106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
چونکہ قریش مانوس ہوئے
[لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ : (ہم نے ہلاک کیا اصحاب فیل کو) قریش کو مانوس کرنے کے واسطے ]
ترکیب : (آیت۔ 1) اِیْلَافٌ باب افعال کا مصدر ہے۔ اس پر حروف جارہ کا لِ داخل ہوا جس نے اس کو جَرّ دی ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے اس کی تنوین ختم ہوئی ہے۔ قُرَیْشٍ اس کا مضاف الیہ ہے۔ بات کا مرکب جاری سے شروع ہونا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ محذوف مانا جائے۔ چناچہ مفسرین کے ایک گروہ نے پچھلی سورت کے ساتھ معنوی تعلق کی بنا پر یہاں اِنَّا اَھْلَکْناھُمْ یا اِنَّا اَھْلَکْنَا اَصحٰبَ الْفِیْلِ کو محذوف مانا ہے۔ دوسرے گروہ نے اس کا تعلق اس جملہ سے مانا ہے جو آگے آ رہا ہے یعنی فَلْیَعْبُدْوْا ہم پہلی رائے کو ترجیح دیں گے۔
نوٹ 1: اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہ سورت سورة فیل ہی سے متعلق ہے اور شاید اسی وجہ سے بعض مصاحف میں ان دونوں کو ایک ہی سورت کی طور پر لکھا گیا تھا اور ان کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی گئی تھی مگر حضرت عثمان ؓ نے جب تمام مصاحف قرآن کو جمع کر کے ایک نسخہ تیار فرمایا اور تمام صحابہ کرام ؓ کا اس پر اجماع ہوا، تو اس میں ان دونوں کو الگ الگ سورتوں کے طور پر لکھا گیا اور دونوں کے درمیان بسم اللہ لکھی گئی۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2: اس سورة کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھا جائے جس سے اس سورة کے مضمون اور سورة فیل کے مضمون کا گہرا تعلق ہے۔
قریش کا قبیلہ نبی ﷺ کے جد اعلیٰ قُصَیّ بن کلاب کے زمانے تک حجاز میں منتشر تھا۔ قُصَیّ نے ان کو مکہ میں جمع کیا اور بیت اللہ کا انتظام اس قبیلہ کے ہاتھ آگیا۔ اس نے اطرافِ عرب سے آنے والے حاجیوں کی خدمت کا بہترین انتظام کیا۔ قُصَیّ کے بعد اس کے بیٹوں عبد مناف اور عبدالدّار کے درمیان یہ انتظامات تقسیم ہوگئے۔ عبدمناف کے چار بیٹے تھے۔ ان میں ہاشم، حضرت عبد المطلب کے والد اور رسول اللہ ﷺ کے پردادا تھے۔ ہاشم کو سب سے پہلے یہ خیال آیا کہ اس بین الاقوامی تجارت میں حصہ لیا جائے جو شام ومصر اور بلاد مشرق (یعنی ہندوستان، انڈونیشیا وغیرہ) کے درمیان ہو رہی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایران کی حکومت اس تجارتی راستے پر قابض ہوچکی تھی جو شمالی علاقوں اور خلیج فارس کے راستے سے رومی سلطنت اور بلاد مشرق کے درمیان ہوتی تھی۔ اس لیے جنوبی عرب سے بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو تجارتی راستہ شام ومصر کی طرف جاتا تھا، اس کا کاروبار بہت چمک اٹھا تھا۔ دوسرے تجارتی قافلوں کی بہ نسبت قریش کو یہ سہولت حاصل تھی کہ راستے کے تمام قبائل بیت اللہ کے خادم ہونے کی حیثیت سے ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کے قافلوں پر ڈاکے نہیں مارتے تھے اور نہ ان سے رہگذر کے وہ بھاری ٹیکس وصول کرتے جو دوسرے قافلوں سے وصول کیا جاتا تھا۔ ہاشم نے انہی تمام پہلوئوں کو دیکھ کر تجارت کی اسکیم بنائی اور اس میں اپنے باقی تین بھائیوں کو شامل کیا۔ یہ اسکیم کامیاب رہی اور ان کی تجارت تیزی سے ترقی کرنے لگی۔
