کے دن) کو ]
نوٹ 1: اس سورة میں یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا، انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔
Ayah 107:2[فَذٰلِكَ : تو وہ،][ الَّذِي : وہ ہے جو ][ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ : دھکا دیتا ہے یتیم کو ]
آیات۔ 2 اور 3 ۔ میں ان کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو اعلانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور آخری چار آیتوں میں ان منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل میں آخرت اور اس کی جزاوسزا کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دو گروہوں کے طرز عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان کے اندر ایک مستحکم اور پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 107:3[وَلَا يَحُضُّ : اور وہ ترغیب نہیں دیتا (کسی کو)][ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ : مسکین کا کھانا (دینے) پر ]
نوٹ 2: آیت۔ 3 ۔ میں اگر اِطْعَامِ الْمِسْکِیْن کہا گیا ہوتا تو معنی یہ ہوتے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ لیکن طَعَامِ الْمِسْکِیْن کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسکین کا کھانا اس کو دینے پر نہیں اکساتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں ہے بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے۔ یعنی دینے والا کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ مسکین کا حق ادا کر رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 107:4[فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِيْنَ : تو بربادی ہے نمازیوں کے لیے ]
نوٹ 3: آیت۔ 4 ۔ 5 ۔ کے متعلق حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ خدا کا شکر ہے فِیْ صَلَا تِھِمْ سَاھُوْن نہیں فرمایا بلکہ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ فرمایا ہے۔ ہم نماز میں بھولتے تو ضرور ہیں مگر نماز سے غافل نہیں ہیں۔ اس لیے ہمارا شمار منافقوں میں نہیں ہوگا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے ان کے صاحبزادے مصعب بن سعد نے پوچھا کہ آپ نے اس آیت پر غور فرمایا کیا اس کا مطلب نماز چھوڑ دینا ہے یا اس سے مراد نماز پڑھتے ہوئے خیال کسی اور طرف چلا جانا ہے۔ خیال ہٹ جانے کی حالت ہم میں سے کس پر نہیں گزرتی۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز کے وقت کو ضائع کرنا اور اسے وقت ٹال کر پڑھنا ہے۔ (تفہیم القرآن)
مورخہ 16 ۔ ربیع الاول 1432 ھ بمطابق 20 فروری 2011 ئ۔
Ayah 107:5[الَّذِينَ هُمْ : یہ وہ لوگ ہیں جو ][ عَنْ صَلَاتِهِمْ : اپنی نماز سے ][ سَاهُوْنَ : غافل ہونے والے ہیں ]
Ayah 107:6[الَّذِينَ هُمْ : یہ وہ لوگ ہیں جو ][ يُرَاۗءُوْنَ : ریاکاری کرتے ہیں ]
Ayah 107:7[وَيَمْنَعُوْنَ : اور روکتے ہیں ][ الْمَاعُوْنَ : گھریلو اشیاء کو (گردش سے)]