105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟
[اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور نہیں کیا ][ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ : کیسا کیا تیرے رب نے ][ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ : ہاتھی والوں کے ساتھ ]
نوٹ 1: سورة بروج کے نوٹ۔ 2 ۔ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ یمن کے بادشاہ نے اللہ پر ایمان لانے والے عیسائیوں کو آگ میں زندہ جلا دیا تھا۔ اس ظلم کا بدلہ لینے کے لیے حبشہ کی عیسائی حکومت نے یمن پر حملہ کردیا اور 525 ء میں اس پورے علاقے پر حبشی حکومت قائم ہوگئی تھی یمن پر جو حبشی فوج حملہ آور ہوئی تھی اس کے دو سردار اریاط اور ابرہہ بعد میں آپس میں لڑ پڑے مقابلہ میں اریاط مارا گیا اور ابرہہ ملک پر قابض ہوگیا۔ یمن میں پوری طرح اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد ابرہہ نے اس مقصد کے لیے کام شروع کیا جو ابتدا سے رومی سلطنت اور حبشی عیسائیوں کے پیش نظر تھا۔ یعنی عرب میں عیسائیت پھیلانا اور اس تجارت پر قبضہ کرنا جو بلاد مشرق (یعنی انڈونیشیا، ہندوستان وغیرہ) اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک عظیم الشان کلیسا (گرجا گھر) تعمیر کرایا۔ اس کی تکمیل کے بعد اس نے حبشہ کے بادشاہ کو لکھا کہ میں عربوں کا حج کعبہ سے اس کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا۔ اس نے یمن میں علی الاعلان اپنے اس ارادے کا اظہار کیا اور اس کی منادی کرا دی۔ اس پر کسی عرب یا قریشی نے یا چند قریشی نوجوانوں نے مشتعل ہو کر کلیسا کو گندا کردیا یا اس کو آگ لگائی۔ لیکن یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابرہہ نے خود اپنے کسی آدمی سے ایسی کوئی حرکت کرائی ہو تاکہ اسے مکہ پر حملہ کرنے کا بہانہ مل جائے۔ بہرحال اس واقعہ کے بعد اس نے کعبہ کو ڈھا دینے کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ 570 ء یا 571 ء میں وہ ساٹھ ہزار فوج اور تیرہ ہاتھی لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں دو عرب سرداروں نے اپنے اپنے لشکر جمع کر کے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی مگر دونوں کو شکست ہوئی۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ لشکر جب عرفات کے قریب پہنچا تو حضرت عبدالمطلب اس کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کو یہاں تک آنے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ کو اگر کوئی چیز مطلوب تھی تو ہمیں کہلا بھیجتے ہم اسے لے کر خود آپ کے پاس حاضر ہوجاتے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ یہ گھر امن کا گھر ہے، میں اس کا امن ختم کرنے آیا ہوں۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ یہ اللہ کا گھر ہے اور اس نے آج تک کسی کو اس پر مسلط نہیں ہونے دیا ہے۔ ابرہہ نے کہا ہم اس کو منہدم کیے بغیر نہیں پلٹیں گے۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ آپ جو کچھ چاہیں لے لیں اور واپس چلے جائیں۔ مگر ابرہہ نے انکار کردیا اور اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں اونٹوں کے قصے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکہ اور اس کے آس پاس کے قبائل اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اس لیے یہ بالکل قابل فہم بات ہے کہ قریش نے اس کی مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی۔ ابرہہ کے لشکر سے واپس آ کر حضرت عبدالمطلب نے قریش والوں سے کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے کر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ہوجائے۔ پھر وہ قریش کے چند سرداروں کو لے کر حرم میں حاضر ہوئے اور کعبے کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر اور اس کے خادموں کی حفاظت فرمائے۔ اس وقت خانۂ کعبہ میں 360 بت موجود تھے لیکن اس وقت یہ لوگ ان سب کو بھول گئے اور انھوں نے صرف اللہ کے آگے دست سوال پھیلایا۔ ان کی جو دعائیں تاریخوں میں منقول ہیں ان میں اللہ واحد کے سوا کسی دوسرے کا نام تک نہیں پایا جاتا۔ دعائیں مانگ کر حضرت عبدالمطلب اور ان کے ساتھی بھی پہاڑوں میں چلے گئے۔
دوسرے روز ابرہہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا مگر اس کا خاص ہاتھی محمود، جو آگے آگے تھا یکایک بیٹھ گیا۔ اس کو بہت تَبرَ مَارے گئے، آنکسوں سے کچو کے دئیے گئے یہاں تک کہ اسے زخمی کردیا گیا مگر وہ نہ ہلا۔ اسے کسی اور سمت موڑ کر چلاتے تو وہ دوڑنے لگتا مگر مکہ کی طرف موڑا جاتا تو فوراً بیٹھ جاتا اور کسی طرح آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ اتنے میں پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ اپنی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں لیے ہوئے آئے اور لشکر پر ان کی بارش کردی۔ جس پر یہ کنکر گرتے اس کا جسم گلنا شروع ہوجاتا اور ہڈیاں نکل آتیں۔ خود ابرہہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان لوگوں نے یمن کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ سب کے سب اسی وقت ہلاک نہیں ہوئے۔ کچھ تو وہیں ہلاک ہوئے اور کچھ بھاگتے ہوئے راستے بھر گرتے چلے گئے، ابرہہ بھی خشعم کے علاقے میں پہنچ کر مرا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عرب کے دوسرے سردار نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حبشیوں کو صرف یہی سزا دینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ تین چار سال کے اندر یمن سے حبشی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ واقعہ فیل کے بعد یمن میں ان کی طاقت ٹوٹ گئی۔ جگہ جگہ یمنی سردار علم بغاوت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک یمنی سردار نے شاہ ایران سے فوجی مدد طلب کرلی۔ ایران سے صرف ایک ہزار فوج چھ جہازوں کے ساتھ آئی تھی جو حبشی حکومت کا خاتمہ کردینے کے لیے کافی ہوگئی۔ یہ 575 ء کا ہے۔