اس تجارت کی وجہ سے قریش کے لوگوں کو شام۔ مصر۔ عراق۔ ایران۔ یمن اور حبش کے لوگوں سے تعلقات کے مواقع حاصل ہوئے۔ اور مختلف ملکوں کی ثقافت وتہذیب سے براہ راست سابقہ پیش آنے کے باعث ان کی دانش وبینش کا معیار اتنا بلند ہوتا چلا گیا کہ کوئی دوسرا قبیلہ ان کی ٹکر کا نہ رہا۔ ان بین الاقوامی تعلقات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ عراق سے یہ لوگ وہ رسم الخط لے کر آئے جو بعد میں قرآن مجید لکھنے میں استعمال ہوا۔ عرب کے کسی دوسرے قبیلے میں اتنے پڑھے لکھے لوگ نہ تھے جتنے قریش میں تھے۔ یہ حالات تھے جب مکہ پر ابرہہ کی چڑھائی کا واقعہ پیش آیا۔ اگر وہ کامیاب ہوجاتا تو عرب میں قریش ہی کی نہیں خود کعبہ کی دھاک بھی ختم ہوجاتی۔ مکہ تک حبشیوں کی پیش قدمی کے بعد رومی سلطنت آگے بڑھ کر شام اور مکہ کے درمیان کا تجارتی راستہ بھی اپنے قبضہ میں لے لیتی اور قریش اس سے زیادہ خستہ حالی میں مبتلا ہوجاتے جس میں وہ قُصَیّ بن کلاب سے پہلے مبتلا تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے حبشیوں کی ساٹھ ہزار فوج کو تباہ کردیا اور مکہ سے یمن تک سارے راستے اس فوج کے لوگ گر گر کر مرتے گئے، تو کعبہ کے بیت اللہ ہونے پر تمام اہل عرب کا ایمان پہلے سے بدرجہ زیادہ مضبوط ہوگیا ساتھ ہی قریش کی دھاک بھی ملک بھر میں پہلے سے زیادہ قائم ہوگئی۔
نبی ﷺ کی بعثت کے زمانے میں یہ حالات سب ہی کو معلوم تھے، اس لیے ان کے ذکر کی حاجت نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورة کے چار مختصر فقروں میں قریش سے صرف اتنی بات کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ جب تم مانتے ہو کہ یہ گھر بتوں کا نہیں بلکہ اللہ کا گھر ہے اور جب تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اس گھر کے طفیل یہ امن عطا کیا، تمہاری تجارت کو یہ فروغ بخشا اور تمہیں فاقہ زدگی سے بچا کر یہ خوشحالی نصیب کی، تو تمہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ (تفہیم القرآن ج 6 ۔ ص 474 تا 476 سے ماخوذ)
مورخہ 13 ۔ ربیع الاوّل 1432 ھ بمطابق 17 ۔ فروری 2011 ئ۔
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
(یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس
[اٖلٰفِهِمْ : ان کو مانوس کرنا ][ رِحْلَةَ : سفر سے ][ الشِّتَاۗءِ : سردی کے ][ وَالصَّيْفِ : اور گرمی کے ]
(آیت۔ 2) اٰلٰفِھِمْ میں اِیلَافِ کی جَرّ بتارہی ہے کہ پچھلے مرکب جارّی لِاِیْلَافِ قُرِیْشٍ کا بدل ہے اِیْلاَفٌ دو مفعول کا تقاضہ کرتا ہے۔ کس کو مانوس کیا اور کس چیز سے مانوس کیا۔ یہاں اِیْلاَفِ کا مفعول اول ھِمْ کی ضمیر ہے اور رِحْلَۃَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ مفعول ثانی ہے
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اِس گھر کے رب کی عبادت کریں
[فَلْيَعْبُدُوْا : تو چاہیے کہ یہ لوگ بندگی کریں ][ رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ : اس گھر کے مالک کی ]
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا
[الَّذِيٓ اَطْعَمَهُمْ : وہ جس نے کھانے کو دیا ان کو ][ مِّنْ جوعٍ : بھوک میں ][ وَّاٰمَنَهُمْ : اور جس نے امن دیا ان کو ][ مِّنْ خَوْفٍ : خوف میں ]