یہ اتنا بڑا واقعہ تھا جس کی تمام عرب میں شہرت ہوگئی۔ بہت سے شعراء نے قصائد کہے۔ ان تمام قصائد میں یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ سب نے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اعجاز قرر دیا اور کہیں اشارہ وکنایتہ بھی یہ نہیں کہا کہ اس میں ان بتوں کا بھی کوئی دخل تھا جو کعبہ میں پوجے جاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قریش نے دس سال تک اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔ جس سال یہ واقعہ پیش آیا اہل عرب اسے عام الفیل کہتے ہیں۔ اور اسی سال رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ ہوئی۔ محدثین اور مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ محرم میں پیش آیا تھا اور حضور ﷺ کی ولادت ربیع الاوّل میں ہوئی تھی۔ اکثریت یہ کہتی ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت واقعہ فیل کے پچاس دن بعد ہوئی۔
جو تاریخی واقعات اوپر دئیے گئے ہیں ان کو نگاہ میں رکھ کر سورة فیل پر غور کیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس سورة میں اس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب فیل پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کردینے پر کیوں اکتفا کیا گیا۔ واقعہ کچھ پرانا نہ تھا اور مکہ کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ تمام اہل عرب اس بات کے قائل تھے کہ ابرہہ کے حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی تھی۔ قریش کے سرداروں نے اللہ ہی سے مدد کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ پھر اس واقعہ سے وہ اس قدر متاثر رہے کہ کئی سالوں تک انھوں نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورة فیل میں تفصیلات کے ذکر کے بجائے صرف اس واقعہ کو یاد دلا دینا کافی تھا تاکہ قریش کے لوگ خصوصاً اور اہل عرب عموماً سوچیں کہ محمد ﷺ جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دوسرے تمام معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کی جائے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 462 تا 469 سے ماخوذ)
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟
[اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ : کیا اس نے نہیں کیا ان کے دائو کو ][ فِيْ تَضْلِيْلٍ : تباہ کرنے میں ]
نوٹ 2: آیت۔ 2 ۔ میں لفظ کید استعمال کیا گیا ہے جو کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ تدبیر کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں کیا چیز خفیہ تھی۔ ابرہہ ساٹھ ہزار کا لشکر ہاتھیوں کے دستے کے ساتھ لے کر اعلانیہ یمن سے مکہ آیا تھا اور اس نے یہ بات چھپا کر نہیں رکھی تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہے۔ اس لیے یہ تدبیر تو خفیہ نہ تھی۔ البتہ اس اعلانیہ کاروائی کے پیچھے جو نیت تھی وہ خفیہ تھی اور وہ حبشیوں کی یہ غرض تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھا کر اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے تجارت کا وہ راستہ عربوں سے چھین لینا چاہتے تھے جو جنوبِ عرب سے شام ومصر کی طرف جاتا تھا۔ اس مقصد کو انھوں نے چھپا کر رکھا تھا اور ظاہر یہ کیا تھا کہ ان کے کلیسا کی جو بےحرمتی عربوں نے کی ہے اس کا بدلہ وہ ان کا معبد ڈھا کرلینا چاہتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے
[وَّاَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا : اور اس نے بھیجے ان لوگوں پر کچھ پرندے ][ اَبَابِيْلَ : جھنڈ در جھنڈ ہوتے ہوئے ]
نوٹ 3: ابابیل کا لفظ جمع کا ہے مگر اس کا کوئی مفرد (واحد) مستعمل نہیں ہے۔ اس کے معنی پرندوں کے غول کے ہیں اور یہ کسی خاص پرندے کا نام نہیں ہے۔ اردو میں ایک خاص چڑیا کو ابابیل کہتے ہیں، یہاں وہ مراد نہیں ہے بلکہ یہ پرندے عجیب طرح کے تھے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے تھے۔ جسامت میں کبوتر سے چھوٹے تھے اور ان کے پنجے سرخ تھے۔ یہ کوئی ایسی جنس تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی اور نہ بعد میں دیکھی گئی۔ (معارف القرآن) ۔
مورخہ 11 ۔ ربیع الاول 1432 ھ بمطابق 15 ۔ فروری 2011 ئ۔
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے
[تَرْمِيْهِمْ : جو پھینکتے تھے ان پر ][ بِحِـجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ : کچھ پتھر مٹی کے پتھر میں سے ]
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا
[فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَاكُوْلٍ : پھر اس نے کردیا ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ]